RSS

Category Archives: تبصرہ کتب

غبار عسکری

مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ اصناف کتب میں پہلا درجہ کسے دیتے ہو تو میں بلا تامل جواب دوں گا “آپ بیتی” ۔ کیونکہ  اس دنیا میں سب سے زیادہ دلچسپ شے بذات خود انسان ہے اور آپ بیتی کسی بھی انسان کی عمر بھر کا نچوڑ چند سو صفحات میں آپ کے سامنے لا کر رکھ دیتی ہے ۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سچا آپ بیتی نویس ایک بہادر شخص ہوتا ہے جو اپنے تمام اچھے برے تجربات ، افعال اور خیالات قاری کے سامنے بلا کم و کاست پیش کر دیتا ہے کہ ” اب فیصلہ ترے ہاتھ میں ہے مری تقصیر کا ” ۔

کرنل ریٹائرڈ سید شفاعت علی کی آپ بیتی اس پوسٹ کے عنوان کے نام پر نظر سے گذری ۔ دو تین دفعہ پڑھی اور ہر دفعہ نیا مزہ آیا ۔ حُب دوستاں کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ لطف زندگی کا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مزہ اُٹھایا جائے ۔ اسی سلسلے میں چند اقتباسات نقل کر رہا ہوں ۔ امید ہے پسند آئیں گے۔

کرنل شفاعت کے اجداد سن 1500 ء میں  چنگیز خانی چنگیزیت سے نجات حاصل کرنے کی خاطر وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے دلی آ بسے ۔ وہی دلی جو اک عالم میں انتخاب تھا ۔ دلی شہر کی خدمت ان کے خاندان نے آنے والی تاریخ میں خوب  کی اور اشراف خاندانوں میں شمار ہوئے ۔ مصنف نے 1946 میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا ، پاکستان ہجرت  ، والدین سے بچھڑنے اور انہیں تلاش کرنے کے صدمے سہے ، تین جنگیں لڑیں ، پاکستان آرمی ان کی اصل محبت بنی جو اب تک قائم ہے ۔ سپاہ گری کے ساتھ فرصت میں مصوری ان کا شغل رہی ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد شہر ستم گراں کراچی مقیم ہوئے اور سن 1994 میں  کینیڈا جا بسے جہاں تقریبا اسی سال کی عمر میں بھی  کینیڈا اردو ایسوسی ایشن کے فعال رکن ہیں ۔ مصنف کا انداز بیان شگفتہ ، سلاست اور روانی لیئے ہوئے ہے اور قاری کو کہیں پر بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا ۔

کتاب کے حرف اول میں یوں  فرماتے ہیں

“پچھتر سے زیادہ برساتیں میرے سر سے گذر گئیں ۔ میرے کانوں کے بیچ جو کاسہ سر ہے اس میں ایک انبار ہے ، اسے جب کریدتا ہوں تو ایک غبار بن کر امڈ پڑتا ہے ۔ اس میں یادوں کے کچھ موتی بکھرے پڑے ہیں ۔ میں ان موتیوں کو پرونے بیٹھا تو ایک کتاب بن گئی

یہ افسانہ نہیں ، آپ بیتی ہے ۔ نہ زیادہ نہ کم ۔ ایک سوانح عمری اس بچے کی جو دہلی کے ایک پرانے اور دقیانوسی خاندان میں اکلوتا پوتا جو تھا وہ ابھی حیات ہے ، ایسی جگہ پر جو اپنی جائے پیدائش سے اتنی دور ہے ہے کہ اس سے زیادہ دور دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں ۔ بے شک اللہ نے ایسا ہی چاہا تھا ۔

میں نے اپنے والدین کی پہلی حکم عدولی یہ کی تھی کہ انکی مرضی کے خلاف پیشہ عسکری اختیار کر لیا ۔ لیکن فوج نے ایسا کندن بنایا کہ علم حرب طرز زندگی بن گیا ۔جب بھی وقت نے پکارا ، میں سینہ سپر رہا ، کبھی نہ گھبرایا ۔ انڈین آرمی سے میری تین مرتبہ مڈھ بھیڑ ہوئی اور ہر تجربہ باعث تسکین رہا ۔ فوج نے جب پاکستان کے لیئے ایک نیا طرز حکومت “مارشل لا ” کے نام سے نکالا تو ضرور سرافگندہ ہوا ۔ ایک بے چینی اور لاچاری کی کیفیت میں رہا مگر پھر بھی حکم عدولی نہیں کی ۔ دن رات کی بساط پر ایک پیادے کا روپ رچا کر ، ہر خانہ سیدھا چلتا رہا ۔ کبھی سیدھا چل کر کسی “رخ” کو کاٹا ، کبھی “گھوڑا ” مارا اور کبھی “بادشاہ ” کو شہ دی ۔ جب بساط اُٹھ گئی تو میں نے قلم اُٹھایا اور بساط پر جو بازی کھیلی تھی اس کے نوٹ پہلی بار انگریزی میں مرتب کیئے اور اس کا عنوان تجویز کیا “Memories of a Dirty Soldier ” ۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں ایک فوجی روزنامچہ ہے ۔ حقائق سے بھرپور ، لیکن زبان کی چاشنی سے خالی ۔ اپنی کہانی زبان غیر میں جچی نہیں ۔ میں نے بہتر یہ سمجھا کہ انگریزی کی اس کتاب کا ترجمہ اپنی لہراتی زبان میں کروں ۔ گالی اپنی زبان میں دی جائے تو تسلی بخش ہوتی ہے “

کرنل شفاعت اپنی ننھیالی حویلی ” نمک والوں کا پھاٹک “  کے مکینوں کا ذکر کرتے ہوئے کوئی راز چھپاتے نہیں بلکہ انہیں  بیروں کے پوٹ کی طرح خود سر بازار الٹ دیتے ہیں ۔

” ہمارا خاندان بہت دقیانوسی تھا ، اور گھر میں بہت شریفانہ ماحول دکھایا جاتا تھا ۔ نو سال کی لڑکی گھر سے باہر نہ جا سکتی تھی ۔ کوئی غیر مرد اندرون خانہ نہ آ سکتا تھا ۔ پوری حویلی میں صرف ایک راستے سے اندر آ سکتے تھے اور اس پر پہرہ لگا رہتا تھا ۔ پوری حویلی میں کوئی کھڑکی باہر نہیں کھلتی تھی  مگر اندرون خانہ باسیوں کی سیکس سے وہ  رنگ آشنائی تھی کہ سگمنڈ فرائڈ دیکھ لیتے تو انگشت بدنداں رہ جاتے ۔ ماحول تنگ تھا اور خواتین و حضرات  مرغن کھانے کھا کھا کر حرام توپ بنے ہوئے تھے ۔ بات بے بات بے قابو ہو جاتے تھے ، میرا اندازہ ہے کہ جتنی سیکس لائف آج  کینیڈا میں غلیظ ہے اتنی ہی وہاں اس زمانے میں تھی ۔ میرے خیال سے حویلی کا ماحول نہایت غلیظ تھا ۔ خواتین سب کی سب ان پڑھ تھیں ۔ وہ عمروعیا کی زنبیل پر یقین رکھتی تھیں ۔ وہ اس طوطے سے جو ڈبیا میں بند رہتا ، ہر کام کروا سکتی تھیں ۔

ایک اور کیرکٹر جو میرے ذہن میں نقش ہے وہ ہے ” چیخا ” ۔ یہ ایک ایسا تعلیم یافتہ شخص ہوتا تھا جس کو ہزاروں اشعار زبانی یاد ہوتے تھے ۔ بے حد روشن دماغ ، چالاک اور بے حد ذلیل ، ماہانہ تنخواہ پاتا تھا۔ اس کا کام محض یہ ہوتا تھا کہ اپنے مالک کو ہر حال میں خوش رکھے ۔ یہاں حالات کی تشریح ضروری ہے ۔ رنج وغم ، شادی ، وصل غیر قانونی ، رفع حاجات ، غسل واجب ، بوریت اور وغیرہ وغیرہ ۔ اگر مالک کو قبض ہو جاتا تو یہ بیت الخلا کے دروازے پر بیٹھ جاتا اور ایسی آوازیں نکالتا جیسے چڑیا کو بلا رہا ہو ۔ ” آجا میری پیاری آ جا ۔ وہ آئی ” ۔ اگر کسی مہ جبین کا گذر مہمان خانے سے ہو جائے اور مالک کی نیت میں خلل آ جائے تو بند کمرے کے باہر چیخا دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ۔ شروعات حسن کی رعنائیوں کے اشعار سے کرتا ۔ پھر وصل کے ہر دور کی مناسبت سے اشعار سناتا قصیدہ پڑھتا کہ کس طرح اس کا مالک ایک لالہ رخ پر رستم زماں بن کر بہر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتا ہوا فتح یاب اور سرخ رو نکلا ۔ آخر میں نازک بدن کی طرف سے فریا د کرتا اور پناہ مانگتا ۔ ان نامعقول صاحب کا گذر زنان خانے میں بھی ہونے کا امکان تھا ۔ میرے قیاس سے باہر ہے کہ یہ صاحب “خاص” موقعوں پر اندرون خانہ جا کر کیا کچھ گُل کھلاتے ہوں گے ؟ ۔

