RSS

Category Archives: سائنس اور ٹیکنالوجی

مشینی مکھیاں

اگر آپ نے کبھی کتا مکھی کا نام نہیں سنا تو اسے دیکھا ضرور ہوگا ۔ عموما کاہل قسم کے  کتے جب گرمیوں کی دوپہروں میں پاوں پسارے قصائی کے پھٹے کی ٹھنڈی اور نم دار چھاوں تلے چھپ کر مخمور آنکھیں ادھ کھلی رکھے  آنے جانے والوں کا جائزہ لیتے ہوئے سونے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں تو ان کی خبر لینے یہ مکھیاں پہنچ جاتی ہیں ۔ یہ مکھیاں عموما شہد کی مکھی کے سائز کی اور رنگت میں سبز یا نیلی ہوتی ہیں ۔ مکھیاں کیا ہوتی ہیں پوری شیطان کی خالہ ہوتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو ان کتا صاحب کی ناک پر بیٹھ کر بھوں بھوں کر کے دعوت مبازرت دیتی ہیں کہ ” ہلو بھی نا اے کاہلو کہ میں آ گئی  “۔ اب اگر کتا زیادہ ڈھیٹ ہو ( جی ہاں وہی کتا ) اور محض کان ہلا کر انہیں اڑانے کی کوشش کرے  تو وہ ناک سے  اڑ کر اس کے زخم زدہ حصوں پر بیٹھ کر انہیں کریدنا شروع کر دیتی ہیں جو محلے کے لونڈے لپاڑوں کی سنگ باری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ کتے پہلے تو انہیں محض دم کے پچارے سے اڑانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ پیچھا نہیں چھوڑتیں اور چپکو عاشق کی طرح ادھر ڈوبے ادھر نکلے کی طرح اپنی واردات جاری رکھتی ہیں تنگ آ کر کتے انہیں منہ سے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ ہی کو کاٹ کھاتے ہیں ۔ ہم نے بعض کتوں کو اپنی دم سے چپکی  مکھیوں سے جان چھڑانے  اور انہیں منہ سے پکڑنے کی کوشش میں ان کے تعاقب میں گول گول گھومتے اور زچ ہوتے دیکھا ہے ۔

ہمارے ایک باس کا نام بھی یار لوگوں نے کتا مکھی رکھ چھوڑا تھا ۔ موصوف جب کسی ماتحت کے پیچھے پڑتے تھے تو ہر وقت اس  کی بہت معمولی کوتاہیوں پر سرعام بھوں بھوں کرتے رہتے تھے نتیجتا وہ بے چارہ ماتحت سارا دن کسی  نہ کسی کونے کھدرے کی تلاش میں رہتا مگر باس اسے وہاں بھی ڈھونڈہی لیتا  اور کچھ عرصہ بعد یا تو وہ نوکری چھوڑ جاتا تھا یا پھر  دن رات جھولی اٹھا اٹھا کر اللہ میاں سے دعا کرتا تھا کہ اسے خود بھی کتا مکھی بنا دیا جائے تاکہ وہ بھی باس کی کسی نرم مگر بہت حساس جگہ پر کاٹ کاٹ  کر ثواب دارین حاصل کر سکے ۔

