طریف بن مالک کے حملے کو نو ماہ گذر چکے تھے اور مسلمان ابھی تک اپنی تیاری مکمل نہیں کر پائے تھے ۔ عام طور پر حملے کے لئے فوج کو تیار کرنے کے لئے اتنا وقت درکار نہیں ہوتا تھا ۔ مگر موسم سرما کے آغاز اور کسی مناسب جنگی موقعہ کا نہ ہونا اس کا باعث تھا ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس سوائے کاونٹ جولین کے ، فوجی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کا کوئی اور قابل اعتماد ذریعہ بھی میسر نہیں تھا اور دانشمندی کا تقاضہ یہی تھا کہ صرف کاونٹ جولین پر ہی اعتماد نہ کیا جائے ۔
موسی نے اس اثنا میں 7000 افراد پر مشتمل ایک چھوٹی فوج کھڑی کی جس کا کمانڈر طارق بن زیاد کو لگایا گیا ۔ اگرچہ اس میں زیادہ تر افراد بربر تھے مگر عرب مثلا مغیث الرومی اور سیاہ رنگت والے افریقی سوڈانی بھی اس میں شامل تھے ۔ اس فوج کے علاوہ تقریبا 5000 بربر فوجی اور 18000 افراد پر مشتمل عرب فوج بھی افریقہ میں موجود تھی مگر موسی نے انہیں ریزرو کے طور پر رکھنا زیادہ مناسب خیال کیا ۔
جنگی منصوبہ یہ تھا کہ کاونٹ جولین کے چار جنگی جہازوں میں طارق کی 7000 ہزار کی فوج آبنائے عبور کر کے سپین کے ساحل پر اپنا مسقر (بیس) بنائے گی اور اور بعد میں آنے والی موسی کی فوج کے لئے محفوظ علاقہ فراہم کرے گی ۔ اس کے علاوہ طارق کی فوج کا مقصد رازرق کی فوج اور اس کے جنگی ارادوں کے متعلق فوجی معلومات اکٹھا کرنا شامل تھا تاکہ موسی اپنا مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کر سکے ۔ خطرے کی صورت میں طارق کی فوج کو واپس لوٹ آنا تھا ۔ مگر طارق کسی اور مٹی کا بنا ہوا انسان تھا اور ایک اچھے ماتحت کی طرح موسی کے سوچ کے انداز کو سمجھتا تھا ۔ وہ میدان جنگ کا آزمودہ ، خطروں سے کھیلنے والا اور شوق شہادت سے سرشار جرنیل تھا ۔ اس کی طبیعت کا یہ پہلو موسی کی محتاط شخصیت سے کچھ لگا نہیں کھاتا تھا ۔ طارق کے ماتحت فوجی بھی بربر تھے اور طارق کی طرح کی طبیعت اور جنوں کے مالک تھے ۔
اپریل 711 عیسوی میں جب رازرق ملک کے شمال مشرقی باسق علاقے میں بغاوت کو فرو کرنے کے لئے چلا گیا تو اس امر کی اطلاع کاونٹ جولین کے جاسوسی نظام کے ذریعے موسی تک پہنچی ۔ اس نے فورا طارق کو روانگی کا حکم صادر کر دیا ۔ اس وقت تک موسمی حالات بھی سازگار ہو چکے تھے ۔ طارق اپنی فوج کے ہمراہ جولین کے چار جہازوں میں جبل الطارق پر جا اترا ۔ اس سفر کو خفیہ رکھنے کی خاطر کاونٹ جولین کے جہاز جو تجارتی جہاز تھے کئی دن آتے جاتے رہے تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے ۔ جبل الطارق کے بلند پہاڑ پر رہتے ہوئے نیچے تمام علاقے پر نظر رکھی جا سکتی تھی اور اس پہاڑ پر حملہ کرنا دشمن کے لئے ایک مشکل کام تھا ۔ سمندری سفر کے دوران جہاز میں طارق بہت فکر مند تھا ۔ ساتھیوں کے پوچھنے پر کہنے لگا کہ ایک اہم کام میرے ذمے لگایا گیا ہے ، مجھے فکر ہے کہ کہیں اس مقصد میں ناکام نہ ہو جاوں اور مسلمانوں کا خون میری گردن پر ہو ۔ مسلمان تاریخ داں المقری لکھتا ہے کہ اسی اثنا میں اسے جہاز پر اونگھ آ گئی اور وہ خواب میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے سرفراز ہوا ، ہمراہ صحابہ کرام بھی جنگی لباس میں ملبوس پانی پر چل رہے تھے ۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے طارق سے فرمایا
” اپنے مقصد کی طرف بڑھے چلو ۔ اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کرنا اور اپنے عہد سے ہرگز نہ پھرنا ” ۔
بیدار ہونے پر طارق نے اپنے ساتھیوں کو یہ خواب سنایا تو ان کا ایمان بھی اپنی فتح کے متعلق پختہ ہو گیا ۔
جبل الطارق اپنے مستقر کے قیام کے بعد طارق نے ارد گرد کے علاقوں پر حملے شروع کر دیے ۔ اس وقت جنوبی سپین کا گورنر کاونٹ تدمیر تھا ۔ وہ اپنی تقریبا 1700 افراد پر مشتمل فوج لے کر مقابلے پر آیا ۔ طارق نے مغیث الرومی کو ایک مضبوط دستہ دے کر تدمیر کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا ۔ تین دن تک جھڑپوں کے بعد تدمیر کمزور پڑ گیا اور سامنے سے ہٹ گیا ۔ طارق نے اپنی فوج کو جزیرۃ الخضرا کی طرف منتقل کر دیا ۔ (اس جزیرے سے افریقہ کی طرف پسپائی آسان تھی اور ساتھ سے یہ جگہ سپین سے بہت قریب تھی) ۔ تدمیر نے ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعے رازرق کو تمام حالات سے آگاہ کیا اور استدعا کی کہ وہ فورا سب کچھ چھوڑ کر یہاں پہنچے کیوں کہ وہ تو اپنی پوری کوشش کر چکا ہے ۔ صورتحال کی گھبیرتا کا احساس دلانے کی خاطر اس نے خط کے آخر میں لکھا کہ
” ہمیں نہیں پتہ چل سکا کہ یہ لوگ آسمان سے گرے ہیں یا زمین سے اگے ہیں “
رازرق کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں ۔ وہ ایک مشکل میں گھر گیا تھا ایک طرف وہ شمالی ملک کے اعداء سے نمٹ رہا تھا کہ ابھی یہ جنوب کی طرف کا ٹنٹا کھڑا ہو گیا تھا ۔ اس نے اپنی فوج کو کوچ کا حکم دیا اور اپنے کچھ بہترین رسالے (کیولری) کو تیز رفتاری سے لشکر کے پہنچنے سے پہلے جنوب میں طارق کی فوجوں کو روکنے کا حکم دیا ۔ یہ رسالہ اس کے بھانجے بانج کی قیادت میں برق رفتاری سے قرطبہ پہنچ کر تدمیر سے آن ملا اور مدینہ شددونہ کے نزدیک آکر اس کی طارق کی فوجوں سے جھڑپیں شروع ہو گئیں کئی دن کی لڑائی کے بعد اس کی فوجوں کو شکست ہوئی اور بانج مارا گیا ۔ طارق نے اب اپنا مستقر طریفہ منقل کر لیا تھا ۔ جس کا مقصد بھی اپنے ہدف کے قریب رہنا اور پسپائی کے راستوں کو کھلا رکھنا تھا ۔
رازرق نے مرحوم بادشاہ وٹیزا کے بیٹوں آلمندو اور اردباستو (عربی ۔ ارطباس) کو بھی لکھا کہ وہ اپنی ذاتی افواج کے ہمراہ ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں اس کا ساتھ دیں ۔ وٹیزا کے بیٹے اب بھی ملک اور بادشاہ کی فوج میں ایک اثر رسوخ کے مالک تھے اور تخت شاہی کے خفیہ طور پر دعوے دار بھی تھے ۔ ان کے حامی سرداروں نے اس موقع کو رازرق کو گرانے کا ایک سنہری موقع سمجھا اور مسلمان تو ان کے خیال میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھے ان سے بعد میں بھی نمٹا جا سکتا تھا ۔
طارق نے جب رازرق کی تقریبا ایک لاکھ فوج کی خبر سنی تو اس نے فورا موسی سے مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی ۔ موسی اسی اثنا میں مزید بحری جہاز تیار کرا چکا تھا ۔ اس نے طریف کی قیادت میں صرف 5000 مزید فوجی بطور کمک بھیج دیے ۔ موسی کے خیال میں ابھی ایک بڑی فوج کو بھیجنے کا وقت نہیں آیا تھا اور اگر طارق کو شسکست بھی ہو جاتی ہے تو رازرق کی فوج شجیع بربر سپاہیوں کے ہاتھوں نقصان اٹھا کر لمبے عرصے تک ایک اور جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہے گی اور اس کے بعد موسی بذات خود بڑا حملہ کر سکتا تھا ۔ طریف کی فوج جب سپین پہنچی تو طارق نے تمام جہاز بشمول کاونٹ جولین کے چار جہازوں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا ۔ یہ فوج کے لئے اس بات کا اشارہ تھا کہ اب واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے ۔ غالبا جہاز جلانے کا واقعہ طریفہ کے مقام پر پیش آیا (طریفہ آجکل سپین کا ایک مشہور سیاحتی شہر ہے جہاں واٹر سپورٹس وغیرہ سے سیاح لطف اٹھاتے ہیں ) ۔
