RSS

Category Archives: جیو پالیٹکس

عدو کے ہو لیے جب تم

قبلہ استاذی سیدی پرویز مشرف  نے اسرائیلی اخبارہرٹز کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” پاکستان کو اسرائیل کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیےکیونکہ پاکستان یہودیوں کے خلاف نہیں اور اسرائیل ایک نظریاتی ریاست اور ایک زندہ حقیقت ہے  ۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران کہاکہ میرے دور حکومت میں سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میرے کہنے پر کی تھی جو کہ ہماری طرف سے پہلااعلی ٰ سطحی رابطہ تھا۔ “

مندرجہ بالا خبر نے مجھے دو واقعات یاد دلا دیے ۔ چند سال قبل سہ پہر کی سیر کے دوران کمپنی گارڈن میں ایک صاحب سے ملاقات ہو گئی ۔ وہ بھی اکیلے چل رہے تھے ،  میں نے سلام کیا تو دسراہٹ کی غرض سے انہوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی ۔ یہ صاحب کسی زمانے میں واشنگٹن  پاکستانی سفارتخانے میں تین سال تک بطور ملٹری اتاچی تعینات رہ چکے تھے ۔ اسرائیل کے ذکر پر کہنے لگے کہ سفارتی تقریبات میں پاکستانی اور اسرائیلی اتاچی عموما ایک دوسرے سے کسی بھی قسم کے رابطے اور گفتگو سے گریز کرتے ہیں ۔ لیکن ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بہت سے ممالک کے اتاچیوں  کو ایک امریکی فوجی مشق دیکھنے جانا تھا جس کے ایک کوسٹر کا بندوبست امریکیوں کی طرف سے تھا ۔  کوسٹر میں بیٹھنے لگا تو دیکھا کہ کوسٹر بھر چکی ہے اور کوسٹر کی عقبی نشست پر اسرائیلی اتاچی کے پہلو میں جگہ بچی تھی ۔ مجھے مجبورا وہاں بیٹھنا پڑا ۔ سلام کے تبادلے اور موسم پر رائے کے بعد مجھے موضوع گفتگو کچھ اور نہ سوجھا تو میں نے اس سے پوچھا

” آپ ہم سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو ؟ پاکستان کے بہتری اور فوجی امداد سے متعلق ہم جو بھی پلان امریکیوں کے سامنے رکھتے ہیں آپ لوگ اس میں رخنہ ڈالنے  کی کوشش کیوں کرواتے ہیں  ؟ “

آپ مذاق کر رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں ؟ اس نے پوچھا ۔

میں سنجیدہ ہوں ! میں نے کہا ۔

وہ کہنے لگا “  جناب  ! اس مخالفت اور دشمنی کا آغاز ہم نے نہیں آپ نے کیا تھا ۔ ہمارے ملک کے قیام کی جدو جہد کے دوران آپ کے ملک نے ہماری مخالفت اور عربوں کی اسلحہ سے مدد کی ۔ 1967 اور 1973 کی جنگوں میں  آپ کے ہوابازوں نے شامی اور اردنی جنگی جہاز اڑا کر عملی طور ہمارے ملک پر حملہ کیا اور ہمارے جہاز گرائے ۔ پی ایل او کی ہر قسم کی امداد آپ کے ملک نے کی ۔ 1982 کی بیروت کی لڑائی میں ہم نے آپ کے ملک کے افراد کو فلسطینیوں کے ہمراہ لڑتے ہوئے گرفتار کیا ۔ آپ اقوم متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پیش پونے والی ہر قرارداد میں عربوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے ۔ اس کے باوجود آپ محترم یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں ۔ آپ ان عربوں کی ہمدردی میں ہماری مخالفت کرتے ہیں جن کی خود پسندی کا یہ حال ہے کہ عرب قومیت کے علاوہ کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے  جبکہ ہم نے تو آپ کے ملک کے قیام کی تحریک کے دوران آپ کو خیر سگالی کا پیغام بھیجا تھا”۔

دوسرا واقعہ ایک پاکستانی سٹوڈنٹ کا ہے جو مصر کی سرکاری یونیورسٹی میں سٹریٹجک سٹڈیز کی تعلیم حاصل کرنے گیا ۔ دوران تعلیم اس کا اس کا مقالہ دہشت گردی کے موضوع پر تھا ۔ مقالے کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ دنیا میں مسلم دہشت گردی کی جڑیں مسئلہ فلسطین میں پیوست ہیں اور شروع سے لے کر  اب تک عرب ممالک ، فلسطینیوں اور اسرائیل  کے مابین جو جنگیں  ، معاہدے اور عالمی یقین دہانیاں ہو چکی ہیں ان کے وجہ سے دنیا کے  موجودہ عالمی قانون اور سیاسی نظام کے دائرے کے اندر رہ کر کوئی باعزت حل  ممکن نہیں ۔

آخری سمسٹر میں  مصر کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک لیکچر کا اہتمام بھی ہوا ۔ لیکچر کے لیئے مصر کے ایک سابقہ سفیر کو بلایا گیا تھا جو اسرائیل میں ایک لمبے عرصے تک سفیر رہے تھے ۔ لیکچر کے آغاز میں سفیر موصوف نے کہا ، کیا کوئی پاکستانی اس ہال میں موجود ہے ؟ تو پاکستانی سٹوڈنٹ کھڑا ہو گیا ۔ وہ مسکرایا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

سفیر صاحب فرمانے لگے کہ دینا میں دو ممالک ایسے ہیں جو موجودہ عالمی نظام میں مس فٹ ہیں ۔ ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل ۔ پھر دونوں ممالک کے مابین  متوازی نکات بیان کرنے لگے ۔

1 ۔ دونوں ممالک نظریاتی ممالک ہیں ۔

2 ۔ دونوں جنگ عظیم دوم کے بعد آزاد ہوئے ۔

3 ۔ دونوں ممالک کے قیام کی خاطر تحریک چلی ۔

4 ۔ دونوں ممالک کی طرف اس کے کچھ لوگوں نے ہجرت کی جبکہ کچھ پہلے سے موجود تھے ۔

5 ۔ دونوں ممالک کی تحریکوں کو قیام سے اپنے مذہبی طبقے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو بعد میں اس کے ہمنوا بن گئے ۔

6 ۔ دونوں ممالک کے بانی غیر مذہبی تھے ۔

7 ۔ دونوں ممالک اپنی شناخت کے بحران سے دوچار ہیں ۔

8 ۔ دونوں ممالک کے عوام برطانیہ سے آزادی کے بعد ایک اکثریتی آبادی میں اقلیت بن کر رہنے کو تیار نہیں تھے ۔

9 ۔ دونوں ممالک کی جغرافیائی ہیئت عجیب تھی ۔

10۔ دونوں ممالک کی اقلیتیں مشکلات کا شکار ہیں ۔

11 ۔ دونوں ممالک کو ایک جیسے سیکیورٹی چیلنج درپیش ہیں اور فوج ایک مقتدر ادارہ ہے ۔

12 ۔ دونوں ممالک کا انحصار بیرونی امداد پر ہے ۔

13 ۔ دونوں ممالک کی پالیسیوں میں انتہا پسندی در آئی ہے ۔

14 ۔ دونوں ممالک کے تاریخی حقائق انہیں سیکولر بننے سے روکتے ہیں جو موجودہ نیشن سٹیٹس کی بنیاد ہے ۔

15 ۔ دونوں ممالک کی ایک غالب آبادی ملک سے باہر آباد ہے ۔

16 ۔ دونوں ممالک اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ موجود مسائل کا حل صرف فوجی حل سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے  ان کی مملکت اور سوسائٹی کو خطرات لاحق ہیں ۔

17 ۔ دونوں ممالک اپنے معاملات میں اپنی اقلیتوں کے نقطہ نظر کو پالیسی سازی میں مقام دینے کو تیار نہیں ہیں ۔