جو کچھ میں نے رقم کیا وہ میرا تخیل نہیں ہے ۔ یہ واقعات میرے دماغی کمپوٹر پر محفوظ ہیں ۔ میں اپنے آپ کو موجودہ دور میں خوش قسمت پاتا ہوں کہ وہاں نہیں ہوں ۔ ہماری تہذیب و تمدن کے یہی ذلیل شوق تھے جن کی وجہ سے ہم نے سب کچھ کھویا اور کچھ بھی نہ پایا ۔ “

عنوان “طفل مکتب ” میں یوں رقم طراز ہیں

” کوئی اور نر بچہ ساتھی نہ ہونے کی وجہ سے ، بچپنے میں میری صحبت دوشیزاوں سے رہی اور میں ہمیشہ ان کا تختہ مشق رہا ۔ میں کم عمری میں حرف “ر” نہیں ادا کر سکتا تھا ۔ زبان سے “ر” کی جگہ “ل” کی آواز نکلتی تھی ۔ “ر” اور “ل” کے الٹ پھیر کو لڑکیاں طرح طرح سے میری زبان سے گل فشانیاں کرواتیں اور خوب ہنستیں اور ننھے میں پوچھتے اس میں ہنسے کی کیا بات ؟

جب لڑکیاں بالیاں سیر سپاٹے کو جاتیں تو مجھے اس واسطے ساتھ رکھتیں کہ ایک مرد ساتھ رہے گا ۔ دل میں انہیں یقین تھا کہ اس اللہ میاں کی گائے سے زیادہ دماغ تو اس دوپٹے میں ہو گا جسے وہ اچھالتی تھیں  ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک دن سہانے موسم میں سب لڑکیاں بے پردہ باہر نکل پڑیں ۔ کوئی چھ سات لڑکیاں ہوں گی ۔ مجھ کو بھی ساتھ لے لیا کہ چلو ایک مرد بھی ساتھ ہو جائے گا ۔ میں اتنا چھوٹا تھا کہ میری کوئی سنتا نہیں تھا اور اتنا بڑا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ یہ لہراتا قافلہ کوئی ایک فرلانگ گیا ہو گا کہ اس قافلے کے سامنے تقدیر کا مارا فقیر آ گیا ۔ لمبا سا کرتہ پہنے ، لمبی سی داڑھی ، لمبے لمبے بال اور لال لال آنکھیں ۔ سب لڑکیاں لہراتی ہوئی سڑک کے بیچ آ گئیں اور ایک متحدہ محاذ بنا لیا ۔ جب وہ اس فقیر کے پاس پہنچیں تو ایک لڑکی نے کہا

” تمہیں شرم نہیں آتی سڑک پر گھوم رہے ہو ؟۔

دوسری نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی جوان لڑکیوں کو دیکھ رہے ہو؟ ۔

تیسری نے کہا ۔ بے شرم اپنا منہ ڈھانپو ۔

فقیر بڑا غیرت مند تھا بیچارے نے اپنا لمبا کرتہ آگے سے آُٹھایا اور اپنے منہ پر ڈال لیا ۔ اس کے جسم پر سوائے کُرتے کے اور کوئی لباس نہ تھا اور جو کچھ اس نے چُھپا رکھا تھا وہ ان جوان لڑکیوں کے سامنے نمایاں کر دیا ۔ سب لڑکیوں کے منہ سے نکلا ” ہائے اللہ ” اور سب کی سب بھاگی آئیں اور مجھ سے چمٹ گئیں ۔ سب سے بڑی والی نے کہا

” ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے “

شفاعت کی زندگی رنگا رنگ واقعات سے بھرپور ایک کلائیڈوسکوپ  ہے جسے وہ تیز تسلسل سے بیان کرتے چلے جاتے ہیں ۔ مصنف واقعات کو بیان کرتے ہوئے اپنا  مختصربے لاگ تجزیہ بھی ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ گاندھی جی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ، ریاست حیدر آباد کے سقوط کے وقت وہ ریاست کی فوج میں سیکنڈ لفٹیننٹ تھے اور اس جنگ کو وہ بجا طور پر “جنگ شرفا ” کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جنرل نیازی ،جنرل ٹکا ،جنرل عتیق الرحمان ، میجر عزیز بھٹی ، 1965 کی جنگ ، مشرقی پاکستان کے طوفان ، بنگالی تعصب کا زہر اور ہمارے اکابرین کی غلطیاں ، 1971 کی جنگ، 1977 کا مارشل لا وغیرہ ان کی زندگی کے اہم واقعات  ہیں جنہیں وہ بیان کرتے ہوئے کہیں خندہ  زن اور کہیں رنجیدہ گذرتے چلے جاتے ہیں ۔

عہد کپتانی کے دور میں امریکہ فورٹ سل میں ایک کورس پر جاتے ہوئے انہیں اپنے ایک سینئر میجر اسحاق کی معیت کا شرف  ائر پورٹ سے حاصل ہوا۔ اسے بیان کرتے ہیں

” میں ماری پور کے فضائی مستقر پر اپنے سامان کا جائزہ لے رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں میجر اسحاق صاحب بھی وہاں موجود ہیں ۔ ہم دونوں نے علیک سلیک کی ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ۔ وہ مجھ سے کوئ آٹھ سال سینئر تھے ۔ جب میں ملتان میں 7 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری میں تھا تو وہ وہاں سیکنڈ ان کمانڈ تھے ۔ میں ان سےبہت ادب سے مخاطب ہوتا تھا ۔ وہ بڑے کٹڑ قسم کے زاہد خشک تھے ۔ یہ گدے دار کرسی پر نہ بیٹھتے تھے کیونکہ اس میں عیاشی کی بو پائی جاتی تھی ۔ کھانا کم اور نپا تُلا کھاتے تھے ۔ پان اور سگریٹ بیڑی سے پرہیز کرتے تھے ۔ صحیح معنوں میں زاہد ، عابد بلکہ واعظ اور مجسمہ بوریت تھے ۔  میں نے انہیں دیکھا تو دل میں کہا ” ابے مارے گئے ” وہ تھوڑی دیر کے بعد بھاگے بھاگے میرے پاس آئے کہنے لگے “Shafaat , are proceeding to Fort Sill ? ” میں نے ہاں میں جواب دیا تو کہنے لگے “You Know in America , there are no porter or Qullies.We have to carry our own lugguage. I will carry your lugguage and you will carry mine ” ۔میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہمارے پاس سامان بہت کم ہے کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیئے اور اگر آئی تو میں یقیننا خدمت کے لیئے موجود تھا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہوئے کہ برخوردار قابو میں تھا ۔ سامان کی لوڈنگ شروع ہوئی ۔ میجر اسحاق میرا اٹیچی کیس اُٹھا کر جہاز کی طرف روانہ ہوئے میں نے ان کا اٹیچی کیس اُٹھایا ۔ میجر اسحاق میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ۔ وہ جگہ جہاں سے ہم سامان اُٹھا کر لائے تھے خالی ہو چکی تھی ۔ مگر ؟ مگر ایک چھوٹی سی چیز چمک رہی تھی ۔ جب میں نے اس چیز پر فوکس کیا تو وہ ایک پیتل کا لوٹا تھا ۔ خالص پیتل کا ڈھلا ہوا بھاری لوٹا ۔ میری جان نکل گئی ۔ دبی آواز میں ، میں میجر اسحاق سے مخاطب ہوا جو مسلسل میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ” Sir is that Your’s? ” ۔ میجر اسحاق نے زور زور سے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا  ۔ تب مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ کیوں انہوں نے مجھ سے یہ عہد واثق لیا تھا کہ میں ان کا سامان اُٹھاوں ۔ اُ س منحوس گھڑی سے لے کر اس مبارک گھڑی جب ہم فورٹ سل پہنچے وہ ہماری تہذیب کا علمبردار بھاری بھرکم لوٹا میرے سر پر سوار رہا اور اس سفر میں اس نے اپنے مالک سے وفا صرف واش روم میں کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔

  ایک دن وہ خلاف معمول میری بڑی تعریفیں کرنے لگے ۔ ہنستے ہوئے خوش مزاجی سے میری تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کر دیے کہ میں دنیا کا بہترین مکینک ہوں ۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی ماں کو یاد کیا ” اماں ! دیکھو یہ کیا کرنے والے ہیں میرے ساتھ ۔ بچاو! ” لیکن وہ فورٹ سل میں میری مہارت کا سکہ بیٹھنے کا ذکر کیئے چلے جا رہے تھے ۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں نے صاف صاف الفاظ میں پوچھا کہ کیا کام ہے ؟ ۔ کہنے لگے “  Shafaat , my lota is leaking” ۔ میری پھونک نکل گئی اور غبارے کی طرح زمین پر گر پڑا ۔ “  You see Shafaat , i dropped it in toilet , please get it repaired” ۔ یہ سن کر میرے غبارے میں اتنا غصہ بھرا کہ دل چاہا کہ انکے سر پر وہ پیتل ولا لوٹا دے ماروں ۔ جس نے میرا امریکہ آنے کا سفر اجیرن بنا دیا تھا ۔ لیکن رشتہ برخورداری کا تھا خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ اپنا مدعا ظاہر کر چکے تو خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے کیونکہ ان کی مصلحت اسی میں تھی ۔ میرے کورس میں امریکی فوجی بھی تھے میں نے ان سب کو جمع کیا اور تفصیل سے سمجھایا کہ پاکستان میں سب سے اہم چیز وہ ہے جسے LOTA  کہتے ہیں اور پھر اس کا استعمال سمجھایا ۔ زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے ۔ پھر اس پیتل کے لوٹے کا ذکر کیا جو اپنی ذات میں واحد لوٹا ہے جو سات سمندر پار کر کے فورٹ سل پہنچ چکا ہے ۔ ان سب نے میجر اسحاق سے لوٹا دکھانے کی درخواست کی  ۔ وہ اسے نکال لائے ۔ اب جو دیکھا تو اس کی ٹُوٹی اور جسم کے جوڑ پر تھوڑا سا کریک آ گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں پانی ٹھہرتا نہ تھا ۔ معلوم ہوتا تھا کہ لوٹے نے اپنے مالک سے تنگ آکر اپنی تھوتھنی زمین پر مار کر خود کشی کی کوشش کی تھی ۔”

کینیڈا سمندر کنارے سیر کے دوران رسالہ “پارس ” کا شمارہ پڑھتے ہوئے طرز بیاں کچھ یوں ہے  ۔

” اس رسالے میں مضامین کا آغاز حمد رب جلیل سے ہوا ہے ۔ اشعار اچھے لگے ، بندش الفاظ لاجواب پائی ۔ تجسس پیدا ہوا کہ حامد شاعر کون ہے ۔ اسی صفحہ پر ایک آدمی کی تصویر  بھی ملی ۔ تصویر کسی ریٹائرڈ اکاونٹ کلرک کی لگی ۔ جیسے وہ ڈاک خانے سے پنشن حاصل کرنے کے لیئے قطار میں کھڑا ہو کہ میری باری آ ئے تو میں بھی پنشن کا فارم بھروں ۔ جس چھڑی سے وہ سہارا لیئے کھڑا تھا وہ بھی بوسیدہ ہو کر فریادی معلوم ہوتی تھی کہ اب میں تمہارا بوجھ سنبھال سنبھال کر تھک چکی ہوں ۔ پھر شاعر کے نام پر نگہ گئی۔ میر عثمان خان ۔ آصف سابع ۔ صاحبو سچ کہتا ہوں ۔ دل پر ایسی موگری پڑی کہ ایک دم آسماں کو دیکھا اور اندھیرا چھا گیا ۔ منہ سے نکلا ۔ “Mir Usman Ali Khan .Asif the Seventh . His exahalted Highness The Nizam of HyderAbad , the richest man of the world ” ۔ میں نے اپنا سر پکڑ لیا ۔ اندھیرے میں کالے سفید نقطے جھلملاتے نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ان نکتوں میں رنگ بھرنا شروع ہوا اور شکلیں ابھرنا شروع ہوئیں ۔ مقامات سامنے آئے ۔ واردات ہوتی نظر آنے لگیں ۔ ایک سینما تھا جو چل پڑا ۔ فشار خون بڑھا ۔ میرے خون میں جو نمک تھا اس نے خون کو ابالا دیا ۔ نمک حلالی عود آئی ۔ کیوں نہ آتی میں کچھ عرصے کے لیئے میر عثمان علی کا نمک خوار رہ چکا تھا ۔ میں نے انکی فوج میں کچھ عرصے نوکری کی ہے ۔

اے تازہ واردان بساط ہوائے دل

  زنہار! اگر تمہیں ہوس ناونوش ہے

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہو “

میری ذاتی رائے میں کرنل شفاعت کو اردو ادب میں ان کا وہ جائز مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار ہیں ۔ کیونکہ کرنل محمد خان اور میجر سیدضمیر جعفری کو تو اردو قارئین نے سر آنکھوں پر بٹھا کر انہیں مزاح کے سالاروں کا لقب دیا لیکن کرنل شفاعت بھی میرے خیال میں قلم قبیلہ کے کسی جرنیل سے کم نہیں ۔ امید ہے آنے والا وقت اس فروگذاشت کی تلافی کر دے گا ۔

کتاب رائل بک کمپنی  ریکس سنٹر فاطمہ جناح روڈ کراچی نے سن دو ہزار پانچ میں شائع کی۔ ISBN-969-407-289-7 ۔ ایمزان ڈاٹ کام پر ان کی ایک اور کتاب زعفران عسکری کا بک کور بھی دیکھا ، شاید وہ ان کی ایک دوسری کتاب کا عنوان  ہے ۔

محترم عثمان سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو کرنل شفاعت کا برقی پتہ  اگر کینیڈا اردو ایسوسی ایشن وینکوور سے مل سکے تو روانہ فرما کر ممنون ہونے کا موقع فراہم کریں ۔

 
8 Comments

Posted by on February 19, 2012 in تبصرہ کتب

 

قوت کے اڑتالیس قوانین

انسان کو تاریخ میں سب زیادہ غالبا قوت و اقتدار حاصل کرنے کا شوق رہا ہے اور یہ وہ شوق ہے جس کے سامنے باقی سارے شوق ماند پڑ جاتے ہیں اس کا نشہ جس کو لگ جائے پھر وہ ہل من مزید ہی پکارتا ہے ۔ بچپن میں پریوں کی کہانیوں میں جب پریوں کا ذکر آتا تھا تو پری سے زیادہ اس کے ہاتھ کی چھڑی زیادہ مسحور کُن لگتی تھی کہ جب وہ اسے ہلاتی تھی تو ہر دلی خواہش پوری ہو جاتی تھی ۔ عملی زندگی میں کہانیوں کی پریاں تو نظر نہ آئیں البتہ یہ معلوم ہو گیا کہ اختیارات کی حامل ان سے ملتی جلتی پریوں سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے کیا خبر کب چھڑی ہلا کر مینڈک بنا دیں ۔

کچھ انگریزی فلموں میں بھی ہیرو یا ہیروئن اپنی روح شیطان ککے نام کر دیتے ہیں تاکہ شیطان کی مدد سے اس دنیا میں جلد سے جلد اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ سکیں ۔ سیاست کی موجودہ دنیا کو دیکھ بھی ایسا لگتا ہے کہ شاید  روح وہ پہلی چیز ہے جس کی قربانی اقتدار کی کالی دیوی مانگتی ہے ۔

تاریخ کے ہر دور میں حکمرانوں کی خواہش پر دانشوروں نے ایسی تحاریر لکھی ہیں کہ اقتدار کو کیسے دوام دیا جا سکتا ہے ۔ پنڈت چانکیہ کی ارتھ شاستر اور میکاولی کی دی پرنس اور کلازوٹز  ، سن تو زو وغیرہ کی تحاریر  اس کی مثالیں ہیں جس میں حکمرانوں کو ایسے ایسے مشورے دیے گئے ہیں کہ ان پر محض سن ہی دھن سکتے ہیں (انڈیا میں ڈپلومیٹک انکلیو چانکیہ پوری کہلاتا ہے ) ۔ آجکل کی جدید مینجمنٹ سائینس بھی اس طرح کی تکنیک کے علم سے بھری پڑی ہے ۔