کچھ تاریخ داں طارق کے جہاز جلانے کے واقعے کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہیں کہ طارق جیسے بیدار مغز جرنیل سے ایسی حرکت کی توقع نہیں کی جا سکتی اور یہ مروجہ جنگی اصولوں کے بھی خلاف بات تھی ۔ کچھ کہتے ہیں کہ علامتی طور پر صرف چار جہازوں کو آگ لگائی گئی تھی ۔ مگر المقری اور ابن خلدون تمام جہاز جلانے کی تصدیق کرتے ہیں ۔
اس کے بعد طارق نے مدینہ شدونہ کی طرف کوچ کیا اور ایک کھلے میدان میں دریائے بربطے کے نزدیک اپنے خیمے گاڑ دیے ۔ اس کے دستے حفاظتی نقطہ نظر سے ارد گرد کے تمام راستوں پر پھیل گئے ۔ اب جون 711 کا اختتام ہو رہا تھا ۔ راڈرک نے تشویش کے عالم میں اپنی تمام ملکی فوج مجتمع ہونے کا انتظار نہ کیا اور صرف 40000 فوج کے کیولری دستوں کے ساتھ مسلمانوں کے کے کیمپ کے نزدیک پہنچ کر قیام کیا ۔ اس نے جاسوسی کی خاطر اپنا ایک افسر مسلمان فوج کی طرف بھیجا مگر وہ پکڑا گیا اور طارق نے اسے اپنا تمام کیمپ دکھا کر اور کھانا کھلانے کے بعد واپس بھیج دیا ۔ اس افسر نے رازرق سے جا کر کہا
” طلسم خانہ کی شبیہوں جیسے لوگوں آن پہنچے ہیں” ۔
راڈرک نے جنگ کے لئے اپنی فوج کو قلب ، میمنہ اور میسرہ میں تقسیم کیا ۔ میمنہ اور میسرہ کی قیادت وٹیزہ کے بیٹوں کے ہاتھوں میں تھی اور قلب کی قیادت رازرق خود کر رہا تھا ۔ اس نے کچھ سپاہی ریزرو کے طور پر بھی رکھے تھے ۔ بادشاہ کی حفاظت اس کا شاہی حفاظتی دستہ کر رہا تھا ۔ اس کی فوج کے مخلتف رنگوں کے لہراتے جھنڈے ، چمکتی دمکتی قیمتی وردیاں ، مختلف اقسام کے جنگی ہتھیار اور بھاری بھر کم جسامت کے گھوڑے ایک متاثر کن منظر پیش کر رہے تھے ۔ طارق اس سے قبل کاونٹ جولین کے مشورے پر اپنی فوج کی تربیت گاتھ طریقہ جنگ کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر کر چکا تھا ۔ طارق نے اپنی فوج کو تقریبا دو میل کی صفوں میں پھیلا دیا ۔ اس صف کا ایک سرا پہاڑ سے متصل تھا اور دورا نزدیکی جھیل جندہ سے جا ملا تھا ۔ پہلی صف میں سوڈانی فوج تھی اور اس کے بعد باقی صفیں تھیں ۔ اس ترتیب کے باعث گاتھ کیولری پیچھے سے چکر کاٹ کر مسلمانوں کے عقب میں نہیں آ سکتی تھی ۔ ۔ مسلمان سپاہیوں کے حوصلے بلند تھے اور انہیں اپنی فتح کا پکا یقین تھا ۔
سوموار 19 جولائی 711 عیسوی کی خنک صبح کو رازرق کی فوج نے پہل کی اور مسلمانوں پر حملے کا آغاز کیا اور سارا دن گاتھ کیولری طوفانی موجوں کی طرح بار بار طارق کی صفوں سے ٹکرا کر بے نیل مرام واپس لوٹ جاتی رہی ۔ مسلمان اپنی جگہ پر ڈٹے رہے ۔ دوسرے دن بھی یہی عالم رہا ۔ فضا جنگی گھوڑوں ، زخمی انسانی چیخوں اور فولاد ٹکرانے کی آوازوں سے گونجتی رہی ۔ جنگی طبل بجنے کی آوزوں کے ساتھ ہی کیولری کی ایک اور بپھری ہوئی لہر پھر آ ٹکراتی اور ایسے محسوس ہوتا جیسے پہاڑ آپس میں ٹکرا رہے ہوں ۔ دونوں فریقین شجاعت کا بے مثال مظاہرہ کر رہے تھے ۔ بربر اپنے قبیلے کی روایات کے مطابق ایک دیوانگی سے لڑ رہے تھے ۔ رات آئی تو مسلمان کیمپ قرآن کی تلاوت کی آوازوں سے گونجتا رہا ۔ گاتھ فوج کو ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی تھی ۔
تیسرے دن بھی گاتھ رسالہ جی جان سے مسلمان فوج کی صفوں کو چیرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ انہیں بربر سپاہیوں کے حوصلے اور تربیت پر حیرانی ہورہی تھی کیونکہ اب کی بار بربر ایک مختلف جنگی داو پیچ کا مظاہرہ کر رہے تھے جو روایتی بربر طریقہ جنگ کے بالکل برعکس تھا ۔ دن کے اختتام تک گاتھ فوج کو بہت معمولی کامیابی حاصل ہو سکی تھی ۔ شام تک دونوں فوجیں تھک ہار کر رات کو آرام کے لئے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئیں ۔
ادھر طارق فکر مند ہو رہا تھا ۔ وہ مسلسل اس جنگ کا سامنا نہیں کر سکتا تھا ۔ ہر روز اس کے سپاہی کم ہو رہے تھے ۔ ابھی تک بربر صرف دفاعی جنگ لڑ رہے تھے جو بربر مزاج کے خلاف تھا اور آنے والے دن پھر یہی عمل دہرانا کو ئی دانشمندی نہیں تھی ۔ مزید برآں سپاہیوں کے حوصلے بھی پست ہو رہے تھے ۔ طارق نے فوج سے خطاب کا فیصلہ کیا
” اے میرے سپاہیوں ! تم بھاگ کر کہاں جاو گے ۔ تمہارے پیچھے سمندر اور سامنے دشمن ہے ۔ خدا کی قسم! صرف ایمان اور یقین کی دولت ہی تمہارے کام آ سکتی ہے اور یہ عظیم دولت ہے اور اس پر کوئی فتح نہیں پا سکتا ۔ یہ جان رکھو کہ اس سرزمین پر دشمن کی فوج کے خلاف تمہاری اتنی حیثیت بھی نہیں جتنی ایک بخیل کے دستر خوان پر ایک یتیم کی ہوتی ہے ۔ اور تمہارے پاس صرف تمہاری تلواریں ہیں جس سے تم اپنا نوالہ دشمن سے چھین سکتے ہو ۔ اپنے دلوں سے خوف نکال دو ۔ میں تمیں ایسا کوئی کام نہیں دوں گا جو میں خود نہ کروں ، اور موت کی راہ پر میں تم سب سے آگے ہوں گا ۔ جو میں کروں وہی تم بھی کرنا ، جب میں رکوں تم بھی رک جانا مگر ایک جسد واحد کی طرح ۔ جب کل جنگ شروع ہو گی تو ہم حملہ کریں گے اور ظالم بادشاہ کو موت کے گھاٹ اتاریں گے ۔ میرا ساتھ دینا ۔ اگر تم شہید ہو گئے تو خدا کی رضا حاصل کرو گے اور اگر فتح پائی تو تم اسپین کے شہزادوں کے داماد بنو گے ۔”
طارق کے الفاظ نے فوجیوں کے اندر حوصلے کی بجلی سی دوڑا دی ۔ انہوں نے کہا
” ہم آپ کے ساتھ ہیں بلکہ کل جنگ میں آپ سے آگے ہوں گے ۔ “
طارق کیمپ کے دورے سے واپس لوٹا تھا کہ خدا کی مدد آن پہنچی ۔ وٹیزا کے بیٹے اس جنگ سے تنگ آ چکے تھے ۔ انہوں نے اپنا ایک قاصد طارق کی طرف خفیہ طور پر بھیجا تھا جو یہ پیغام لے کر آیا
” رازرق ہمارے باپ کا ایک کُتا ہے جو ہمارے باپ کی موت کے بعد غاصبانہ طور پر تخت پر قابض ہو گیا ہے ۔ “
انہوں نے آنے والی صبح عین جنگ کے درمیان میدان جنگ چھوڑ جانے کی تجویز پیش کی بشرطیکہ ان کے باپ کی ذاتی جائیداد جو 3000 زرخیز فارمز پر مشتمل تھی انہیں لوٹا دی جائے ۔ طارق نے یہ تجویز قبول کر لی ۔
چوتھے دن سورج کی پہلی کرن نمودار ہونے پر مسلمان فوج نے اپنے حملے کا آغاز کیا ۔ رازرق خود پہلے حملہ کرنے کے چکر میں تھا اور اب مسلمانوں نے پہلے حملہ کر کے اس کے جنگی منصوبے کو الٹ دیا تھا ۔ جیسے جیسے دن گذرتا گیا حملے میں شدت آتی گئی حتی کہ اس نے پچھلے تمام دنوں کی شدت کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ دونوں شہزادوں نے حسب وعدہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کی مگر بقیہ فوج نے جنگ جاری رکھی تلواریں کلہاڑوں اور نیزوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ دونوں کمانڈر آج اس جنگ کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے ۔ مسلمان سامنے سے حملہ اور گاتھ فوج کو گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ طارق نے زیادہ توجہ رازرق کے شاہی دستے پر مرکوز رکھی تھی وہ انکا گھیرا توڑ کر رازرق تک پہنچنے کی فکر میں تھا ۔ شاہی دستے کے عقب میں بادشاہ تخت پر بیٹھا نظر آ رہا تھا ۔ آخر کار مسلمان شاہی دستے کا گھیرا توڑ کر بادشاہ کے قریب پہنچ گئے ۔ رازرق نے مسلمانوں کو دیکھتے ہی کہا
