Category Archives: سائنس اور ٹیکنالوجی
فری بلاگز میں لائین ہائٹ کا مسئلہ
جن بلاگر کے بلاگ میری طرح ورڈپریس ڈاٹ کام یا بلاگ سپاٹ پر فری ہوسٹد ہیں انہیں ایک یہ مسئلہ درپیش رہتا ہے کہ تحریر کی لائنیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتیں ہیں اور الفاظ ایک دوسرے میں خلط ملط نظر آتے ہیں ۔ ان بلاگز کے تھیم انگریزی حروف کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے جاتے ہیں اور ان تھیم کو آپ پیسوں کی ادائیگی کیے بغیر آسانی سے تبدیل نہیں کر سکتے ۔
میرے اپنے بلاگ پر یہی مسئلہ درپیش تھا ۔ ایک آدھ قاری نے شکایت تو کی مگر میں نے کان نہیں دھرا ۔ مگر جب ابو شامل جیسے ثقہ قاری نے بھی یہی فرمائش کی کہ کوئی جگاڑ ڈھونڈی جائے ورنہ میرے بلاگ کے بہت سے قارئین کور چشمی کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں تو میں نے بھی اس پر سوچنا شروع کر دیا ۔ ایک ٹوٹکہ حاضر خدمت ہے جو کہ اگرچہ سادہ ہے اور تکنیکی علم رکھنے والے حضرات اسے بخوبی جانتے ہیں مگر جو اصحاب یا خواتین محض اردو زبان سے عشق کی دولت سے مالا مال ہیں ان کے لئے شاید مفید ہو ۔
1 ۔ سب سے پہلے تو اپنی پوسٹ لکھ کر فائنل کر لیں اور مطلوبہ فونٹ سائز وغیرہ سے آراستہ کر لیں ۔
2 ۔ اب ایچ ٹی ایم ایل ویو میں جائیں ۔ مندرجہ بالا عبارت کچھ یوں نظر آئے گی ۔
3 ۔ کرسر کو انتہائی دائیں جانب رکھ کر انٹر کی کو پریس کر کے کچھ علاقہ اپنا نیا کوڈ داخل کرنے کے لئے حاصل کریں
4۔ اب سب سے اوپر اور آخر میں مندرجہ ذیل کوڈ داخل کریں ۔ ورڈ پریس ڈاٹ کام کے نگہبان نے کوڈ بریکٹس کو آگے پیچھے کر دیا ہے مگر اس طرح بھی چلے گا ۔
5۔ اب ویژیول ویو میں جا دویارہ پوسٹ کو دیکھیں گے تو لائین ہائیٹ بدل چکی ہوگی ۔ آپ اس کی مقدار اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ کوڈ کے اندر کر سکتے ہیں ۔ میں نے 30 پکسلز رکھی ہے ۔
امید ہے کہ اس ٹوٹکے کو آپ مفید پائیں گے ۔
اپنے قارئین سے بات کریں
دوسرے بلاگر کے بلاگز پر تبصرہ کرنا ایک خوش کن عمل ہے ۔ اس سے نہ صرف بلاگر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ اسے اپنی تحریر کو تنقید کی صورت میں مستقبل میں بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے ۔ لیکن اس میں ایک مشکل یہ ہے کہ تبصرہ نگار کو اپنے تبصرے پر بلاگر کی رائے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور بلاگر کے موڈ اور فرصت پر منحصر ہے کہ وہ کب تبصرے کا جواب دے ۔ بعض اوقات کچھ ایسے سوالات بھی ہوتے ہیں جسے تبصرہ نگار کھلے عام تحریر کرنے سے ہچکچا رہا ہوتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس موضوع پر بلاگر سے براہ راست بات کرے ۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ تبصرہ نگار بلاگر سے اس کی یاہو یا ایم ایس این کی آئی ڈی لے کر اس سے بات کرے ۔اب تک تو اردو بلاگنگ میں یہی ہو رہا ہے
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ اردو بلاگر اپنے قارئین کو اپنے بلاگز پر براہ راست بھی رسائی مہیا کریں تاکہ ان کا رابطہ مزید موثر ہو سکے ۔ اگر آپ اس کے لئے آمادہ ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے ۔
گوگل چاٹ سے تو سب آگاہ ہیں اور اگر آپ کے پاس جی میل کا اکاونٹ ہے تو آپ جب اپنے میل اکاونٹ میں لاگ ان ہوتے ہیں تو بائیں طرف کی سائیڈ بار میں ایک چاٹ ونڈو نظر آتی ہے جہاں پر آپ کے تمام کونٹیکٹس کی فہرست نظر آ رہی ہوتی ہے ۔ اگر آپ کا کوئی دوست کونٹیکٹ بھی اپنے میل اکاونٹ میں اس وقت لاگ ان ہے تو اس کونٹیکٹ کے نام کے ساتھ ملحقہ نقطے کا رنگ سبز ہو جاتا ہے ۔ آپ اس ونڈو میں اس کونٹیکٹ کو کلک کر کے چاٹ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کا دوست بھی آپ کی موجودگی سے آگاہ ہو جاتا ہے اور آپ سے چاٹ کر سکتا ہے ۔ تصویر دیکھیں ۔

جی میل اکاونٹ کے اندر سائیڈ بار میں کونٹیکٹس کی فہرست ۔ میں لاگ ان ہوں چنانچہ میرے نام کے ساتھ نقطہ سبز رنگ کا ہے











