RSS

Category Archives: مسلم امہ

پاکستان کا نصب العین ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر

پروفیسر احمد رفیق اختر سے میں قارئین کو پہلے ہی ایک پوسٹ کے ذریعے متعارف کرا چکاہوں ۔ آجکل میرے دل و دماغ میں اسلام ، پاکستان اور  اس کے مستقبل کے متعلق سوالات کچھ زیادہ  اٹھتے رہتے ہیں اور ایسے ہی سوالات کچھ دوسرے بلاگز پر بھی دیکھنے کو ملے ۔ اس سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم مصنفین کی جو بھی کتاب ، وڈیو یا آڈیو اس موضوع سے متعلق نظر آتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ زیر نظر لیکچر وڈیو کی صورت میں پروفیسر کی ویب سائٹ سے ڈاونلوڈ کیا تھا ۔ میں نے سوچا کہ اسے آپ سے  بھی شیئر کیا جائے ۔  ڈائل اپ استعمال کرنے والے حضرات کی سہولت کے لئے اسے آڈیو کی صورت میں تبدیل کر کے نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے تاکہ چند منٹ میں ہی بفرنگ کے لئے ڈانلوڈ ہو سکے ۔

آخر میں یہ عرض کر دوں کہ کافی غور و خوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پروفیسر کو محض پروفیسر ہی سمجھوں تاکہ معروضی انداز میں ان کے نظریات کا جائزہ لے سکوں ۔

آڈیو لیکچر ۔ پاکستان کا نصب العین ۔ وقت تقریبا دو گھنٹے ۔



 
4 Comments

Posted by on March 28, 2010 in مسلم امہ

 

کوئی جہالت سی جہالت ہے

آج جب اکیسویں صدی کی پہلی دہائی اختتام کے قریب ہے ، دنیا کی ترقی یافتہ اقوام محض چند سالوں میں چاند اور اس سے آگے دوسرے سیاروں پر بستیاں آباد کرنے اور معدنیات حاصل کرنے  کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں ہم قرون وسطی کے زمانے میں جانے کی تگ و دو کر رہے ہیں ۔ مغرب کی ہر چیز پر نفریں  بھیجتے ہیں اور اس کی نفی کرتے ہیں ، موجودہ دور کے جاہلوں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں ، ہر بنے بنائے نظام اور اداروں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں مگر اس کے بعد کیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس کی خبر نہیں ۔ عالم اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ایک  پڑھی لکھی اقلیت بھی قوت کے ذریعے دنیا کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ مگر قوت کیا ہوتی ہے اور اس کا فلسفہ و ماخذ کیا ہوتا ہے اس سوال سے نظریں چرانا مناسب سمجھتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مسیحا بس اب آنے ہی والا ہے اور آ کر ہمیں اس قعر مذلت سے نکال دے گا اور اس کے بعد ہمارا سنہری دور شروع ہو جائے گا ۔

جاوید چوہدری کا زیر نظر کالم پہلی اگست 2006 کو شائع ہوا مگر آج چار سال بعد بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا عقل و فکر کا زاویہ  ان گذرے سالوں میں بھی نہیں بدلا اور مستقبل قریب میں بھی موجودہ سوچ اور فکر کے ساتھ ہماری حالت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔

جاوید چوہدری کا کالم بعنوان " ہم سمجھتے ہیں "



 
33 Comments

Posted by on March 22, 2010 in مسلم امہ

 

پاکستان اور اسلام ۔ احمد رفیق اختر

میں نے پہلے پہل  پروفیسر احمد رفیق اختر کا ذکر ممتاز مفتی کی کتاب   ” تلاش  ” میں پڑھا ۔ وہ انہیں جدید زمانے کا ایک با علم  صوفی قرار دیتے ہیں مفتی نے ان کے پاس اللہ کے عطا کردہ علم الاسماء کا بھی ذکر کیا  مگر میں نے اسے ممتاز مفتی کی روایتی عقیدت پسندی سمجھا  جو وہ ہر منفرد فرد کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں اورجس کا مظاہرہ وہ اپنی کتاب الکھ نگری میں کر چکے تھے ۔ چند سال بعد ممتاز کالم نویس جاوید چوہدری نے بھی ان سے ایک ملاقات کے بعد انہیں اپنے ایک کالم میں  ” ماڈرن صوفی “کہا ۔ جاوید چوہدری جیسے تشکک پسند صحافی  کے قلم سے پروفیسر کی تعریف پڑھ حیران ہوا کیونکہ جاوید چوہدری ایک زمانے میں اپنے آپ کو اپنی عقلیت پرستی کی بنا پر مذاق میں دہریہ کہا کرتے تھے ۔ چنانچہ میں نے جاوید سے پروفیسر کا فون نمبر حاصل کیا مگر پروفیسر سے بات نہ ہو سکی ۔ ایک دفعہ پنڈی جاتے ہوئے بغیر ملاقات کا وقت طے کئے  ان کے آبائی شہر گوجر خان میں پروفیسر سے ملاقات کی ٹھانی مگر پروفیسر ایک لیکچر کے سلسلے میں  میر پور گئے ہوئے تھے ۔

اس بات کو چند ایک برس بیت گئے تو مجھے پتہ چلا کہ پروفیسر اتوار کے دن مخصوص اوقات میں فون خود اٹینڈ کرتے ہیں ۔ کافی دفعہ کوشش کے بعد میں ایک دن پروفیسر سے فون پر بات کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ ان دنوں میں کچھ جذباتی اور دوسرے قسم کے مسائل سے دوچار تھا ۔ میں نے فون پر اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں اپنے ذاتی مسائل پر ان کا مشورہ چاہتا ہوں ۔ پروفیسر نے کہا کہ پہلے اپنا مکمل نام بتاو ۔ میں نے نام بتایا تو پروفیسر بغیر کچھ مزید پوچھے میری شخصیت کے تجزیے میں مصروف بولنا شروع ہو گئے ۔ دو تین منٹ میں انہوں نے میرا اندرونی پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیا اور مجھے چند اسمائے ربانی پڑھنے کی تلقین کی تاکہ میری شخصیت کے اندر توازن پیدا ہو سکے ۔ اس کے بعد یہ گفتگو ختم ہو گئی ۔

بچپن میں کتابوں سے شغف کی بنا پر ، میں علم نفسیات ، مابعدالنفسیات ، ٹیلی پیتھی ، مراقبہ اور پامسٹری وغیرہ کا مطالعہ کرتا رہا تھا اور اس بات سے آگاہ تھا کہ ان علوم کی مدد سے کوئی فرد محدود حد تک  کسی دوسرے انسان کو پڑھ سکتا ہے  مگر محض نام سن کی کسی فرد کا اس حد تک گہرا نفسیاتی تجزیہ کرنا ایک محیرالعقول بات تھی ۔اور س بات نے مجھے کچھ عرصہ حیران و پریشان رکھا