” وہی طلسم خانہ کے شبیہوں جیسے لوگ ہیں “
طارق نے پکار لگائی
” وہ رہا دشمن ، ظالموں کا ظالم “
رازرق نے جلدی سے اپنا سفید شاہی گھوڑا منگایا اور راہ فرار اختیار کی ۔ بادشاہ کے راہ فرار اختیار کرنے سے باقی ماندہ فوج کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھی ٹولیوں کی صورت میں بھاگنے لگے حتی کہ فوج کی پسپائی ایک بھگدڑ کی شکل اختیار کر گئی ۔ مسلمان دستوں نے گاتھ فوجیوں سے چھینے ہوئے گھوڑوں پر بیٹھ کر ان کا تعاقب کیا اور آنے والے تین دن تک ان کی تلواریں ہر سمت میں بھگوڑوں کا خون پیتی رہیں ۔ اس جنگ میں 3000 مسلمان شہید ہوئے ۔ رازرق کا سفید گھوڑا نزدیکی جھیل کے کنارے کھڑا ملا ، پاس ہی موتیوں سے آراستہ بادشاہ کے پاوں کی چپل کا ایک پاوں بھی ملا ۔ اغلب خیال یہی ہے کہ فرار کے دوران وہ دلدل میں پھنس گیا تھا اور اپنے بھاری آہنی جنگی لباس کی وجہ سے دلدل میں غرق ہو گیا ۔ اس طرح 26 جولائی 711 عیسوی کو جنگ بربطے اختتام پذیر ہو گئی ۔ جنگی ماہرین طارق کی اس جنگ کو طارق کی ذہانت اور جنگی علم کے بہتر استعمال کی بنا پر ایک کلاسک کا درجہ دیتے ہیں جس میں ایک چھوٹی اور کمزور فوج نے دشمن کی ایک بہترین تربیت یافتہ اورقوت میں غالب کیولری کو میدان جنگ میں اپنے حربوں سے تھکا کر کاٹ ڈالا تھا ۔
طارق نے تفصیلا اس جنگ کا احوال فتح کی خوشخبری کے ساتھ موسی کو لکھ بھیجا ۔ مگر جواب کیا آیا ؟ موسی کی طرف سے ایک سرزنش اور یہ حکم کے طارق آگے بڑھنے کی بجائے وہیں رکا رہے اور موسی کی آمد کا انتطار کرے ۔
یہ خبر کاونٹ جولین کی طرف سے تھی جس میں اس نے موسی کو اسپین پر حملہ کرنے کی ترغیب دی تھی ۔ کاونٹ جولین مسلمانوں کے آنے سے قبل پورے صوبے کا حکمران تھا مگر مسلمانوں نے آکر اس سے علاقے چھین لئے تھے اور اب صرف سبتہ اس کے پاس رہ گیا تھا ۔
سبتہ رومیوں کے زیر اثر آنے سے قبل کارتھیج قوم کے زیر اقتدار تھا ۔ جب جرمنی کےوحشی قبائل نے یہ علاقہ رومیوں سے چھینا تو وندال بادشاہ جنسرک نے423 عیسوی میں آبنائے عبور کر کے سبتہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ مشرقی بازنطینی رومی سلطنت نے اسے 535 عیسوی میں دوبارہ فتح کر لیا تھا ۔ جسطنین نے اس شہر کی بنیادوں کو ڈھونڈ کر اسے دوبارہ آباد کیا ۔ ایک صدی بعد 616 عیسوی میں یہ شہر اسپین کے وسی گاتھ (ویسٹرن گاتھ ) بادشاہوں کے ہاتھ آ گیا اور انہوں نے اسے افریقہ میں گاتھوں کے صوبے کا دارالحکومت بنا دیا ۔
تاریخ مین کاونٹ جولین کئی ناموں سے جانا جاتا تھا ۔ جولین ، یولین ، بالیان ،آلیان ، البان ۔ بعض مغربی مورخین کے مطابق وہ گاتھ قوم سے تھا مگر یہ صحیح معلوم نہیں ہوتا ۔ وہ ایک عیسائی خودمختار حاکم تھا جو اپنی وفاداری اسپن کے بادشاہ کے ساتھ کے ساتھ نبھا رہا تھا ۔ اس کا خطاب کاونٹ اس کے گورنر ہونے کی وجہ سے تھا ۔ وہ بربر نژآد اور ایک بہت بڑے قبیلے غمارہ یا گھمارا کا سربراہ تھا ۔ ہسپانوی سلطنت کے اس اہم صوبے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت طلیطلہ کے دربار میں بے پناہ تھی ۔ تیس سال قبل جب وہ ابھی جوان تھا تومسلمان عقبہ بن نافع کی سرکردگی میں مغرب میں نمودار ہوئے تھے ۔ اس نے عقبہ سے جنگ کرنے کی بجائے اس سے اپنی صوبہ داری بحال رکھنے کی شرط پر صلح کر لی تھی ۔ مگر عقبہ جیسے شجاع فاتح کے جاتے ہی وہ اپنی سابقہ روش پر لوٹ گیا ( اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر وہ بہت زیادہ سمجھ بوجھ کا مالک تھا ) ۔ موسی نے سبتہ کو فتح کرنے کی کوشش کی مگر قلعے کی مضبوطی اور جولین کی بہادری کی وجہ سے وہ اس کی خود مختار حیثیت بحال رکھنے پر مجبور ہو گیا ۔
اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ کہ تقریبا تمام قسم کے معزز خاندان اپنے بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کے لئے انہیں طلیطلہ کے دربار میں بھیجا کرتے تھے ۔ جولین کی بیوی سپین کے سابقہ بادشاہ وٹیزا کی بیٹی تھی ۔ جولین کی ایک فلورنڈا نامی خوبصورت بیٹی بھی طلیطلہ کے دربار میں اسی غرض سے بھیجی گئی تھی ۔ بادشاہ رازرق نے ایک دفعہ اسے دریائے تاجہ(Tagus R )میں نہاتے دیکھا تو اس کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے محل میں زبردستی اس شہزادی کی عزت لوٹ لی ۔ جب اس کی اطلاع فلورنڈا کے ایک خط کے ذریعے کاونٹ جولین کو ملی تو وہ غضبناک ہو گیا ۔ ایک بربر بادشاہ کے ساتھ رازرق کا یہ سلوک اس کے لئے انتہائی ہتک آمیز تھا ۔ ” اس وحشی کی یہ جرآت! خدائے یسوع مسیح کی قسم ! میں اس کے تخت کو گھن لگا دوں گا اور اس کی بادشاہت کو تباہ و برباد کر دوں گا ” اس نے کہا ۔
مگر وہ اتنا سمجھدار ضرور تھا کہ اپنے اصل ارادوں کا اظہار بادشاہ تک نہ پہنچنے دے ۔ وہ جب اپنی بیٹی کو طلیطلہ لینے کے لئے گیا تو بادشاہ اسے دیکھ کر فکر مند ہو گیا تھا مگرجولین نے ظاہر کیا کہ وہ اصل واقعے سے لاعلم ہے اور اپنی بیوی کی بیماری کا بہانہ کر کے فلورنڈا کو ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی۔ بات چیت کے دوران بادشاہ نے کہا کہ “میں نے آپ سے ایک دفعہ اپنے علاقے میں پائے جانے والے شکاری عقابوں کو بھیجنے کی فرمائش کی تھی اس کا کیا بنا ؟۔”
جولین نے کہا
” میں نے آپ کے لئے ایسے عقاب تلاش کئے ہیں کہ آپ نے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے ” ۔
جولین نے سپین پر حملہ کرنے کی تجویز سب سے پہلے طارق کو دی ۔ اس نے طارق کے سامنے اسپین کی شادابی اور خوشحالی کا متاثر کن نقشہ کھینچا ۔ طارق کے پاس اتنی فوج تھی کہ حملے میں جولین کا ساتھ دیتا مگر اس نے اسے موسی بن نضیر کی منظوری حاصل کرنے کا کہا ۔ جب یہ خبر موسی تک پہنچی تو اس نے کاونٹ جولین کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے اسپین پر چند چھوٹے چھوٹے حملے کرنے کے لئے کہا ۔ جولین نے ایسا ہی کیا اور کتوبر 709 عیسوی میں سپین کے ساحلی علاقے میں حملہ کر کے لوٹ مار کی اور بہت سارے لوگوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے آیا ۔ جولین دوبارہ موسی کے پاس آیا اور اسے اپنی کامیابی کی خبر دی ۔ موسی نے جولین کو تو واپس بھیج دیا مگر یہ تجویز خلیفہ الولید کو لکھ بھیجی ۔ خلیفہ نے لکھا کہ کہ” پہلے چھوٹی چھوٹی گشتی ٹولیاں اسپین میں بھیجی جائیں تاکہ درست معلومت حاصل ہو سکیں ۔ میں مسلمانوں کی جانوں کو خواہ مخواہ سمندر میں ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔” موسی نے دوبارہ لکھا کہ افریقا اور اسپین کے درمیان سمندر نہیں بلکہ چھوٹی سی ایک آبنائے حائل ہے جسے پار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ مگر خلیفہ نے لکھا ” تب بھی حملے کی منصبہ بندی سے قبل گشت کرنے میں فائدہ ہی ہے “