18 ۔ دونوں ممالک کے عوام عقل کی بجائے جذبات پر ووٹ دیتے ہیں ۔

18 ۔ دونوں ممالک ہتھیار سازی کی دوڑ میں مصروف ہیں ۔

اس کے بعد کی تقریر میں پاکستان سے متعلق یہ تھا کہ مندرجہ بالا نکات کی موجودگی کی وجہ سے یہ ممالک ایک عام نیشن سٹیٹ کی طرح رویہ اپنانے کی صلاحیت نہ اب اور نہ مستقبل میں  رکھتے ہیں ۔ اور بالآخر یہ دونوں ممالک کبھی نہ کبھی میدان جنگ میں  ضرور مد مقابل آئیں گے اور مصر کو بھی اپنی بقا کی خاطر اب پاکستان کی راہ اپنانی پڑے گی اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور ارہ نہیں ہے ۔

آپ کا کیا خیال ہے اگر مشرف کے بقول دوسرے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات استوار کر کے چین سے رہ رہے ہیں تو ہمیں کس چیز نے روک رکھا ہے کہ اپنے دشمن بڑھائے چلے جا رہے ہیں اور کیا نیشن سٹیٹ کی فلاسفی اپنانے میں کوئی حرج ہے؟

 
 

طارق علی

ہمارے ملک کا  اردو دان طبقہ طارق علی کے نام سے زیادہ واقف نہیں ہے ۔ طارق علی پاکستان ٹائمز کے سابق  ایڈیڑ مظہر علی خان کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی والدہ طاہرہ مظہر علی خان سر سکندر حیات خان کی بیٹی تھیں جو تقسیم سے پہلے پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔جناب مظہر علی خان جنہوں نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات پر ایوب خان کے شب خون کے بعد بطور ایڈیٹر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا اور  بعد میں ایک ہفت روزہ ”ویو پوائنٹ“ نکالا جو خان صاحب کی سوچ کے مطابق بائیں بازو کی پالیسیوں اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے کام کرتا تھا- وہ کئی بیسٹ سلیرز کتابوں کے مصنف ہیں اور مغربی ملکوں میں ان کو انتہائی احترام سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے قائد اعظم سے شروع لے کر آنے والے کسی کو نہیں بخشتے جس کا مظاہرہ انہوں نے اپنی کتاب ، ڈو ال پاکستان ” میں کیا ہے ۔ ان کی سوچ کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں ۔

طارق علی

  ۔ طارق علی ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور دنیا کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب فکر و نظر ہیں۔ جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔  طارق علی اپنی طالب علمی کے زمانے میں بائیں بازو کے طالب علموں کے غیر متنازع لیڈر تھے۔   اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بڑے سیاسی مفکر کے طور پر ابھرے اور مغرب میں لوگ انہیں پاکستان کا ایک انتہائی قابل فخر سپوت سمجھتے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور امریکہ اور یورپ مزید برآں جنوبی امریکہ کی ایک جانی پہچانی علمی  شخصیت ہیں۔  وہ ایک بہت کامیاب براڈ کاسٹر بھی ہیں اور بی بی سی کے متعدد پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں ان کی باتیں غور سے سنی جاتی ہیں۔ طارق علی کی مشہور کتابوں میں Can Pakistan Survive? The Death of a State (1991), Pirates Of The Caribbean: Axis Of Hope (2006), Conversations with Edward Said (2005), Bush in Babylon (2003), and Clash of Fundamentalisms: Crusades, Jihads and Modernity (2002), A Banker for All Seasons (2007), The Duel (2008) and The Obama Syndrome (2010 Leopard and Fox شامل ہیں۔

ان کا زیر نظر  مضمون  پاکستان کے چونسٹھ برس پورے ہونے پر لکھا گیا تھا ، جس کا آسان ترجمہ اپنے پاکستانی قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ۔ مترجمہ جنابہ مریم حسین ہیں اور یہ ترجمہ ٹاپ سٹوری ڈاٹ کام سائٹ سے من و عن لیا گیا ہے ۔