رابرٹ گرین ایک ایسے ہی امریکی مصنف ہیں جنہوں نے تارِیخ میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب اور دوسرے واقعات کا بغور مطالعہ کیا اور پھر ان کا عرق  اپنے اڑتالیس قوانین کی شکل میں اپنی ایک کتاب  فورٹی ایٹ لاز آف پاور کی شکل میں میں شائع کیا ۔ اس کتاب کی ترتیب میں پہلے ایک اصول بیان گیا ہے اور اس کے بعد ایک تاریخی کہانی کی مدد سے اس کی تشریح کی گئی ہے ۔ آخر میں اس اصول پر تفصیلا بحث کی گئی ہے۔ اب تک اس کتاب کی ایک کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور دنیا کی بیس مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔ نیٹ پر یہ کتاب ڈاونلوڈ کے لئے موجود ہے ۔ خواہشمند حضرات گوگل کر کے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

میں یہ کہوں گا کہ کتاب آپ سے متعلق ہے کیونکہ آجکل کی دنیا میں جہاں مقابلے کا تصور اپنی تمام اخلاقی حدوں کو پار کر رہا ہے آپ بھی ان اصولوں کا نشانہ بن سکتے ہیں  ۔  یہاں اس کتاب میں بیان کردہ پہلے سترہ اصولوں کا ترجمہ پیش خدمات ہے

1۔ اپنے آقا کی انا کا خیال رکھیے ۔ اگر آپ اپنے آقا کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سامنے اپنی صلاحیتیوں کا اظہار خواہ مخواہ مت کریں بلکہ گاہے بگاہے اُس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے رہیں ۔

2۔ دوستوں پر زیادہ بھروسہ مت کریں بلکہ دشمنوں کو استعمال کریں ۔ دوستوں سے ہشیار رہیں وہ حسد کے مارے آپ کو گرانے پر زیادہ مائل ہو سکتے ہیں بلکہ کسی دشمن کی خدمات حاصل کریں وہ اپنی وفاداری دکھانے کے چکر میں آپ کے زیادہ کام آ سکتا ہے ۔ اگر آپ کا کوئی دشمن نہیں تو بنانے کی کوشش کریں ۔

3۔ دوسروں کو اپنے اصل ارادوں کی ہوا تک نہ لگنے دیں ۔ لوگوں کو اپنے اعمال کے پیچھے کارفرما اصل ارادوں سے لوگوں کو بے خبر رکھیں ۔ انہیں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے دیں اور جب تک انہیں خبر ہو گی تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی ۔

4۔ ہمیشہ قلت کلام سے کام لیں ۔ جتنا زیادہ آپ بولیں گے اتنا زیادہ آپ اپنی خامیوں کو ظاہر کر رہے ہوں گے ۔ اپنے بیانات عمومی اور ایسے رکھیں تاکہ بوقت ضرورت آپ ان کی حسب منشا تشریح کر سکیں ۔

5۔ اپنی شہرت کی حفاظت کریں ۔ اچھی شہرت طاقت کا ایک اہم ستون ہے بلکہ بعض اوقات صرف اسی کے سہارے آپ میدان مار سکتے ہیں ۔ مگر اپنے دشمنوں کے کردار میں خامیاں نکالنے کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں ۔

6 ۔ مرکز نگاہ بنے رہیں ۔ باطن سے زیادہ ظاہر اہم ہے ۔ مجلس میں اپنے آپ کو غیر اہم بننے نہ دیجئے ۔ اپنی شخصیت کورنگین اور پراسرار بنائے رکھیں ۔

7۔ دوسروں کو کارخر میں مصروف رکھ کر خود شاباش حاصل کریں ۔ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی ذہانت ، علم اور محنت کو استعمال کر کے اسے اپنے نام سے پیش کریں ۔ جو کام دوسرے کر سکتے ہیں اس میں اپنا وقت ضائع نہ کریں آپ تھک جائیں گے ۔

8 ۔ دوسروں کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملنے پر آمادہ کریں ۔ اس طرح آپ کے دشمن کو آپ کی طرف مدد کے لئے دیکھنا پڑے گا ۔ انہیں سہانے خواب دکھا کر اپنی طرف مائل کریں اور پھر مناسب وقت پر حملہ کرکے انہیں تباہ و برباد کر دیں ۔

9۔ اچھی دلیل سے آپ لمحاتی کامیابی تو حاصل کر سکتے ہیں مگر اسی بنا پر آپ دوسروں کے حسد کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ خاموش رہتے ہوئے آپ سے ایسے اعمال سرزد ہونے چاہیے جن کو دیکھ کر لوگ خوف کے مارے آپ کا ارادہ سمجھ کر خود بخود اطاعت پر مجبور ہو جائیں ۔

10۔ سوگوار اور بدقسمت لوگوں کے سائے سے دور بھاگیں ۔ دوسروں کے دکھ درد میں خواہ مخواہ آنسو بہانے اور رنجیدہ ہونے سے گریز کریں ۔ ایسے لوگوں پر بدقسمتی کا سایہ ہوتا ہے اور یہ چھوت کی بیماری کی طرح آپ کو بھی لگ سکتا ہے ۔ صرف خوش باش اور اقبال مند لوگوں سے تعلقات استوار رکھیں ۔

11 ۔ دوسروں کو اپنا محتاج بنا کر رکھنے کا فن سیکھیں ۔ اگر آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو اپنا محتاج بنا کر رکھیں ۔ جتنا زیادہ وہ اپنی خوشیوں اور ترقی  کے لئے آپ کے محتاج ہو ں گے اتنے زیادہ آپ طاقتور ہیں  ۔

12 ۔ کبھی کبھار مناسب موقعوں پر فیاضی اور دیانتداری کا سر عام مظاہرہ بھی کریں تاکہ آپ کی دوسری غلطیوں پر پردہ پڑ سکے اور آپ کے دشمن آپ پر انگلی نہ اٹھا سکیں ۔

13۔ اگر کسی حلیف سے مدد کی ضرورت پڑ جائے تو اسے اپنے پرانے احسانات یاد مت دلاو کیونکہ اس طرح وہ شرمندہ ہو کر آپ کی مدد سے کترائے گا بلکہ اپنی درخواست میں یہ بیان کرو کہ آپ کی بات ماننے میں کس طرح سے اس کے ذاتی مفاد کو بڑھاوا مل سکتا ہے ۔ اس طرح وہ جوش و جذبے سے آپ کی مدد کرے گا ۔

14 ۔ لوگوں کو اپنی دوستی کا جھانسہ دے رکھو مگر درپردہ ان کی جاسوسی کرتے رہو ۔ ملاقات میں بظاہر ایسے عام سے سوالات پوچھو جس کے جواب میں لوگ بے خبری میں اپنی خامیاں اور ارادے آپ پر واضح کر دیں ۔

15 ۔ جب دشمنوں سے انتقام لینے کا وقت آئے تو ان کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دو ۔ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی ۔ اگر ان میں سے ایک بھی زندہ بچ گیا تو اس کے اندر انتقام کی آگ سلگتی رہے گی اور وہ تمہارے لئے ایک دن خطرہ بن جائے گا ۔

16 ۔ جتنا زیادہ آپ لوگوں کے سامنے آتے رہیں گے اسی رفتار لوگ آپ کا نوٹس لینا کم کر دیں گے ۔ اپنا دیدار کبھی کبھار کرا کر آپ ایک پراسرار ، قابل تکریم اور اہم شخص بنے رہیں گے ۔

17 ۔ لوگوں کو اپنے بارے میں کوئی اندازہ نہ لگانے دیں بلکہ انہیں کنفیوز رکھیں وہ آپ کے آئندہ ااردہ و عمل کے بارے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو لوگ خوفزدہ ہونے کی حد تک آپ سے ڈرنے لگیں گے ۔

بقیہ قوانین آپ اس ویڈیو میں پڑھ سکتے ہیں



 

وار اینڈ اینٹی وار

بلاگر کا نوٹ ۔ یہ کتاب میں نے تقریبا دس سال قبل پڑھی تھی ۔ پرسوں اپنے پرانے کاغذات کی چھان بین کے دوران اس کتاب پر لکھے ہوئے نوٹس میرے ہاتھ لگے تو سوچا قارئین کو بھی اس میں شریک کر لیا جائے ۔ اس کتاب کی تلخیص اور اردو ترجمہ میرے جیسے غیر اردو دان کے لئے دقت طلب کام تھا خصوصا جدید فنی و فوجی اصطلاحات اور کتاب کا عالمانہ انداز اس کام میں سد راہ ثابت ہوئے ۔ میں نے اپنی بساط بھر کوشش سے اصل مفہوم قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ طوالت کی بنا پر کچھ غیر متعلق مواد چھوڑ دیا ہے ۔ بقیہ مواد میں بھی قطع و برید کر کے صرف جنگ کی بدلتی ہوئی ماہیت پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ مضمون بھی میرے گذشتہ چند مضامین کی طرح  اپنے گردوپیش کی دنیا کو معروضی انداز میں سمجھنے کی جستجو کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔

وار اینڈ اینٹی وار مشہور امریکی مصنف جوڑے ایلون ٹافلر اور اور ان کی بیوی ہیڈی ٹافلر کی معرکۃالآرا کتاب ہے جو پہلی دفعہ 1993 میں امریکہ میں شائع ہوئی ۔ یہ جوڑا ماہر سماجیات اور مستقبلیات ہے ۔ ان موضوعات سے متعلق مسائل پران کی تحاریر کو دنیا بھر میں پڑھا اور سراھا گیا ہے۔ ان کی گذشتہ کتابوں “تھرڈ ویو(تیسری لہر)” اور “فیوچر شاک(صدمہ مستقبل)” ، نے بھی دنیا بھر کے علمی حلقوں کے دانشوروں کو چونکا کر رکھ دیا تھا ۔

اس جوڑے نے ویو(لہر) کی اصطلاح دنیا میں پہلی دفعہ متعارف کرائی ۔ یہ اصطلاح ایک ایسی تبدیلی کی قوت کو ظاہر کرتی ہے جو بڑے پیمانے پر وقوع پذیر ہوئی ہو ۔ مصنفین کی تھیوری یہ ہے کہ وہ طریق جو ہم جنگ میں استعمال کرتے ہیں اور جس طریقے سے معاشرے میں دولت پیدا ہوتی ہیں ان دونوں کے درمیان ایک بڑا گہرا تعلق موجود ہے  انسان جنگ سے نفرت بھی کرتا ہے مگر اس کے باوجود جنگ میں مشغول بھی رہتا ہے  ۔ دنیا کبھی بھی جنگ سے خالی نہیں رہی ہے ۔ جب کوئی بڑی جنگ دنیا میں نہیں چل رہی ہوتی تو اس وقت بھی چھوٹے چھوٹے معرکے دنیا کے مختلف ممالک میں گرم رہتے ہیں ۔ چونکہ جنگ اور معیشت دونوں  ایک دوسرے سے سختی سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے جنگ کے متعلق ہمارا موجودہ علم بڑی تیزی سے ناکارہ ہو رہا ہے    کیونکہ نالج (ڈیٹا پر مبنی سائنسی علم یا ٹیکنالوجی) پر مبنی ایک اور انقلابی معیشت کا سورج طلوع ہو چکا ہے جو پرانے زمانے کی  اُس معیشت سے بہت مختلف ہے جو خام مال اور محض قوت بازو پر انحصار کرتی تھی  چنانچہ جنگ اور ہمہ وقت ترقی پذیر ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔

ذہانت پر مبنی جنگ :

تقریبا دس ہزار سال پہلے انسانی معاشرہ ایک انقلابی تبدیلی سے اُس وقت دوچار ہوا تھا جب انسان نے جنگلی زندگی چھوڑ کر  گاوں اور فارم بنا کر رہنا شروع کیا تھا ۔ یہ تبدیلی کی پہلی لہر تھی ۔ آج سے تین سو سال قبل صنعتی انقلاب نے تبدیلی کی دوسری لہر کو مہمیز دی اور آج ہم اسی طرح کے ایک اور انقلاب کی تیسری لہر کو شروع ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہیں بلکہ وہ ہمارے سروں تک پہنچ چکی ہے ۔ تبدیلی کی ہر لہر اپنے ساتھ ایک نئی قسم کی تہذیب اور تمدن لے کر آئی تھی اور آج ہم ایک نئی تیسری قسم کی تہذیب کو پیدا کرنے کے عمل میں مصروف ہیں جس کی ایک نئی قسم کی معیشت ، خاندانی نظام ، ذرائع ابلاغ اور سیاست ہے ۔ وہ قوتیں جو ہماری معیشت اور معاشرے کو تبدیل کر رہی ہیں وہ جنگ کی ماہیت کو بھی اسی طرح بدل  رہی ہیں ۔ جیسے جیسے ہم زور بازو کی معیشت سے ذہانت کی معیشت کی جانب بڑھ رہے ہیں بالکل اسی طرح ہم اُس جنگ کی نوعیت کو جنم دے رہے ہیں جو ذہانت کی جنگ کہلاتی ہے ۔ اب دنیا کی افواج کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیسے کوئی ایسا  طریقہ دریافت کرے کہ  جس سے یہ ممکن ہو سکے کہ ٹیکنالوجی ، فن حرب (سٹریٹیجی) کے تابع رہے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ فن حرب ٹیکنالوجی کے تابع رہا ہے ( یعنی ہر نیا ہتھیار جنگی چالیں بدل دیتا تھا)

تہذیبوں کا تصادم :

آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس میں اس تین طرح کی مختلف مگر متصادم تہذیبیں موجود ہیں ۔ پہلی لہر کی تہذیب زمین اور زمین کی پیداوار کے ساتھ وابستہ تھی ۔ دوسری لہر انجن کی ایجاد سے شروع ہوئی اور جب پہلی فیکٹری کی مصنوعات کا استعمال انسان نے کیا ۔ اس تبدیلی کا آغاز برطانیہ ، اٹلی اور فرانس سے ہوا ، وسیع پیمانے پر پیداوار، تعلیم ، ذرائع ابلاغ اور اشیائے صرف کا استعمال اس لہر کے اہم خواص تھے ۔ حتی کہ خاندان بھی سائز میں چھوٹے ہو گئے ۔ دنیا میں طاقت کے مراکز ، عثمانی ترکوں اور زار روس کے جاگیردارانہ نظام سے صنعتی یورپ کی طرف منتقل ہو گئے ۔  آج ہم بڑی تیز رفتاری سے طاقت کی اُس ساخت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو دنیا کو تین واضح تہذیبوں میں تقسیم کرتا ہے ۔ اس سہ منقسم دنیا میں پہلی لہر کے ممالک زرعی اور معدنی وسائل مہیا کرتے ہیں ، دوسری لہر کے ممالک اعلی ہنر مند مزدور اور وسیع پیمانے پر پیداوار کرتے ہیں اور تیسری لہر کے ممالک نالج پیدا کر کے اس سے فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ تیسری لہر کے ممالک اطلاعات ، اختراعات ، انتظام ، کلچر ، طریق ،ٹیکنالوجی ، تعلیم ، تربیت ، طبی سہولیات وغیرہ دنیا کو مہیا کرتے ہیں ۔ تیسری لہر کی خصوصیات پر مبنی اعلی فوجی حفاظت (پروٹیکشن) اور دوسری قسم کی خدمات بھی یہ ممالک مہیا کرتے ہیں ۔ اب جو ممالک بغیر کسی اندرونی انتشار کے تیسری لہر کی طرف اپنا سفر مکمل  کر لیں گے وہی عالمی دوڑ جیتیں گے ۔ مگر یہ تقسیم ان مختلف تہذیبوں کے درمیان تصادم کو بھی ہوا دے گی ۔

پہلی لہر کی جنگوں کی خصوصیات :

ماضی کی تاریخ میں لڑی جانے والی پہلی لہر کی جنگوں کے انداز ، مرد و زن کے عمومی کام کاج کی خصوصیات کا اظہار کرتے تھے ۔

1 ۔ جنگ ایک موسمی شغل تھا کیونکہ زمین سے زرعی پیداوار کم اور زیادہ محنت کی متقاضی تھی  اور تقریبا تمام افرادی قوت زمین پر محنت کے لئے درکار تھی ۔

2 ۔ افواج کی تنظیم بہت ابتدائی نوعیت کی تھی اور افسران عام طور پر طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے ۔

3 ۔ فوجیوں کو تنخواہ کی ادئیگی غیر یقینی اور اشیائے صرف کی صورت میں ادا کی جاتی تھی (ایک زمانے میں رومی فوج کو نمک تخواہ کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا ۔)

4 ۔ ابلاغ کا طریق بہت خام اور احکامات زیادہ تر زبانی ہی دیے جاتے تھے ۔

5 ۔ افواج اپنی قیام گاہ کے اردگرد سے ہی ضرورت کی اشیائے صرف حاصل کرتے تھے

6 ۔ جنگی ہتھیار ، فارم کے آلات کی طرح ان گھڑت اور لڑائی میں زور بازو کے متقاضی تھے ۔