موسی نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام اور جنگی مسلمان بربر سردار طریف بن مالک کی سرکردگی میں 400 افراد کی ایک پارٹی طارق کی فوج سے تقریبا نو مہینے قبل جولائی 710 عیسوی میں اسپین کی طرف بھیجی ۔ جولین نے اپنے چار چھوٹے بحری جہاز پارٹی کو لانے اور لے جانے کے لئے مہیا کیے ۔ اس مہم کا مقصد رازرق کے اردوں کے متعلق معلومات اور اس کی کی فوج کی جنگی استعداد کا پتہ چلانا تھا ۔ جس جگہ طریف لنگر انداز ہوا وہ آج طریفہ کہلاتی ہے ۔ طریف حملے کے بعد کچھ دن اس علاقے میں موجود رہا اور مال غنیمت سے لدا واپس لوٹا ۔ اب ایک بڑے حملے کے لئے مسلمان تیار تھے ۔ ( طریف اس کے بعد اگرچہ طارق کی فوجوں کے ہمراہ رہا مگر تاریخ دان اس کا ذکر نہیں کرتے شاید اس نے اس کے بعد کوئی قابل ذکر کاردگی نہیں دکھائی ۔ لیکن تیس سال بعد اس کا نام ایک خوفناک بغاوت کے سلسلے میں آتا ہے جس کا احوال پھر کسی اگلی پوسٹ میں آئے گا ) ۔
مگر آگے جانے سے قبل اسپین کی تاریخ اورحالات پر نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ اسپین کے سیاسی ، معاشرتی اور فوجی پہلووں کا تعلق مسلمانوں کے حملے سے بہت گہرا ہے ۔ اسپین میں کھدائی سے برآمد ہونے والے حجریے اس کی 200،000 سال قبل کی تاریخ کا پتہ دیتے ہیں ۔ اس کے پہلے پہل کے باسی افریقہ کے رہنے والے سفید رنگت کے تھے جو 3،000 قبل مسیح اس علاقے میں آن وارد ہوئے ۔ یہ ایک زراعتی معاشرہ تھا ۔ تقریبا 1000 قبل مسیح تارتیزان نامی قوم کا اس علاقے میں رہنے کا تذکرہ ملتا ہے ۔ پھر غیر ملکی فونیقی تاجروں کے آنے کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اس علاقے میں تجارت کو فروغ حاصل ہوا ۔ فونیقیوں نے قادس(Cadiz) اور مالقہ(Malaga) کے شہر آباد کئے ۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں یونانیوں کے آنے کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔
اسپین میں پہلے پہل شمال کی طرف سے آنے والے یورپی گال قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔ اب تک اس کا نام آئیبریا پڑ چکا تھا جو اسپین میں بہنے والے دریائے آئیبر کے نام سے تھا ۔ مگر اس سے پہلے اس سرزمین کا نام ہسپانیہ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے “خرگوشوں کی سرزمین” ۔ مسلمانوں کے ہاں اس کا نام سرزمین اندلس ہے جو حضرت نوح کے طوفان کے بعد اس سرزمین پر آنے والے حضرت نوح کے پڑپوتے آندلس کے نام پر رکھا گیا ۔ مگر جدید تحقیق کے مطابق اندلس نام ویندال قوم کے اس سرزمین پر آنے کی وجہ سے پڑا جو افریقہ جانے سے قبل اس سرزمین پر رکے ۔ بلکہ رکے کیا اس سرزمین کی ہر شے تباہ و برباد کر دی اور انگریزی زبان کو ایک نیا لفظ عطا کر گئے یعنی ” وینڈل ازم ” بے مقصد تباہی و بربادی ۔
گاتھ قبیلہ کے متعلق بیان کہا جاتا ہے کہ وہ سویڈن کے علاقے کے رہنے والے تھے ۔ وہ ہجرت کر کے دریائے ڈینیوب کے علاقے میں آئے اور وہاں سے یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ۔ جو حصہ مغرب کی طرف آیا وہ وسی گاتھ (ویسٹ گاتھ) کہلایا اور دوسرا آسٹرو گاتھ ( ایسٹ گاتھ)کہلایا ۔ اسپین میں گاتھوں کا پہلا بادشاہ تھیوڈس تھا جو کہ ایسٹ گاتھ تھا مگر اس کے بعد آنے والے ویسٹ گاتھ تھے ۔ ان کا دارالحکومت طلیطلہ تھا ۔ رومیوں کے زوال کے بعد وسی گاتھوں کو بازنطینیوں سے مقابلہ کرنا پڑا جن کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا ۔ جسطنین کی فوجیں اٹلی فتح کرنے کے بعد سپین میں 552 عیسوی میں آئیں اور اسپین کا جنوبی حصہ ان کے قبضے میں چلا گیا ۔ وہ گاتھوں کے چھوٹے چھوٹے سرداروں کو آپس میں لڑا کر ان کو کمزور کرتے رہے مگر آخر کار وسی گاتھ 624 عیسوی میں ان پر غالب آ گئے اور اب پورا اسپین ان کےزیر اقتدار تھا ۔
اسپین میں انتقال اقتدار کا طریقہ انتخابی نوعیت کا تھا ۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد عمائدین اکٹھے ہوتے تھے جن میں لاٹ پادری بھی شامل ہوتا تھا اور انتخاب کے بعد پادری اس کی توثیق کرتا تھا ۔ مگر شاید ہی کوئی انتخاب پر امن رہا ہو ۔ چناچہ بادشاہ اپنی زندگی میں ہی اپنا ولی عہد نامزد کر دیتا تھا ۔ 700 عیسوی میں وٹیزا ولی عہد بنا اور بظاہر وہ ایک اچھا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے ۔ نو سال بعد وہ بادشاہ بن گیا ۔ اس کا ایک اوپاس نامی بھائی طلیطلہ اور اشبیلیہ کا لاٹ پادری تھا ۔ اس بادشاہ کے تین بیٹے تھے ایک کا نام اخیلا اور دوسرے کا اردباستو اور تیسرے کا آلمنڈو تھا ۔ بادشاہ نے اخیلا کو ولی عہد نامزد کیا تھا مگر اس کی وفات کے پھر جھگڑا پڑ گیا اور عمائدین نے آخر کار شہزادوں کی بجائے 709 عیسوی میں شاہی رسالے کے کمانڈر رازرق کو بادشاہ منتخب کر لیا جو ایک جری جرنیل تھا۔ یقیننا اس نے اپنا اثر و رسوخ بھی اس انتخاب میں استعمال کیا ہو گا ۔ لوگ اس کے متعلق یہ تصور کرتے تھے کہ کیونکہ اس کے باپ کو بادشاہ وٹیزا کی شہ پر قتل کیا گیا تھا اس لئے وہ اپنا انتقام لینا چاہتا ہے ۔
چھوٹے بیٹے آلمنڈو اور اردباستو تو بھاگ کر اپنی ماں اور چچالاٹ پادری اوپاس کے پاس چلے گئے مگر اخیلا نے رازرق کے تخت پر دعوی کر دیا ۔ جنگ میں اخیلا کو شکست ہوئی اور اس کے بعد چھوٹے بیٹوں نے بھی اطاعت قبول کر لی ۔ تاہم چچا اور بھتیجوں کی یہ اطاعت ایک سیاسی حربہ تھی ۔ رازرق کے تخت نشین ہوتے ہی ملک کے شمال مشرقی حصے میں بغاوت ہو گئی اور وہ بغاوت کو فرو کرنے کے لئے فوج لے کر چلا گیا ۔
روایت کے مطابق جانے سے قبل اس نے ایک ایسے طلسمی گھر کے بارے میں سنا جو طلیطلہ سے کچھ فاصلے پر واقع تھا ۔ کسی کو اس طلسم کو کھولنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ہر نیا بننےوالا بادشاہ رسم تاجپوشی کے موقع پر اس طلسم گھر پر اپنا تالہ لگا دیتا تھا اور اس وقت اس طلسمی گھر پر کئی قفل لٹک رہے تھے ۔ رازرق نے اسے کھولنے پر اصرار کیا اور طلسم خانہ کے محافظ کے روکنے کے باوجود اسے کھول دیا ۔ طلسمی کمرے میں ایک تابوت کے اندر اسے ایک کپڑا ملا جس پر ایسے لوگوں کی شبیہیں بنی ہوئی تھیں جو عربوں سے مشابہ تھے اور کپڑے پر لکھی پیشین گوئی کے مطابق اس طلسم خانہ کو کھولنے والے کی حکومت ان شبیہوں جسیے انسانوں کے ہاتھوں ختم ہو جائے گی ۔ بادشاہ کو اس کا افسوس ہوا اور اس نے دوبارہ قفل اس طلسم خانہ پر چڑھا دیا ۔ مگر اس کے بعد میں رنج و الم کی کیفیت میں زندہ رہا ( میرے خیال میں یہ ایک من گھڑت کہانی ہے جو اس بات کو تقویت دینے کے لئے گھڑی گئی تھی کہ مسلمانوں کی فتح میں ان کی بہادری اور کوشش کو کوئی دخل نہیں تھا بلکہ یہ تقدیر کا لکھا تھا ۔ بلاگر)