آج کے پاکستان کی حالت اس بیمار کی سی ہو چکی ہے جو نہ تو پورا ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی حکومت وہاں آ سکتی ہے جو اس ملک کو کچھ آگے لے جا سکے اور اس احساس نے بہت سارے لوگوں کو ایک عشرے سے ڈپریشن کا شکار کیا ہو اہے۔ پاکستان کے اصل حکمران فوجی اور سویلین ، بڑے مزے سے فوجی، سیاسی، انتظامی، معاشی اور عدلیہ کی طاقت کے مزے اڑا رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے اکثر ممالک میں یہی کچھ ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان فرق اتنا زیادہ ہے کہ وہاں کمزور اکثریت کو طاقت ور اور امیر لوگوں سے جو کہ اقلیت میں ہیں، بچانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
برادریاں اور رشتہ داریوں کے نیٹ ورک، غنڈوں کی طرف سے زندگی کی ضمانت وغیرہ سے کچھ فرق تو پڑ سکتا ہے لیکن یہ سوچنا کہ یہ لوگوں کو پانی، بجلی، رعایتی آٹا، صحت کی سہولیتں، تعلیم وغیرہ دے سکتے ہیں کا مطلب احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہو گا۔ ایسی ترقی جس کا کوئی فائدہ ہو، اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کے لیے ہو نہ کہ چند لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان میں اس طرح کی ترقی کبھی نہیں ہوئی جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے۔قصور نہ تو قسمت کا ہے اور نہ ہی پاکستانی لوگوں کا، جن کی برداشت اور صبر دیکھنے کے لائق ہے۔ پاکستانی عوام نے سیاسی جماعتوں اور فوجی حکمرانوں کو بھی آزمایا ، لیکن پھر بھی انہیں کچھ نہیں ملا۔ اس حقیقت کے باوجود ، پاکستان عوام ابھی بھی وہاں کی مذہبی جماعتوں میں شامل ہونے کے لیے اتنی جلدی میں نہیں ہیں جب کہ مسلح جہادیوں گروہ میں شامل ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب تک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے مذہبی اور جہادیوں گروپس میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے اگرچہ لوگوں کو جنت کے بہت سارے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے پاکستان کے بارے میں بنائے گئے امیج کے برعکس، عام پاکستانی مذہبی شدت پسندوں کے جال میں نہیں آ رہے۔پاکستان میں آبادی کی سائنس کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی اس وقت پچیس سال سے کم عمر ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ بیروزگاری بہت ہے۔ ان میں سے اکثریت تعلیم چاہتی ہے، انہیں نوکریاں چاہیں جب کہ سیاسی کرپشن کا تو جواب ہی نہیں۔اب سوال یہ ہے کیا ان کے یہ مطالبات کبھی پورے ہوں گے؟پاکستان کی سیاسی زندگی تین چیزوں سے عبارت ہے۔۔۔ امریکہ، آرمی اور کرپٹ حکمران جن کے نمانئدے اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری ہیں۔ زرداری صاحب کو دینا بھر میں مال بنانے اور بے حساب جائیداد بنانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہونے والے پول میں ان کی مقبولیت کا گراف صرف دو فیصد تھا۔ ظالم پنجابی طعنے اکثر ان’’ معززین‘‘ کو سننے کو ملتے ہیں جب وہ عوام سے ملنے کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے تھوڑی سی زیادتی ہے کیونکہ یہ پنجابی طعنے خیر سے مسلم لیگ کے لیڈروں پر بھی اپلائی کئے جاسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اب سیاست سے ایک طرح سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاستدان ایسے چالاک لوگ ہوتے ہیں جو پیسہ کمانے پر لگے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ان گروہوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو بعد میں ان کے ووٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔امریکہ اس وقت افغانستان میں ایک جنگ لڑ رہا ہے وہ پاکستان کے اندر تک پھیل گئی ہے اور ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے۔ رہی سہی کسر امریکی ڈرون حملوں نے پوری کر دی ہے جو کہ پاکستان کے حکمرانوں کی مرضی سے کیے جارہے ہیں اور جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا اصل مقصد ’’دہشت گردوں‘‘ کو مارنا ہے لیکن مارے معصوم اور عام لوگ جاتے ہیں۔ ان ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام لوگوں کی تعداد اس وقت دو ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے اور ان مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔پاکستانی فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز بھی اس وقت شمالی علاقوں میں اپنے لوگوں کے خلاف حملے کرکے ایک طرح سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے ساتھ واقع اورکزائی ضلع سے ڈھائی لاکھ لوگوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا اور انہیں مہاجرین کمپیوں میں لا کر ڈال دیا۔ ان میں سے بہت ساروں نے انتقام لینے کی قسم کھائی اور اب شدت پسندوں نے اور تو اور ائی ایس ائی اور دوسرے فوجی ٹھکانوں کو اب نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔معیشت کا حال بہت برا ہے اور آئی ایم ایف کی پاکستان کو قرضہ دینے کی شرائط روز بروز سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں بلاواسطہ ٹیکس پر اصرار کرنا جہاں امیر لوگ واقعتا ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے، ایک ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کرنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سارے شہروں میں اس کے خلاف فسادات ہوئے ہیں اور واپڈا کے دفتروں کو جلا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کا عام پاکستانیوں کے لیے یہ پیغام بڑا واضع اور صاف ہے۔۔۔’’پیسے زیادہ دو، لیکن لو کم‘‘ ۔دو ہزار دس کے سیلاب نے یہ بات ثابت کی کہ پاکستانی حکمران اور اعلی طبقات اپنے لوگوں کی کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ ابھی تک سیلاب کی کہانیاں لوگوں کو ڈرا دیتی ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام صحرا میں ایک پانی کے قطرے کی بوند کے مانند ہیں۔ پاکستان کے سالانہ قومی بجٹ پر فوج کا قبضہ ہے۔ سیاسی گینگ وار نے کراچی کا حشر کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایک اور فوجی بغاوت کا وقت آن پہنچا ہے لیکن پاکستان فوج اس وقت غیر مقبول ہے اور امریکہ بھی اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ ایک اور فوجی انقلاب کے لیے اپنی رضامندگی کا اظہار کرے۔تاہم یہ بھی ایک بہیودہ مذاق سے کم بات نہیں ہے کہ فوج نے پاکستان پر سیاستدانوں کی نسبت بہتر حکمرانی کی ہے۔ حقائق اس بات کی حمایت نہیں کرتے۔ سیاستدانوں اور جرنیلوں نے عام پاکستانیوں کی طرف ہمیشہ بے نیازی کا برتاؤ کیا ہے۔ دنیا کا سب سے گندا کاروبار یہ رہا ہے کہ ہر شے کو مارکیٹ اور نجی منافع خوری پر چھوڑ دو۔ اب اس سے بات نہیں بنتی خصوصا پاکستان جیسے ملکوں میں۔پاکستان کا اندورنی زوال اور اس میں توڑ پھوڑ بڑی تیزی سے ہورہی ہے۔ یہاں شدید مایوسی اور اس سے بڑھ کر یہ احساس کہ یہاں کسی چیز کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ، بڑے عرصے سے پیدا ہو چکا تھا، جب فیض احمد فیض نے اپنی ایک متاثر کن نظم میں اپنی دھرتی کو ایک ’’ مردہ پتوں کے جنگل‘‘ اور’’ درد کا اجتماع‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔ ان برسوں میں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکا ، جس سے یہ سب کچھ رک یا بدل جاتا۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لوگوں میں بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے جس سے موجودہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا ہے۔جلد یا بادیر، لوگ اٹھیں گے اور اس سارے گند کو صاف کریں گے۔ اب مجھ سے یہ مت پوچھیں کہ کب !!

 
7 Comments

Posted by on September 5, 2011 in جیو پالیٹکس

 

غرناطہ کی چابیاں

آجکل ہر بلاگر ملکی حالات کے متعلق پریشان ہے ۔ اس پریشانی کو دو  چند کرنے کے لئے میں  14فروری 2010 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والا معین باری کا کالم پیش کر رہا ہوں ۔ کالم نگار کا انداز فکر بہت جذباتی ہے اور کالم میں تاریخی غلطیاں بھی بے شمار ہیں مگر ان کی تحریر میں چھپی حب الوطنی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔

————————————————————–
بھارت اور اسکے اتحادی پاکستان کا گھیراؤ اس طرح تنگ کر رہے ہیں جیسے سینکڑوں سال قبل عیسائیوں نے ہسپانیہ کے مسلمانوں کا کیا تھا۔ ملکی حالات واقعات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں ہسپانوی سفارتکار خاتون کی کتاب PAKISTAN UDER SIEGE کا خیال آتا ہے جو موصوفہ نے سپین جاکر لکھی۔ اس تحریر میں مصنفہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا چاروں اطراف سے گھیراؤ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جیسے سینکڑوں سال قبل عیسائیوں نے MOORISH SPAIN (ہسپانیہ کے مسلمانوں) کا محاصرہ کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہسپانیہ پر 8 سو سال حکومت کی جن کی بدولت سائنس‘ طب‘ علم فلکیات‘ ریاضی‘ جغرافیہ‘ فلسفہ‘ تاریخ کے ترجمے و تحقیق کی شعائیں یورپ کے تاریک ملکوں میں پہنچیں اور عیسائی بادشاہ ہسپانیہ پر قابض ہونے کیلئے دو سو سال تک جنگ کرتے رہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ہسپانیہ کی شکست میں ہسپانیہ کے آخری تاجدار ابو عبداللہ (بوبدل) نے غداری نہیں کی تھی۔ بلکہ مسلمانوں کی شکست کا اصل موجب شاہی خاندان میں خانہ جنگی تھی جس سے مسلمان قبائل آپس میں لڑ پڑے۔۔۔ جب بادشاہ فرڈیننڈ کی فوجوں نے غرناطہ کا محاصرہ کر لیا اس وقت ابو عبداللہ کی سلطنت شہر غرناطہ کے علاوہ 4 بڑے شہروں تک سمٹ آئی تھی۔ پھر بھی ابو عبداللہ نے سرنیڈر نہیں کیا۔ بلکہ ڈٹ کر عیسائی فوجوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ امریکی مورخ پال کے ڈیوس اپنی کتاب BESIEGED میں لکھتا ہے۔ ’’جب ہسپانیہ کے مسلمانوں میں خانہ جنگی ہو رہی تھی اس وقت بادشاہ فرڈیننڈ نے موروں کے خلاف SCORCHED EARTH پالیسی (کھیتوں کو جلانا۔ پانی اور خوراک کو روکنا اور ہر اس چیز کو تباہ کرنا جو محصورین کے کام آسکتی ہو) اختیار کی۔ تاکہ غرناطہ میں ہر قسم کی سپلائی بند ہو جائے۔ 1486 سے 1489 تک عیسائی فوجوں نے دیہی علاقوں پر بار بار حملے کئے۔ مسلمانوں نے ہر بار ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘‘ موصوف لکھتا ہے۔ ’’1489ء ابو عبداللہ کی سلطنت شہر غرناطہ تک سمٹ کر رہ گئی۔ اب بادشاہ فرڈیننڈ نے ابو عبداللہ کو نرم شرائط پر سرنڈر پر مجبور کیا۔ عبداللہ نے انکار کر دیا اور مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ فوجوں میں پہلی لڑائی ZUBIA کے مقام پر ہوئی۔۔۔ رات کے وقت مسلمان فوج قلعہ میں پسپا ہو گئی۔ ابو عبداللہ کے حکم پر دوسری لڑائی غرناطہ کے قریب ہوئی۔ رات کو پھر مسلمان فوج شہر کی سمت پسپا ہوئی۔ اس طرح تین ماہ تک لڑائیاں ہوتی رہیں۔ جب غرناطہ کے محصورین بھوک پیاس سے مرنے لگے تو عبداللہ نے باعزت شرائط پر شہر عیسائی بادشاہ کے حوالے کر دیا۔‘‘