7 ۔ پہلی لہر کی لڑائیاں زرعی معیشت کے خواص کی مانند تنظیم ، ابلاغ ، انتظام رسد ، معاوضہ کی اقسام اور قیادت کے طریق میں ابتدائی توعیت کی تھیں ۔

دوسری لہر کی جنگوں کی خصوصیات :

صنعتی انقلاب نے دوسری لہر کو پیدا کیا ۔ اس لہر نے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں متاثر کیا اور یہی اس دور کے طریق جنگ میں بھی ظاہر ہوا ۔ دوسری لہر کی جنگ کی خصوصیات مندرجہ ذیل تھیں ۔

1 ۔ وسیع پیمانے پر پیداوار کی خصوصیت کی طرح وسیع تباہی جنگ کا مرکزی اصول بنا ۔

2 ۔ جنگ کے ہتھیار معیاری ہو گئے اور وسیع پیمانے پر پیدا کیا جانے لگے ۔

3 ۔ وسیع پیمانے پر صنعتی پیداوار کا طریقہ زرعی پیداوار میں بھی ظاہر ہوا ۔

4 ۔ معیار (سٹینڈرائیزیشن) کا اصول ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ تربیت ، تنظیم اور جنگی حکمت عملی پر بھی کیا جانے لگا ۔

5 ۔ کاروباری تنظیموں میں عملہ کی ترتیب اور ہیت فوج میں جنرل سٹاف کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔

6 ۔  صنعتوں میں مشین کی عملداری جنگ میں مشین گن اورمیکانائزد جنگی چالوں کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔

7 ۔ دوسری جنگ عظیم میں وسیع پیمانے پر اموات نے مشینوں کی وسیع استعداد کو ظاہر کیا ۔

8 ۔ محدود جنگ کا تصور ختم ہو گیا اور جنگ اب عام زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہو گئی (ٹوٹل وار) ۔

صنعت اور جنگ میں مشترک اوصاف :

مستقبل میں آنے والی جنگی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم تیسری لہر کی معیشت میں آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ پہلے کریں ۔

صنعتی تبدیلیاں

1 ۔ پیداوار کے عناصر : دوسری لہر کی معشت میں مزدور ، سرمایہ اور خام مال پیداوار کے اہم عناصر تھے ۔ مگر تیسری لہر میں نالج (ڈاٹا ، تصاویر ، علامات ، کلچر ،نظریات اور اقدار)  معیشت کا مرکزی منبع ہیں ۔ بہتر منر مند افرادی قوت کی دستیابی سے  ، افرادی قوت کی تعداد ، محفوظ شدہ ذخائر ، توانائی ، خام مال ،فاصلہ ، پیسہ اور پیداوار میں صرف ہونے والے وقت کی بچت کا باعث بنتی ہے ۔

2 ۔ غیرمرئی حیثیت: تیسری لہر کی کاروباری کمپنیوں کی حیثیت ان کی اطلاعات کے حصول ، تقسیم اور نالج کے تزویراتی و عمومی استعمال کی استعداد پر منحصر ہے ۔ مثلا کوڈک ، کمپاق ، ہٹاچی وغیرہ کی اصل قیمت ان کے ملازمین کے  نئے تصورات ، اختراعات ، پیش بینی کی صلاحیت اور نئی اطلاعات کے حصول میں مضمر ہے ۔

3 ۔ کام کی نوعیت :    دوسری لہر کی افرادی قوت ، کم ہنر مند اور کئی انواع کے کام کرنے کی صلاحیت کے حامل افراد پر مشتمل تھی اور وسیع پیداوار کی خصوصیت کا حامل نظام تعلیم ، اپنے افراد کو معمول اور تکرار کے حامل کام کرنے کے لئے تیار کرتا تھا ۔ مگر تیسری لہر کی معیشت ایسے افراد کا تقاضا کرتی ہے جو اپنے ایک اپنائے ہوئے کام میں خصوصیت اور مہارت تامہ رکھتے ہوں ۔

اختراعات ۔ تیسری لہر کی کمپنیوں کو اختراعات کے میدان میں بڑے سخت اور  نئی ایجادات میں مسلسل مقابلے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

حجم ۔ دوسری لہر کو درکار زیادہ افرادی قوت کے مقابلے میں تیسرہ لہرکومختلف مخصوص کام کرنے والے چھوٹے گروہوں کی صورت میں تقسیم درکار ہوتی ہے ۔

تنظیم : دوسری لہر میں کمپنیوں کی تنظیم بیورکریسی کی طرز کی حامل تھی مگر تیسری لہر کی کمپنیاں ، نئی تبدیلیوں کو اپنانے کی دوڑ میں اپنے پرانے طرز تنظیم کو تیزی سے نئے انداز میں ڈھال رہی ہیں ۔ نئی نئی اختراعات اور صارف کی بدلتی ہوئی ضروریات کا مقابلہ پرانے طرز تنظیم سے نہیں دیا جا سکتا ۔

نظاموں کا ادغام : طرز معیشت میں نئی پیدا شدہ پیچیدگی ، مختلف نظاموں اور طرز تنظیم میں ادغام کا تقاضا کرتی ہے ۔ اس پیچیدگی سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اعلی درجے کی قیادت اور نظام ہائے تنظیم کا ادغام ضروری ہیں ۔ اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے بہت اعلی اور زیادہ مقدار میں نئی اطلاعات کا کمپنی کے ملازمین تک پہنچنا اور ان کے ذہنوں میں سرایت کرنا ضروری ہے ۔

ڈھانچہ : تمام اشیائے صرف ، ان کے حصے پرزوں ، مال کی دکان تک ترسیل ، انجینئر اور منڈی کے مالکان کے پلان ایک دوسرے تک پہنچانے کے عمل کو مربوط کرنے کے لئے کمپنیاں ایسے  الیکٹرانک نیٹ ورکس  کے قیام پر لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہیں جو کمپیوٹر کے محفوظ شدہ ڈاٹا اور اطلاعات کے نظام کے درمیان ربط پیدا کر سکے بلکہ اب تو اطلاعاتی شاہراہ تعمیر کی بھی کوشش ہو رہی ہے جو کہ تیسری لہر کی معیشتوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔

9 ۔ اسراع : اوپر بیان کردہ تبدیلیاں ، کام کرنے کے عمل اور ہر قسم کی ترسیلات میں اسراع پیدا کرتیں ہیں ۔ چنانچہ اب دوسری لہر کی وسیع پیمانے کی معیشت ، ایک اسراعی معیشت کی صورت میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ وقت نے بھی ایک بہت اہمیت کے حامل عنصر کی حیثیت حاصل کر لی ہے ۔ اب اشیا ،اطلاعات اور زر کی ترسیلات کا تصور بجلی کی سی تیزی سے وابستہ ہو گیا ہے ۔

فوجی تبدیلیاں

تباھی کا عنصر : ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے اب نالج فوجی قوت کا بنیادی پتھر بن گیا ہے ۔ مثلا پہلی خلیج کی جنگ میں چھٹنکی بھر وزن کی سلیکان چپ ہزاروں کلو وزن کے بموں پر بھاری نظر آئی ۔ کمپیوٹروں پر مشتمل نظام نے جنگ کے تقریبا تمام شعبوں کو جس میں اطلاعات کو مختلف صیغوں میں بیک وقت مِں نشر کرے کی ضرورت ہوتی ہے ،  ایک خودکار عمل بنا دیا تھا  ۔ اب دشمن کی افواج کی عددی قوت ، ہتھیاروں اور جنگی چالوں کا تجزیہ مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹروں پر کیا جاتا ہے ۔ سامان رسد کی ترسیل اور فوجی افراد کی ذاتی معلومات کو سپریڈ شیٹ پروگراموں کے ذریعے ترتیب دیا جاتا ہے ۔ آج سب سے زیادہ طاقتور فضائی ہتھیار ایک جیٹ جنگی طیارہ نہیں بلکہ دشمن کی اطلاعات جمع کرنے والا الیکٹرانی آلات پر مشتمل طیارہ آواکس ہے ۔ اس طیارے کے ذریعے عراقی فوج کے دماغ اور اعصابی نظام کو ناکارہ بنانے کے لئے دشمن کے مواصلاتی نظام کے متعلق درست معلومات حاصل کی گئیں تھیں ۔

غیر مرئی حیثیت : جنگ میں پہل کاری ، بہتر اور صحیح معلومات کا حصول ، اعلی اطلاعاتی نظام اور بہتر تربیت یافتہ فوجی کم تعداد میں ہوتے ہوئے بھی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

