عالمی برادری اور پاکستان کی بار بار کی درخواستوں کے بعد آخر کار بھارت نے شرمیلی لڑکی کی سی شرم اور حیا کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا سر ہلا دیا ہے جس سے واشنگٹن اور لندن سے لے کر اسلام آباد تک مبارک سلامت کے غلغلے بلند ہوئے ہیں ۔ مگر پاکستانی کے عوام نے دل تھام لئے ہیں اور ورد اذکار شروع کر دیے ہیں کیونکہ ماضی میں جب بھی ہندوستان پاکستان مذاکرات کا اعلان ہوتا ہے کوئی نہ کوئی ڈرامہ ضرور ہوتا ہے اور بھارتی فوجیں اپنی حکومت کو دل ہی دل صلواتیں سناتیں ، باڈر پر جمع ہونا شروع ہو جاتیں ہیں اور اس کے بعد بھارت کا عالمی برادری سے سامنے فرضی عزت لٹنے کے واویلے کا یک طویل سلسلہ آہ وبکا شروع ہوجاتا ہے اور ساری عالمی برادری پاکستان کو دھمکیاں اور بھارت کی ناز برداری کرنے میں مشغول ہو جاتیں ہیں ۔ اب تک تو یہی ہوتا آیا ہے ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آزادی کے 63 برس گذر جانے کے بعد بھی ہندو بنیا ابھی تک ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا وجود ہضم نہیں کر پا رہا ہے اور پاکستان کو برابری کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہے ۔ اسی طرح ہندوستان اپنی آزادی کے شروع دن سے ہی اپنے ہمسائیوں پر طاقت کے استعمال کا قائل ہے اور اس کا عملی مظاہرہ وہ ماضی میں بارہا کرتا رہا ہے ۔ اس ذہنیت کے پیچھے ہندوستان کا وہ دیرینہ اکھنڈ بھارت کا خواب ہے جو وہ اپنے عوام کو ماضی میں دکھاتا رہا ہے مگر جو ابتک پاکستان کی وجہ سے پورا نہیں ہوا اور اب آ کر یہ خواب اس کے لئے وہ چھچھوندر بن گیا ہے جسے وہ نہ نگل سکتا ہے نہ ہی چھوڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ اب ہندوستان کی بے بسی جھنجھلاہٹ کے درجے سے گذر کر جنون کی حالت تک پہنچ چکی ہے ۔
تاہم طاقت کے استعمال کی حکمت عملی ماضی میں ہندوستان کے لئے کچھ فائدہ مند بھی ثابت ہوئی ہے ۔ مثلا جموں و کشمیر پر فوجی قبضہ ، حیدر آباد اور جونا گڑھ کا کا اپنے اندر زبردستی انضمام ور پاکستان کے اوپر ایک جنگ مسلط کر کے اور سازش کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کرنا وغیرہ شامل ہے ۔ اپنی اسی ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان اسلحہ کے ڈھیر پر ڈھیر لگاتا رہا ہے ۔ آج بھی اس کی نیوکلیائی ہتھیاروں سے مسلح آرمی ، دنیا کی تیسری یا چھوتھی بڑی بحریہ اور ساری دنیا سے خریدے ہوئے طیاروں پر مشتمل فضائیہ اسے فوجی عددی اعتبار سے دنیا کے چند بڑے مملک کے برابر لا کھڑا کرتی ہے اور اس کی فاقہ زدہ عوام بے بسی سے ، بخیل کے دستر خوان پر موجود یتیم کی طرح کھڑی منہ تک رہی ہے۔
ماضی کی کامیابیوں نے ہندوستان کو طاقت کے نشے کی لت میں مبتلا کر دیا ہے اور ایک کہنہ مریض کی مانند وہ طاقت حاصل کرنے کے نت نئے مواقع اور ذرائع تلاش کرتا رہتا ہے ۔ موصوف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پاکستانی دریاوں کا پانی چوری کر کے دنیا میں “پانی کی دہشت گردی” (water Terrorism ) کی اصطلاح پہلی دفعہ متعارف کرائی۔ اس طرح وہ اس پاکستان کےاناج پیدا کرنے والے لہلہاتے کھیتوں کو ایک ایسے بنجر صحرا میں تبدیل کر دینا چاہتا ہے جس کی جھلستی زمین پر پانی کی ایک بوند بھی ہندوستان کی اجازت کے بغیر نہ گر سکے مگر بنگلہ دیش کو اسی طرح کے ایک متضاد عمل کے ذریعے سے ایک جوہڑ بنانا چاہتا ہے ۔