پاکستان پر امریکی ڈرون حملے بھی کچھ کتا مکھی قسم کی چیز ہیں ۔ ہونے والے ایک حملے کی ذلت ابھی ٹھنڈی نہیں پڑتی تو فاٹا کے کسی دوسرےحصے میں ایک اور حملہ ہو جاتا ہے ۔ پاکستانی طالبان کے پاس ڈرون کا توڑ تو موجود  نہیں چنانچہ وہ اپنی رائفلوں سے ان دیکھے ڈرون پر فائر کر کےیا  پاکستان کے کسی شہر میں دھماکہ کر کے دل ٹھنڈا کرتے ہیں ۔  موجودہ ڈرون طیاروں میں فی الحال بہت سی تکنیکی خامیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے انہیں زمین سے بہت بلند فضا میں پرواز کرنا پڑتا ہے اور ان کے لئےہدف کے بہت قریب جا کر اس کا معائنہ کرنا مشکل کام ہے چنانچہ دورنمائی کیمروں سے تصویر بھی کچھ مناسب نہیں آتی مگر اب اس کا علاج ایک ان کی ایک نئی اور جدید شکل میں تلاش کیا جا رہا ہے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی لیبارٹریز میں قدرت کی پیدا کردہ مکھیوں کی نقالی کر کے انہیں کی مانند بہت چھوٹے ڈرون بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ہدف کے بہت قریب جا کر ان کے بارے میں درست معلومات فضا میں محو پرواز بڑے ڈرون کو پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح غاروں اور  دراڑوں میں چھپے ہوئے افراد کا سراغ بھی آسانی اور درستگی سے لگایا جا سکتا ہے۔ سائنس کی اس صنف کو بائیو ممکری یا حیاتیاتی نقالی کا نام دیا جاتا ہے ۔ ذیل میں چند ایسے ہی تجرباتی ڈرونز کا نمونہ حاضر ہے ۔

سینسر فلائی

چار پروں والی بھنبھناتی مکھی ۔ وزن صرف چار گرام اور انفرا ریڈ سینسر سے کنٹرول ہوتی ہے

چپکو مکھیاں ۔ ہدف کے قریبب جا کر کسی دیوار یا درخت سے چپک جاتی ہیں اور معلومات اپنے مالک کو پہنچاتی ہیں ۔ کام ختم ہونے کے بعد اپنے آپ کو علیحدہ کر کے گھر کی راہ لیتی ہیں ۔

مشینی سانپ ایسی جگہوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں مکھیوں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے



 

فری بلاگز میں لائین ہائٹ کا مسئلہ

جن بلاگر کے بلاگ میری طرح ورڈپریس ڈاٹ کام یا بلاگ سپاٹ پر فری ہوسٹد ہیں انہیں ایک یہ مسئلہ درپیش رہتا ہے کہ تحریر کی لائنیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتیں ہیں اور الفاظ ایک دوسرے میں خلط  ملط نظر آتے ہیں ۔ ان بلاگز کے تھیم انگریزی حروف کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں اور ان تھیم کو آپ پیسوں کی ادائیگی کیے بغیر آسانی سے تبدیل نہیں کر سکتے ۔

میرے اپنے بلاگ پر یہی مسئلہ درپیش تھا ۔ ایک آدھ قاری نے شکایت تو کی مگر میں نے کان نہیں دھرا ۔ مگر جب ابو شامل جیسے ثقہ قاری نے بھی یہی فرمائش کی کہ کوئی جگاڑ ڈھونڈی جائے ورنہ میرے بلاگ کے بہت سے قارئین کور چشمی کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں  تو میں نے بھی اس پر سوچنا شروع کر دیا ۔ ایک ٹوٹکہ حاضر خدمت ہے جو کہ اگرچہ سادہ ہے اور تکنیکی علم رکھنے والے حضرات اسے بخوبی جانتے ہیں مگر جو اصحاب یا خواتین محض اردو زبان سے عشق کی دولت سے مالا مال ہیں ان کے لئے شاید مفید ہو ۔

1 ۔ سب سے پہلے تو اپنی پوسٹ لکھ کر فائنل کر لیں اور مطلوبہ فونٹ سائز وغیرہ سے آراستہ کر لیں ۔

فائنل پوسٹ

2 ۔  اب ایچ ٹی ایم ایل ویو میں جائیں ۔ مندرجہ بالا عبارت کچھ یوں نظر آئے گی ۔

ایچ ٹی ایم ایل ویو

3 ۔ کرسر کو انتہائی دائیں جانب رکھ کر انٹر کی کو پریس کر کے کچھ علاقہ اپنا نیا کوڈ داخل کرنے کے لئے حاصل کریں

