RSS

Category Archives: فن اور فنکار

میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں

غالب کی فارسی غزل ۔ گلوکار غلام علی ۔ پنجابی منظوم ترجمہ صوفی غلام مصطفے تبسم ۔ انگریزی ترجمہ پروفیسر رالف رسل

شعرِ غالب
ز من گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا
بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
میرے شوق دا نیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا
اینویں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کی تو سوچنا ایں سِتمگر آ جا

انگلش ترجمہ پروفیسر رالف رسل
You cannot think my life is spent in waiting? Well then, come
Seek no excuses; arm yourself for battle and then come

شعرِ غالب
وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد
ہزار بار بَرَو، صد ہزار بار بیا

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووئے ،وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نے
میرے سوہنیا جا ہزار واری ،آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا

رسل
Parting and meeting – each of them has its distinctive joy
Leave me a hundred times; turn back a thousand times, and come

شعرِ غالب
رواجِ صومعہ ہستیست، زینہار مَرَو
متاعِ میکدہ مستیست، ہوشیار بیا

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ،اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نے
میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نے ،ہوش کر، بن کے ہوشیار آ جا

رسل
The mosque is all awareness. Mind you never go that way
The tavern is all ecstasy. So be aware, and come

شعرِ غالب
تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست
جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
تُو سادہ تے تیرا دل سادہ ،تینوں ایویں رقیب کُراہ پایا
جے تو میرے جنازے تے نیں آیا، راہ تکدا اے تیری مزار آ جا

شعر غالب
حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب
چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا

منظوم ترجمہ پنجابی صوفی تبسم
سُکھیں وسنا جے تُوں چاہونا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر
آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا، ایتھے بیٹھ دے نے خاکسار آ جا
رسل
If you desire a refuge, Ghalib, there to dwell secure
Find it within the circle of us reckless ones, and come

 
 

پنجابی واراں

وار کے لفظی معنی رزمیہ نظم کے ہیں ۔ یہ ایک ایسی طویل نظم ہوتی ہے جس میں کسی بہادر شخص یا قبیلے کی بہادری کی تعریف کی گئی ہو اور اس کی جرآت اور شجاعت پر واری صدقے ہونے کا اظہار کیا گیا ہو ۔ ان کا یہ کام نیک ہونا چاہیے اور اس کا مجموعی تاثر جوش کا ہونا ہونا چاہیے نا کہ غم کا ورنہ مرثیہ کہلائے گا ۔ وار یا جنگ نامہ دنیا کے تمام قبائلی اور زرعی معاشروں کا حصہ رہا ہے مثلا فرانس کے بادشاہ شارلیمن کے بھانجے رولینڈو کے نام پر ” سانگ آف رولینڈو ” جو مسلمان اور باسک لشکر کے ہاتھوں سپین میں مارا گیا اور اس کی بہادری کے قصے صدیوں تک یورپ کے گویے گاتے رہے۔ عرب میں بھی لشکر کے عقب میں رجز پڑھنے والے خصوصا عورتیں اپنی افواج کا دل ایسے اشعار سے بڑھاتیں ۔ پنجاب میں بھی وار صدیوں تک بہت مقبول رہی ۔  پرانے زمانے میں پنجاب میں جہاں قصے اور رومانوی داستانیں چوپال میں بیٹھ کر سنی جاتی تھیں، وار میدانِ جنگ میں سنائی جاتی  ۔ یہ روایت دنیا کی کئی زبانوں میں موجود ہے اور جب سورما میدانِ جنگ میں لڑرہے ہوتے تھے تو واریئے، میراثی، راگی یا ڈھاڈی پیچھے سے بلند آواز میں ان کے اجداد کے کارنامے انہیں سناتے تھے جنہیں وار کہتے تھے۔  پنجاب میں وار کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ سلاطین کے عہد سے بھی پہلے سے چلی آرہی ہے۔  ان واروں میں قدیم پنجاب کی عام زندگی کی تمام تاریخ موجود ہے۔ مثلاً سماج کی کیا اخلاقی اقدار تھیں، بہادری کیا تھی اور دھوکہ دہی کیا تھی؟ سچ کیا تھا اور سچ کے لیے مرنا کیا؟  وغیرہ ۔