3۔  تعداد میں کمی : جس طرح فیکٹریوں کے اندر مشینوں مثلا لیزر وغیرہ نے افرادی قوت کی تعداد کو کم کر دیا ہے ۔ اسی طرح اب  چند فوجی افراد کا گروہ ہدف سے دور رہ کر ، اپنے جنگی جیٹ طیارے کی رہنمائی لیزر کو ہدف پر ڈال کر کر سکتا ہے ۔ مثلا ویت نام جنگ میں  ایک پل کو تباہ کرنے کی خاطر جہاز کو آٹھ سو دفعہ ہدف پر بم گرانے پڑتے تھے مگر آج اس ٹیکنالوجی کی مدد سے محض ایک دفعہ ہی ہدف کا قصہ پاک کر دیا جاتا ہے ۔

کام کی نوعیت : تیسری لہر کی معیشت کی مانند ، آج کی فوج کو بھی ذہین ہتھیار اور دماغی لحاظ سے چست اور تعلیم یافتہ فوجیوں کی ضرورت  ہے ۔ عراق جنگ میں بھیجی جانے والی فوج  بہترین تعلیم اور تکنیکی علم سے آراستہ تھی جس کی اس سے پہلے جنگی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ جدید افواج کو ایسے سپاہوں کی ضرورت ہے جو اپنی دماغی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کر سکیں اور جو اپنے آپ اور اپنے افسران سے سوال پوچھنے کی ہمت کر سکیں ۔

اختراعات : جدید افواج کی  تنظیم نو بھی  معیشت کے اندر اسی طرح کی تبدیلی کی مظہر ہے ۔ پہلے سپاھی کی بجائے بہتر اسلحہ حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی مگر آج میدان جنگ میں موجود فوجی قائد کو زیادہ سے زیادہ آزادئ عمل دینے کی بات کی جاتی ہے ۔ خلیج کی جنگ میں فوجی کماندار اپنے فیصلے کرنے اتنے خود مختار تھے جس کی جنگی تاریخ میں مثال ڈھونڈنا محال ہے ۔

نظاموں کا ادغام :  اس کی بہترین مثال خلیج کی جنگ میں نظر آئی ۔ خلیج کی جنگ میں شامل مختلف اتحادی ممالک کے آسمان پر اڑتے طیاروں کے ہجوم کو آپس میں ٹکرانے سے بچانے کے لئے ہزاروں احکامات کو آپس میں مربوط کیا گیا ۔ نہ صرف یہ ، بلکہ شاید یہ تاریخ عالم کی پہلی جنگ تھی جس میں اتحادی جنگی ہتھیاروں کے فاضل پرزوں ، خوراک اور گولہ بارود کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل وحمل کی ہمہ وقت نگرانی اور خبر رکھی گئی ۔

ڈھانچہ : آج کی فوج میں اطلاعات کے ایک وسیع الیکٹرانک نیٹ ورک کے بغیر نظام اور اطلاعات کا ادغام ناممکن ہے ۔  خلیج کی جنگ میں ایک مربوط اطلاعاتی نظام کا ایک تیز ترین ، وسیع اور پیچیدہ نظام بُنا گیا ۔ ہر دن تقریبا 700000  ٹیلی فونی ، 152000 برقی پیغامات 30000 فریکونسیوں پر بھیجے گئے ۔ عراقی افواج کے دفاعی مورچوں کے گرد اتحادی افواج کی مشہور زمانہ زنبوری چال تو سب کو معلوم ہے مگر یہ سب کچھ کمپیوٹر ، اطلاعاتی نظام اور خلائی سیاروں کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ۔

مستقبل کی جنگوں کے رحجانات

غیر مہلک رحجان : آج کے زمانے میں جنگی ہتھیار اپنی ہلاکت آفرینی کی آخری حدوں کو چھو چکے ہیں ۔ دنیا کے ممالک کے پاس موجود نیوکلیائی ہتھیار زمین کو کئی دفعہ تباہ کرنے کی استعداد رکھتے ہیں ۔ لیکن اب ایسے ہتھیار بنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے جو ہلاکت آفریں ہونے کی بجائے زیادہ ہلاکتوں کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے میں مدد کریں ۔ اس  ٹیکنالوجی  کا تصور یہ ہے کہ اس کی مدد سے دشمن کے مہلک ہتھیاروں کا سراغ لگا کر انہیں استعمال ہونے سے پہلے ہی  ناکارہ کر دیا جائے ۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد دشمن کو اپنی موجودہ سہولتوں کو استعمال کرنے سے روکنا ہے ۔ مثلا زمین پر ایسا مادہ پھینکا جائے جو سطح کو پھسلواں بنا دے اور اس طرح دشمن اپنے ریلوے سٹیشنوں ، فضائی اڈوں اور سڑکوں وغیرہ کا استعمال جنگی ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لئے نہ کر سکے ۔ اسی طرح چپکو گوند وغیرہ پھینک کر دشمن کے ہتھیاروں کو ناقابل استعمال بنایا جا سکتا ہے ۔

نالج ۔ آج ایک نئی اصطلاح  “نالج وارئیر”  ان دانشوروں کے لئے  وضع کی جا رہی ہے جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جنگیں نالج کے زور پر جیتی جا سکتیں ہیں ۔ چنانچہ دوسرے ممالک سے چن چن کر مخصوص صلاحیتوں کے حامل ذہین افراد کو ترغیب کے ذریعے اپنے ملک آ کر کام کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور اپنے ملک سے ایسے افراد کی غیر ملک کی طرف ترک وطن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ جدید افواج کو بہت بڑی مقدار میں ڈاٹا سٹور کرنے اور اس کی چھان بین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے اطلاعاتی علوم (انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ) کا فروغ ضروری ہے ۔ فوجی اطلاعاتی علم میں کئی اقسام کے عنصر شامل ہوتے ہیں مثلا ہر جنس اور انواع کے کمپیوٹر  اور ان کمپیوٹروں کی ساخت ، ریڈار اور سیٹلائیٹ وغیرہ سے ربط کا نظام ، قابلیت و  وسعت اور اطلاعات کی تقسیم کے بہتر نظام وغیرہ آج کے زمانے میں  کسی فوج کے جدید ہونے کا تعین کرتے ہیں ۔ اب اچھے سافٹویر کی دستیابی بھی فوجی توازن کو کسی ملک کے حق میں کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے ۔ مثلا میزائل ، جیٹ طیاروں ، بحری جہازوں اور فوجی ٹرکوں وغیرہ کی ذہانت اور استعداد بڑھانے میں اس کا کردار بہت اہم ہے ۔ فوجی حکمت عملی میں سوفٹویر کو تخلیق اور استعمال کرنے کے اقدامات کی شمولیت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے ۔

ذرائع ابلاغ ۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے آج کی جنگ ایک مکمل جنگ (ٹوٹل وار) ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں لڑی جاتی ہے ۔ ان میں سے سب سے اہم شعبہ ذرائع ابلاغ کا ہے ۔ پروپیگنڈا کا ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال صدیوں سے جاری ہے ۔ حال ہی میں خلیج کی جنگ میں جنگی نامہ نگار فوجی دستوں کے دوش بدوش نچلی سطح تک موجود رہے ۔ عراقی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دینے کے لئے نفسیاتی جنگ کے ماہرین نے ان پر انتیس لاکھ پروپیگنڈا پرچیوں کی بارش کی ۔ مگر تیسری لہر میں  ذرائع ابلاغ کے چینل اور واسطوں کی تعداد بڑھنے سے نفسیاتی جنگ کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے ۔ انٹرنیٹ جو کہ آجکل تقریبا ہر آدمی کی پہنچ میں ہے ، خبر اور تصویر کو چند لمحوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اطلاعات کے معنوں میں دنیا کی سرحدیں ختم ہو چکیں ہیں ۔ اب اطلاعات کی عوام تک رسائی کو روکنا حکومتوں کے بس کی بات نہیں رہی اور ڈاٹا اور تصاویر کا حجم دن بدن انسانی ذہن کو بوکھلا دینے کی رفتار سے بڑھ رہا ہے ۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلیج کی پہلی جنگ امریکہ نے دنیا کو یہ بتا کر شروع ہونے سے پہلے ہی جیت لی تھی کہ وہ یواین کی قرارداد کے مطابق دنیا کی آزادی کو بچانے کے لئے یہ جنگ لڑ رہا ہے ۔

 
7 Comments

Posted by on February 19, 2010 in تبصرہ کتب

 