شرائط یہ تھیں کہ

(1) شہریوں کی املاک‘ عزت و ناموس‘ مال و دولت کو تحفظ فراہم کیا جائے گا

(2) ہر قسم کی مذہبی آزادی ہو گی

(3) مسلمان اپنے لئے مجسٹریٹ اور ججوں کی تعیناتی خود کریں گے۔

(4) اسلامی معاشرہ کو تحفظ حاصل ہو گا

جب عیسائی ہسپانیہ پر قابض ہو گئے وہ اپنے ہر وعدہ سے مکر گئے۔ مورخ لکھتا ہے ’’کیتھولک عیسائیوں نے ہسپانیہ میں یہودیوں اور مسلمانوں کا رہنا ناممکن بنا دیا۔ انہیں تین راستے دکھائے گئے۔

(1) عقوبت خانے

(2) ملک بدری

(3) موت

جو عیسائی بن گئے وہ بچ گئے۔ مسجدوں کو گرجے بنا دیا گیا۔ ہسپانیہ کے بعض پہاڑی قبائل نے عیسائیوں کیخلاف جنگ جاری رکھی۔

میرا دیرینہ دوست  محمد افضل خاں سپین سے ایک کتاب لایا تھا جس میں لکھا تھا کہ سپین میں آج بھی خانہ بدوش قبائل آباد میں جن کے مسلمان آباء و اجداد کو عیسائیوں نے ملک بدر کر دیا تھا۔ قتل کر دیا یا عیسائی بنا لیا۔ ان قبائل کا کوئی مذہب نہیں ہے لیکن ان کے پاس صدیوں پرانی اپنے ان مکانوں اور حویلیوں کی چابیاں موجود ہیں۔ جوان کے آبا ہجرت یا مرتے وقت چھوڑ گئے تھے۔ یہ چابیاں ان خانہ بدوشوں کا خاندانی سرمایہ ہیں جو اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں اس امید پر کوئی فوج آئے گی جو ان کے آبائی مکان‘ قلعے اور محلات واپس دلائے گی اور وہ تالوں کو ان چابیوں سے کھول لیں گے۔

دسمبر 1948ء میں بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے مسٹر دھر کی قیادت میں وفد سپین بھیجا تھا جس کا مشن تھا کہ وہ ان حقائق کی تحقیق کریں کہ عیسائیوں نے کیسے مسلمانوں کو ہسپانیہ سے نکالا۔ یہ خبر ڈان میں شائع ہوئی تھی۔ وفد نے واپسی پر اس کی تفصیلی رپورٹ نہرو کو پیش کی تھی۔ اسی سال بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی جسے موخر کر دیا گیا۔ دھرمشن کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے دوررس پلاننگ کی گئی۔ مشرقی پاکستان میں ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے خانہ جنگی شروع کرا دی۔ بنگالی نوجوانوں کو اسلحہ اور تربیت دے کر پاک فوج سے لڑا دیا۔ بقول مرارجی ڈیسائی اندرا نے 60 ہزار بھارتی فوجیوں کو اسلحہ اور تربیت دے کر سول کپڑوں میں مشرقی پاکستان بھیج دیا جنہوں نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی۔ پھر 9 ڈویژن بھارتی مسلح افواج نے فضائیہ کی سپورٹ سے تین اطراف سے حملہ کرکے بنگلہ دیش بنا دیا۔ ملک کے دو لخت ہونے میں بعض پاکستانی سیاست دانوں اور جرنیلوں کا بھی حصہ تھا۔ 71ء جنگ میں روس اور اسرائیل نے بھارت کی عملاً امداد کی۔ امریکہ نے امدادی سرگرمیاں خفیہ رکھیں۔ اس وقت وزیر خارجہ ہنری کسنجر کتاب میں لکھتا ہے ’’امریکہ چاہتا تھا کہ بنگلہ دیش بن جائے۔‘‘ پھر بھی بھارتی ہندو نیتاؤں کا اکھنڈ بھارت خواب پورا نہ ہو سکا نہ ہی بھارتی لیڈر شپ بنگلہ دیش میں ہسپانیہ کی طرح اسلامی کلچر کو مٹا سکی۔

بنگلہ دیش بنانے والوں پر جو قہر الٰہی نازل ہوا وہ آئندہ نسلوں کیلئے باعث عبرت بن گیا۔ آج مغربی پاکستان تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بھارت نے پاکستان کیخلاف ہسپانیہ کے عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ کی طرح SCORCHED EARTH پالیسی اپنا لی ہے بھارت نے پاکستانی دریاؤں چناب‘ جہلم اور سندھ کا پانی 62 ڈیم بنا کر روک لیا یا ٹنلوں کے ذریعے ڈائیورٹ کر لیا۔

سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈینیٹر حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے بیان دیا ہے کہ ’’بھارت پاکستانی دریاؤں پر 62 ڈیم مکمل کرنے کے قریب ہے اور مزید 31 ڈیموں کی تعمیر شروع کر رہا ہے۔

بھارت ناردرن کینال لنک کے بڑے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس پر 230 ارب ڈالر لاگت آئیگی۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کے دریاؤں کو بھارتی دریاؤں کیساتھ لنک کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2012ء تک پاکستان کی طرف بہنے والے تمام دریاؤں کا رخ بھارت اپنے کھیتوں کی طرف موڑ لے گا اور پاکستان کی طرف ایک گھونٹ پانی نہیں آسکے گا۔‘‘ موصوف نے پریس کانفرنس میں کہا ’’بھارتی آبی دہشتگردی کے باعث اب دریا چناب اور جہلم میں ایک قطرہ پانی نہیں رہا۔ ہیڈ مرالہ سے جو دو ہزار کیوسک پانی آرہا ہے یہ صرف پلکھو نالہ کا ہے۔ دریا چناب میں پاکستان کی طرف ایک گھونٹ پانی نہیں آرہا۔ تمام ششماہی نہریں اور اکثر سالانہ نہریں بند پڑی ہیں۔‘‘بعض اخبارات میں زرعی ماہرین کے بیانات شائع ہوئے ہیں۔ لکھا ہے ’’پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی فصل جو 22.3 ملین ایکڑوں پر بوئی گئیں انکے سوکھنے کا خدشہ ہے۔ بارانی زمینوں میں 50 فیصد گندم کی بوائی نہیں ہو سکی۔‘‘ چیئرمین ریجنل کمیٹی ایکسپورٹ اینڈ ٹریڈ آف فیڈرل چیمبر آف کامرس مسٹر خاور رشید نے کہا ’’بھارت پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز تعمیر کر رہا ہے جس سے پانی کی قلت پیدا ہوئی جس نے انڈسٹری اور زراعت کو بری طرح متاثر کیا۔ حکمران بھارتی آبی جارحیت کیخلاف کوئی اقدام نہیں کر رہے۔‘‘ خطرہ ہے کہ اگر بھارت کو آبی جارحیت سے نہ روکا گیا‘ آئندہ چند سالوں میں وطن عزیز صومالیہ‘ یوگنڈا‘ ایتھوپیا کی طرح قحط زدہ ریگستان بن جائیگا۔ اوپر سے بارشیں بند ہیں۔