میرے ابتدائی بچپن کے چند  سال ایک ایسی جگہ بسر ہوئے جو ملک کے ایک  مشہور ترین  صوفی بزرگ کے مزار سے بہت قریب تھی ۔  میرا جو بھی عزیز اُس شہر کام کے سلسلے میں جاتا ،صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری ضرور دینے جاتا ۔ اس کے علاوہ بھی میرے چند عزیر کچھ دور ایک اور دوسرے شہر میں ایک مشہور مرحوم بزرگ کے مزار پر حاضر ہوتے تھے اور مشہور تھا کہ ان کے  مزار کی مسجد میں نو راتیں قیام اور عبادت کرنے سے دعا قبول ہو جاتی ہے اور دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں ۔  بعض اوقت مجھے بھی  میرے عزیز رشتہ دار ساتھ لے جاتے تھے   ۔ مگر میں اپنی سکول کی سائنسی تعلیم کی وجہ سے  ہر بات کو حواس اور عقل کے ترازو کی مدد سے پرکھنے کا عادی ہو چکا تھا ۔ مجھے بزرگان دین کے مزاروں پر عوام کی اندھی عقیدت میں کوئی کشش نظر نہیں آتی تھی اور میں محض مزار پر فاتحہ پڑھنے ، مٹھائی کھانے ، قوالی اور دھمال دیکھنے اور سرکس کے جھولوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ۔ بعد میں ان بزرگان دین کے حالات زندگی جاننے کی کوشش میں چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیا تو یہ لوگ مجھے کسی اور دنیا کے افراد لگے ۔ کوئی فاقہ کش ، چلوں کی خاطر کنووں میں الٹا لٹکنے والا ، ہر وقت تسبیح پھیرنے والا ، علم معاشیات سے ناآشنا  اوراور بعض کو روایات کے مطابق  تو ولایت اس بات پہ ملی تھی کہ ان کے مرشد نے خوش ہو کر ان کی طرف ایک نظر الفت کی تھی اور ان کا سینہ معرفت اور نور سے بھر گیا تھا ۔ مجھے یہ لوگ ایسے افسانوی کردار لگے جن کو  ان کے چاہنے والوں نے  حکایات اور قصہ گوئی کے فن سے عام انسانوں کی بجائے فرشتوں کے زیادہ قریب کر دیا تھا بھلا ایک مرحوم مسلمان کسی دوسرے زندہ مسلمان کو کیا فائدہ یا نقصان دے سکتا ہے ۔ دورسرے لفظوں میں ، میرا شمار منکرین تصوف میں ہوتا تھا ۔

2004 میں مجھے حادثتا چند ایک ایسے روحانی تجربات سے ذاتی طور پر گذرنا پڑا جس  کا میں بذات خود شاہد تھا (جس میں میری کوئی کوشش شامل نہیں تھی) اور میں ان کا انکار بھی نہیں کر سکتا تھا  اور اب یہ تجربات میرے پچھلے تمام خیالات کی عمارت گرانے کے درپے تھے۔  مگر میری عقل نے آگے بڑھ کر ایک وار کیا اور سمجھایا کہ یہ محض ایک اتفاق ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ پھر اسی دوران میرے ایک بہت عزیز دوست جو کہ بہت تعلیم یافتہ ،  دنیا  کی سیاحت کیے ہوئے  ، نیوزویک اور فارن پالیسی میگزین کے رسیا اورایک بہت ذمہ دار سرکاری عہدے پر سارا دن عملی مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہیں ، اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور اپنی روحانی وارداتوں کی تفصیل مجھ سے بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ آج بھی اپنی منتخب کردہ راہ سلوک پر گامزن ہیں اور وقتا فوقتا اس موضوع پر فون کے ذریعےبات چیت ہوتی رہتی ہے مگر میں عقل اور عشق دونوں کے درمیاں آج بھی کھڑا ہوں اور فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ تصوف کا ایک فرد کی عملی زندگی اور پاکستان میں کیا کردار ہے اور کس قسم کا اسلام پاکستان کت لئے سود مند ہے۔

مگر بہرحال اس بات کا سراغ ضرور مل گیا ہے کہ اس دنیا کے متوازی ایک روحانی سسٹم بھی کام کر رہا ہے جو حواس کی گرفت سے باہر ہے ۔(اور بھی  ذاتی تجربات و واقعات ہیں مگر چونکہ ذاتی نوعیت کے ہیں اس لئے ان کا ذکر مناسب نہیں ) ۔

پروفیسر احمد رفیق اختر کے متعلق بھی میں اب تک خود کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کہ وہ کیا ہیں ۔ ایک ماڈرن اور با علم صوفی ؟ ، ایک ناکام گورنمنٹ سرونٹ / ٹیچر ؟ ، ایک جذباتی  اور اس معاشرے کا مس فٹ انسان جو ایک جذباتی لمحے کی گرفت میں آ کر اپنی برسوں پرانی ملازمت کو لات مار کر خالی ہاتھ اپنے آبائی شہر گوجر خان میں آ کر برتنوں کی دکان کھول لیتا ہے یا پھر ایک شہرت کی ہوس کا مارا  ہوا شخص جو اپنی انا کی تسکین مذہب کا لبادہ اوڑھ لوگوں کا مرکز نگاہ بن کر کرنا چاہتا ہے ؟ ۔

مگر بہر حال پروفیسر کا مطالعہ اسلام اور جدید علوم کے متعلق وسیع ہے ۔ وہ اسلام اور تصوف کی دقیانوسی اصطلاحات کی بجائے جدید اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور اپنے علم کی بنا پر سامعین اور ماننے والوں پر ان کی مضبوط گرفت قائم رہتی ہے ۔ ان کے لیکچرز سے مجھے بھی اپنے کچھ سوالوں کے جواب ملے اگرچہ ان کے خیالات ، نظریات اور معلومات کے ناقدین بھی بے شمار ہیں ۔

ان کا ایک آڈیو لیکچر بعنوان ” پاکستان اور اسلام ” مجھے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں دلچسپ لگا ۔  جو حضرات اس قسم کے مواد سے رغبت رکھتے ہیں ان کی سہولت کے لئے  میں نے اسے نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے ۔ سنیئے اور اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے ۔

لیکچر ۔ “پاکستان اور اسلام ” ۔ دورانیہ : تقریبا دو گھنٹے

پروفیسر احمد رفیق اختر پر وکیپیڈیا کا مضمون

پروفیسر احمد رفیق اختر کی ویب سائٹ

مشہور کالم نویس عامر ہاشم خاکوانی کا پروفیسر پر ایک کالم



 
29 Comments

Posted by on March 15, 2010 in مسلم امہ

 

Tags:

مذہبی اقلیتوں کی عید میلاد النبی

آج شام کے وقت ٹی وی چلایا تو آج ٹی وی چینل پر عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں پاکستانی اقلیتوں کے تاثرات نشر ہو رہے تھے ۔ یہ پروگرام غالبا عید سے پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا  اس میں سکھ ، ہندو اور عیسائی اقلیتوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے تھے ۔ ایک عیسائی پادری کہ رہے تھے کہ وہ اپنے چرچ میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے ساتھ مل یہ عید منائیں گے تو میں چونک پڑا ۔ ایسے ملک میں جہاں مسلمان اپنے فرقے کے علاوہ باقی تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اگر کافر نہیں تو اس کے قریب قریب ضرور سمجھتے ہیں ایک عیسائی پادری یہ ہمت کر رہا ہے کہ ایک ایسے مذہب کے پیغمبر کا یوم پیدائش اپنے چرچ میں منانے کی بات کرے جن کی تعلیمات سے اس کے اپنے عیسائی مذہب کو آج کی دنیا میں سخت مقابلہ درپیش ہے ۔ کیا اس کے ہم مذہب اسے منافق اور مرتد ہونے کا طعنہ نہیں دیں گے ۔