اسپین کے سیاسی اور سماجی حالات اس وقت ابتر تھے ۔ گاتھ اگرچہ اقلیت میں تھے مگر وہ ایک اکثریت پر ظلم ستم کے ذریعے حکومت کر رہے تھے ۔ عیسائی ہونے کے باوجود ان کے اعمال کافروں جیسے تھے ۔ گاتھ زیادہ تر فوجی پیشے سے وابستہ جنگجو لوگ تھے ۔ یہودیت کا ظہور اگرچہ عیسائیت کے آنے سے پہلے اسپین میں ہوا تھا اور یہودی ایک پرامن ، تجارت پیشہ اور خوشحال لوگ تھے مگر وسی گاتھ کے مظالم کے ہاتھوں پستے ہوئے اب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار تھے ۔ وسی گاتھ نہ صرف انہیں حضرت عیسی کا قاتل سمجھتے تھے بلکہ ان کی دولت کی وجہ سے ان سے حسد بھی کرتے تھے ۔
عیسائیت نے اسپین میں یہودیوں کے خلاف پہلا وار 306 عیسوی میں کیا جب چرچ کے علماء نے ایک حکم نامے کے ذریعے عیسائیوں کو یہودیوں سے شادی بیاہ اور اور دیگر تعلقات رکھنے سے منع کر دیا ۔ مگر ساتویں صدی کے آغاز میں ان پر ایک اور حکم نامہ نازل ہوا جس میں انہیں عیسائی غلام رکھنے سے منع کر دیا گیا ۔ چناچہ یہودیوں نے اپنے تمام عیسائی غلام سستے داموں عیسائیوں کو بیچ دے ۔ اس قانون کے تحت یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی یہودی نے کسی عیسائی کو یہودی مذہب کی طرف مائل کیا تو اس کی تمام جائداد ضبط کر لی جائے گی ۔ مگر ابھی یہ صرف شروعات تھیں ۔ ایک اور حکم نامے کے ذریعے یہودیوں پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ 616 عیسوی میں ایک شاہی حکم کے ذریعے تمام یہودیوں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ سال کے اختتام تک عیسائی مذہب اختیار کر لیں ۔ دوسری صورت میں انہیں سو کوڑے لگانے کے بعد تمام جائیداد کی ضبطی اور جلاوطنی کی سزا بھگتنی ہو گی ۔ نتیجتا 90،000 یہودیوں نے عیسائیت اختیار کر لی ۔ یہ یہودیوں کا ابھی ایک قلیل حصہ تھا۔ مگر عیسائی اب بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ وہ ابھی تک خفیہ طور پر یہودی رسم و رواج کی پابندی کرتے تھے ۔ 638 عیسوی میں پادریوں نے ایک حکم نامے کے ذریعے یہودیوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک عہد نامے پر دستخط کر کے یہ اقرار کریں کہ وہ اپنی یہودی رسوم کو چھوڑ چکے ہیں اور اگر وہ کسی کو ایسا کرتے دیکھیں گےتو اسے پتھر مارمار کر ہلاک کر دیں گے ۔ 654 میں ایک اور اسی طرح کے عہد نامے پر یہودیوں سے دستخط لئے گئے ۔ نئے بادشاہ نے یہودیوں کے پاس سے کسی بھی ایسی کتاب کے برآمد ہونے پر جو عیسائی مذہب پر تنقید کرتی ہو ، سخت سزا کا اعلان کیا ۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد 687 عیسوی میں بادشاہ نے یہودیوں کے بندرگاہوں پر جانے پر بھی پابندی لگا دی(تاکہ ان کی تجارت کا گھلا گھونٹا جا سکے) ۔ 694 عیسوی میں بادشاہ نے پھر عیسائی پادریوں کا اجلاس بلایا اور ان کو خبر دی کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں یہودیوں نے اپنے عیسائی بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی ہے اور اس میں ہمارے اپنے ملک کے یہودیوں نے بھی ملی بھگت کا اعتراف کیا ہے ، میرے پاس اس کے ثبوت ہیں اور ہمیں اس خطرے کا پہلے سے ہی کوئی سد باب سوچ رکھنا چاہیے ۔ چنانچہ انہوں نے یہودیوں پر اپنا سب سے سخت تازیانہ برسایا اور اعلان کیا کہ یہودیوں کی تمام دولت ضبط کر لی جائے گی ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکال کر ہمیشہ کے لئے قید کر دیا جائے گا ۔ مگر اس کی انتہا یہ تھی کہ ان کے بچے سات سال کی عمر پہنچے پر ان سے چھین لئے جائیں گے اور پختہ عقیدے کے عیسائی گھرانے کے لوگوں کو دے دیے جائیں گے ۔ اس کے باوجود یہودی آبادی کا کچھ حصہ اپنے پرانے عقیدے کو خفیہ طور مانتا رہا اور اس تمام تر ظلم اور جبر کو سہتا رہا ۔ اب وہ صرف اللہ سے مدد کی دعا ہی مانگ سکتے تھے کہ وہ کوئی مدد بھیجے جس کی امید مگر کم ہی تھی ۔ انہیں اب ایک اور موسی کا نتظار تھا ۔
موسی بن نضیر کا شمار اسلام کے ابتدائی دور کی عظیم تریں شخصیات میں ہوتا ہے ۔ ان کے والد نضیر ایک عیسائی تھے جو 613 عیسوی میں حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید کی عراق مہم کے دوران عین التمر کے مقام پر ایک عیسائی مذہبی سکول میںپادری بننے کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول تھے ۔ حضرت خالد نے جب یہ شہر فتح کیا تو وہ اپنے دوسرے چالیس طالبعلم ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے اور غلام بنائے گئے ۔ نضیر کا تعلق قبیلہ بنی لخم سے تھا مگر بعض مورخین کے مطابق ان کا تعلق قبیلہ بکر بن وائل سے تھا ۔ تاہم بعد میں وہ مسلمان ہو گئے اور بڑے ہونے پر وہ دمشق میں حضرت امیر معاویہ کے ذاتی حفاظتی دستے میں شامل ہو گئے ۔
سن 638 عیسوی( 19 ہجری ) میں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام موسی رکھا گیا ۔ جوان ہونے پر یہ بچہ ایک ذہین ، جسمانی طور پر قوی اور عزم صمیم کا مالک نوجوان ثابت ہوا ۔ موسی نے بھی فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور کئی بحری جنگوں میں حصہ لیا ۔ وہ عبدالعزیز بن مروان (خلیفہ عبدالمالک کا بھائی) کے بہت قریب تھے کیونکہ ان کےوالد نضیر نے بھی اس کے زیر سایہ فوجی خدمات سر انجام دی تھیں ۔
سال 692 عیسوی (73 ہجری) میں انہیں خلیفہ کے حکم پر افسر مال بنا کر بصرہ عراق میں بھیجا گیا ۔ انہوں نے اپنے فرائض بڑی خوش اسلوبی سے ادا کئے مگر کچھ عرصے بعد ان پر سرکاری محاصل مِیں غبن کا الزام لگا ۔ گورنر عراق حجاج بن یوسف کے عتاب کے خوف زدہ ہو کر وہ بھاگ کر اپنے سرپرست عبدالعزیز بن مروان کے پاس پہنچ گئے جو اس وقت دمشق میں تھے ۔ خلیفہ عبدالمالک ان پر مقدمہ چلانا چاہتا تھا مگر عبدالعزیز بن مروان نے اس موقعہ پر مداخلت کی ۔ تاہم خلیفہ نے موسی پر 100،000 طلائی دینار کا جرمانہ عائد کیا جو موسی نے اور عبدالعزیز نے آدھا آدھا اپنی جیب سے ادا کیا اور اس طرح اوہ سزا سے بچ گئے ۔
جب عبدالعزیز مصر کا گورنر مقرر ہوا تو موسی بھی اس کے ساتھ مصر کے شہر فسطاط چلے گئے ۔ مصر میں موسی نے بڑی تندہی اور دانشمندی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے اور عبدالعزیز کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے ۔ گونر نے ایک دفعہ انہیں موجودہ لیبیا کے شمال میں دارنا کے مقام پر ایک بربر بغاوت فرو کرنے کے سلسلے میں بھی بھیجا ۔ موسی نے یہ کام اتنی جانفشانی اور بے رحمانہ انداز میں انجام دیا کہ بربروں کو آئیندہ اس علاقے میں بغاوت کرنے کی کبھی جرآت نہ ہو سکی ۔ یہ موسی کا بربروں کے خلاف فوجی کمانڈ کا پہلا تجربہ تھا ۔