بھارت اتحادیوں سے ملکر ملک کے اندر دہشت گردی کرا رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے امریکی ڈائریکٹر سی آئی اے کو سی آئی اے کی دہشت گردی میں مداخلت کے ثبوت پیش کئے اور واضح کیا کہ سی آئی اے کے اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں مداخلت کر رہے ہیں۔دہشتگردوں کا سب سے بڑا مرکز جلال آباد کے نزدیک سرخرو کے مقام پر ہے جہاں فاٹا اور بلوچستان سے لائے گئے پاکستانی نوجوانوں کو ٹرینڈ اور مسلح کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں بھارتی کونسل خانوں میں بھارتی ایجنسی را اور موساد بھی دہشت گردوں کو تیار کرکے پاکستان بھیجتی ہیں‘ پاکستان کے پاس اسکے ثبوت ہیں‘ جب حکومت پاکستان اور پختون طالبان کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے۔ یہ دہشت گرد کارروائیاں کرکے تڑوا دیتے ہیں۔

قبائلیوں پر حملے اور پاکستان کے اندر گوریلا کارروائیاں کروانے کا مقصد پاک مسلح افواج کو تھکانا اور پھیلانا ہے تاکہ مشرقی جانب سے بھرپور حملے کے وقت پاک فوج جم کر مقابلہ نہ کر سکے۔ بعض عسکری ماہرین بلیک واٹر جو نام بدل کر دہشت گردی کروا رہی ہے اور جس کا ہدف ایٹمی تنصیبات ہیں ملکی سلامتی کیلئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ دشمنوں کی پاکستان کیخلاف SCORTCHED EARTH پالیسی بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ سوات‘ دیر‘ مالاکنڈ میں لاکھوں پناہ گزین بن کر آباد ہوئے۔ گھرانے باغات‘ دیہات اور شہرخاک و خوں میں نہلا گئے۔ جنوبی وزیرستان کے بعد اب شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ہونیوالا ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پاکستان آئے۔ انہوں نے حکمرانوں کو شمالی وزیرستان پر بھی فوج کشی کیلئے کہا۔ پہلے تو پاکستانی قیادت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سے عوام نے سکھ کا سانس لیا‘ بعد میں وزیر خارجہ نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کا عندیہ دیا۔ جس سے قوم مایوس ہوئی بعض غیر ملکی تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاک فوج کا وزیرستان میں آپریشن خود کشی کے مترادف ہو گا۔

یورپی صحافی DAVID لکھتا ہے ’’انگریزوں نے 1850 سے 1880 کے درمیان وزیریوں اور محسود قبیلوں کیخلاف 6 حملے کئے جو ناکام رہے 1860 میں انگریز فوج کا بہت نقصان ہوا۔ محسود سرداروں نے انگریزوں سے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ انگریزوں نے انکے گھر بار تباہ کر دئیے پھر فرنگی فوج ناامید ہو کر پسپا ہوگئی۔ ایسے قبائل سے پاک فوج کو جنگ کی بجائے گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ اب تو امریکی اور نیٹو قیادت نے بھی پختونوں کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں اور تسلیم کیا ہے کہ ان سے جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ حالیہ لندن کانفرنس میں طالبان سے جنگ کی بجائے امن و سلامتی کے طریق زیر بحث آئے جہاں فیصلہ ہوا کہ ماڈریٹ طالبان قیادت سے روابط قائم کئے جائیں۔ انہیں سمجھایا جائے کہ جنگ وجدل کا راستہ ترک کر دیں اور انکی ہر طریق سے امداد کی جائے۔ اگر یورپ امریکہ پختون مجاہدین سے میدان جنگ میں زچ ہو کر ان سے صلح کا خواہاں ہے تو پاکستانی حکمرانوں کو شمالی وزیرستان میں نیا محاذ کھولنے میں کونس کرشمہ نظر آتا ہے۔ آج پوری قوم کی آواز ہے کہ وزیرستان میں جنگ بندی کی جائے اور مسائل جرگوں کے ذریعے افہام و تفہیم سے حل کئے جائیں۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ قومی آواز کو بھی سن لیا کریں۔ طالبان دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر پاک فوج نے آپریشن کیا تو وہ بھی اعلان جنگ کر دینگے اور پاکستان میدان جنگ بن جائیگا۔ کیا وطن عزیز مزید خانہ جنگی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ ایسے وقتوں میں جبکہ ہمارا ازلی دشمن جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہو اور ہمارے اتحادی اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں۔ بھارتی سنیاپتی جنرل دیپک کپور نے اعلان کیا ہے کہ بھارت پاکستان اور چین کیخلاف دومکھی جنگ کرکے 96 گھنٹوں میں میدان مار سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ ’’جنگ کی صورت میں بھارت کو امریکہ اور روس کی طرف سے مدد ملے گی اور محدود ایٹمی جنگ کی دھمکی بھی دی۔ چند دنوں بعد امریکی وزیر دفاع مسٹر رابرٹ گیٹس نے بھارتی سیناپتی کے بیان کی تائید کر دی۔ منموہن سنگھ سے ملاقات بعد مسٹر گیٹس نے بیان دیا کہ ’’اگر بمبئی طرز کا پھر حملہ ہوا تو بھارت زیادہ صرب سے کام نہیں لے گا۔ ایسا حملہ ہونے کی صورت میں بھارت کی قوت برداشت ختم ہو سکتی ہے۔ ایس حالات میں امریکہ بھارت کو جارحانہ اقدام سے نہیں روک سکتا۔‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ اتحاد ثلاثہ (بھارت‘ امریکہ‘ اسرائیل) کے پاکستان کیخلاف ارادے نیک نہیں ہیں۔ وہ ممبئی جیسا حادثہ کرا کے جنگ کی صورت بنا سکتے ہیں۔ جنگی ایام میں جبکہ ملک کے اندر خانہ جنگی ہو۔ دشمنوں کو امید ہے کہ وہ اپنے اہداف (ایٹمی تنصیبات پر قبضہ اور آزاد بلوچستان) حاصل کر سکتے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن خود کشی کے مترادف ہو گا۔ آئندہ پاک بھارت جنگ میں پاک فوج دو محاذوں پر نہیں لڑ سکتی۔ مشرقی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اللہ کے بعد دوستوں کی مدد کا ملنا ضروری ہے۔ چین نے جو پاکستان میں فوجی اڈے کھولنے کی تجویز دی ہے۔ حکومت پاکستان کو اس پر سنجیدگی سے سے غور کرنا چاہئے۔ اس پر عملدرآمد سے ملکی دفاع مضبوط ہو سکتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دشمن جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ خانہ جنگی ہو رہی ہے پاک فوج کو تقسیم اور بکھیرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے۔ اگر ملکی ادارے اور قبیلے آپس میں لڑتے رہے تو ہنود و یہود کی یلغار کو کون روکے گا؟ چاروں اطراف سے گھر پاکستان اور اسلامی کلچر کو کون بچائے گا۔ جان لو! کہ آخری معرکہ قریب آچکا۔ پاکستان کو صرف اتحاد‘ یکجہتی‘ قوت ایمان‘ باصلاحیت قیادت اور بہادر مسلح افواج ہی اس گہری دلدل سے نکال سکتے ہیں۔ جیت گئے تو ملک اور عزتیں محفوظ رہیں گی۔ ہار گئے تو دشمن وہی حال کرے گا جو اندلس کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔

 