تو کیا اس عیسائی پادری کی دعوت پر ہمارے مذہبی رہنما چرچ چلے جائیں گے  اور کیا اس خیر سگالی کے جواب میں عیسائی بھائیوں کو دعوت دے کر حضرت عیسی علیہ سلام سے متعلق عیسائی تہوار بھی ہماری کسی مسجد میں منایا جا سکے گا اور کیا کسی دن یہ ممکن ہو سکے گا کہ پاکستان میں کوئی ہندو ، پارسی ، عیسائی یا سکھ  بغیر کسی خوف کے مسجد کو صرف اللہ کا گھر اور داراالامن سمجھ کر  اس میں جمعہ کا خطبہ سن سکے اور دینی و علمی مسائل پر اپنے مسلمان بھائیوں سے قرآن ،بائبل ، گیتا ، گرنتھ صاحب کے حوالے سے بحث کر سکے۔

میرا تخیل مجھے چودہ سو سال پیچھے لے گیا جب نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور اس وفد میں شامل مسیحیوں کو اجازت دی کہ وہ اپنی نماز اپنے طریقہ پر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ادا کریں۔ چنانچہ یہ مسیحی حضرات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جانب مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔

مگر میرے دل نے کہا میاں!  ایک راسخ العقیدہ مسلمان کو آج کے دور میں ایسی باتیں نہیں سوچنی چاہیے یہ اپنے عقیدے سے کمزوری کا اظہار ہے اور ایسی باتیں سوچنے سے گمراہی کے امکانات زیادہ ہیں ۔ بجائے اپنے عقیدے کا جھنڈا غیر مسلموں پر لہرانے کے تم کیا کفر سوچ رہے ہو ۔ کفر کی یلغار کا مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر پیدا کرو ۔

چنانچہ قارئین کرام میں نے ایسے برے شیطانی خیالات کو ذہن سے جھٹکنے کی خاطر استغفراللہ پڑھی ہے بلکہ اس وقت تک پڑھتا رہوں گا جب تک میرا ایمان دوبارہ مضبوط نہیں ہو جاتا ۔



 
9 Comments

Posted by on February 28, 2010 in مسلم امہ

 

اسلامی شریعت کا ارتقاء ۔ دوسرا اور آخری حصہ

بلاگر کا نوٹ ۔ مندرجہ ذیل مضمون ملٹن ویروسٹ کی کتاب “ان دی شیڈو آف دی پرافٹ ” میں سے منتخب باب ” میکنگ آف شریعہ ” کا ترجمہ ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ مغرب ہمیں اور ہماری تاریخ کو کس طرح سے دیکھتا ہے ۔ قارئین سے استدعا ہے کہ اسے محض علمی اور تاریخی مواد کے طور پر ہی دیکھا جائے ۔

قرآن کے بارے میں یہ نظریہ کہ قرآن پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ازل سے موجود رہا ہے ابتدائی قدامت پرست علماء کا اپنایا ہوا نظریہ تھا ۔ اس نظریے کے مطابق سارے کا سارا قرآن ایک ہی دفعہ ازل سے خدا نے پیدا کیا اور بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بوقت ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور لوگوں تک پہنچایا گیا ۔ یعنی قرآن خدا کی ذات کی مانند مقدس ، لازوال اور تمام  بحث سے بالا تر ہے اس نظریے کی رو سے کسی شخص کو اجازت نہیں ہے کہ وہ قرآن کا عقل کی روشنی میں سائنسی اور تنقیدی جائزہ لے ۔  مگر معتزلہ نے نویں صدی میں ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریبا دو سو برس بعد ، اس نظریے کو چیلنج کیا ۔ اس چیلنج نے ان لوگوں کی صفوں میں بے چینی کی لہر دوڑا دی جن کا سیاسی مفاد قدامت پرست نظریے میں تھا ۔

معتزلہ  کا نظریہ یہ تھا کہ قرآن پہلے سے موجود نہیں تھا بلکہ حسب ضرورت خداوندکریم اسے زمین پر لوگوں کی ضروریات کے مطابق  ،پیدا کرتے گئے اور یہ زمین پر نازل ہوتا رہا (یعنی قرآن مخلوق ہے) ۔ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ جیسے جیسے زمین پر لوگوں کی ضروریات اور حالات بدلتے ،اگر قرآن کا نزول جاری رہتا تو مزید قرآن بھی نازل ہو سکتا تھا ۔ اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قرآن کا نزول بند ہوگیا ہے تو انسان اپنی عقل اور قرآن کی روشنی میں بدلتے زمانے کے اُن نئے مسائل کا دینی حل تلاش کر سکتا ہے جو قرآن میں پہلے سے موجود نہیں ہیں یا ان کا ذکر صراحت سے نہیں ہے ۔ معتزلہ کا یہ نظریہ عوام کو وہ آزدیِ عمل دے رہا تھا جس کے تحت وہ اپنے مستقبل کی خود تعمیر کر سکتے تھے  جبکہ قدامت پرست علما کے نظریہ تقدیر کے تحت چونکہ تقدیر لکھی جا چکی ہے اس لئے انسان اپنی قسمت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا اور اسے اپنی تقدیر پر قانع رہنا چاہے ۔ اس طرح قدامت پسند اس نظریے کا بھی اظہار کر رہے تھے کہ اسلامی شریعت بھی قرآن کی طرح الہامی ، ازلی اور غیر متبدل ہے ۔ قدامت پرستوں اور معتزلہ کے درمیان لکیر ان مسائل پر لکیر کھنچ چکی تھی ۔

مامون نے معتزلہ کی تعلیمات کی بیعت کا فیصلہ نہ ماننے والوں کو سخت سزاوں کی نوید دی ۔ اس طرح ایک مہم شروع ہوئی جو اسلامی تاریخ میں مِنحہ ( احتساب۔ 848-833 ) کےنام سے موسوم ہوئی ۔ معتزلہ کو بنو امیہ کے دور میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اب وہ خود یہی کام کر رہے تھے ۔ مامون کی حکومت نے حکم عدولی کرنے والے علماء کو کوڑوں ، جیل اور جلاوطنی کی سزا دی اور کچھ کو تو مامون نے بذات خود دشنام سے نوازا ۔ آج کے دور کے مسلمان اس دور کو معتزلہ اور قدامت پرستوں کے درمیان اسلام میں عقل ودانش کی اہمیت کے مناظروں کے طور پر نہیں بلکہ معتزلہ اور مامون کے ظلم و تشدد کے حوالے سے دیکھتے ہیں ۔

زیادہ تر علماء نے ریاست کی قوت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے مگر بعض نے انکار کر دیا جن میں سب سے مشہور ہستی امام احمد بن حنبل کی تھی جن کی ہمت نے انہیں ایک شہید کے سے مقام پر لا کھڑا کیا اور لوگوں میں ان کی عزت اس بات کی گواہ ہے کہ سنی عقیدے کے لوگوں کے دل ان کے ساتھ تھے ۔ امام کی مقبولیت عباسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جذبات کا بھی پیش خیمہ تھی ۔ اور یہ بھی واضح ہو چکا تھا کہ خلیفہ مامون نے معتزلہ  کی تعلیمات کو سرکاری سرکاری پالیسی بنا کر اس تحریک کا گھلا گھونٹ دیا تھا ۔