تقریبا سن 702 عیسوی کے آس پاس عبدالعزیز نے انہیں شمالی افریقہ کا گورنر مقرر کیا ۔ موسی اپنے ساتھ ایک فوجی دستہ لے کر شمالی افریقہ میں اس وقت کے مسلمانوں کے صدر مقام اور فوجی شہر قیروان (موجودہ تیونس) کی طرف روانہ ہوا ۔ اس کے سفر کے دوران ایک چڑیا اس کے کندھوں پر آ کر بیٹھ گئی ۔ موسی نے چڑیا کو پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کا خون اپنی داڑھی پر ملا اور کہا ” رب کعبہ کی قسم یہ فتح کی علامت ہے”
اس وقت شمالی افریقہ کے شہر قیروان سے مغرب کی طرف کے علاقے بربر قبیلوں کی بغاوت کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور مذہب اسلام سے بھی مرتد ہوچکے تھے ۔ قیروان پہنچ کر موسی علاقے کے انتظام و انصرام میںمشغول ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک فوج کھڑی کرنے کا کام بھی شروع کر دیا تاکہ باغی بربروں اور بازنطینی سلطنت کے بچے کچھے چند نشان ، رومیوں کو راہ راست پر لا سکے ۔ فوج مجتمع کرنے کے بعد اس نے باغیوں کے خلاف دستے روانہ کرنے شروع کر دیے ۔ مختلف جنگوں کے نتیجے میں 300،000 بر بر جنگی قیدی بنائے گئے اور اس وقت یہ تعداد اسلام کی فتوحات میں جنگی قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد تھی ۔ دمشق میں 60،000 مرد وزن قیدی جب پہنچے تو لوگوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں (بربر رنگ و روپ میں سفیدی مائل جلد کے حامل تھے )۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر نے اسلام قبول کر لیا اور آزاد کر دئے گئے ۔
موسی کی شہرت اب عالم اسلام میں ایک فاتح اور اسلامی سلطنت کے توسیع کنندہ جنرل کے طور پر پھیل چکی تھی اور اسے عزت و تکریم کے طور پر اس کے بڑے بیٹے کی نسبت سے ابو عبدالرحمن پکارا جاتا تھا ۔
705 عیسوی میں الولید عالم اسلام کا خلیفہ بن گیا اور اس نے موسی کو افریقا اور مغرب کے علاقے کا حاکم مقرر کیا ۔ اس طرح وہ پہلا گورنر تھا جو دونوں علاقوں کا حاکم بنا ۔ مگر مغرب اس وقت تک فتح نہ ہوا تھا اور مغرب کا حاکم بننے کے لئے اسے اس کو فتح کرنا ضروری تھا ۔
اگلے دو سالوں میں مغرب کی طرف اس کے فوجی دستے راستے میں آنے والی تمام مزاحمتوں پر قابو پاتے چلے گئے ۔ جیسے جیسے وہ طنجہ اور سبتہ کی جانب بڑھتے چلے گئے باغیوں کی مزاحمت کمزور ہوتی چلی گئی اور مسلمانوں کا سیل رواں تیزی سے آگے بڑھتا چلا گیا ۔ طارق بن زیاد موسی کے ہراول دستوں کا سردار تھا جس نے طنجہ فتح کیا مگر جب وہ سبتہ کی دیواروں سے ٹکرایا تو حاکم سیوطہ کاونٹ جولین نے اس کی ایک نہ چلنے دی ۔
موسی کے دستے جنوب میں بحر اٹلانٹک کے ساحل کے ساتھ ساتھ سوس کی طرف اٹلس کی دشوار گذار پہاڑیوں کی طرف مارچ کرنا شروع ہو گئے ۔ یہ علاقہ اور اس کے لوگ بہت دشوار ، سخت اور ستیزہ کار تھے اور کچھ عرصہ قبل فاتح افریقہ عقبہ بن نافع کو یہ علاقہ فتح کرنے میں دانتوں تلے پسینہ آگیا تھا ( عقبہ بن نافع ، علامہ اقبال کا بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والا ) ۔ مگر اس دفعہ مزاحمت بہت کمزور تھی شاید انہیں عقبہ بن نافع کے ہاتھوں بری طرح شکست کی سزا یاد تھی ۔ موسی نے واپس طنجہ کی راہ لی ۔
طنجہ میں بیٹھ کر موسی نے ایک بار پھر سبتہ فتح کرنے کی کوشش کی اور شہر کا محاصرہ کر لیا ۔ مگر دشمن کی سخت مزاحمت کی وجہ سے یہ محاصرہ اٹھا لیا گیا ۔ تاہم محاصرہ اٹھانے کے بعد کاونٹ جولین نے موسی سے صلح کر لی تھی ۔ وہ بدستور حاکم سبتہ اور اسپین کے بادشاہ راڈرک ( رازرق ) کا باجگذار رہا ۔
موسی نے طارق کو حاکم طنجہ مقرر کر کے کاونٹ جولین پر نظر رکھنے اور معاملات طے کرنے کا اختیار دیا ۔ تاہم واپسی سے قبل موسی نے مسلمان عالموں کی ایک جماعت بربروں کی اسلامی تعلیم کی خاطر تیار کی اور مختلف علاقوں میں انہیں بھیجا ۔ اس کے بعد اس نے مغرب کے علاقے میں کوئی اور بڑی فوجی مہم نہیں بھیجی ۔
موسی اپنے وقت کا ایک بہترین بیوروکریٹ تھا ۔ وہ ایک بہترین جنرل اور منتظم تھا ۔ اب اس کا درجہ ایک عام جنرل سے بڑھ کر تقریبا ایک فیلڈ مارشل کا سا ہو چکا تھا ۔ اس کی تزویراتی منصوبہ بندی کی حس بہترین تھی ۔ اپنی آنے والی زندگی میں وہ کہا کرتا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی جنگ نہیں ہاری ۔ ہاں ، اگر وہ بربروں کے ساتھ بے رحم تھا تو اس کی محض یہ وجہ تھی کہ وہ اسلامی اقتدار کو اس خطے میں مستقل بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا تھا جو کہ اس کے پیشرو نہیں کر سکے تھے ۔ اگلے دو سالوں میں اس خطے کے تقریبا تمام بربر اسلام قبول کر چکے تھے اور اس دفعہ وہ پہلے کی طرح مرتد نہیں ہوئے ۔ اور یہ بربر آنے والے دنوں میں پختہ عقیدے کے مسلمان ثابت ہوئے ۔
تقریبا 709 عیسوی میں ایک دن جب موسی اپنے ہیڈکوارٹر قیروان میں تھا تو اسے ایک اہم خبر موصول ہوئی
عباس ابن فرناس بربرنژاد اور جنوبی اسپین کے ضلع تکرنہ (Ronda) کا باشندہ تھا۔ اس نے اپنی تمام عمر قرطبہ میں بسر کی اور اپنے علم و حکمت کی بنا پر اُس زمانے کا عظیم ترین سائنسدان کہلایا ۔ اس کی ایجادات اور اختراعات بے شمار ہیں اور اگر اسے اپنے زمانے کا نابغہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ وہ علم ریاضی ،شاعری ، طبعیات ، پراسرار علوم کا ماہر اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں یکتا تھا ۔ اس نے پانی کی گھڑی ایجاد کی ، کرسٹل بنانے کا فارمولا بنایا اور تو اور اپنی تجربہ گاہ میں اس نے شیشے اور مشینوں کی مدد سے ایک ایسا پلانیٹیریم بنایا جس میں لوگ بیٹھ کر ستارے ، بادلوں کی حرکت اور ان کی گرج چمک کا مظاہرہ دیکھ سکتے تھے ۔
اس کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک دفعہ ایک تاجر بلاد مشرق کے سفر سے واپسی پر مشہور مسلمان عالم خلیل بن احمد کی کتاب اپنے ساتھ لایا ۔ خلیل ایک عالم، شاعر اور ماہر لسانیات تھا جو آٹھویں صدی میں بغداد میں ہو گذرا تھا ۔ اس کا ایک کارنامہ عربی کی پہلی لغت تیار کرنا ہے ۔ اس نے شاعری میں علم عروض اورحسابی تقطیع کی بنیاد ڈالی تھی ۔ یہ کتاب سپین میں بالکل نئی آئی تھی اور کوئی اس کے مندرجات سے واقف نہیں تھا اور نہ اس کی تشریح کرنے پر قادر تھا چنانچہ یہ کتاب ابن فرناس کے سپرد کی گئی ۔ وہ اسے لے کر ایک گوشے میں چند ساعت کے لئے بیٹھ گیا اور اس کے بعد اُس نے اس کتاب کی ریاضیاتی ترکیب اور مطالب بڑی وضاحت سے اپنے حاضرین کو بیان کیے جسے سن کر وہ اس کی مہارت اور یادداشت پر ششدر رہ گئے ۔
مگر اس کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخ میں پہلی انسانی پرواز ہے ۔ وہ گھنٹوں پرندوں کو محو پرواز دیکھ کر انہیں کی طرح اڑنے کا خواہشمند تھا ۔ اس نے کئی برس پرندوں کی پرواز کی تکنیک یعنی ایروڈائنامیکس کا بغور مطالعہ کیا اور ایک دن یہ اعلان کیا کہ انسان بھی پرندوں کی طرح اڑ سکتا ہے ۔ جب اس کے ناقدین نے اُس کا مذاق اڑایا تو اس نے اپنی تھیوری کا عملی مظاہرہ بذات خود کرنے کا اعلان کر دیا ۔
دبئی کے ابن بطوطہ شاپنگ مال میں ابن فرناس کی پرواز کو خراج عقیدت