امن کی فاختہ ۔ بھارت

عالمی برادری اور پاکستان کی بار بار کی درخواستوں کے بعد آخر کار بھارت نے شرمیلی لڑکی کی سی شرم اور حیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا سر ہلا دیا ہے جس سے واشنگٹن اور لندن سے لے کر اسلام آباد تک مبارک سلامت کے غلغلے بلند ہوئے ہیں ۔ مگر پاکستانی کے عوام نے دل تھام لئے ہیں اور ورد اذکار شروع کر دیے ہیں کیونکہ ماضی میں جب بھی ہندوستان پاکستان مذاکرات کا اعلان ہوتا ہے  کوئی نہ کوئی ڈرامہ ضرور ہوتا ہے اور بھارتی فوجیں اپنی حکومت کو دل ہی دل صلواتیں سناتیں ، باڈر پر جمع ہونا شروع ہو جاتیں ہیں اور اس کے بعد بھارت کا عالمی برادری سے سامنے فرضی عزت لٹنے کے واویلے کا یک طویل سلسلہ آہ وبکا شروع ہوجاتا ہے  اور ساری عالمی برادری پاکستان کو دھمکیاں اور بھارت کی ناز برداری  کرنے میں مشغول ہو جاتیں ہیں ۔ اب تک تو یہی ہوتا آیا ہے ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آزادی کے 63 برس گذر جانے کے بعد بھی ہندو بنیا ابھی تک ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا وجود ہضم نہیں کر پا رہا ہے اور پاکستان کو برابری کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہے ۔ اسی طرح ہندوستان اپنی آزادی کے شروع دن سے ہی  اپنے ہمسائیوں پر طاقت کے استعمال کا قائل ہے اور اس کا عملی مظاہرہ وہ ماضی میں بارہا کرتا رہا ہے ۔ اس ذہنیت کے پیچھے ہندوستان کا وہ دیرینہ اکھنڈ بھارت کا خواب ہے جو وہ اپنے عوام کو ماضی میں دکھاتا  رہا ہے مگر جو ابتک  پاکستان کی وجہ سے پورا نہیں ہوا  اور اب آ کر یہ خواب اس کے لئے وہ چھچھوندر بن گیا ہے جسے وہ نہ نگل سکتا ہے نہ ہی چھوڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ اب ہندوستان کی بے بسی جھنجھلاہٹ کے درجے سے گذر کر جنون کی حالت تک پہنچ چکی ہے ۔

تاہم طاقت کے استعمال کی حکمت عملی ماضی میں ہندوستان کے لئے کچھ فائدہ مند بھی ثابت ہوئی ہے ۔ مثلا جموں و کشمیر پر فوجی قبضہ ، حیدر آباد اور جونا گڑھ کا کا اپنے اندر زبردستی انضمام ور پاکستان کے اوپر ایک جنگ مسلط کر کے اور سازش کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کرنا وغیرہ شامل ہے ۔ اپنی اسی ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان اسلحہ کے ڈھیر پر ڈھیر لگاتا رہا ہے ۔ آج بھی اس کی نیوکلیائی ہتھیاروں سے مسلح آرمی ، دنیا کی تیسری یا چھوتھی بڑی بحریہ اور ساری دنیا سے خریدے ہوئے طیاروں پر مشتمل فضائیہ اسے فوجی عددی اعتبار سے دنیا کے چند بڑے مملک کے برابر لا کھڑا کرتی ہے اور اس کی فاقہ زدہ عوام بے بسی سے ، بخیل کے دستر خوان پر موجود یتیم کی طرح کھڑی منہ تک رہی ہے۔

ماضی کی کامیابیوں نے ہندوستان کو طاقت کے نشے کی لت میں مبتلا کر دیا ہے اور ایک کہنہ مریض کی مانند وہ طاقت حاصل کرنے کے نت نئے مواقع اور ذرائع تلاش کرتا رہتا ہے ۔ موصوف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پاکستانی دریاوں کا پانی چوری کر کے دنیا میں “پانی کی دہشت گردی” (water Terrorism ) کی اصطلاح پہلی دفعہ متعارف کرائی۔ اس طرح وہ اس پاکستان کےاناج پیدا کرنے والے لہلہاتے کھیتوں کو ایک ایسے بنجر صحرا میں تبدیل کر دینا چاہتا ہے جس کی جھلستی زمین پر پانی کی ایک بوند بھی ہندوستان کی اجازت کے بغیر نہ گر سکے  مگر بنگلہ دیش کو اسی طرح کے ایک متضاد عمل کے ذریعے سے ایک جوہڑ بنانا چاہتا ہے ۔

دسری طرف سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، افغانستان میں اربوں روپے خرچ کر کے اور افغان حکومت کو ممنون احسان کر کے ، ہندوستان افغانستان کے دریاوں پر ڈیم بنانے کی ” نیکی  “کر رہا ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان میں بہنے والے دریاوں کا پانی مستقبل میں پاکستان تک نہ پہنچ سکے ۔ اس کے علاوہ افغان فوج کو فوجی تربیت کے ماہر افراد کی فراہمی اور باہمی تجارت کے فروغ کی آڑ میں ، کسی بھی غیر ملک میں سب سے زیادہ کونسلیٹ اور تجارتی دفاتر قائم کرنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے  والا ہندوستان اپنے نچلی ذات کے شہریوں سے جو سلوک کرتا ہے آج کی مہذب دنیا میں رہتے ہوئے اس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے ۔ سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل کے سنہرے گنبدوں کو خون کی ہولی کھیل کر سرخ کرنے ، کشمیر میں اپنے عقوبت خانوں میں لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر کے گڑھوں کے اندر دبانے ، ہزاروں کشمیری عفت مآب عورتوں کی بے حرمتی کرنے ، بابری مسجد کو گرانے ، عیسائیوں کے چرچ جلانے ، ننوں کی عصمت دری کرنے ، مسلمانوں کو بارہا فرقہ ورانہ فسادات کے بہانے قتل کرنے ، نکسلائیٹ اور ماوسٹ کے قتل عام کے بعد بھی وہ دنیا میں انسانی حقوق کا نعرہ لگاتا اور چمپیئن بنتا ہے ۔

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بھارت اپنے روایتی ہندو بنیا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنا خوبصورت چہرہ مس انڈیا کی شکل میں دکھاتا ہے مگر اس کی کروڑوں عورتوں کو تن ڈھانکنے کے لئے چیتھڑا تک میسر نہیں اور لاکھوں عورتیں اپنی غربت کے باعث خلیجی اور دوسرے امیر ممالک میں طوائفوں کے طور پر فروخت کی جاتیں ہیں ۔ دنیا ان کے فلمی آسکر ایوارڈ کو تو دیکھتی ہے مگر سلم ڈاگ ملینئیر میں نظر آنے والے تعفن زدہ جھونپڑ پٹیوں سے نطر چرا لیتی ہے ۔

اپنے فلمی کہانیوں کے مصنفین کے زیر اثر انڈیا اداکاری اور ڈرامے کرنے کا ماہر بن چکا ہے چاہے وہ انڈین پارلیمنٹ پر حملے کا سین ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس میں سینکڑوں انسانوں کو زندہ جلانے ایکٹ ، چاہے وہ پاکستانی نیوی کے تربیت پر محو پرواز نہتے جہاز پر میزئل مار کر گرانے کا منظر ہو یا ممبئی اٹیک کا بھونڈا مذاق ، انڈیا اسکرپٹ سے حقیقت کا فرضی جن نکالنے کا ماہر ہو چکا ہے ۔ پتہ نہیں دنیا کو بھارت کی ان فلموں پر آسکر دینا کیوں یاد نہیں رہا۔ ابھی حال ہی انڈین آرمی چیف دیپک کپور نے پاکستان اور چین سے جنگ کرنے کی بڑھک مارکر ثابت کیا ہے کہ ان کی جدید تعلیم سے آراستہ اشرافیہ بھی عقل  و دانش کی کتنی بڑی دشمن ہے۔