منحہ (احتساب) مامون کی 833 عیسوی میں وفات کے بعد بھی خلیفہ معتصم کے دور میں جاری رھا ۔ حتی کہ خلیفہ المتوکل(861۔847 عیسوی ، جو مامون کا بھانجا تھا) ، نے اسے 848 عیسوی میں ختم کر دیا اور معتزلہ کے نظرئے (قرآن کا مخلوق ہونا) کو سرکاری پالیسی نہ بنانے کا اعلان کیا ، کیونکہ معتزلہ کی عوامی حمایت بہت کم ہو گئی تھی اور اب وہ کمزور ہو کر حکمرانوں کو قابل ذکر سیاسی حمایت فراہم نہیں کر سکتے تھے ۔ المتوکل کو اکثریتی سنی آبادی کی حمایت درکار تھی ۔ اب خلیفہ کی حمایت کے بغیر معتزلہ عوامی انتقام کا نشانہ بننے لگے اور امام احمد ابن حنبل کے پیروکار ان کے ساتھ وہی سلوک دہرانے لگے جو انہوں نے قدامت پرستوں کے ساتھ ماضی میں کیا تھا ۔ مگر معتزلہ کے کفن میں آخری کیل امام ابوالحسن العشری نے ٹھونکی جو خود معتزلہ میں سے تھے مگر چالیس برس کی عمر میں پہنچ کر وہ تائب ہو گئے کیونکہ ان کے خیال میں عقل کے ذریعے عقیدہ آخرت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ۔

اس کی کہانی کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ امام العشری نے ایک معتزلہ عالم سے یہ پوچھا کہ خدا تعالی ایسے تین بھائیوں کا حساب آخرت میں کیسے کرے گا جن میں پہلا ایمان والا ہے ، دوسرا کافر اور تیسرا ایک نومولود ہے ۔ اس عالم نے کہا کہ خدا پہلے کو جنت میں بھیجے گا ، دوسرے کو دوزخ میں اور بچے کو عالم برزخ میں ۔ العشری نے مزید پوچھا کہ خدا بچے کو کیوں مارے گا تو اس عالم نے کہا کہ اس طرح خدا اس بچے کو بڑا ہو کر ایک گناہگار شخص بننے سے روکتا ہے ۔  العشری نے مزید اعتراض کیا کہ پھر خدا نے اس گناہگار شخص کو بڑا ہی کیوں ہونے دیا تاکہ وہ بڑا ہو کر گناہ نہ کرے تو اس اعتراض پر اس معتزلہ عالم سے کوئی جواب نہ بن پڑا ۔ العشری اس کے بعد معتزلہ کی تعلیمات سے تائب ہو کر امام احمد ابن حنبل کے پیروکار بن گئے ۔ اور رمضان 912 عیسوی میں ایک دن وہ بصرہ کی جامع مسجد میں کھڑے ہوئے اور اپنا جبہ تار تار کرنا شروع کر دیا اور باآواز بلند کہا کہ جس طرح یہ لباس میرے جسم سے علیحدہ ہو رہا ہے اسی طرح میں اپنے پہلے خیالات سے تائب ہو رہا ہوں ۔

تاہم العشری نے عقل کی اسلام کے معاملات میں اہمیت کو بالکل ہی ترک نہیں کر دیا تھا بلکہ وہ عقل کی اہمیت کو بدستور تسلیم کرتے رہے اور علم کلام میں وہ اس کو استعمال کرتے ہوئے معتزلہ کی تعلیمات کے خلاف اسے استعمال کرتے رہے ۔ تاہم شریعت کے معاملات میں العشری قدامت پرستوں کے موقف کے حامی رہے ۔ اس طرح االعشری نے اسلام میں عقل کے محدود استعمال کی وکالت تو کی مگر انہوں نے اس طرح شرعی قانون اور عقل کے کردار کے درمیان فاصلہ بہت بڑھا دیا ۔ قدامت پرست علم کلام میں تو عقل کے استعمال کے قائل تھے کیونکہ وہ بحث و تمحیص اور مناظروں کے زیادہ شائق نہیں تھے ۔  العشری کے عقل کے کردار کو اسلامی شریعت کی تعمیر میں محدود کرنے سے قدامت پرست زیادہ مضبوط ہوتے چلے گئے ۔

قدامت پرستوں کو العشری کا انداز خوب بھایا ، اب ان کا پرانا موقف ، عقلی دلیلوں کے ساتھ عوام میں پیش ہورہا تھا جس سے ان کا کام سہل ہو رہا تھا – شرعی قوانین بنانے کے عمل میں یونانی فلسفیوں کی تعلیمات کا اثر کم کرنے کے سلسلے میں العشری کے کردار نے شریعت کی بنیادیں حدیث پر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بچے کھچے معتزلہ اتنے زیادہ نہیں تھے کہ قدامت پرستی کے اس پھیلاو کو روک سکیں ۔

معتزلہ کی تعلیمات کا اثر اسلامی فلسفہ میں اس کے بعد تقریبا ایک یا دو صدی تک رہا لیکن وہ اسلامی کے قومی دھارے سے علیحدہ ہی  رہے ۔ جب اسلام میں ان کا اثر ختم ہوا تو یورپ میں ایسی علمی تحریکیں شروع ہوئیں جو مذہب اور عقل کو مربوط کرنے کی کوششیں کرنے لگیں ۔ یہ تحریکیں ان یونانی اور عربی فلاسفروں سے متاثر تھیں جن کی تعلیمات اُن تک عربی کتابوں سے لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر پہنچ رہی تھیں(سپین ، فرانس اور اٹلی کے ذریعے جہاں یا ان کے قریب علاقوں میں مسلمانوں کی حکومت تھی) ۔ یہ تحریکیں معتزلہ کے وارثوں مثلا ابن سینا اور ابن رشد کی احسان مند تھیں جنہوں نے یونانی فلاسفروں کی تعلیمات کی نہ صرف شرحیں لکھیں تھیں بلکہ ان میں قابل قدر اضافے بھی کیے تھے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ میں معتزلہ کی تعلیمات کو ایک نئی زندگی ملی اور شاید اسی کا اثر تھا یورپ کی علمی تحریکوں نے نئے تصورات اور خیالات کا دھماکا کر کے یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کیا لیکن ادھر اسلام میں معتزلہ کی تعلیمات کو قبر میں دفن کر دیا گیا تھا ۔

اگرچہ معتزلہ تحریک آج کے سیکولر تصور سے کوسوں دور تھی مگر یہ ماضی میں یہ ایک واحد تحریک تھی جس نے اسلام کے قلب کو کسی حد تک چھوا اور جس نے معاشرے میں عقل کی بنا پر اصلاحات کرنے کی کوشش کی  ۔  معتزلہ کی یاد اسلامی دنیا کے حافظے سے کبھی بھی محو نہیں ہو سکی ۔ اس صدی کے شروع میں مصر کے  نامور عالم محمد عبدہ  بھی لاشعوری طور پر اس تحریک سے متاثر تھے ۔ تاہم عباسیوں کے عہد حکومت کے اختتام سے قبل اس بات کا فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب مستقبل میں شریعت کے معاملات میں عقل اور قدامت پرستی میں سے کون حاکم ہو گا ۔ معتزلہ کی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے بعد اسلامی تہذیب نے ان کی طرف بھولے سے بھی مڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔

امام شافعی کا نام شریعت بنانے والے محترم عالموں میں ہوتا ہے ۔ وہ 767 عیسوی میں فلسطین کے شہر غزہ میں پیدا ہوئے  اور حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی نسب میں سے تھے ۔ ان کا بچپن مکہ میں گذرا اور کئی  سال وہ بدو قبائل کے ہمراہ صحرا میں رہے تاکہ ان کا کلچر سیکھ سکیں ۔ یمن میں بطور استاد کے طور پر مقیم تھے کہ انہوں نے شیعہ سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور 803 عیسوی میں چند شیعہ باغیوں کے ہمراہ عباسی دستوں نے انہیں ایک جھڑپ میں گرفتار کر لیا ۔ وہ گرفتار کر کے اس وقت بغداد لائے گئے جب سنی شیعہ اتحاد کا نعرہ زوروں پہ تھا ۔ ہارون الرشید نے انہیں معاف کر دیا اور انہوں نے بغداد میں ہی تحصیل علم جاری رکھی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ  علم حدیث کے استاد بن گئے ۔ وہ خلیفہ مامون کے عہد میں قاہرہ میں انتقال کر گئے اور وہیں پہ آج ان کا مزار بھی ہے ۔  مذہبی درسگاہوں کی عمومی روایت کے مطابق امام شافعی کوئی انقلابی خیالات کے مالک نہیں تھے بلکہ ان کا زیادہ تر وقت شریعت کی بنیاد یعنی حدیث کی تلاش میں گذارا ۔ ان کا مشہور کام شریعت کے ماخذ کے تصور کو ایک نیا رخ دینا تھا ۔ امام شافعی نے کہا کہ شریعت کے ماخذ صرف دو یعنی قرآن اور حدیث ہی نہیں بلکہ چار ہیں ۔

قرآن ۔ جو اللہ کی کتاب مقدس ہے اور اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔

اجماع  ۔ مومنین کا اتفاق رائے جس میں اسلامی نظریے کے مطابق تو تمام مومنین کو شامل ہونا ہوتا ہے مگر درحقیت علماء اور فقہاء ہی اس ختیار کو استعمال کرتے ہیں ،

قیاس ۔  جو امام شافعی کے خیال میں شریعت کے قانون کے اندرباقی رہ جانے والے رخنوں کو بھرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے مگر اپنی خاصیت کی بنا پر الوہی نہیں ہے  ۔

مگر سب سے اہم ماخذ امام شافعی کے خیال میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور ان سے بیان کی ہوئی احادیث ہیں ۔

ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ امام شافعی کا جوانی میں شیعہ سیاست کی طرف جھکاو حدیث کو سب سے اہم ماخذ ماننے کی طرف میلان کا باعث ہو ۔ اس وقت کے خلیفہ مامون کی طرح ، غالبا امام شافعی  بھی شیعہ سنی کی خلیج پاٹنے کی کوشش میں مصروف ہوں ، مگر ایک قدامت پرست عالم ہونے کی بنا پر وہ معتزلہ کو ناپسند کرتے تھے اور انہوں  نے خلیفہ مامون سے ان معاملات پر اختلاف کی کوشش بھی کی ۔

امام شافعی کی سوچ کا اندازہ معتزلہ کے ذکر کے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ انہوں نے ایسے وقت درس دینے کا آغاز کیا جس وقت معتزلہ کی تحریک سیاسی طور پر عروج کی طرف جا رہی تھی ۔ شافعی کے خیال میں یونانی حکمت سے متاثر معتزلہ علماء اسلام کے نام پر ایک دھبہ تھے ۔ ان کا وجود مٹانے کے لیے ایک ایسے نظریے کی ضرورت تھی جو لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لے ۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ایک ایسی ہستی تھی جو شیعہ اور سنی پیروکاروں میں یکساں عزت و احترام کی حامل تھی اور شافعی کی یہ حکمت عملی معتزلہ کے خلاف ایک طاقتور عنصر ثابت ہوئی ۔

تاہم امام شافعی کے اختلافات اپنے ہم عصر قدامت پرست علماء کے ساتھ بھی تھے ۔ علمائے سلف میں سے کچھ حدیث کو سب سے اہم ماخذ ماننے سے اس لئے بھی انکار کرتے تھے کہ ان کے خیال میں محمد صل اللہ علیہ وسلم محض ایک انسان تھے اور ایک واحد انسان کے اعمال روایت نہیں بن سکتے تھے کیونکہ قرآن نے میں ذکر آتا ہے کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم ایک بشر اور  خدا کے صرف ایک فرستادہ تھے ۔ امام شافعی کی دلیل یہ تھی کہ قرآن کا حکم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس طرح خدا نے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو شریعت کے دائمی ماخذ کے طور نامزد کیا ہے ۔

اگرچہ امام شافعی حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے اختیار کو اللہ تعالی کے بعد دوسرا درجہ دیتے تھے ۔ مگر ایسا ہونا سب معاملات میں تسلیم نہیں کرتے تھے ۔ قدامت پرست علماء کا کہنا تھآ کہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا اختیار قرآن سے پہلے نہیں آسکتا جو اللہ کا کلام ہے ۔ امام شافعی کا کہنا تھا کہ یہ پہلے اور بعد کی بحث معاملات کو خلط ملط کر دیتی ہے چناچہ کوئی حتمی کلیہ بنانا چاہیے ۔

شافعی کی دلیل اس معاملے میں یہ تھی کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اختیار اتنا زیادہ تھا کہ اللہ نے قرآن میں واضح انداز میں اس کی تشریح کی ہے اور اس طرح یہ تمام دوسرے ماخذ سے افضل ہے ۔ امام شافعی تو اس خیال کے حامی بھی تھے کہ اگر قرآن اور حدیث میں اگر کوئی فرق پیدا ہوتا ہے تو حدیث قرآن کے حکم کو منسوخ کر سکتی ہے کیونکی محمد صل اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے حکم کے دیے ہوئے اختیار کے تحت ، ایسے احکامات نافذ کر رہے تھے جنہوں نے انسانی زندگی کے تمام امور کا احاطہ کرنا تھا ۔

امام کے اس دعوے نے علماء کی صفوں میں ہلچل مچا دی لیکن انہوں نے اپنا مقدمہ اس مہارت سے تیار کیا تھا کہ دوسرے علماء کی بن نہ پڑی تاہم امام شافعی شیعہ مسلمانوں کو اس بات پر راغب نہ کر سکے کہ وہ ایسی شریعت کو قبول کر کے سنی قومی دھارے میں واپس آجا ئیں جو کہ صحابہ کی احادیث کی بجائے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے گرد بُنا گیا تھا ۔ تاہم اسلامی قانون کے ماخذ کی تشریح کرنے پر انہوں نے عام قبولیت کی سند حاصل کی ۔

820 عیسوی میں اپنی وفات کے وقت تک امام شافعی امام احمد بن حنبل کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو چکے تھے جنہوں نے معتزلہ کی تحریک کو منحہ(احتساب) کے دوارن مزاحمت کر کے سخت دھچکا پہنچایا تھا ۔ مزید کچھ دہائیوں میں باقی علماء نے بھی امام شافعی کے دلائل کو تسلیم کر لیا اور اس طرح امام حدیث کا اسلامی قانون کا سبب سے اہم ماخذ ہونا ، شریعت کا حصہ بن گیا ۔ امام شافعی نے اس طرح ایک بنیاد رکھنے کے بعد ، شریعت کو ترتیب دینے کا کام باقی علماء پر چھوڑ دیا ۔ ان کی تھیوری کو ماننے کے بعد ، احادیث جمع کرنے کا کام باقی لوگ بڑے ذوق و شوق سے کرنے لگے اور یہ کام نویں صدی کے باقی حصے میں ایک جنوں کی صورت میں ہوتا رہا ۔

