Category Archives: مسلم امہ
کوئی جہالت سی جہالت ہے
آج جب اکیسویں صدی کی پہلی دہائی اختتام کے قریب ہے ، دنیا کی ترقی یافتہ اقوام محض چند سالوں میں چاند اور اس سے آگے دوسرے سیاروں پر بستیاں آباد کرنے اور معدنیات حاصل کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں ہم قرون وسطی کے زمانے میں جانے کی تگ و دو کر رہے ہیں ۔ مغرب کی ہر چیز پر نفریں بھیجتے ہیں اور اس کی نفی کرتے ہیں ، موجودہ دور کے جاہلوں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں ، ہر بنے بنائے نظام اور اداروں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں مگر اس کے بعد کیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس کی خبر نہیں ۔ عالم اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ایک پڑھی لکھی اقلیت بھی قوت کے ذریعے دنیا کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ مگر قوت کیا ہوتی ہے اور اس کا فلسفہ و ماخذ کیا ہوتا ہے اس سوال سے نظریں چرانا مناسب سمجھتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مسیحا بس اب آنے ہی والا ہے اور آ کر ہمیں اس قعر مذلت سے نکال دے گا اور اس کے بعد ہمارا سنہری دور شروع ہو جائے گا ۔
جاوید چوہدری کا زیر نظر کالم پہلی اگست 2006 کو شائع ہوا مگر آج چار سال بعد بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا عقل و فکر کا زاویہ ان گذرے سالوں میں بھی نہیں بدلا اور مستقبل قریب میں بھی موجودہ سوچ اور فکر کے ساتھ ہماری حالت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔
پاکستان اور اسلام ۔ احمد رفیق اختر
میں نے پہلے پہل پروفیسر احمد رفیق اختر کا ذکر ممتاز مفتی کی کتاب ” تلاش ” میں پڑھا ۔ وہ انہیں جدید زمانے کا ایک با علم صوفی قرار دیتے ہیں مفتی نے ان کے پاس اللہ کے عطا کردہ علم الاسماء کا بھی ذکر کیا مگر میں نے اسے ممتاز مفتی کی روایتی عقیدت پسندی سمجھا جو وہ ہر منفرد فرد کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں اورجس کا مظاہرہ وہ اپنی کتاب الکھ نگری میں کر چکے تھے ۔ چند سال بعد ممتاز کالم نویس جاوید چوہدری نے بھی ان سے ایک ملاقات کے بعد انہیں اپنے ایک کالم میں ” ماڈرن صوفی “کہا ۔ جاوید چوہدری جیسے تشکک پسند صحافی کے قلم سے پروفیسر کی تعریف پڑھ حیران ہوا کیونکہ جاوید چوہدری ایک زمانے میں اپنے آپ کو اپنی عقلیت پرستی کی بنا پر مذاق میں دہریہ کہا کرتے تھے ۔ چنانچہ میں نے جاوید سے پروفیسر کا فون نمبر حاصل کیا مگر پروفیسر سے بات نہ ہو سکی ۔ ایک دفعہ پنڈی جاتے ہوئے بغیر ملاقات کا وقت طے کئے ان کے آبائی شہر گوجر خان میں پروفیسر سے ملاقات کی ٹھانی مگر پروفیسر ایک لیکچر کے سلسلے میں میر پور گئے ہوئے تھے ۔
اس بات کو چند ایک برس بیت گئے تو مجھے پتہ چلا کہ پروفیسر اتوار کے دن مخصوص اوقات میں فون خود اٹینڈ کرتے ہیں ۔ کافی دفعہ کوشش کے بعد میں ایک دن پروفیسر سے فون پر بات کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ ان دنوں میں کچھ جذباتی اور دوسرے قسم کے مسائل سے دوچار تھا ۔ میں نے فون پر اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں اپنے ذاتی مسائل پر ان کا مشورہ چاہتا ہوں ۔ پروفیسر نے کہا کہ پہلے اپنا مکمل نام بتاو ۔ میں نے نام بتایا تو پروفیسر بغیر کچھ مزید پوچھے میری شخصیت کے تجزیے میں مصروف بولنا شروع ہو گئے ۔ دو تین منٹ میں انہوں نے میرا اندرونی پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیا اور مجھے چند اسمائے ربانی پڑھنے کی تلقین کی تاکہ میری شخصیت کے اندر توازن پیدا ہو سکے ۔ اس کے بعد یہ گفتگو ختم ہو گئی ۔
بچپن میں کتابوں سے شغف کی بنا پر ، میں علم نفسیات ، مابعدالنفسیات ، ٹیلی پیتھی ، مراقبہ اور پامسٹری وغیرہ کا مطالعہ کرتا رہا تھا اور اس بات سے آگاہ تھا کہ ان علوم کی مدد سے کوئی فرد محدود حد تک کسی دوسرے انسان کو پڑھ سکتا ہے مگر محض نام سن کی کسی فرد کا اس حد تک گہرا نفسیاتی تجزیہ کرنا ایک محیرالعقول بات تھی ۔اور س بات نے مجھے کچھ عرصہ حیران و پریشان رکھا
