RSS

Category Archives: ہابی اینڈ کرافٹ

صدائے ساز

بچپن کی عمر اس لحاظ سے بہت یادگار ہوتی ہے کہ اس میں  تحیر  کی فراوانی ہوتی ہے ۔ ارد گرد کو جاننے کی خواہش ، ابر کیا ہے ، ہوا کیا ہے  اور پردے کے پیچھے کیا ہے بچہ سب جاننا چاہتا ہے ۔ میرے بچپن میں مجھے جس شے نے سب سے پہلے اپنے عشق میں گرفتار کیا وہ ایک عدد ریڈیو تھا جو ہمارے گھر بھر کی واحد تفریح تھا ۔ ستر کی دہائی میں معلومات تک رسائی کا یہ عالم نہیں تھا جو آج ہے کہ جو چاہا گوگل کر لیا ۔ ٹی وی اتنا عام نہیں تھا اور اگر تھا تو بزرگوں کے مارشل لا کے نیچے رہتا تھا ۔ ایسے عالم میں مجھے ریڈیو کے ڈبے کو اندر سے کھولنے پر پرزوں کی عجیب غریب دنیا نظر آتی جس کے اندر سے جسم میں لہو کی مانند دوڑنے والے نادیدہ کرنٹ کی گردش سے  سے  ایسی صدائے ساز برآمد ہوتی جو کہیں پرستان سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی (خوش بخت شجاعت سے پریوں کی کہانیاں میں  اور عبدالحمید عدم کی غزل اب دو عالم سے صدائے ساز میں نے اسی زمانے میں سنیں) ۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک ریڈیو مرمت کی دکان تھی جس پر ایک مکینک سارا دن ایک ہاتھ میں چمٹی پکڑے اندازے سے گاہکوں کے  بیمار ریڈیو ٹھیک کرنے میں مصروف رہتا تھا جہاں میں اکثر منڈلاتا رہتا تھا  ۔

دل میں خواہش تھی کہ ایسا ریڈیو خود بھی بنایا جائے ۔ اس غرض سے میں نے اپنی زنبیل میں ریڈیو کی دکان سے مختلف بے کار پرزوں کا خزانہ جمع کر لیا تھا لیکن ریڈیو کی تھیوری اور عملی کام سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے کام شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ جہانگیر بک ڈپو لاہور  نے ایک کتاب “اپنا ریڈیو خود بنائیے ” کے نام سے شائع کی تھی ۔ جیب خرچ کا  زر کثیر صرف کر کے جب منگوائی تو خاک سمجھ نہ آیا کیونکہ مصنف کوئی خرادیے تھے اور ان کی اصطلاحیں دیسی تھیں مثلا تار کی موٹائی کو سوتر سے  ناپتے تھے ، 5 سوتر یا 7 سوتر کی موٹائی کی تار وغیرہ اور ہم سکول میں میٹرک سسٹم ہی جانتے تھے ۔ مصنف نے جدید پرزوں مثلا کرسٹل ڈائیوڈ کی جگہ ایک دیسی شے کا  استعمال کیا گیا تھا جو ابھی یاد نہیں کیا تھی ۔ پیسے ضائع ہونے کا افسوس ہوا لیکن یہ فہم ہو گیا کہ ریڈیو کی ایک قسم کرسٹل ریڈیو کہلاتی جو دو تین پرزوں کی مدد سے  آسانی تیار ہو جاتا ہے اگر ریڈیو سٹیشن قریب ہو تو  آواز آسانی سے سنائی دیتی ہے ۔ یوں ریڈیو بنانے کا منصوبہ عارضی طور پر معطل ہو گیا ۔

1986 کی ایک گرم دوپہرایک بڑے شہر کی لائبریری میں میں مجھے وہ کتاب ہاتھ لگی جس کا نام تھا “Making A Transistor Radio” صاف ستھرے اور سادہ  اور عام فہم  انداز میں انگریز مصنف نے بچوں کے لئے ریڈیو بنانے کا طریقہ بتایا تھا ۔ دل سے آواز آئی کہ کاش ہمارے ہاں کا بھی کوئی مصنف اتنے آسان فہم انداز میں بچوں کے لئے تکنیکی کتابیں لکھتا تو مجھے اتنے سال خوار نہ ہونا پڑتا ۔ اس کے ساتھ ہی اپنے معاشرے اور مغربی معاشرے کی ترجیحات اور  انداز کار کا بھی اندازہ ہوگیا  مگر مجھے آئیندہ آنے والی زندگی میں الیکٹرانکس اور کمپیوٹر کی راہ پر ڈال گیا ۔

آج میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے اور میری خواہش ہے کہ میں جلد اسےکچھ دلچسپ تکنیکی  مشاغل کے ذریعے ٹی وی کے سامنے سے اس کی تجربہ گاہ میں کھینچ لاوں ۔ زیر نظر کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں  ڈاونلوڈ کرنے کے لئے تصویر پر کلک کریں ۔  اگر آپ خود اس کتاب کی مدد سے اپنے بچے کے لئے تجرباتی   ریڈیو بنانے کا ارادہ  رکھتے ہیں  تو باقی پرزے تو شاید آپ کو آسانی سے مل جائیں لیکن  شاید ٹرانسسٹر OC71 اور OC 45  آپ کو نہ مل سکے اس کی جگہ آپ کوئی بھی پی این پی جنرل پرپز ٹرانسسٹر استعمال کر سکتے ہیں یاد رہے کہ کتاب میں بیان کئے گئے ڈائیوڈ اور ٹرازسٹر  امریکن اور یورپین ہیں جو مہنگے ہوتے ہیں ان کی جگہ ان کے جوڑ کے جاپانی ٹرانزسٹر  دکاندار سے مانگنے پر بہت سستے ملیں گے ۔ الیکٹرانکس کے پرزے کراچی میں ریگل چوک کواپریٹو مارکیٹ اور لاہور میں ہال روڈ کی ایسی مخصوص دکانوں سے مل سکتے ہیں جو پرزوں کا کاروبار کرتے ہیں ۔

سرورق ۔ میکنگ اے ٹرانسسٹر
سر ورق ۔ میکنگ اے ٹرانسسٹر ریڈیو

سادہ کرسٹل ریڈیو

لیڈی برڈ ریڈیو