کوڈ کا علاقہ

4۔ اب سب سے اوپر اور آخر میں  مندرجہ ذیل کوڈ داخل کریں ۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام کے نگہبان نے کوڈ بریکٹس کو آگے پیچھے کر دیا ہے مگر اس طرح بھی چلے گا ۔

کوڈ سرخ باکسز میں ۔

5۔ اب ویژیول ویو میں جا دویارہ پوسٹ کو دیکھیں گے تو لائین ہائیٹ بدل چکی ہوگی ۔ آپ اس کی مقدار اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ کوڈ کے اندر کر سکتے ہیں ۔ میں نے 30 پکسلز رکھی ہے ۔

فائنل پوسٹ لائین ہائیٹ کے ساتھ

امید ہے کہ اس ٹوٹکے کو آپ مفید پائیں گے ۔



 

اپنے قارئین سے بات کریں

دوسرے بلاگر کے بلاگز پر تبصرہ کرنا ایک خوش کن عمل ہے ۔ اس سے نہ صرف بلاگر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ اسے اپنی تحریر کو تنقید کی صورت میں مستقبل میں بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ لیکن اس میں ایک مشکل یہ ہے کہ تبصرہ نگار کو اپنے تبصرے پر بلاگر کی رائے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور بلاگر کے موڈ اور فرصت پر منحصر ہے کہ وہ کب تبصرے کا جواب دے ۔ بعض اوقات کچھ ایسے سوالات بھی ہوتے ہیں جسے تبصرہ نگار کھلے عام تحریر کرنے سے ہچکچا رہا ہوتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس موضوع پر بلاگر سے براہ راست بات کرے ۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ تبصرہ نگار بلاگر سے اس کی یاہو یا ایم ایس این کی آئی ڈی لے کر اس سے بات کرے ۔اب تک تو اردو بلاگنگ میں یہی ہو رہا ہے

میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ اردو بلاگر اپنے قارئین کو اپنے بلاگز پر براہ راست بھی رسائی مہیا کریں تاکہ ان کا رابطہ مزید موثر ہو سکے ۔ اگر آپ اس کے لئے آمادہ ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے ۔

گوگل چاٹ سے تو سب آگاہ ہیں اور اگر آپ کے پاس جی میل کا اکاونٹ ہے تو آپ جب اپنے میل اکاونٹ میں لاگ ان ہوتے ہیں تو بائیں طرف کی سائیڈ بار میں ایک چاٹ ونڈو نظر آتی ہے جہاں پر آپ کے  تمام کونٹیکٹس کی فہرست نظر آ رہی ہوتی ہے ۔ اگر آپ کا کوئی دوست کونٹیکٹ بھی اپنے میل اکاونٹ میں اس وقت لاگ ان ہے تو اس کونٹیکٹ کے نام کے ساتھ ملحقہ نقطے کا رنگ سبز ہو جاتا ہے ۔ آپ اس ونڈو میں اس کونٹیکٹ کو کلک کر کے چاٹ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کا دوست بھی آپ کی موجودگی سے آگاہ ہو جاتا ہے اور آپ سے چاٹ کر سکتا ہے ۔ تصویر دیکھیں ۔

جی میل اکاونٹ کے اندر سائیڈ بار میں کونٹیکٹس کی فہرست ۔ میں لاگ ان ہوں چنانچہ میرے نام کے ساتھ نقطہ سبز رنگ کا ہے

اب ہم اس سہولت کو اپنے بلاگ میں نصب کرنے کے کام کا آغاز کریں گے ۔  سب سے پہلے تو اگر آپ کے پاس جی میل کا اکاونٹ نہیں ہے تو جی میل کے ربط پر جا کر نیا  اکاونٹ اپنے نام سے بنائیں ۔ اس کے بعد گوگل چاٹ بیک کے صفحے پر  جائیں تاکہ اپنے بلاگ کے لئے  بیج حاصل کر سکیں ۔ اپنا جی میل اکاونٹ کا لاگ ان نیم اور پاس ورڈ داخل کریں تو آپ گوگل چاٹ بیک بیج کو کسٹمائز کرنے کے صفحے پر پہنچ جائیں گے ۔ اب غبارے کے نیچ جہاں انگریزی میں Edit لکھا ہے اسے کلک کریں تو مندرجہ ذیل ونڈو نظر آئے گی ۔