 بعد میں ان واروں میں جنگوں کے علاوہ عشق کی داستانیں بھی سنائی جانے لگیں کہ ان صوفی مزاج گانے والوں کے مطابق یہ بھی سماج کے جامد رویوں کے خلاف بغاوت کی ایک شکل تھیں  . وار گانے والے کھڑے ہو کر گاتے ہیں اور اسے دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثری بیانیہ حصے جن میں کہانی کو واقعات کی اہم تبدیلیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور شعر بند یا بحر میں بندھے ہوئے حصے جنہیں گا کر سنایا جاتا ہے۔ واریں گانے والے روایتی چمک دمک والے لباس پہن کر میدان میں اترتے ہیں اور موضوع کی مناسبت سے اداکارانہ انداز میں روایتیں بیان کرتے ہیں۔ داستان کے المیہ، طربیہ، پرجوش اور جنگی حصوں کے ساتھ ساتھ بیان کرنے والے کی شخصیت اور انداز بدلتا رہتا ہے جو انہیں کرداروں اور ان کی اس لمحے کی حقیقت کے قریب تر لے جاتا ہے۔

واروں کو اقسام کے لحاظ سے تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

1 ۔ رزمیہ واراں

2 ۔ رومانی واراں

3 ۔ ٘مذہبی واراں

چند مشہور پنجابی واریں یہ ہیں ۔

 کربلا دی  وار ،  مرزے دی وار ، دلا بھٹی دی وار ، ملتان شہر دی وار ، سید دی وار ، سکھاں دی وار ، نادر شاہ دی وار

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی درسی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ ان واروں کے بالکل برعکس ہے۔ ان واروں کے ہیرو اس مذہبی شناحت سے بالکل بالاتر ہیں جو پاکستانی ریاست کا خاصہ رہی ہے۔ جہاں یہ سکندرِ اعظم سے لڑنے والے ہندو راجہ پورس کے گن گاتی ہیں، وہاں یہ مغلوں کو ’چغتے‘ کے طور پر یاد کرتی ہیں اور ان کے خلاف لڑنے والے دلا بھٹی اور جیمل پھتہ کی بہادری کے قصے سنا کر نوجوانوں کو ان جیسے سورما بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جیمل پھتہ ایک آزاد طبع ہندو سورما تھا جس نے اکبر کے بہت سے مطالبے پورے کیے مگر جب اکبر نے اس کی بیٹی کی خوبصورتی کی تعریف سن کا رشتہ مانگا تو وہ اکبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ آج کے پنجاب میں وار بھی اپنے اختتام پر ہے۔ زمانے بدلنے کے ساتھ ساتھ جہاں باقی اصناف میں لکھنے، گانے، اداکاری اور ہدایت کاری کی سپیشلائزیشن بڑھتی گئی ہے، دوسری رویتوں کے ساتھ یہ قدیم روایت بھی غائب ہو رہی ہے۔

مرزے  جٹ دی وارا ۔ افضل بھٹی

مرزے جٹ دی وار ۔ مس پوجا

 
2 Comments

Posted by on September 20, 2011 in فن اور فنکار

 

لحاف – ایک کہانی

عصمت چغتائی کے مشہور افسانے لحاف سے کون واقف نہیں ۔ اس کی ڈرامائی تمثیل ملاحظہ کیجئے ۔  یہ افسانہ تحریری صورت میں یہاں پڑھا جا سکتا ہے اور عصمت کا تعارف یہاں پڑھا جا سکتا ہے ۔

 
 

شیرو

کامیابی حاصل کرنے کی ترکیب کیا ہے اس سوال  پر جدید مینجمنٹ کے علم نے ڈھیروں لٹریچر تخلیق کیا ہے مگر اس سوال کا مکمل جواب ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا ۔ کسی کو بہت زیادہ محنت کرنے پر پر بھی ہاتھ نہیں آتی  اورکسی کی جھولی میں خود بخود آ گرتی ہے ۔ ایسی ہی ایک عجیب و غریب کہانی شیرو کی ہے ۔

وہ افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں 1937 میں پیدا ہوا اس کے والد وفات پا چکے تھا چنانچہ غربت کی وجہ سے اس کی والدہ کام کاج کی تلاش میں پشاور آ گئی اور مشہور فلم ڈائریکٹر جمیل احمد کے بھائی خورشید احمد کے گھر کپڑے وغیرہ دھونے اور دوسرے کام کاج پر ملازم ہو گئی ۔ پشاور کی لکڑ منڈی کی ایک سرائے میں اس کا قیام تھا اور اس بیٹا شیرو پرلے درجے کا احمق اور بیکار تھا ۔ وہ سنیماوں کے آگے بوٹ پالش کا کام کرتا تھا اور اپنی ساری کمائی فلمیں دیکھنے کی نذر کر دیتا تھا  ۔ شیرو کی والدہ نے جمیل صاحب کی والدہ سے اپنے بیٹے کے لئے کام کی سفارش کی ۔ شیرو کو جمیل صاحب کے گھر باہر سے سودا سلف لانے کی ملازمت مل گئی ۔ شیرو جو فلموں کا مارا تھا وہ سودا سلف میں ٹانکا مار کر فلم وغیرہ دیکھ لیتا تھا مگر شیرو کی حماقتوں سے گھر والے بہت بیزار تھے ۔