چانکیہ کوتلیہ کی “مقدس” تعلیمات کے زیر اثر انڈیا نے فریب اور دھوکہ دہی کو ایک فن کے درجے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ نیپال ، بھوٹان ، سکم  وغیرہ کا  مکّو تو وہ اپنے ان ہتھکنڈّوں سے وہ پہلے ہی ٹھپ چکا ہے مگر سری لنکا میں تامل ٹائیگر کی  عبرتناک  شکست سے اپنی ناک تڑوا کر بھی وہ اپنی روش پر قائم ہے اور حوصلہ نہیں ہارا اور اس بے عزتی کی کمی وہ امریکہ سے نیوکلیائی معاہدے کے چورن ، آئے روز کے میزائل ٹیسٹ کی پھکی ، نیوکلیائی سب میرینز کا ٹانک ، ائرکرافٹ کیریر بحری جنگی جہاز اور کولڈ سٹارٹ کے حکیمی کشتوں سے پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مگر اس سب بے عزتی اور اور اپنی عوام کو چیٹھروں میں ملبوس کرنے کے بعد بھی اور پاکستان اور عالمی برادری کی منت سماجت کے باوجود وہ ایک بات پر آمادہ نہیں ہوتا  یعنی مذاکرات کی بات پر اور ایک شرمیلی دلہن کی مانند ہر دفعہ گھونگھٹ نکال اور زبان تالو سے چپکا کر بیٹھ جاتا ہے ۔

ہندوستان سے صلح صفائی اور بات چیت کی اہمیت سے کسی ذی شعور انسان کو انکار نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے دل کی آواز اور قائد اعظم کا خواب ہے ۔ مگر اب اتنا کانٹوں بھرا طویل سفر طے کرنے اور لہو لہان ہونے کے بعد ہمیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آ کر ہندوستان کے سامنے اپنا وہ عاجزانہ اور فدویانہ رویہ ترک کرنا ہو گا جو پچھلی تین دہائیوں سے ہم نے اپنا رکھا ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے ہمیں سرجیکل سٹرائیکس سے ڈراتا ہے ، اپنے دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل کرتا ہے ، پانی اپنی مرضی کے مطابق کھولتا اور بند کرتا ہے اور ہمیں کولڈ سٹارٹ سٹریٹیجی کے ذریعے ملیا میٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے جواب میں ہم سکول کے بچوں کی طرح امن کی فاختہ اور امن کی آشا کے گیت گانے لگتے ہیں اور ہمارے سطحی قسم کے نام نہاد دانشور ، انسانی حقوق کے داعی اور تنظیمیں ، کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ ایک ہی عینک سے کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔

ہم انڈیا سے مسئلہ کشمیر ، سر کریک ، سیاچن کے مسئلوں پر بات کرنے کی بجائے ، چھوئی موئی کیوں بن جاتے ہیں ۔ فاٹا جہاں انسانی جانیں ارزاں ہو چکی  ہے اس میں ہندوستان کی مداخلت کی بات کیوں نہ کریں اور اس ” معاشی امداد” کی بات کیوں نہ کریں جو کہ ہندوستان پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کے لئے دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہے ۔

میری حکمرانوں سے گذارش ہے کہ جائیں اور ضرور بات کریں ، انڈیا کو  یہ بتانے کے لئے کہ آخری دفعہ کھل کر تمام مسائل پر بات کریں ورنہ اس کے بعد مذکرات کے مزید ڈھونگ رچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایک بڑی فوج کھڑی کی ، مارشلاوں کی صعوبت سہی  ، ہر قسم کے حکمران سہے،امریکہ اور مغربی دنیا کی جائز اور ناجائز شرطیں مانیں ،محض اس لئے کہ ہمیں ہندو کی بالا دستی منظور نہیں

مسلمانوں کا ماضی گواہ ہے کہ یہ قوم ہر صورتحال میں اپنا سر بلند رکھتی ہے ۔، کوئی قوم اسے بندوق کی نوک سے ڈرا نہیں سکتی ۔ کم از کم ہندو تو نہیں ۔

 
4 Comments

Posted by on February 17, 2010 in جیو پالیٹکس

 

Tags:

افغانستان کی پکار

چند روز قبل ہماری محترم اور ذہین بلاگر عنیقہ ناز نے اپنی پوسٹ” دو سوال “ میں افغانستان اور پاکستان کے متعلق کچھ سوال اٹھائے انہیں سوالوں سے متعلق فری لانس جرنلسٹ جناب عطا رسول ملک کا زیر نظر مضمون پیش خدمت ہے ۔ تاہم بلاگر کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

کچھ روز قبل جب پشاور جانا ہوا تو ایک افغان باشندے سے ملاقات ہو گئی ۔ دوران گفتگو جب افغانستان کا ذکر چھڑا تو میں نے پوچھا کہ افغانستان میں کوئی شے سلامت بھی کھڑی ہے ؟ تو اس سوال پر اس کے چہرے پر تفکر کے سائے پھیل گئے اور جس کے چہرے پر گذرے حادثات نے وقت سے پہلے ہیی گہری خندقیں کھود لیں تھی مزید بوڑھا نظر انے لگا ۔

” کچھ بھی نہیں بچا ” اس نے تاسف سے جواب دیا ۔ میری عمر عزیز کے پچھلے پچاس سالوں میں غربت ، افلاس ، سماجی انتشار ، روسی افواج ، مجاہدین ، خفیہ ادارے ، طالبان ،جنگجو سردار اور اب ناٹو افواج وہ تمام عناصر تھے جنہوں نے افغانوں کے چہرے سے مسکراہٹ نوچ لی ہے ۔ ہاں اس تباہی کے کھنڈرات پر ایک چیز سلامت کھڑی ہے ۔ افغانوں کی انا ! آسمان کو چھوتی ہوئی انا” ۔

اس کے دیدے دکھ کی وجہ سے مزید بڑے لگ رہے تھے وہ میری آنکھوں میں جھانک کر کہ رہا تھا ۔” ہماری بات کوئی بھی نہیں سمجھتا ۔ ہر کوئی بشمول ہمارے ہمسائیوں کے ہمیں یہ سبق پڑھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیا ہمارے لیے اچھا سمجھے ہیں ۔ اور اب تو ساری دنیا نے ہمارے اس کھنڈر مکاں سے رستے بنا لیے ہیں” ۔ افغان قوم ایک محنتی ، جفاکش ،صاف گو ،اور کسی قسم کے احساس کمتری سے مبرا لوگ ہیں مگر جس قسم کی قیادت ان کی گردنوں پر پیر تسمہ پا کی طرح سوار ہے اس کے یقینا مستحق نہیں ہیں ۔

اسی طرح آج چاہے کوئی پسند کرے یا نہ کرے یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ آج دنیا کی سب سے بڑی معیشت ، طاقتو اور جدید جنگی ٹیکنالوجی سے لیس جنگی مشین کی مدد سے اس وقت دنیا پر تسلط جمائے ہوئے ہے ۔ ساری دنیا امریکی ثقافت ، برانڈز ،ٹیکنالوجی اور ویزے کی طلبگار اور دیوانی ہے ۔ امریکی بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ دنیا کے ہرخطے میں ان کے اہم مفادات ہیں۔ یہی راگ افغانستان کے ہمسائے بھی الاپتے ہیں اور دنیا ان کی باتوں پر یقین کر لیتی ہے ۔ آئیے ان تمام ہمسائیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

روس اور ایران امریکی افواج کی جلد از جلد واپسی کے خواہش مند ہیں مگر اس سے پہلے یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغان طالبان کا امریکہ کے ہاتھوں خاتمہ ہو جائے تاکہ طالبان دوبارہ حکومت میں آکر ان کے ساتھ ماضی کا پرانا سلوک نہ دہرا سکیں ۔

پاکستان اپنی ما ضی کی تکالیف ، افغان مہاجرین کی خدمات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصانات کے صلے میں کابل میں ایک دوست حکومت دیکھنے کا خواہش مند ہے ۔

