RSS

خوب است ، خوب است

28 Feb

آج میرے ایک اور ہزارہ  دوست کے اہل خانہ کوئٹہ سے  سامان باندھ ایک دور دیس آسٹریلیا ، اجنبیوں کے درمیان جا بسنے کے منتظر بیٹھے ہیں ۔ میں 2004ء میں جو کوئٹہ میں ہزارہ کے جلوس پر شدت پسندوں کی فائرنگ کے زخمیوں کو اپنے ہاتھوں سے اسپتال میں اُٹھانے کے باوجود امید کی روشن شمع دل میں لیئے پھرتا تھا ۔ آج  اپنے اس دوست کو وطن پرستی ، اسلام اور موت کے معین وقت سے متعلق سارے  وعظ سنا بیٹھا ہوں جسے اس نے بڑے تحمل سے سن کر خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ لیکن آج پتہ نہیں کیوں مجھ جیسے ازلی امید پرست کے دل میں بھی ایک شدید ٹیس اٹھی ہے جو سارے بدن میں پھیل رہی ہے ۔ نجانے اس کا سلسلہ کہاں تمام ہو ۔ اسی سے متعلق میرے ایک عزیز دوست محمد حسن معراج کا یہ کالم آج سے کچھ عرصہ قبل سپرد قلم ہوا تھا لیکن زیور طباعت سے آراستہ نہ ہو سکا ، اُن کی اجازت سے پیش خدمت ہے ۔

شام ڈھلے ، پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاوس  (Orchard House) کی طرف جانے والی سڑک پر مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں جگنو ایک دم چمکتے سامنے آ جاتے ہیں ، کچھ تو یوں اس قدر نزدیک کہ جیسے ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیئے جا سکیں ۔ کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے یاد کیئے جاتے ہیں ۔ دبیز ایرانی قالینوں سے مزین گھر ان کی درویش صفتی کے عکاس ہیں ، نہ مکینوں کو کسی کی بات چبھتی ہے اور نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے ۔ رات کی روٹی  دستر خوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی کا ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں ۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935ء کا زلزلہ ابھی تک نہیں گیا ، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے  مخصوص ” خوب است ، خوب است ” سے سارے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں ۔
ہزارہ کے بارے میں پورے یقین سے کہنا تو ممکن نہیں ، مگر ہو سکتا ہے یہ لوگ 740 ء میں خلیفہ وقت کے ہاتھوں شہید ہونے والے حضرت زید کی اولاد میں سے ہوں ، جو مزید استحصال سے بچنے کے لیئے جارجیا تک منتشر ہو ئے اور پھر مختلف مسلمان حملہ آوروں کے ہمراہ یہاں تک پہنچے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سیاہ پوش خانمیں ایرانی تاریخ سے کسی نکتئہ اعتراض کی مانند خارج ہوئی ہوں ۔ قاف لیگ میں شامل نہ ہوئی ہوں اور پھر اس شہر میں قافلوں نے پڑاو ڈال لیئے ہوں ۔ یہ بھی گمان کیا جا سکتا ہے کہ وسط ایشیا میں جب آل رسول پر قافیہ تنگ ہوا تو ان لوگوں نے یہاں ہجرت کی ۔ ان تمام باتوں سے بے نیاز ، کوئٹہ بہر حال تقریبا ایک ڈیڑھ صدی سے ان کا مسکن ہے ۔
جذبوں میں حلاوت اور محبتوں میں مسابقت کے یہ اصحاب کہف آج کوئٹہ کے ایک غار میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس غار کا نام  ” ہزارہ ہاوسنگ سوسائٹی  ” ہے ۔ آج سے چھ سال اُدھر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو مجھے ان کی وسعت قلبی کا احساس ہوا ۔ نہ دولہے کی والدہ کو خیال آیا کہ میں پنجابی ہوں اور نہ دلہن کی ماں کو میرا اہلسنت و الجماعت کا مسنون طر یقہ نظر آیا ۔ دونوں طرفین نے میری بھرپور پذیرائی کی ۔ مہندی پہ فارسی کے گیت ایک طرف اور پنجابی کے ٹپے دوسری طرف دم بدم چلتے رہے ۔