ایک دن شیرو کو جب سودا لانے کے لئے بھیجا تو اس نے بازار میں ٹرکوں اور موٹروں کا جلا ہوا ڈیزل پٹرول تبرک سمجھ کر اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر اس خیال سے لگا لیا کہ اس سے اس کے بال گھنے اور ملائم ہو جائیں گے ۔ جب اس کی کھوپڑی نے جلنا شروع کیا تو وہ چیخیں مارتا گھر کو بھاگا ۔ خورشید صاحب جو شیرو کی ان حرکتوں سے پہلے ہی تنگ تھے انہوں نے غصے میں آ کر اسے گھر سے نکال دیا ۔ شیرو نے فلموں کے رسیا ہونے کے ناطے لاہور کی راہ پکڑی اور وہاں پشاور کے رہنے والے ایک آرٹسٹ جو فلموں وغیرہ کے لئے تصویری بورڈ بنایا کرتے تھے ان کی شاگردی اختیار کر لی اور اچھا خاصا آرٹسٹ بن گیا ۔ اسے باڈی بلڈنگ کا بھی شوق تھا چناچہ اس نے تیاری کر کے مسٹر لاہور کے مقابلے میں شرکت کی ۔ جب وہ سٹیج پر آ کر پوز بنا کر کھڑا ہوا تو لوگوں نے ہنسنا شروع کر دیا حتی کہ اس کے سٹیج سے ہٹنے کے بعد بھی ونس مور کی صدائیں لگاتے رہے ۔ شیرو مارے شرمندگی کے ڈریسنگ روم میں چھپا رہا اور مقابلے کے منتظم کے اصرار کے باوجود بھی دوبارہ سامنے نہ آیا ۔ مقابلے کے منتظم نے کہا کہ تم میں ایک مزاحیہ اداکار بننے کی صلاحیت ہے کیونکہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تم باڈی بلڈرز کے کامیڈین ہو ۔

شیرو نے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا اور آخر کار ایم جے رانا کی ایک فلم ” جٹی ” میں ایک ہوٹل کے بیرے کا کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنی کوششوں سے ایک بڑا مزاحیہ اداکار بن گیا ۔ اس نے اپنی ایک فلم ” دیا اور طوفان ” کے نام سے شروع کی اور اس کے ایک گانے ” گا میرے منوا گاتا جا رے ” کو خود گایا اور رنگیلا کے نام سے اپنا سکہ فلمی دنیا میں بٹھا لیا ۔

اب محمد سعید خان عرف شیرو یا رنگیلا کے ظرف کی انتہا دیکھیے کہ جس خورشید صاحب نے اسے گھر سے نکال دیا تھا انہیں لاہور بلا کر ایک ماڈرن آفس کا انچارج بنا دیا ۔ جتنی کامیاب فلمیں رنگیلا نے بنائی اسی آفس سے خورشید صاحب نے ریلیز کیں ۔ رنگیلا ہمیشہ خورشید صاحب کے مالی حصے کا خیال رکھتے رہے ۔ رنگیلا اکثر خورشید صاحب سے کہتا تھا کہ میں نے آپ لوگوں کا نمک کھایا ہے میں آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں ۔ رنگیلا کے ظرف کے  سے لوگ اب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ۔

رنگیلا نے تین شادیاں کیں ۔ اس کے ہاں چھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں جن میں سے کچھ پاکستان اور چند امریکہ میں کامیاب زندگی گذار رہے ہیں ۔ رنگیلا کا انتقال گردے کی تکلیف کی وجہ سے مئی 24 سن 2005 میں ہوا ۔ انہوں نے تقریبا 660 فلموں میں کام کیا جن میں اردو ، پشتو ، ہندکو اور سندھی فلمیں شامل ہیں ۔ اور اپنے کیریر کی انتہا پر ان کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستانی عوام کی نفسیات صرف دو آدمی سمجھتے اور ان پرمضبوط گرفت رکھتے ہیں  ایک رنگیلا اور دوسرے ذوالفقار علی بھٹو ۔