اس نے پرندوں کے سے دو پر سائز میں اپنے وزن کے مطابق تیار کئے اور ان کے فریم ریشم کے کپڑے سے منڈھ دیے ۔ پھر قرطبہ سے دو میل دور شمال مغرب میں واقع امیر عبد الرحمن الداخل کے بنائے ہوئے محل رصافہ کے اوپر واقع ایک پہاڑی پر چڑھ گیا اور کئی سو تماش بینوں کی موجودگی میں چٹان کے اوپر کھڑا ہو کر دونوں پر اپنے جسم کے ساتھ باندھ لئے ۔ تماشائی بڑی حیرت اور تعجب سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے ان کا خیال تھا کہ ابھی اسی کوشش میں اس پاگل سائنسدان کی ھڈیاں تک سلامت نہیں بچیں گی ۔
اسپین میں عباس ابن فرناس کا مجسمہ
اپنی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ابن فرناس نے تماشائیوں کی جانب ایک نظر دیکھا اور پھر پہاڑی سے چھلانگ لگا دی ۔ وہ اپنے پروں کی مدد سے ہوا میں کچھ دیر تیرتا رہا اور پہاڑ سے کچھ فاصلے پر واقع ایک میدان میں بحفاظت اتر گیا اگرچہ اس کی کمر لینڈنگ کے دوران دباو کی وجہ سے تھوڑی بہت متاثر ہوئی ۔ اس وقت اس کی عمر 65 یا 70 برس بیان کی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ نویں صدی کے دوسرے ربع میں پیش آیا اور اس طرح وہ انسانی تاریخ کا ہوا میں پہلا اڑنے والا انسان کہلایا ۔ مگر آج نجانے کیوں مسلمان بچوں کی درسی کتب میں ہوابازی کی تاریخ لیونارڈو ڈاونچی کی اڑنے والی مشین کی ڈرائنگ کے ڈیزائن سے شروع ہوتی ہے ۔ ضمیمہ ۔ ابن فرناس سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مزید اس مسلمان سائنسدان کے تجربے کی بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل تحریر مائیکل ہملٹن مورگن کی کتاب ” ” لوسٹ ہسٹری”( جو نیشنل جیو گرافک سوسائٹی واشنگٹن ڈی سی نے 2007 میں شائع کی) سے منتخب شدہ اوراق کا ملخص ہے ۔
ارمان فرمان(Armen Firman) قرطبہ کا رہائشی تھا اور لوگوں کو جان جوکھم میں ڈالنے والے کرتب دکھا کرروزی کماتا تھا ۔ وہ لوگوں سے ایسی شرطیں بد کر انعام حاصل کرتا تھا جس میں سخت خطرات کا سامنا کرنا پڑے ۔ ایک دن اس نے کچھ لوگوں سے پہاڑی پر سے چھلانگ لگا نے شرط بد لی ۔ ان لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور کہا کہ اگر وہ زندہ بچ گیا تو ایک خطیر رقم کا حقدا ہوگا۔ ارمان پرندوں کی پرواز کے علم کی تھوڑی بہت شد بُد تو رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی مدد آپ کے تحت ریشم کے کپڑے اور لکڑی کی کھپچیوں کی مدد سے ایک بھدا سا لباس بنایا ۔ یہ لباس اس نے شرط بدنے کے چند دن اندرہی بنایا تھا کیونکہ وہ کوئی باقاعدہ سائینسدان تو نہیں تھا بلکہ محض شعبدہ باز تھا ۔ چھلانگ کے مقررہ دن قرطبہ کے نزدیک ( جہاں بعد میںموجودہ قصرالزہرا تعمیر ہوا) واقع پہاڑی کے نیچے اس کے شعبدے کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا تھا ۔
ارمان نے دل ہی دل میں کچھ دعائیں پڑھیں اور ہجوم کے اصرار پر اپنے بازو پھیلائے اور پہاڑ سے چھلانگ لگا دی ۔ لوگ سانس روکے اس کو نیچے آتا دیکھ رہے تھے ۔ اس کے لباس کے اندر ہوا بھر گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے گرنے کی رفتار آہستہ ہو گئی تھی ۔ عورتوں نے چیخیں مارنا شروع کر دیں اور قرطبہ کے باسیوں نے اس شور کو سن کر اپنے گھروں کی کھڑکیاں کھول کر اس نظارے کو دیکھنا شروع کر دیا ۔
زمین پر گرتے وقت ارمان کو کچھ چوٹیں آئیں اور وہ کچھ دیر گنگ رہا ۔ مگر اس قدر ہوش میں ضرور تھا کہ اپنے ساتھ شرط بدنے والے تماشائیوں سے رقم وصول کر سکے ۔ ان تماشائیوں میں ابن فرناس بھی شامل تھا ۔ اس چھلانگ نے اس کے خیالات کو تحریک دی ۔ اس نے سوٹ کی خرابیوں کو پرکھا اور ایک بہتر سوٹ بنانے کا فیصلہ کیا ۔
اس نے اپنا تجربہ اسی جگہ پر ارمان کی چھلانگ کے تقریبا تئیس برس بعد کیا ۔ یہ جگہ ایسی پہاڑیوں پر مشتمل تھی جس کے نیچے ایک بہت بڑا ہموار قطعہ زمیں واقع تھا ۔ اس جگہ ہوا نیچے زمین سے ہو کر پہاڑیوں سے ٹکراتی تھی اور اس کے بعد بلندی کی جانب جاتی تھی ۔ وہاں پرندے ہوا کی اس قوت کی وجہ سے دوران پرواز فضا میں معلق رہنے کا مزہ اٹھاتے تھے ۔ ابن فرناس نے پچھلے تئیس برس ایروڈانامیکس کا مطالعہ کرتے ہوئے گذارے تھے ۔ مقررہ دن چھلانگ لگانے کے بعد ابن فرناس ہوا میں کچھ روایات کے مطابق دس سیکنڈ پرواز کرتا رہا مگر لینڈنگ کے دوران زمین سے بری طرح ٹکرایا ۔ اس کی کمر اور چند دوسری ہڈیاں متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے وہ ایک عرصہ صاحب فراش رہا ۔ مگر وہ کچھ مدت بعد اپنی اس معذوری اور بڑھاپے کے باوجود چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا ۔ یہ درد اور معذوری اس کی بقیہ عمر کے بارہ سال تک اس کے ساتھ رہی ۔ قدامت پرست لوگوں کا کہنا تھا کہ خدا نے اس کو سزا دی ہے کیونکہ اس نے فانی انسان ہوتے ہوئے خدا کی دوسری مخلوق کی طرح بلندی پر جانا چاہا تھا ۔ اس طرح کے طعنے وہ اپنی بقیہ عمر جب بھی عوام کے درمیان جاتا لوگوں سے سنتا رہا ۔ اپنی جسمانی تکلیف کو کم کرنے کی خاطر وہ شراب اور نشہ آور ادویات کا سہارا لیتا رہا ۔ تاہم ان بقیہ سالوں میں اس نے اپنے پلانیٹیریم کو امیر اندلس کی فرمائش پر موبائل بنایا ۔ ریت سے بلور بنانے کا کام جاری رکھا ، پانی اور دوسری قسم کی گھڑیاں بنانا بھی جاری رکھا ۔
اپنے فارغ وقت میں وہ اکثر غور کرتا کہ آخر پرواز کرنے والے سوٹ میں کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے اسے چوٹ کا صدمہ اٹھانا پڑا ۔ اس کی سمجھ میں یہی آیا کہ پرندے اپنی پرواز اور لینڈنگ کے دوران اپنی دم کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس نے پر تو بنا لئے تھے مگر دم کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکا تھا ۔ اسے اپنی اس غلطی کا احساس شاید آخری سانس تک رہا ۔
تاریخ افسانے سے زیادہ دلچسپ ہوتی ہے ۔ تاریخ دان اس محاورے پر بہت یقین رکھتے ہیں ۔ تاریخ کے اوراق الٹائیں تو ایسے ایسے عجیب کردار نظر آتے ہیں کہ یقین نہیں آتا ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر ایک کامیاب آدی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ مگر ہو سکتا ہے کہ ایک ناکام آدمی کے پیچھے بھی ایک عورت کا ہاتھ ہو ۔ اج کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے
موسی بن نضیر اور طارق بن زیاد نے 714 عیسوی تک تقریباَ سارا سپین فتح کر لیا تھا ۔ بچے کھچے لڑاکا عیسائی اشتوریش کی دشوار گذار پہاڑیوں میں روپوش ہو گئے مسلم دستوں نے ان کا ان پہاڑیوں میں پیچھآ کیا حتی کہ صرف تیس کے قریب عیسائی مرد عورتیں اور بچے پہاڑوں میں باقی رہ گئے جو پہاڑی درختوں سے شہد حاصل کر کے زندہ تھے ۔ ان میں ایک عیسائی سردار پیلاو بھی تھا ۔ جو آگے چل کر جنگ بازیافت کا باپ بنا ۔ مسلم فوج نے سوچا کہ یہ تیس کوچہ گرد ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور مسقبل میں بھی کوئی فوجی خطرہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے چنانچہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ۔(بعض اوقات کتنے چھوٹے فیصلے قوموں کی قسمت بدل دیتے ہیں)