چین ابھی تک دوسرے ممالک کے امور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے اور ہمیشہ پاکستان کی حمایت میں ہی سرگرم رہا ہے ۔

ہندوستان جو افغانستان کا دور پار کا مگر زبردستی کا ہمسایہ ہے زبردستی کے مہمان کی طرح افغانستان کے ہر معاملے میں سرگرم ہے ۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان کا مغربی بارڈر جو کہ تاریخی طورقدرے محفوظ رہا ہے ، غیر محفوظ ہو جائے اور پاکستان کو اپنی معیشت کو نچوڑ کر مزید رکھنے پر مجبور ہو جائے ۔

امریکہ اور مغربی ممالک اب افغانستان کے معاملے سے گردن چھڑانا چاہتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی طالبان سے ایک طاقتور فریق کی حیثیت سےمعاملات طےکرنا چاہتے ہیں ۔

روس اگرچہ امریکہ سے اپنی پرانی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اسے سیاسی اسلام کے طلوع کا پیش خیمہ بھی سمجھتا ہے جو کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں اس کے مفادات کے لیے درد سر بن سکتا ہے ۔ روسیوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ طالبان افغانستان میں قابض فوجوں کے خلاف گہری نفرت کی بنا پر ایک قوت کے طور ہر ابھر چکے ہیں ۔ اگرچہ افغان عوام بھی ان کے فہم اسلام سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ان کے فہم اسلام کا پھیلنے کا خطرہ ابھی کم ہے ۔ ایران کی دلچسپی سعودی عرب کی طرح فرقہ ورانہ مذہب پرستی کے آئینے میں ہے ۔ دونوں ممالک ابھی تک شیعہ ،سنی اور وہابی ہونے کے گرداب سے نکل نہیں پائے ۔

پاکستانی دانشوروں کو ابھی تک اس حقیقت کا پوری طرح ادراک نہیں کر سکےکہ امریکہ کے انخلا کے بعد کابل میں پشتون جن کی نمائندگی طالبان کریں گے کم از کم ایک عشرے تک ایک غالب عنصر ہوں گے ۔ اس حقیقت کا مظہر افغانستان میں مختلف قبیلوں کی آبادی کا تناسب اور مختلف علاقوں میں ان کی موجودگی ہے ۔ اس وقت پاکستان کو امریکہ پر تکیہ کرنے کی بجائے افغانستان کے مختلف قبیلوں اور گروہوں کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وہ اعتماد جو پشتون قبائل میں بھی ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے بہت کم ہو گیا ہے ۔ امریکہ خوش قسمت ہوگا اگر افغانستان میں وہ اپنی افواج بچا کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ان کے مفادات تیل سے مالا مال اس پٹی اور شمال میں محفوظ رہیں جن کی حصول کی خاطر وہ دس سال قبل افغانستان وارد ہوا تھا ۔

امریکہ اور مغربی میڈیا پاکستان کو افغانستان کے معاملات میں ایک شرارتی بچے کے طور پر دیکھتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ مغرب کا وہ آشوب چشم ہے جس میں وہ اسلامک فوبیا کے زیر اثر مبتلا ہے ۔ تاہم امریکہ کی یہ بھی کوشش ہے کہ پاکستان اس کو یہ افغان جنگ اسی طرح جیت کر پلیٹ میں پیش کرے جس طرح روسیوں کے خلاف جیتی تھی ۔ تاہم اس تاثر کو گہرا کرنے میں پاکستان کی اپنی غیرواضح اور خفیہ افغان پالیسی کا ہا تھ بھی ہے ۔

ادھر ہندوستان کے دانشور بھی انڈیا کو اس خطے میں ایک منی سپر پاور کا کردار ادا کرنے پر اکسا رہے ہیں ۔ امریکہ اور ہندوستان اپنے مشترکہ مفادات کے تعاقب میں اس طرح اندھا دھند دوڑ رہے ہیں کہ باآخر شرمندگی کے گڑھے میں جا گریں گے ۔ ان کی تقدیر افغانستان میں نوشتہ دیوار ہے ۔

را اور سی آئی اے بھی پیچھے نہیں ہیں اور آگ اور خون کا کھیل بھڑکانے میں بری طرح مصروف ہیں ۔ سازش اور فریب کے ذریعے وہ پاکستان کے بگڑے ہوئے بچوں (پاکستانی طالبان ) کو پاکستانی ریاست کے ساتھ الجھا نے میں وقتی طور پر کامیاب ہیں ۔ ان گمراہ مسلمانوں کی آنکھیں دولت نے خیرہ اور دماغ برین واشنگ نے ناکارہ کیے ہوئے ہیں ۔ ہندوستانی جو محنت افغانوں پر کرہے ہیں گزرتے وقت کے ساتھ وہ بھاپ بن کر اس وقت ہوا میں تحلیل ہو جائے گی جب ہندوستان اپنا امن کا لبادہ ااتار کر پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی کی کوشش کرے گا ۔ شاید انہیں اسلام کے جذبہ اخوت کی طاقت کا بہت زیادہ احساس نہیں ہے ۔

امریکہ جو اپنی افواج کی طاقت کو برقرار رکھنے کی خاطر ڈولتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے اسے جلد یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کی افغان پالیسی کس قدر ناکارہ ہے ۔ اب اگر امریکی فوجیں کوئی اور مہم جوئی افغانستان میں کرتے ہیں تو نہ صرف اپنے قیمتی وسائل ضائع کریں گے بلکہ اس سے افغان عوام کے مصائب میںمزید اضافہ ہو گا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ امریکہ پر 11/9 کا حملہ افغانوں کی مرضی سے ہوا یا نہیں ، اب وقت ا گیا ہے کہ افغانستان کی قسمت کا فیصلہ افغانوں پر چھوڑ دیا جائے ، وہ اتنے سمجھ دار ہیں کہ مہذب دنیا کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کر سکیں ۔ وہ آپ سے صرف احترام اور عزت کی توقع کرتے ہیں ۔

پاکستانی خفیہ اداروں کو اپنے ملک کی سلامتی کی صورتحال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مغربی سرحدوں پر فاٹا اور بلوچستان فورا توجہ کے متقاضی ہیں اور ہمیں ان علاقوں میں اپنے لوگوں کے دل جیتنا ہوں گے ۔

پاکستان کا افغانستان میں امن اور سلامتی کا نعرہ زمینی حقائق اور اعلی اخلاقی اصولوں پر استوار ہونا چاہے ۔ پاکستان کو افغانستان میں تمام گروہوں اور نسلوں پر مشتمل نمائندہ حکومت کی حمایت کرنا چاہے ۔ اسی اثنا میں امریکیوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ افغانستان میں ایک نمائیندہ حکومت کے قیام کے بعد جلد از جلد پاکستان چھوڑ دیں ۔

پاکستان کی پالیسی افغانستان میں بہت واضح ہونا چاہے ۔ ہم ایک پر امن اور مضبوط افغانستان کی حمایت کرتے ہیں ۔ پاکستانی نوکر شاہی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا اور سیاستدانوں کو اپنی ” اہم مصروفیات ” سے وقت نکال کر اس مسئلے پر توجہ دینا ہو گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف کا تعارف

اس مضمون کے مصنف جناب عطا رسول ملک صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بلوچستان یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے بعد آجکل اسلام آباد میں مقیم اورایک فری لانس صحافی کے طور پر معروف ہیں ۔ ان کے مضامین مختلف پاکستانی اور بین الاقوامی جرائد و اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ آپ ان سے اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔

attarasul@hotmail.com

انٹرنیٹ پر یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے رابطہ یہ ہے ۔

نوٹ: اس مضمون کو اردو میں شائع کرنے کی اجازت مصنف سے حاصل کر لی گئی ہے ۔