 

وہ جو ہم میں تم میں

اختری بائی فیض آبادی جو بعد میں بیگم اختر کے نام سے مشہور ہوئیں برصغیر میں گائیکی کا ایک خوبصورت نام ہے ۔ وہ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں ہلکی پھلکی کلاسیکی موسیقی  کی گلوگاراوں میں سب سے زیادہ کرشماتی اور مقبول حیثیت کی مالک ہیں ۔ وہ متحدہ ہندوستان کے صوبہ یو پی کے ایک وکیل کی بیٹی تھیں جس نے انہیں اپنانے سے انکار کر دیا تھاکیونکہ ان کی والدہ ایک گائیکہ تھیں ۔ گھر میں انہیں بی بی کہا جاتا تھا مگر جب موسیقی کو بطور پیشہ اختیار کیا تو بائی کہلائیں ۔  وہ 1914  میں  پیدا  ہوئیں  اور   1974 میں جب ان کا انتقال ہوا تو  ایک با عزت اور باوقار وکیل کی بیگم تھیں ۔

جب ان کی والدہ مشتری کو ان کے والد نے اپنی بیوی تسلیم کرنے سے  انکار کر دیا اور اپنی بیٹی سے بھی لاتعلق ہو گئے تو وہ اختری کو ساتھ لے کر اپنے عزیزوں کے شہر گیا (پٹنہ کے قریب ایک شہر) آ گئیں ۔ شوہر کی بے وفائی کے بعد مشتری کو غربت اور سخت حالات سے واسطہ پڑا ۔ ان حالات میں اسے اسی زندگی کو اپنانا پڑا جسے وہ چھوڑ کر اپنے شہر وکیل اصغر حسین کے وعدے پر اعتبار کر بیٹھیں تھیں ۔ مشتری نے اختری بائی کو موسیقی کی تعلیم پر لگا دیا اور پندرہ سال کی عمر میں گراموفون کے ذریعے ان کی گائی ہوئی غزلیں اور نغمے  برصغیر کےہر دوسرے آدمی کی زبان پر آ  گئے ۔ ان کی آواز میں جو تاثر اور گہرائی تھی وہ سننے والے کو اپنا گرویدہ کر لیتی تھی ۔ اب کلکتہ کے فلموں اور تھیٹر کے مالکان ان کی خدمات حاصل کرنے کے لئے منہ مانگا معاوضہ ادا کرنے کے لئے تیار تھے  ۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے ایک نامور وکیل اور رئیس اشتیاق احمد عباسی نواب آف کاکوری سے شادی کر لی ۔ اشتیاق احمد نے انہیں غالب ، میر ، مومن ، جگر مراد آبادی  اور فیض کے کلام سے متعارف کرایا اور یوں بیگم اختر کی گائیکی نے ایک نیا موڑ لیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اسداللہ خان غالب کے مشکل اشعار سے بھر پور غزلوں کو سہل اور دلنشیں انداز میں گا کر غالب کو عام لوگوں تک پہنچایا ۔ یہ وہ شعراء تھے جن تک عام افراد کی پہنچ نہیں تھی ۔

شادی کے بعد ان کے شوہر نے ان کے پیشہ ورانہ  گانے پر پابندی لگا دی جس کے سامنے انہوں نے سر جھکا دیا ۔ مگر اس کے نتیجے میں وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئیں ۔  اس موقع پر ریڈیو لکھنو کے پروڈیوسر ان کے مسیحا بن کر سامنے آئے اور ان کے شوہر کو راضی کیا کہ وہ اپنی بیگم کو صرف ریڈیو پر گانے کی اجازت دے دیں ۔ قسمت کی ستم ظریفی کہ اس کے چند سال بعد عباسی صاحب کے مالی حالات خراب ہو گئے تو بیگم اختر نے املی آمدنی کے لئے میوزک کنسرٹ ، تقاریب اور گراموفون کمپنی کے لئے بھی گانا شروع کر دیا ۔ ان کے گائے ہوئے ریکارڈ  اس زمانے  میں سب سے زیادہ فروخت ہوتے تھے ۔ غزل گائیکی کے رسیا ان کی آواز کے رچاو اور گہرائی کو آج بھی یاد کرتے ہیں ۔

حکیم مومن خان مومن کی ایک غزل

شکیل بدایونی کی غزل ۔  فلم مغل اعظم