انار کے سائے

ناول اطالوی زبان کے لفظ ‘Novella’ سے انگریزی زبان میں  ‘Novel’ بن کر اردو زبان میں داخل ہوا جس کے لفظی معنی کسی نئی بات کے ہیں ۔ ایک عظیم ادیب اور ناول نگار محض ایک داستان گو ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس کے مسائل ، تعصبات رحجانات اور ذہنی رویوں کا عکاس بن جاتا ہے ۔ ایک عظیم ناول بعض اوقات کسی ایک خاص زمانے سے اٹھ کر قوموں کی تاریخ پر بھی حاوی ہو جاتا ہے ۔ قرۃ العین کا آگ کا دریا ، بانو قدسیہ کا راجہ گدھ ، تارڑ کا بہاو اور راکھ ،عبداللہ حسین کا اداس نسلیں چند ایک ایسی مثالیں ہیں جنہوں نے کئی ایک نسلوں کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لئے رکھا ۔

پچھلے دنوں  میں اس بات پر کچھ دل گرفتہ تھا کہ 2006 میں بانو قدسیہ کے ناول حاصل گھاٹ کے بعد کوئی بڑا ناول  منظر عام پر نہیں آیا اور سوچ رہا تھا کہ شاید آج کا بڑآ ادیب اپنی ناقدری اور ہمارے معاشرےمیں بڑھتے ہوئے جبر کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور ہے ۔ اسی تلاش میں انگریزی زبان کے ناولوں  کی طرف متوجہ ہوا تو اتفاقا طارق علی کا ناول “شیڈوز آف پوم گرینٹ ٹری” ہاتھ لگا جو نوے کی دہائی میں شائع ہوا (میری پسندیدہ کتابوں کی فہرست سائیڈ بار میں دیکھیں) ۔

طارق کا یہ ناول سپین کے عہد زوال کے اس دور کی داستان ہے جب غرناطہ میں مسلم اقتدار اپنی آخری ہچکی لے چکا تھا ۔ یہ ناول ایک خاندان کا ڈرامہ ہے اور اس دور کو سامنے لاتا ہے جس پر ابھی تک گمنامی کا پردہ پڑا ہوا ہے ۔ یہ قرون وسطی کا وہ پر آشوب زمانہ ہے جس میں ہم کتابوں کو جلتا اور لوگوں کو جنگ و جدل میں خون آلود دیکھتے ہیں ۔ ناول ایک ایسے جیتے جاگتے معاشرہ کی عکاسی کرتا ہے جس میں مبلغ بھی ہیں اور راہزن بھی ، محبت کرنے والے بھی ہیں اور شاعر بھی ، راسخ العقیدہ لوگ بھی ہیں اور متشکک فلسفی بھی ، البشرات(Alpujarras) کی پہاڑیوں میں لڑاائی کر کےجان دینے والے پرجوش جنگجو نوجوان بھی ۔ یہ سب لوگ اس تہذیب کی باقیات ہیں جو ختم ہونے والی ہے ۔

اس کتاب کے پیش لفظ میں طارق علی  سپین کے آخری اقتدار کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتا ہے :

۔۔۔۔ سربراہ کلیسا کی کھڑکی کے نیچے جو سپاھی تعینات تھا ، زیمس (غرناطہ کا لاٹ پادری) نے اسے گھورتے ہوئے اشارہ کیا ، یہ اشارہ مشعل بردار تک پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی ، آدھے ثانیہ تک خاموشی رہی ، پھر دسمبر کی رات میں ایک زبردست چیخ گونجی اور تب آوازیں ابھریں

لا اللہ الااللہ محمدالرسول اللہ

زیمس سے کچھ فاصلے پر ایک گروہ ورد کر رہا تھا ۔ لیکن الفاظ اس تک نہِں پہنچ رہے تھے ، بات یہ نہ تھی کہ وہ انہیں سمجھ لیتا کیونکہ یہ عربی میں تھے ، شعلے بلند تر ہو رہے تھے ، آسمان دہکتا ہوا جنہم لگ رہا تھا ، اڑتی ہوئی چنگاریوں کا مرقع جو خوبصورت خطاطی کے جلنے سے پیدا ہو رہا تھا ، لگتا تھا کہ ستارے رو رہے ہیں ، آہستہ آہستہ مجمع چھٹنا شروع ہوا ، ایک کوچہ گرد نے اپنے کپڑے اتارے اور آگ کی جانب بڑھا

” علمی کتابوں کے بغیر زندگی کا کیا مقصد “

آگ میں کودتے ہوئے وہ چلایا


سپین میں اسلامی اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کی علمی میراث کے ساتھ جو سلوک عیسائی حکمرانوں نے کیا وہ علم و آگہی کے قتل عام کی دلدوز داستان ہے ۔ مسلمانوں کے آخری دور میں بنو نصر کے آخری حکمران ابوالحجاج(1333۔1354) نے غرناطہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ۔ یہ قریہ علم اپنی ستر لائبرریوں ، سترہ اعلی اور دو سو ابتدائی مدارس کے لئے چہار دانگ میں معروف تھا ۔ جب علوم فنون کے بے پایاں سمندروں میں مسلمان غواصی کر رہے تھے تب یورپ کے سارے شہروں ، گلیوں اور بازاروں میں جہالت اور کم علمی کے گہرے سائے پھیلے ہوئے تھے ۔ صرف ایک شہر قرطبہ میں ستر لائبریریاں تھیں ۔ اس اقلیم بے مثال میں سایہ دار پختہ گلیاں اور بازار روشنی سے جگمگ کرتے ، شہر زندگی کی ہما ہمی سے معمور تھے ۔ اس کے سات سو برس بعد تک لندن کی کسی گلی میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ اور کئی صدیوں بعد تک پیرس میں کچی گلیاں تعفن اور سڑاند کا نمونہ بنی ہوئی تھیں اور شرفا عورتیں اور مرد ان میں سے اپنے لبادے اٹھا کر چلتے تھے ۔

ناول کے پلاٹ میں  غرناطہ کو فرڈیند اور ازابیلا کے ہاتھوں فتح ہوئے آٹھ سال بیت چکے ہیں اور غرناطہ کے قریب آباد ایک گاوں  ہذیل میں ، یزید کاباپ اور قبیلے کا سردار ایک مالدار اور روشن خیال انسان ہے وہ اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہے ۔ اس کا چچا میگوئل عیسائیت اختیار کر کے اب قرطبہ کا بشپ ہے ۔ وہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرکے اپنی جائیداد بچا لے اس کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ اپنی سترہ سالہ بیٹی کی شادی اس کے نالائق بیٹے سے کر دے ۔ لیکن ہند ایک آزاد اور خود مختار لڑکی ہے اور وہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ اسی سے شادی کرے گی جسے وہ پسند کرتی ہے ۔ اس کا پر عزم بھائی کیتھولک چرچ کی غلامی کے مقابلے میں مرنا پسند کرتا ہے ۔

اس ناول پر مختلف اخبارات کی رائے اس طرح شائع ہوئی

طارق علی کی عالمی سیاست پر جو گرفت ہے اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک ایسا ناول لکھ سکے جو ہمہ گیریت کا حامل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی ٹائمز لندن

سب سے زیادہ اہم کیا ہے : ایمان یا زندگی ؟ اس قسم کے بہت سے سوالات اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ذہن میں آتے ہیں ۔ کتاب کا اسلوب سادہ اور فرحت بخش ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیرالڈ کراچی

سپین کی مسلمان عورت بہت آزاداور ترقی پسند تھی ، وہ شکار کرتی تھی ، جنگ لڑتی ٹھی ۔ انار کے سائے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مسلم سپین ان چند ملکوں میں تھا جہاں یہودی ، عیسائی اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگ لندن

طارق علی سپین کی تہذیب کے زوال کو بیان کر کے ہمیں یہ دعوت دیتا ہے کہ ہم اس دور کو سامنے رکھ کے موجودہ حالات کا تجزیہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دی نیشن لاہور۔۔کراچی

پاکستان  میں یہ کتاب الحمرا پبلشر نے چھاپی ہے قیمت دو سو اسی روپے ہے ۔

اردو داں حضرات کے لئے اس کتاب کا ترجمہ انار کے سائے کے عنوان سے فرنٹیر پوسٹ پبلیکیشنز 10 فاطمہ جناح روڈ لاہور نے 1993 میں چھاپا تھا ۔ شاید کسی لائبریری سے مل جائے

 
4 Comments

Posted by on January 30, 2010 in تبصرہ کتب