چاٹ بیک بیج کو کسٹمائز کرنے کا پیج نیلے رنگ کے Edit ربط کو کلک کرنے کے بعد

اب نیلے رنگ میں وہ علاقہ نظر آ رہا ہے جہاں آپ اپنے بیج کے لئے معلومات داخل کریں گے۔اس کے دوسرے خانے میں آپ اپنا وہ نک نیم داخل کریں جو آپ اپنے قارئین کو چاٹ کے دوران دکھانا چاہتے ہیں ۔ اب آتا ہے چاٹ  بیج کے سٹائل کو منتخب کرنے کا مرحلہ ۔ اگر آپ کا بلاگ اپنے آزاد ڈومین پر ہے جہاں آپ کو اپنے بلاگنگ سوفٹویر پر مکمل کنٹرول حاصل ہے تو سٹینڈرڈ کو سیلیکٹ رہنے دیں ۔ مگر چونکہ زیادہ تر بلاگ فری ہوسٹنگ پر ہیں جیسا کہ میرا ورڈپریس ڈاٹ کام پر ہے جو جاوا سکرپٹ استعمال کی اجازت نہیں دیتا تو آپ ” Hyperlink and status icon no frame ” کا سٹائل منتخب کریں اور Update badge کے بٹن کو کلک کریں ۔ گوگل آپ کے بلاگ کے لئے نچلے خانے میں ایچ ٹی ایم ایل پر مشتمل کوڈ پیدا کرے گا ۔ اس خانے میں اگر آپ کلک کریں گے تو سارا کوڈ منتخب ہو جائے گا ورنہ CTRL+A کی مدد سے سلیکٹ کریں اور CTL+C کیز کی مدد سے کاپی کر لیں ۔ اور احتیاط کی غرض سے نوٹ پیڈ کو کھول کر اس میں کاپی کر لیں ۔ اب اپنے بلاگ میں لاگ ان ہو کر Appearance کو کلک کریں اور اس میں widgets  کو کلک کریں ۔ ایک نیا ٹیکسٹ باکس  ایڈ کریں اور نام کے خانے میں کوئی مناسب عنوان دینے کے بعد  اس کے ٹیکسٹ کے خانے میں اپنا وہ ایچ ٹی ایم ایل کوڈ پیسٹ کر دیں جو گوگل نے آپ کے بلاگ کے لئے پیدا کیا تھآ اور Save Widget  کو کلک کریں ۔ اب اپنا بلاگ کھولیں تو  گوگل چاٹ کا لنک آپ کے بلاگ میں نصب ہو چکا ہوگا ۔ اگر اس وقت آپ اپنے جی میل اکاونٹ میں لاگ ان ہو جائیں تو ابجو بھی قاری  آپ کے بلاگ کا صفحہ کھولے گا تو اسے آپ کے بلاگ پر گوگل چاٹ کے لنک کے ساتھ کا نقطہ سبز نظر آئے گا اور وہ اس لنک پر کلک کر کے آپ سے چاٹ کر سکتا گے ۔ یاد رہے کہ قارئین کے لیے گوگل چاٹ کا اکاونٹ یا آئی ڈی ہونا لازمی نہیں اور یہی اس سوفٹویر کی خوبصورتی ہے ۔ جلدی کریں ، میں تو یہ کام کر چکا ہوں آپ بھی اس کا ستعما ل کریں اور اپنے قارئین کے لئے آسانی مہیا کریں ۔


 