میرے ابتدائی بچپن کے چند سال ایک ایسی جگہ بسر ہوئے جو ملک کے ایک مشہور ترین صوفی بزرگ کے مزار سے بہت قریب تھی ۔ میرا جو بھی عزیز اُس شہر کام کے سلسلے میں جاتا ،صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری ضرور دینے جاتا ۔ اس کے علاوہ بھی میرے چند عزیر کچھ دور ایک اور دوسرے شہر میں ایک مشہور مرحوم بزرگ کے مزار پر حاضر ہوتے تھے اور مشہور تھا کہ ان کے مزار کی مسجد میں نو راتیں قیام اور عبادت کرنے سے دعا قبول ہو جاتی ہے اور دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں ۔ بعض اوقت مجھے بھی میرے عزیز رشتہ دار ساتھ لے جاتے تھے ۔ مگر میں اپنی سکول کی سائنسی تعلیم کی وجہ سے ہر بات کو حواس اور عقل کے ترازو کی مدد سے پرکھنے کا عادی ہو چکا تھا ۔ مجھے بزرگان دین کے مزاروں پر عوام کی اندھی عقیدت میں کوئی کشش نظر نہیں آتی تھی اور میں محض مزار پر فاتحہ پڑھنے ، مٹھائی کھانے ، قوالی اور دھمال دیکھنے اور سرکس کے جھولوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ۔ بعد میں ان بزرگان دین کے حالات زندگی جاننے کی کوشش میں چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیا تو یہ لوگ مجھے کسی اور دنیا کے افراد لگے ۔ کوئی فاقہ کش ، چلوں کی خاطر کنووں میں الٹا لٹکنے والا ، ہر وقت تسبیح پھیرنے والا ، علم معاشیات سے ناآشنا اوراور بعض کو روایات کے مطابق تو ولایت اس بات پہ ملی تھی کہ ان کے مرشد نے خوش ہو کر ان کی طرف ایک نظر الفت کی تھی اور ان کا سینہ معرفت اور نور سے بھر گیا تھا ۔ مجھے یہ لوگ ایسے افسانوی کردار لگے جن کو ان کے چاہنے والوں نے حکایات اور قصہ گوئی کے فن سے عام انسانوں کی بجائے فرشتوں کے زیادہ قریب کر دیا تھا بھلا ایک مرحوم مسلمان کسی دوسرے زندہ مسلمان کو کیا فائدہ یا نقصان دے سکتا ہے ۔ دورسرے لفظوں میں ، میرا شمار منکرین تصوف میں ہوتا تھا ۔
2004 میں مجھے حادثتا چند ایک ایسے روحانی تجربات سے ذاتی طور پر گذرنا پڑا جس کا میں بذات خود شاہد تھا (جس میں میری کوئی کوشش شامل نہیں تھی) اور میں ان کا انکار بھی نہیں کر سکتا تھا اور اب یہ تجربات میرے پچھلے تمام خیالات کی عمارت گرانے کے درپے تھے۔ مگر میری عقل نے آگے بڑھ کر ایک وار کیا اور سمجھایا کہ یہ محض ایک اتفاق ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ پھر اسی دوران میرے ایک بہت عزیز دوست جو کہ بہت تعلیم یافتہ ، دنیا کی سیاحت کیے ہوئے ، نیوزویک اور فارن پالیسی میگزین کے رسیا اورایک بہت ذمہ دار سرکاری عہدے پر سارا دن عملی مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہیں ، اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور اپنی روحانی وارداتوں کی تفصیل مجھ سے بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ آج بھی اپنی منتخب کردہ راہ سلوک پر گامزن ہیں اور وقتا فوقتا اس موضوع پر فون کے ذریعےبات چیت ہوتی رہتی ہے مگر میں عقل اور عشق دونوں کے درمیاں آج بھی کھڑا ہوں اور فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ تصوف کا ایک فرد کی عملی زندگی اور پاکستان میں کیا کردار ہے اور کس قسم کا اسلام پاکستان کت لئے سود مند ہے۔
مگر بہرحال اس بات کا سراغ ضرور مل گیا ہے کہ اس دنیا کے متوازی ایک روحانی سسٹم بھی کام کر رہا ہے جو حواس کی گرفت سے باہر ہے ۔(اور بھی ذاتی تجربات و واقعات ہیں مگر چونکہ ذاتی نوعیت کے ہیں اس لئے ان کا ذکر مناسب نہیں ) ۔
پروفیسر احمد رفیق اختر کے متعلق بھی میں اب تک خود کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کہ وہ کیا ہیں ۔ ایک ماڈرن اور با علم صوفی ؟ ، ایک ناکام گورنمنٹ سرونٹ / ٹیچر ؟ ، ایک جذباتی اور اس معاشرے کا مس فٹ انسان جو ایک جذباتی لمحے کی گرفت میں آ کر اپنی برسوں پرانی ملازمت کو لات مار کر خالی ہاتھ اپنے آبائی شہر گوجر خان میں آ کر برتنوں کی دکان کھول لیتا ہے یا پھر ایک شہرت کی ہوس کا مارا ہوا شخص جو اپنی انا کی تسکین مذہب کا لبادہ اوڑھ لوگوں کا مرکز نگاہ بن کر کرنا چاہتا ہے ؟ ۔
مگر بہر حال پروفیسر کا مطالعہ اسلام اور جدید علوم کے متعلق وسیع ہے ۔ وہ اسلام اور تصوف کی دقیانوسی اصطلاحات کی بجائے جدید اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور اپنے علم کی بنا پر سامعین اور ماننے والوں پر ان کی مضبوط گرفت قائم رہتی ہے ۔ ان کے لیکچرز سے مجھے بھی اپنے کچھ سوالوں کے جواب ملے اگرچہ ان کے خیالات ، نظریات اور معلومات کے ناقدین بھی بے شمار ہیں ۔
ان کا ایک آڈیو لیکچر بعنوان ” پاکستان اور اسلام ” مجھے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں دلچسپ لگا ۔ جو حضرات اس قسم کے مواد سے رغبت رکھتے ہیں ان کی سہولت کے لئے میں نے اسے نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے ۔ سنیئے اور اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے ۔
لیکچر ۔ “پاکستان اور اسلام ” ۔ دورانیہ : تقریبا دو گھنٹے