دسری طرف سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، افغانستان میں اربوں روپے خرچ کر کے اور افغان حکومت کو ممنون احسان کر کے ، ہندوستان افغانستان کے دریاوں پر ڈیم بنانے کی ” نیکی “کر رہا ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان میں بہنے والے دریاوں کا پانی مستقبل میں پاکستان تک نہ پہنچ سکے ۔ اس کے علاوہ افغان فوج کو فوجی تربیت کے ماہر افراد کی فراہمی اور باہمی تجارت کے فروغ کی آڑ میں ، کسی بھی غیر ملک میں سب سے زیادہ کونسلیٹ اور تجارتی دفاتر قائم کرنے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے والا ہندوستان اپنے نچلی ذات کے شہریوں سے جو سلوک کرتا ہے آج کی مہذب دنیا میں رہتے ہوئے اس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے ۔ سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل کے سنہرے گنبدوں کو خون کی ہولی کھیل کر سرخ کرنے ، کشمیر میں اپنے عقوبت خانوں میں لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر کے گڑھوں کے اندر دبانے ، ہزاروں کشمیری عفت مآب عورتوں کی بے حرمتی کرنے ، بابری مسجد کو گرانے ، عیسائیوں کے چرچ جلانے ، ننوں کی عصمت دری کرنے ، مسلمانوں کو بارہا فرقہ ورانہ فسادات کے بہانے قتل کرنے ، نکسلائیٹ اور ماوسٹ کے قتل عام کے بعد بھی وہ دنیا میں انسانی حقوق کا نعرہ لگاتا اور چمپیئن بنتا ہے ۔
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بھارت اپنے روایتی ہندو بنیا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنا خوبصورت چہرہ مس انڈیا کی شکل میں دکھاتا ہے مگر اس کی کروڑوں عورتوں کو تن ڈھانکنے کے لئے چیتھڑا تک میسر نہیں اور لاکھوں عورتیں اپنی غربت کے باعث خلیجی اور دوسرے امیر ممالک میں طوائفوں کے طور پر فروخت کی جاتیں ہیں ۔ دنیا ان کے فلمی آسکر ایوارڈ کو تو دیکھتی ہے مگر سلم ڈاگ ملینئیر میں نظر آنے والے تعفن زدہ جھونپڑ پٹیوں سے نطر چرا لیتی ہے ۔
اپنے فلمی کہانیوں کے مصنفین کے زیر اثر انڈیا اداکاری اور ڈرامے کرنے کا ماہر بن چکا ہے چاہے وہ انڈین پارلیمنٹ پر حملے کا سین ہو یا سمجھوتہ ایکسپریس میں سینکڑوں انسانوں کو زندہ جلانے ایکٹ ، چاہے وہ پاکستانی نیوی کے تربیت پر محو پرواز نہتے جہاز پر میزئل مار کر گرانے کا منظر ہو یا ممبئی اٹیک کا بھونڈا مذاق ، انڈیا اسکرپٹ سے حقیقت کا فرضی جن نکالنے کا ماہر ہو چکا ہے ۔ پتہ نہیں دنیا کو بھارت کی ان فلموں پر آسکر دینا کیوں یاد نہیں رہا۔ ابھی حال ہی انڈین آرمی چیف دیپک کپور نے پاکستان اور چین سے جنگ کرنے کی بڑھک مارکر ثابت کیا ہے کہ ان کی جدید تعلیم سے آراستہ اشرافیہ بھی عقل و دانش کی کتنی بڑی دشمن ہے۔