احادیث کے یہ سب کھوجی ماہر قانون نہیں تھے بلکہ قانونی وقائع نویس تھے جو کہ اپنے اس کھوج میں اسلامی دنیا کے چپے چپے میں پھیل گئے ۔ ان میں کچھ تو اپنے کام میں بہت سنجیدہ تھے مگر بعض کے لئے یہ ایک مشغلہ تھا ۔ چونکہ احادیث جمع کرنے کا ایک مقابلہ سا چل رہا تھا اس لئے بعض لوگ معیار کی بجائے تعداد کے قائل ہو گئے اور بہت کم لوگوں نے اس فرق کو روا رکھا ۔ باآخر کوئی چھ لاکھ احادیث جمع ہو گئیں ۔

قابل فہم طور پر یہ عمل شکوک سے پاک نہیں تھا ۔محمد صل اللہ علیہ وسلم کی وفات صدیاں پہلے ہو چکی تھی اور اب بیان کردہ کسی ایک حدیث کے راوی کوئی چھ یا اس سے زیادہ کے قریب بنتے تھے ۔ مسلمان راوی اپنے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو روایت کرنے میں ، ان الفاظ سے زیادہ حسین الفاظ سے آراستہ کرتے تھے جتنا کہ وہ حقیقت میں تھی ۔ پروفیسر گولڈزہر کے الفاظ میں” کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک سچا مسلمان سوائے حدیث کے کسی اور معاملے میں غلو نہیں برت سکتا” ۔ بلاشبہ احادیث کے راویوں کے بارے میں شک کرنے والے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں ۔ سب سے پہلے بنو امیہ نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر جھوٹی احادیث کو گھڑا ۔ اس کے بعد جان بوجھ کر بھول جانے والے آتے ہیں اور آخر میں یاداشت کی بلاارادہ خطا کرنے والے ۔

نہ صرف معتزلہ نے ایک ہی موضوع پر متضاد معانی کی حامل مختلف احادیث کا کھل کر مذاق اڑایا بلکہ راسخ العقیدہ مسلمانوں نے بھی حدیث جمع کرنے کے عمل میں خامیوں کو تسلیم کیا ۔ اسلامی علماء اس وقت تک کوئی ایسا نظام بنانے میں ناکام رہے تھے جو حدیث کے صحیح ہونے کی گارنٹی دیتا ۔ صرف ایک طریقہ ، اسناد کا وضع کیا گیا جس میں ایک حدیث کے روایت کرنے والے راویوں کی ثقاہت کا تعین کیا گیا اور جس کی بنا پر کسی حدیث کے قوی یا ضعیف ہونے کی تصدیق کی جاتی تھی لیکن یہ طریقہ بھی کسی حدیث کے غلطی سے پاک ہونے کی سند فراہم نہیں کرتا تھا ۔

امام شافعی کو بھی روایت حدیث کی ان خامیوں کا احساس تھا مگر ایک مکمل اور بے عیب شرعی قانون کی تلاش میں انہوں نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ  کسی حدیث کی کوئی ایک خامی شرعی قانون کی سچائی کو معرض خطرمیں ڈال سکتی ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں خامی کا امکان ہو سکتا ہے مگر ان کے خیال مِں ایک حدیث نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مروج ایک عمومی قدر کا اظہار ضرور کرتی ہے اور اس طرح نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ارادے کا اظہار کرتی ہے اور اس لحاظ سے وہ حدیث صحیح ہے ۔

نویں صدی کے اختتام تک لاکھوں احادیث پر مشتمل تقریبا چھ مجموعے اکٹھے ہوچکے تھے ۔ اور آج کے دن تک ان احادیث کے صحیح ہونے پر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے ۔ اگرچہ شریعت کی بنیاد انہیں احادیث پر استوار ہے جو کہ مسلمانوں کی زندگی کو منضبط کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں  اور جن کی بنا پر شریعت کو غیر متبدل قرار دیا جاتا ہے ۔

احادیث جمع کرنے کے بعد علماء نے اجتہاد کا عمل شروع کیا ۔ اجتہاد کے عمل میں اجماع کا خیال رکھا گیا اور اجماع کے بعد کسی قانون کے بن جانے کے بعد اس پر دوبارہ بحث نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ان کی امت کا سواد اعظم کبھی غلطی پر نہیں ہو سکتا ۔ علماء نے اس حدیث کا یہ مطلب لیا کہ جن باتوں پر وہ اجماع کر رہے تھے وہ غلطیوں سے پاک ہے اور اجتہاد کے بعد جب ایک قانون بن گیا تو اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی اور قانون کی کتابوں میں اس کا ندراج کر دیا جاتا تھا ۔ جب تمام معاملات احادیث کی بنا پر بن گئے تو علماء نے کہا کہ اب شریعت مکمل ہو گئی ہے ۔ مکمل ہونے کا مطلب تھا ، آنے والے تمام زمانوں کے لئے ۔ عربوں کا وہ قول جس کے مطابق کہ اب اجتہاد کا دروازہ ہو گیا ہے ، نویں صدی سے لے کر دسویں صدی کے آغاز تک اس دور کی طرف اشارہ کرتا ہے جب علماء نے شریعت مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا ۔

اس نقطے پر آکر اجتہاد کی جگہ تقلید نے لے لی جو تمام مسلمانوں کا ایک طرح سے فرض بن گئی ۔ اب کے بعد آنے والے ماہر قانون سے یہ توقع تھی کہ وہ بغیر کسی حیل حجت اور بحث و مباحثے کے ، شریعت کو نافذ کریں گے ۔ اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کے بعد  امام شافعی اور ان کے شاگردوں کے کی تعلیمات  میں آنے والے اسلامی علماء نے کوئی خاص اضافہ نہیں کیا ہے ۔ علماء صرف شریعت کے نفاذ سے غرض رکھتے رہے اور کسی قسم کی تبدیلی کرنے کے الجھیڑے میں پڑنے سے گریز پا رہے ۔  تاریخ کے مختلف ادوار میں چند ایک فلاسفروں نے اجتہاد کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر قدامت پرست علماء نے حیرت انگیز قوت برداشت سے ان جھٹکوں کو سہا اور کسی قسم کی تبدیلی کے عمل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

امام شافعی کا کام ہی وہ بنیاد ہے جو آنے والے دور میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے درمیان تعلق کی بنیاد بنا ۔ شریعت کے اصولوں کی پابندی کرنا ایک ظاہری تمغے کی طرح ہے جس سے کسی مسلمان کی فضیلت کا اندازہ کیا جاتا ہے ۔ اور سب سے اعلی درجہ جو مسلمان کو معاشرہ دیتا ہے وہ سلفی ہونے کا ہے یعنی نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور اقوال افعال کی ہو بہو نقل کرنے والا ۔