اپنی اردو ویب سائٹ اور بلاگ سنیں

گر آپ میری طرح انگریزی بلاگ بھی پڑھنے کے شوقین ہیں تو آپ نے اکثر بلاگز پر پوسٹ کی ایک سائیڈ پر ایک بٹن Hear This کے نام سے دیکھا ہو گا ۔ اس بٹن کو دبانے سے آپ اس پوسٹ کو اپنے کمپیوٹر کے ذرہعے سن سکتے ہیں ۔ یہ ٹیکنالوجی ٹیکسٹ ٹو سپیچح  کی ٹیکنالوجی کہلاتی ہے ۔ انگریزی تحریر کے لیے ویب پر یہ سروس Odigo  نامی کمپنی فراہم کرتی ہے اور اس کا پلگ ان ورڈ پریس کے لیے بھی دستیاب ہے مگر بدقسمتی سے یہ صرف انگریزی میں کام کرتا ہے ۔

اب ایک ایسا ہی سافٹویر اردو دان حضرات کے لیے بھی تیار کیا گیا یے ۔ جو کہ آپ کے اردو ویب پیج کو پڑھ کر سناتا ہے ۔ اس پتے سے ڈاون لوڈ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کو انسٹال کرنے کی ہدایات بھی ڈونلوڈ میں شامل ہیں ۔ بدقسمتی سے صرف انٹرنیٹ ایکسپلورر میں کام کرتاہے ۔ میں نے بی بی سی ویب سائٹ کو سننے کا تجربہ کیا ہے اور اچھا لگا ۔ مگر صارف کے کمپیوٹر پر ونڈو ایکس پی سروس پیک ون یا اس سے اوپر کا سسٹم ہونا ضروری ہے ۔ انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر ری سٹارٹ کریں ۔ انٹر نیٹ ایکسپلورر کو کھولیں View -> Tool Bars پر کلک کر کے اردو ویب پیج ریڈر کو کلک کریں .  play ,pause, Stop  کے نئے بٹن ظاہر ہو جائیں گے ۔ اب کوئی یونیکوڈ اردو والی سائٹ کھول کر اس میں مطلوبہ تحریر کو ماوس کے ذریعے کلک کر کے سیلیکٹ اور ہائی لائٹ کریں اور پلے کا بٹن دبائیں تھوڑی سی دیر لگے گی آپ انتظار کریں اور اس سے پہلے یقین کریں کہ آپ کے کمپیوٹر کا ساونڈ سسٹم ٹھیک کام کر رہا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ  تحریر کا صرف  اتنا حصہ ہی سنائے گا جتنا سلیکٹ کر کے ہائی لائٹ کیا گیا ہے ۔
امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ویب سائٹ ڈویلپر اس بات کے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ سائٹ کا کوڈ لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ معذور افراد کو اس قسم کا سوفٹویر ان کی بنائی ہوئی سائٹ پر استعمال کرتے ہوئے کوئی دقت نہ ہو ۔ اب پاکستان میں پتہ نہیں اس قسم کی قانون سازی کب ہوتی ہے ۔
سنئے اور مزے کریں ۔ ہاں مجھے امید ہے آپ کے دادا جان جن کی نظر کمزور ہے اسے بہت پسند کریں گے

 

بلاگ انجن ڈاٹ نیٹ بلاگنگ کا ایک اور سافٹویر

بلاگ بنانے کا سب سے آسان نسخہ تو ہ بہی ہے کہ کسی فری بلاگ سروس پر جا کر اپنا بلاگ بنا لیں مگر اس مفتے کی کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑھتی ہے مثلا اگر آپ اپنے ڈاٹا کا بیک اپ لینا چاہتے ہیں تو نہیں لے سکتے ۔ اپنی پسند کا کوئی تھیم خود بنا کر نہیں لگا سکتے ۔  سب سے بڑا مسئلہ اردو کا ہے کہ اگر قاری کے کمپیوٹر پر اردو انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرے نہیں لکھے جا سکتے  وغیرہ وغیرہ ۔ اس وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ بعض بلاگر جب پرانے ہو جاتے ہیں تو اپنا ڈومین خرید کر اپنا بلاگ وہاں ہوسٹ کرانا چاہتے ہیں اس کے لیے ایک بلاگنگ سوفٹویر کی ضرورت پڑتی ہے ۔