چانکیہ کوتلیہ کی “مقدس” تعلیمات کے زیر اثر انڈیا نے فریب اور دھوکہ دہی کو ایک فن کے درجے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ نیپال ، بھوٹان ، سکم وغیرہ کا مکّو تو وہ اپنے ان ہتھکنڈّوں سے وہ پہلے ہی ٹھپ چکا ہے مگر سری لنکا میں تامل ٹائیگر کی عبرتناک شکست سے اپنی ناک تڑوا کر بھی وہ اپنی روش پر قائم ہے اور حوصلہ نہیں ہارا اور اس بے عزتی کی کمی وہ امریکہ سے نیوکلیائی معاہدے کے چورن ، آئے روز کے میزائل ٹیسٹ کی پھکی ، نیوکلیائی سب میرینز کا ٹانک ، ائرکرافٹ کیریر بحری جنگی جہاز اور کولڈ سٹارٹ کے حکیمی کشتوں سے پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مگر اس سب بے عزتی اور اور اپنی عوام کو چیٹھروں میں ملبوس کرنے کے بعد بھی اور پاکستان اور عالمی برادری کی منت سماجت کے باوجود وہ ایک بات پر آمادہ نہیں ہوتا یعنی مذاکرات کی بات پر اور ایک شرمیلی دلہن کی مانند ہر دفعہ گھونگھٹ نکال اور زبان تالو سے چپکا کر بیٹھ جاتا ہے ۔
ہندوستان سے صلح صفائی اور بات چیت کی اہمیت سے کسی ذی شعور انسان کو انکار نہیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے دل کی آواز اور قائد اعظم کا خواب ہے ۔ مگر اب اتنا کانٹوں بھرا طویل سفر طے کرنے اور لہو لہان ہونے کے بعد ہمیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آ کر ہندوستان کے سامنے اپنا وہ عاجزانہ اور فدویانہ رویہ ترک کرنا ہو گا جو پچھلی تین دہائیوں سے ہم نے اپنا رکھا ہے ۔ وہ جب چاہتا ہے ہمیں سرجیکل سٹرائیکس سے ڈراتا ہے ، اپنے دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل کرتا ہے ، پانی اپنی مرضی کے مطابق کھولتا اور بند کرتا ہے اور ہمیں کولڈ سٹارٹ سٹریٹیجی کے ذریعے ملیا میٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے جواب میں ہم سکول کے بچوں کی طرح امن کی فاختہ اور امن کی آشا کے گیت گانے لگتے ہیں اور ہمارے سطحی قسم کے نام نہاد دانشور ، انسانی حقوق کے داعی اور تنظیمیں ، کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ ایک ہی عینک سے کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
ہم انڈیا سے مسئلہ کشمیر ، سر کریک ، سیاچن کے مسئلوں پر بات کرنے کی بجائے ، چھوئی موئی کیوں بن جاتے ہیں ۔ فاٹا جہاں انسانی جانیں ارزاں ہو چکی ہے اس میں ہندوستان کی مداخلت کی بات کیوں نہ کریں اور اس ” معاشی امداد” کی بات کیوں نہ کریں جو کہ ہندوستان پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کے لئے دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا ہے ۔
میری حکمرانوں سے گذارش ہے کہ جائیں اور ضرور بات کریں ، انڈیا کو یہ بتانے کے لئے کہ آخری دفعہ کھل کر تمام مسائل پر بات کریں ورنہ اس کے بعد مذکرات کے مزید ڈھونگ رچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایک بڑی فوج کھڑی کی ، مارشلاوں کی صعوبت سہی ، ہر قسم کے حکمران سہے،امریکہ اور مغربی دنیا کی جائز اور ناجائز شرطیں مانیں ،محض اس لئے کہ ہمیں ہندو کی بالا دستی منظور نہیں
مسلمانوں کا ماضی گواہ ہے کہ یہ قوم ہر صورتحال میں اپنا سر بلند رکھتی ہے ۔، کوئی قوم اسے بندوق کی نوک سے ڈرا نہیں سکتی ۔ کم از کم ہندو تو نہیں ۔