شریعت ایک بہت بااختیار قانون ہے اور سیکولر مسلمان حکومتیں اسے اپنانے سے جھجکتی ہیں ۔ ایک چٹان کی طرح مضبوط ہونے کے یقین نے  شریعت کو عباسی خلفاء کے دور سے لے کر آنے والی مشکل صدیوں تک میں محفوظ رکھا اور اس کا خدا کا قانون ہونے کے یقین نے مسلمان معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر استوار رکھا ۔ لیکن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان معاشرے نے اس استواری اور حفاظت کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے ۔ اسلامی شرعی قانون جو ماضی کے ایک ناپائیدار لمحے میں منجمد ہے اور انسان کی عظمت کے سفر کو خاموشی سے دیکھتا رہا ہے ،  اس نے اسلامی معاشرے کی بصیرت کو محدود کر دیا ہے ۔ شریعت کا قانون یہ سکھاتا ہے انسان کا منتہائے مقصود یہ ہے کہ نبی اکرم کا سا زمانہ دوبارہ سے پیدا کیاجائے ۔  شریعت نے انسان کی زمانہ جدید کی اقدار کے حامل ایک معاشرے کی جستجو کو ناجائز قرار دے کر اسلامی ذہن کو قید کر دیا ہے ۔ شریعت کے قانون نے اسلامی معاشرہ ، جو شروع کے زمانے میں باقی انسانیت کے لئے ایک نوید تھا اسے اپنی عظمت حاصل کرنے کی سمت سے موڑ کر کسی اور رخ پر چلا دیا ہے ۔ عربوں کے نابغہ ہونے کی صلاحیت کا جو اظہار عباسیوں کے دور میں ہوا وہ پتہ نہیں کہاں کھو گئی ہے ۔ اس بات کا ایک مضبوط مقدمہ کھڑا کیا جا سکتا ہے کہ فاتح قدامت پرستوں نے مسلمان معاشرے کو اپنے نظریات سمیت ایک کمرے میں محبوس کر دیا تھا جس کی کوئی کھڑکی نہیں ہے اور یہ صورتحال عرب معاشرے میں اب بھی جاری ہے ۔

سنت کی اتباع کے ذریعے اسلامی شریعت فرد کی زندگی کے نہ صرف بڑے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ زندگی کے بہت معمولی پہلو مثلا لباس کی تراش خراش ، کھانے پینے کے آداب اور سلام دعا وغیرہ تک شامل ہیں ۔ مومنین شریعت کو قانون سے زیادہ ایک مومن کی زندگی کے سب سے اہم فرض قرار دیتے ہیں ۔ اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیر جوزف ساشے کے بیان کے مطابق” شریعت کسی شے کو بھی کسی فرد کی انفرادی عقل کے فیصلے پر نہیں چھوڑتی” ۔ آجکل کی ایک عام ریاست کے قانون کے برعکس ، شریعت کے اندر گناہ اور ثواب کے تصور کی وجہ سے ، ایک ایسی قوت نافذہ پوشیدہ ہے جس سے باقی قانونی سسٹم محروم ہیں ۔  اسی بنا پر کچھ جدید سکالر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسلامی شریعت اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے قانون کی جدید تعریف میں نہیں آتی ہے اور یہ صرف ایک اخلاقی ضابطہ ہے ۔

اٹھارویں صدی تک اسلامی معاشرہ باقی دنیا سے اس قدر الگ تھلگ اور منجمد تھا کہ شریعت نے حیال (یعنی کسی اسلامی قانون کی شرط کو پورا کرنے میں حیلے سے کام لینا ۔ کتاب الحیل کے نام سے ہمارے ہاں ہندوستانی اور پاکستانی علماء کی کتابیں بھی دستیاب ہیں ۔ بلاگر ) کے نام پر اپنے اندر بہت ساری تبدیلیوں کو جذب کر لیا ۔

لیکن 1798 عیسوی میں نپولین نے ترکی کی عثمانی حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر پر قبضہ کر لیا  جس کا ارتعاش اسلامی دنیا میں دُور ُدور تک محسوس کیا گیا ۔ اس وقت اسلامی دنیا کو احساس کرنا پڑا کہ کہ شریعت جدید دنیا کے بدلے ہوئے نظام اور حالات سے مطابقت چاہتی ہے اور اس مسئلے پر بحث پورے مشرق وسطی میں اُس وقت سے جاری ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے عثمانی ترکوں نے تجربہ کیا ۔ اگرچہ ان کی اصلاحات کا دائرہ تجارت اور محصولات کے قوانین کے دائرے تک محدود رہا جس میں مسلمانوں کو مغرب کے نظام سے واسطہ پڑتا تھا ۔ قدامت پرست علماء نے اس سلسلے میں مزاحمت کی مگر ان کی ایک نہ چلی ۔ یہ اصلاحات حکومتی نظام کی تنظیم نو کے نام پر کئی گئیں تھیں مگر مسلمانوں نے اسے اپنے اسلامی مخمل میں ایک بیرونی ٹاٹ کے پیوند کی نظر سے دیکھا اور اب قانون کی جو شکل بن گئی تھی وہ شریعت اور مغربی نظام کا ایک ملغوبہ تھا جس سے عام لوگ الجھ کر رہ گئے ۔ مگر اس کے باوجود علماء اسلامی دنیا میں ہر جگہ ، عائلی قوانین خصوصا عورتوں اور بچوں کے حقوق اور مرتد کے لئے موت کی سزا سے متعلق شقوں پر شریعت کی علمداری بحال رکھنے میں کامیاب رہے ۔ تاہم فوجداری قانون میں ان کی عملداری قائم نہ رہ سکی جو انیسویں صدی کے آخر تک تقریبا تمام مشرق وسطی میں تبدیل کر دیے گئے تھے ۔

اسلامی قانون کے ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ان اصلاحات نے بہر حال اسلامی قانون کو نہیں چھوا کیونکہ ان میں سے کوئی سی بھی اصلاحات اجتہاد کرنے کے بعد شامل نہیں کی گئیں تھیں ، اور مسلمان حکومتیں اسلامی قانون شریعت سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی بجائے من عن مغربی فوجداری قوانین اپنا رہیں تھیں ۔