طارق اور موسی کو جب خلیفہ ولید نے دمشق کے دربار میں طلب کیا (کیوں طلب کیا یہ ایک علیحدہ دلچسپ کہانی ہے جس میں حضرت سلیمان کی میز کا بھی ذکر آتا ہے) تو طارق نے سپین کے شمالی علاقے Gijon میں اپنا قائم مقام گورنر ایک مسللم بربر جنرل منوسہ کو مقرر کیا ۔ منوسہ شمالی افریقہ کے علاقے تانگیر کا رہنے والا تھا اور اس سے پہلے عیسائی تھآ اور طارق کی سپین مہم سے کچھ عرصہ پہلے مسلما ن ہوا تھآ ۔ طارق کے زیر کمان یہ جنرل بڑی بہادری سے لڑا تھا ۔ وہ ایک بہترین لیڈر ، سورما ، فولادی قوت ارادی کا مالک اور کسی حد تک ظالم بھی تھا (عیسائی مورخین اس پر ایک راہب کو زندہ جلانے کا الزام لگاتے ہیں) جو اس کے اچھے جرنیل ہونے میں کسی طرح حائل نہیں تھا البتہ اس کی کمزوری حسن پرستی ضرور تھی ۔
منوسہ نے بڑی کامیابی سے اشتوریش (Asturius) میں باغیوں کے سردار پیلاو کو زندہ گرفتار کر کے دارالحکومت قرطبہ روانہ کیا تھآ ۔ تاہم عیسائی مورخین اس پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے یہ ساری کاروائی پیلاو کی ہمشیرہ سے شادی کرنے کی خاطر کی تھی ۔ پیلاو کی غیر موجودگی میں منوسہ نے اس کی ہمشیرہ سے شادی کر لی جو اس زمانے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی ۔ بڑے بڑے مسلمان معزز سردار اور کماندار عیسائی عورتوں سے شادی کرتے تھے ۔ مثلا بادشاہ راڈرک کی بیوہ نے موسی بن نضیر کے بیٹے اور سپین کے گورنر عبدالعزیز سے شادی کی تھی ۔ کچھ عرصے بعد پیلاو قرطبہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور واپس پہنچ کر منوسہ کی اپنی ہمشیرہ سے شادی کی مخالفت شروع کر دی اور علم بغاوت بلند کیا ۔
منوسہ کی گورنری وقت کے ساتھ نئے مفتوحہ علاقے کوہ پیرینیز ( فرانس اور سپین کے درمیان کا درمیانی پہاڑی سلسلہ) تک پھیل گئی اور اب اس کا ہیڈکوارٹر (Libia) میں تھا جسے مسلمان مدینہ الباب بھی کہتے تھے ۔ یہ (Cerdania) کے علاقے میں ایک مضبوط قلعہ تھا ۔ گاہے بگاہے وہ فرانس کی سرحدی ریاست ایکوٹین کے اندر چھاپے بھی مارتا تھا ۔ یہ ریاست تقریباَ 714 عیسوی میں فرانس کی مرکزی حکومت سے الگ ہو گئی تھی اور مرکزی حکمران چارلس مارٹل (وہی چارلس مارٹل جس نے مسلمانوں کو پیرس سے ساٹھ میل دور جنگ پوئیٹئرز یا بلاط الشہدا میں شکست دے کر آج کے یورپ کو اسلام کی یلغار سے بچایا تھا) کی ایکوٹین کے حکمران یوڈیس سے جانی دشنی تھی ۔
منوسہ کے چھاپوں نے یوڈس کی ناک میں دم کر دیا تھا ۔ ایک طرف چارلس تھا تو دوسری طرف منوسہ ۔ وہ روز روز کے حملے برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔ اس نے ان کا علاج کرنے کی ٹھانی ۔ چناچہ اس نے منوسہ سے ایک خفیہ مقام پر ملاقات کی اور اسے اپنی ہمشیرہ سے شادی کی پیشکش کی ۔ المپگیا نامی یہ خاتوں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی اور دور دور تک اس کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ بدصورت چہرے کے مالک منوسہ کے لیے اس پیشکش کو ٹھکرانا بہت مشکل تھا ۔ اس نے ایک خفیہ معاہدے کے تحت جس کی گورنر سپین سے اجازت نہیں لی گئی تھی جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر کے شادی کر لی ۔ شادی کے وقت ایک کافر حکمران سے جنگ بندی کا ایسا معاہدہ کرتے وقت اسے کوءی شرمندگی نہیں ہوئی جو سرا سر مسلمانوں کے مفادات کے خلاف تھا ۔
وقت گذرتا گیا اور تقریبا 729 عیسوی میں سپین کا گورنر عبدالرحمن غافقی بن گیا ۔ عبدالرحمن کا شمار عالم اسلام کے بہترین جرنیلوں میں ہوتا تھا ۔ وہ ایک تابعی تھے اور ان کی دوستی خلیفہ دوم حضرت عمر کے بیٹے عبداللہ سے بھی تھی ۔عبدالرحمن اس پہلے جنگ فرانس میں ہونے والی جنگ طلوشہ میں شرکت کر چکے تھے جس میں مسلمانوں کا بہت جانی نقصان ہوا تھآ ۔ اب گورنر بننے پر عبدالرحمن اس زخم کا بدلہ فرانسیسیوں سے لینا چاہتا تھے ۔ اس نے جہاد کے لیے لشکر اکٹھآ کرنا شروع کر دیا ۔ اور فرانسیسوں کی فوجی طاقت کو مصروف رکھنے کی خاطر اس نے منوسہ کو حکم دیا کہ فرانس کے علاقے میں چھوٹے چھوٹے حملے کیے جائیں جب تک کہ عبدالرحمن ایک بڑا لشکر لے کر نہیں پہنچ جاتا ۔ عبدالرحمن کو منوسہ کی شادی کا تو علم تھا مگر خفیہ جنگ بندی کے معایدے کا کوئی علم نہیں تھآ ۔
یہ حکم منوسہ کے سر پر ایک دھماکے کی طرح نازل ہوا ۔ وہ مزید کچھ وقت اپنی بیوی کے ہمراہ گذارنا چاہتا تھا ۔ اسے معاہدے کی فکر تو نہیں تھی مگر اپنی خوبصورت بیوی سے ہاتھ دھونا اسے گوارا نہیں تھآ ۔ منوسہ نے عبدالرحمن کو لکھا کہ معاہدے کی رو سے وہ فرانس پر حملہ نہیں کر سکتا ۔ عبدالرحمن نے جوابا اسے لکھا کہ معاہدے کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ہے اور اس کا حکم بجا لایا جائے ۔ منوسہ کے پاس اب کوئی چارہ نہیں تھا اس نے اپنے سسر ڈیوک یوڈس کو ایک خفیہ خط لکھا اور عبدالرحمن کی جنگی تیاریوں کا احوال لکھ بھیجا ۔ عبدالرحمن کے جاسوسوں نے اس کی اطلاع دارالحکومت قرطبہ پہنچا دی ۔ عبدالرحمن کے دل میں منوسہ کی غداری کے بارے اب کوئی شبہ باقی نہیں رہ گیا تھا ۔ اس نے اپنے ایک فوجی افسر ابن زیان کی سرکردگی میں ایک مناسب فوج دے کر اسے منوسہ کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا فرض سونپا ۔
منوسہ کو اس ساری کاروائی کی خبر نہیں تھی ابن زیان نے منوسہ کے ہیڈکوارٹر پہنچ کر منوسہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنے حفاظتی دستے کے ھمراہ بھاگ نکلا ۔ اپنے ساتھ وہ اپنی حسن فسوں ساز بیوی کو بھی لیتا گیا جس کے لیے اس نے دونوں جہاں تج دیے تھے ۔ اس کے بعد تعاقب کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو کو پیرینیز کے پہاڑوں کی ایک چٹان سے دوسری تک جاری رہا ۔ ابن زیان اس کی دم سے لگا اسے بھگائے لیے جاتا تھا ۔ آخر ایک دن جب منوسہ ایک خوبصور وادی میں ایک پہاڑی چشمے کے پاس ایک بڑے پتھر تلے اپنی بیوی اور محافظ دستے کے ہمراہ آرام کر رہا تھا تو ابن زیان نے اسے جا لیا ۔
یہاں بہادر منوسہ نے اپنی زندگی کی آخری جنگ لڑی اور ایک بہادر شیر کی طرح لڑا حتی کہ اس کا جسم زخموں سے چور چور ہو گیا اور زمین پر گر کر اس کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی ۔ اس کا سر کاٹ کر اس کی بیوی کے ہمراہ قرطبہ روانہ کیا گیا ۔ عبدالرحمن الغافقی اس کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گیا اور حیرت کے عالم میں اس کے منہ سے نکلا
” مجھے توقع نہیں تھہ کہ پیرینیز کے پہاڑوں میں ایسا شکار بھی پایا جاتا ہے” ۔
منوسہ کی بیوی کو خلیفہ کی خدمت میں دمشق روانہ کر دیا گیا اور اس طرح عالم اسلام ایک غازی اور نامور جرنیل سے محرو م ہو گیا ۔