اُس وقت ” ہماری ” مہذب دنیا میں ثقافتی حساسیت اتنی عام نہیں ہوئی تھی اور نہ کچھ بوری بند لاشوں کا رحجان  تھا ،  میں نے دولہے کی بابت دریافت کیا تو پتہ چلا سویڈن میں برسر روزگار ہے ۔ پھر دولہے کے ایک دوست کا احوال پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ جرمنی میں ہے ۔ تھوڑی دیر مجھے لگا کہ یہ کوئٹہ نہیں شاید گجرات یا سیالکوٹ کا کوئی نواحی قصبہ ہے جس میں ہر شخص بالواسطہ یا بلا واسطہ پردیس سے منسلک ہے ۔ گفتگو ذرا آگے بڑھی تو پتا چلا کہ یہ ہجرت کسی سنت کا اتباع نہیں اور نہ ہی اللہ کے فضل کی جستجو ہے ۔ “مرد حق؟ ” نے 1980ء کے عشرے میں جو پنیری لگائی تھی آج وہ اپنی بہار دکھلا رہی ہے ۔ آج کے یہ اصحاب کہف کسی رومی سپاہی سے نہیں بلکہ اپنے نبیؐ اور اس کے صحابہ کے سپاہیوں سے خوفزدہ ہیں ۔
بوقت رخصت ، دلہن کی سہیلیوں نے میرے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پہ مہندی لگا کر ایک چھوٹی سی پگڑی سر پر جما دی ۔۔۔ میں نے مسکرا کر شوخی سے کہا ” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟ ” اور سارے ماحول میں خوب است ، خوب است اور قہقہوں کی پس پردہ موسیقی پھیل گئی ۔
پہلے محرم کے جلوس پہ بم پھٹے ، پھر چہلم پہ نامعلوم افراد کی فائرنگ کی خبریں آنا شروع ہوئیں اور اب مستونگ میں زائرین کی بس سے ہزارہ کو اتار کے مار دیا گیا ۔ یہ سفر لگ بھگ پانچ سات سالوں کی کہانی ہے ۔ مگر بم دھماکے اور فرقہ ورایت اتنی تکلیف دہ نہیں جتنی وہ بے حسی کا مظاہرہ ہے جو ہم تمام لوگ بحیثیت قوم کر رہے ہیں ۔ اپنے آسودہ حال گھروں میں بیٹھ کر اس واقعہ کو پاک ایران گیس پائپ لائن کا رد عمل سمجھ لینا بہت آسان ہے مگر انتہا پسندی کے جن کو بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہے ۔ شادی کی تقریب کا میرا معصوم سوال شاید آج پوری ہزارہ برادری کا پاکستانیوں سے سوال ہے

” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو کروں تلاش ؟ ” ۔

مگر شاید اب ” خوب است ” کہنے والا بچا ہی نہیں

تمام شد

 
7 Comments

Posted by on February 28, 2012 in منتشر اوراق

 

7 Responses to خوب است ، خوب است

  1. Ali Hasaan

    February 28, 2012 at 3:08 AM

    واقعی خوب است خوب است
    اللہ ہمارے دشمنوں کی سازشوں اور ہماری کم عقلی کی حرکتوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین

     
  2. یاسرخوامخواہ جاپانی

    February 28, 2012 at 7:29 AM

    خوب است خوب است

     
  3. Zia Ul Hassan Khan

    February 28, 2012 at 10:43 AM

    خوب است خوب است

     
  4. waseem rana

    February 28, 2012 at 11:27 AM

    بجا فرمایا آپ نے، بہت دکھ ہوتا ہے ایسے واقعات سن کر، ویسے میں بھی کراچی میں واقع ان کی بستی میں گیا ہوں واقع یہ فقیر لوگ ہوتے ہیں ۔

     
  5. Jafar

    February 28, 2012 at 10:53 PM

    اس تحریر کی دردمندی کے ساتھ پوری طرح متفق ہوں۔
    ایک چیز کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ فرقہ واریت کا یہ گھناونا کھیل انقلاب ایران کے ساتھ راست متناسب ہے۔ باخبر لوگ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      March 4, 2012 at 2:10 AM

      محترم جعفر صاحب
      شکریہ
      میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ دو ملک امت مسلمہ کا سب بڑا ڈریگ ہیں ۔ یہ نہ ہوتے تو شاید ہم آج کچھ زیادہ بہتر ہوتے ۔وہ دو ملک ایران اور سعودی عرب ہیں ۔ خیر یہ ان کی ذاتی رائے ہے لیکن بات میں بہرحال وزن ہے کیونکہ دوسرے ممالک نے اپنی جنگ ہماری زمین پر لڑی اور ہم نے کھلی آنکھوں انہیں ایسا کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ خود بھی غنیم کے لشکری بن گئے ۔

      The fault, dear Brutus, is not in our stars
      But in ourselves, that we are underlings
      Julius Caesar I, ii, 140-141

       
  6. محمد سلیم

    February 29, 2012 at 12:47 PM

    خیلی خوب است، خیلی خوب است

     

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s