انیسویں صدی کے اختتام پر مصر کے مفتی اعظم محمد عبدہ نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ معاشرے کے بگاڑ کو روکنے کے لئے شریعت میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ اس وقت مصر سمیت تقریبا تمام مشرق وسطی عیسائی فوجوں  کے بوٹوں تلے تھا اور اسلامی ملکوں کے نوجوان اسلامی علوم کی تعلیم کو چھوڑ کر مغربی یونیورسٹیوں میں بڑی رغبت سے داخل ہو رہے تھے ۔ عبدہ سمجھتے تھے کہ اسلامی علوم کی تعلیمات میں نپولین کے حملے کے بعد سے کوئی اصلاح نہیں کی گئی تھی بلکہ گذرتے وقت کے ساتھ اسلام اور مغرب کے درمیان ہر شعبے میں موجود خلیج بڑھتی جا رہی تھی ۔ عبدہ نے اسلامی تاریخ کے ہزار سال میں پہلی دفعہ اسلامی شریعت میں اصلاحات کی تجویز پیش کی ۔ انہیں اسلام کے اس مخمصے کا بھی احساس تھا کہ اسلام مغرب سے علمی فائدہ حاصل تو کرنا چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی اپنی کاملیت اور سالمیت بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ عبدہ نے شریعت کے ساتھ اپنا رابطہ بڑی سختی سے استوار رکھا مگر وہ سمجھتے تھے کہ اسلامی شریعت کی اوپری تہوں کو چھیل کر اس حد تک علیحدہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کی اصل روح خطرے میں نہ پڑے ۔ تقوی اور کھلے پن کے اس ملاپ کی وکالت کر کے عبدہ ، معتزلہ کے خیالات کی بہت حد تک تصدیق کر رہے تھے اور شاید انہیں شعوری طور پر اس کا احساس بھی تھا ۔ انہوں نے علی الاعلان کہا کہ انسانی حالت کو بدلنے کے عمل میں عقل کا ایک بنیادی کردار ہے اور عقل سے پہلو تہی اسلامی دنیا کے زوال کی ایک بنیادی وجہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے عوامی اجتماعات میں معتزلہ کی تعلیمات سے اپنے آپ کو جوڑنے سے انکارکر دیا ۔ تاہم مصر کے قدامت پرستون نے انہیں ان کے اِنہیں خیالات کی بنا پر باطنی (یا بدعتی) قرار دے دیا اور کہا کہ یہ آج کے دور کے نئے معتزلہ ہیں ۔ عبدہ کا اعتماد ان کے دو گروہوں سے تعلق کی وجہ سے تھا ، پہلے علماء اور دوسرے عوام ۔ دونوں گروہ عباسیوں کے دور سے لے کر آج تک نہیں بدلے تھے اور ویسے ہی تھے ۔

وہ دریائے نیل کے ڈیلٹا کے علاقے میں ایک متقی اور معزز گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور اس خطے نے مصر کو بہت سارے رہنما فراہم کیے تھے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم مسجد مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے اسلامی مدرارس کے رٹو طوطے جیسے نظام تعلیم سے بغاوت کی ، لیکن وہ جامعہ ازہر میں ہی داخلہ لے سکے جہاں انہوں نے منطق(لاجک) اور تصوف کی دینیات کی تعلیم حاصل کی ۔

قاہرہ میں وہ سید جمال الدین افغانی کے شاگرد بن گئے جو جدیدت پرست مجدد اور اسلامی وطنیت کی تحریک کے داعی تھے ۔ مگر یہ شاگردی عبدہ کی مصر سے جلاوطنی کا سبب بنی اور بعد میں لندن اور بیروت قیام کے دوران انہوں نے جدید یورپی نظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ۔ وطن واپسی پر وہ پہلے جج اور بعد میں اسلامی شرعی عدالت کے سب سے بڑے جج یعنی مفتی اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ۔

ایک سیاسی مفکر کے طور پر عبدہ نے سوچا کہ مسلمان تاریخی طور پر حکمرانوں کے مطیع رہنے کے عادی ہیں مگر انہیں عیسائی حکمرانوں کے خلاف آسانی سے متحرک کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے شریعت کا ایک ایسا استعمال کیا جو شاید اس سے پہلے کبھی کبھار ہی ہوا تھا اور ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں غیر عادل حکمران کے خلاف بغاوت کو جائز قرار دیا گیا تھا عوام سے سامراجی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مدد کی استدعا کی ۔

دینیات کے میدان میں بھی  انہوں نے اسی شدت سے قدامت پرست طبقے کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ علماء اس عقیدے کی نفی کریں کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے بلکہ اجتہاد کے عمل میں ، عقل انسانی کے تخلیقی استعمال سے ، اسلام کی تعمیر نو اسلام کی اصل روح کے مطابق ہونی چاہیے ۔ وہ احادیث جو کہ آج کے زمانے کے اعتبار سے اپنی افادیت کھو چکی ہیں انہیں ترک کر دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے اندر بذات خود اتنے وزنی دلائل چھپے ہوئے ہیں کہ اگر صرف اجتہاد کا دروازہ کھول دیا جائے تو اس بات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام جدید زمانے میں مسلمان کو کن فوائد سے نوازتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قدامت پرست علماء نے گذشتہ صدیوں کے دوران اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے ۔ اسلام نے نہ صرف نئے جہان تخلیق کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ ایسا کرنے کا حکم بھی دیا ہے اور عقل  نہ صرف ایک انتخاب ہے بلکہ قرآن نے اس کو استعمال کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ عبدہ نے اس بات کی وکالت کی کہ مغربی سائنسی خیالات اسلام کے لئے خطرہ نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال اسلام تابانی کو مزید بڑھائے گا ۔

عبدہ نے اسلامی معاشرے کی شدت کو بھی کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ  شریعت محض حدیث پر استوار ہونے کی بجائے قرآن اور انسانی اخلاقی قدروں پر استوار ہونی چاہیے ۔ آج کے مسلمانوں کو جدید زندگی سے ہم آہنگ ہونے کے لئے شریعت سے پہلو تہی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلم علماء کو شریعت کے لیے حدیث اور قرآن کو انسانی عقل کی روشنی میں رکھ کر دیکھنا چاہیے اور جو زیادہ سچا ہو اسے شریعت کا پہلا ماخذ قرار دینا چاہیے تاکہ خدائی دانش کا حکم پورا ہو سکے اور دنیا کا امن برقرار رہے ۔

اسلام عبدہ کے الفاظ میں ، اپنے اندر اتنی سچائی رکھتا ہے کہ ایک خوشحال اور متحرک اسلامی معاشرہ تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہو سکے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خال ہی کوئی مسلمان اس بات پر رضامند ہے کہ شریعت کے ان مطالب کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے جو آج سے ہزار سال پہلے اُس وقت کے علماء نے متعین کر دیے تھے ۔

مغرب کی نظر میں ، عبدہ ہو سکتا ہے کہ ایک جدید سکالر کی تعریف پر پورا نہ اترتے ہوں ، مگر انہیں اسلامی معاشرے کے مخمصے کی سمجھ آگئی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ شریعت کی اصلاح صرف اسلامی قانون کو جدید زمانے کی ضروریات کے مطابق ہی نہیں ڈھالے گی بلکہ اسلامی تہذیب کو مستقبل کی دنیا کی طرف قدم بڑھآنے کا حوصلہ بھی دے گی اور اسلامی تہذیب کے ذہن کو قرون وسطی کی جکڑ بندیوں سے آزاد کرے گی ۔

عبدہ کی اپنے زمانے میں مشکل یہ تھی کہ مسلمان مجموعی طور پر اس قرون وسطی کی سوچ کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے اور اپنی پرانی سوچ پر قانع تھے ۔ عبدہ کو اس بات سے انکار نہیں تھا کہ مسلمانوں کے لئے صدیوں پرانی سوچ کو ایک دم چھوڑنا بہت تکلیف دہ ہوگا اور بہت کم مسلمان صدیوں پرانی عادتیں چھوڑ کر تبدیلی کے اس مشکل عمل سے گذرنے کے لئے تیار تھے ۔ جس بھی گروہ کو اس نے اپنی دعوت پیش کی اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اسے احساس ہوا کہ زیادہ تر مسلمان اس حد تک بھی تبدیل ہونے کو تیار نہیں تھے جس حد تک معتزلہ کے زمانے میں تیار تھے ۔ مگر آج اکیسویں صدی میں ، عبدہ کے شاگرد اپنے ہاں کے مسلمانوں کو اس تبدیلی کے لئے بہت تیار پاتے ہیں ۔

————————————————————

 
6 Comments

Posted by on February 10, 2010 in مسلم امہ