بلاگنگ کے ویسے تو بہت سارے مشہور سافٹویر انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور اور ان میں سب سے مستند ورڈ پریس ہے ۔ اردو کے زیادہ تر بلاگ اسی سافٹویر پر چل رہے ہیں ۔ مگر ورڈ پریس کو انسٹال اور کسٹمائز کرنا ایک درد سر ہے ۔ چنانچہ کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں جو عام طور پر یقینا مفت نہیں ہوتیں ۔

اب اس میدان میں مائیکروسوفٹ بھی کود پڑا ہے  ۔ اور تقریبا دو سال سے بلاگ انجن ڈاٹ نیٹ نامی سوفٹویر کی مختلف انواع ریلیز ہوتی رہی ہیں اور اب آکر یہ سن بلوغت کو پہنچ گیا ہے ۔ اس کی آخری ورشن 5۔1 ہے جو پچہلے سال اپریل میں ریلیز ہوئی تھی ۔ یہ ایک اوپن سورس سوفٹویر ہے یعنی اس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کے سورس کوڈ کے ساتھ سوائے تجارتی استعمال کے جو مرضی سلوک کر سکتے ہیں . اس کی بناوٹ کی بنیاد بڑی مضبود اور سوچ سمجھ کر رکھی گئی ہے اور ورڈ پریس کے ماضی کے تجربات اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر اس میں بہتری لائی گئی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی بات اس کا آسان استعمال ہے ۔ اس کا نعرہ ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکتی ہیں ۔ اس کے پیچھے روایتی ڈاٹا بیس انسٹال کرنے کی کھکھیڑ سے نجات حاصل ہو گئی ہے ۔ بس سوفٹویر ڈونلوڈ کریں اور اپنی ہوسٹنگ کمپنی پر اپلوڈ کر دیں ۔ اور بس

اگر آپ اس سے اپنے ذاتی کمپیوٹر پر کھیلنا چاہتے ہیں تو آپ کے کمپیوٹر پر IIS اور Dot Net Framework 2.0  انسٹال ہونا چاہیے جو کہ مائیکرو سافٹ کی ویب سائٹ پر مفت ڈاونلوڈ کے لیے دستاب ہے ۔ کوئی عام فرد بھی معمولی شد بد کے ساتھ اسے انسٹال کر سکتا ہے ۔ ان مراحل کی ویڈیوز بھی نیٹ پر موجود ہیں ۔ مزید معلومات آپ اس کی آفیشل ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں جس کا پتہ یہ ہے ۔

میں آجکل اس کی اردو میں لوکلائیزشن پر کام کر رہا ہوں اور اس کے اندر اردو ٹیکسٹ باکس تبصرے اور پوسٹ تحریر کرنے کی جگہ ڈال دیا ہے ۔ موسم کی صرتحال اور نمازوں کے اوقات کا ٹول بھی ڈال دیا گیا ہے ۔ ابھی اس پر کام جاری ہے امید ہے ایک آدھ مہینے میں کام مکمل ہو جائے گا ۔ اب میرے اردو میں زیر اس سوفٹویر کی تصاویر دیکھیں

میرا پسندیدہ سانچہ ڈیسک ٹاپ میس

تصاویر عام ویو میں

تصویر لائٹ باکس میں

تبصرے کے ایریا کی تصویر جس میں اردو ٹیکسٹ باکس ڈالا گیا ہے

منتظم کے تختے کی تصویر

سائیڈ بار کی تصویر

ایک اور خوبصورت سانچہ ٹریول لاگ بک

پورٹریٹ پریس نامی ایک سانچہ