RSS

کون بھلے کُو مندے

18 Feb

اس دفعہ کی میلادالنبی کی چھٹیاں آئیں تو سوچا روٹین سے چھٹکارا پا کر ایک آدھ دن گھوم پھر آئیں ۔ سیالکوٹ میں ہمارے ایک محبی و مخلصی دوست رہتے ہیں جن کے ساتھ مل کر ہم  ایک زمانے  کراچی میں بقول شخصے پنجابی لفظ “گھڑمس ” مچایا کرتے تھے ۔ لیکن جب سے وہ بیوی کو پیارے ہوئے ہیں اس دن سے ان کی خبر نہیں ملتی۔ پتہ نہیں شادی کے بعد یہ بیویاں شوہروں پر کیا جادو کرتیں ہیں کہ اچھے بھلے انسان کو قصہ کہانیوں کا طوطا بنا کر رکھ دیتی ہیں  ۔سیالکوٹ میں ان سے ایک رات کی ملاقات میں “رج  کے گل بات ” کرنے کے بعد براستہ ناروال لاہور جاتے ہوئے ایک جگہ راستہ بھول کر ایک ذیلی سڑک پر جا نکلا ۔ چونکہ گھر میں بھی صرف بیگم ہی ہمارا انتظار کر رہی تھیں اس لیئے مجھے بھی کچھ جلدی نہیں تھی ۔ سوچا اب بھٹک گئے ہیں تو ذرا جان بوجھ کر بھٹکتے رہتے ہیں ۔ چاروں اور سر سبز پنجاب کا منظرپھیلا ہوا تھا جو میری روح تک اتر جاتا ہے ۔ گندم کی فصل نے زمیں پر جیسے سبز مخمل کا قالین دور تک بچھا رکھا تھا جس کے بیچ میں سرسوں کے بکھرے کھیت زرتار سے کی ہوئی کشیدہ کاری کا منظر پیش کر رہے تھے ۔ کہیں کوئی نوجوان الھڑ دوشیزہ ساگ چنتی اپنے خاندان کے ہمراہ کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستی ہوئی ، کسی کھیت کے درمیان کچی مٹی یا اینٹوں سے بنے گھروندے نما مکان اور درخت موسم سرما کی دھوپ میں چمک رہے تھے اور یہ سارا منظر دور افق میں تنی دھند کی چادر میں گم ہو رہا تھا ۔

ایک جگہ سرراہ  ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا ” دربار صاحب گوردوارہ کرتار پور ” ۔  یوں تو پاکستان کے گوشے گوشے میں مندر اور گوردوارے بکھرے پڑے ہیں لیکن چند ایک  مخصوص مقامات کو چھوڑ کر زیادہ تر کی حالت  اجڑے ہوئے آثار قدیمہ سے زیادہ نہیں لیکن اس بورڈ پر لگتا تھا تازہ رنگ و روغن کیا گیا تھا ۔ اک راہ گیر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ” نیڑے ای بابے نانک دی قبر اے ” ۔ سکھ مذہب کے بانی گورو نانک کی جنم بھومی کے متعلق تو مجھے علم تھا لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں مدفون ہیں ۔ میں نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر  گاڑی گوردوارے کی سمت موڑ دی ۔

گورونانک (1469 تا 1539) برصغیر پاک و ہند کی وہ ایسی محترم شخصیت ہیں جن کو عوام کے محروم طبقات اپنا کہتے ہیں۔ وہ پاکستانی پنجاب کے شیخوپورہ شہر  کے نزدیک واقع ایک گاوں تلونڈی رائے بھوئے (اب ننکانہ صاحب شہر) میں ایک ہندو جاٹ گھرانے میں بادشاہ بہلول لودھی  کے دور میں پیدا ہوئے۔  گورو نانک نے سنسکرت پنڈت شاستری تلونڈی سے سیکھی اور عربی فارسی مولوی قطب الدین سے پڑھی۔ ان کے بچپن کا دور انتشار کا زمانہ تھا ۔ اگرچہ بہلول لودھی نے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن سماج میں ایک طرف تو ہندو مذہب نے ذات پات کے سسٹم کے تحت اپنے ہی ہم مذہبوں کو سماج کی پست ترین سطح پر رکھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہوس اقتدار اور حب مال کی طمع کے زیر اثر  جس سردار کو بھی موقع ملتا تھا وہ اپنی سپاہ لے کر  مخالف فریق سے بھڑ جاتا تھا  ۔ اس ساری کشمکش میں پسنے والے آج کی طرح کوئی اور نہیں بلکہ عوام ہی تھے ۔  نانک نے نے اس صورتحال میں بہتری لانے کی ٹھانی اور تقریبا تیس سال کی عمر میں  سفر پر روانہ ہوئے ۔ مسلمان رباب نواز بھائی مردانا اس کا ہمرکاب تھا۔

نانک نے متلاشئی حق کے طور پر میں شہرت پائی۔ وہ ہند میں موجود تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی زیارت کو گئے،اسلام کی وحدانیت سے متاثر نانک کے قدم اسے مکے کی اس زیارت گاہ کی طرف لے گئے کہ جو دنیا میں خدا کا اولین گھر کہلاتا ہے۔ بغداد سے گذرتے ہوئے اس کا مسلمان صوفیا سےبھی مکالمہ ہوا۔ واپسی پر انہوں نے مسلمانوں اور ہندوں کے مذاہب میں میں موجود خدا کی ایکتا  کے تصور اور انسانی مساوات پر زور دیا اور کہا

اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے

اک نور سے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے

(مفہوم ۔ خدا نے اپنے نور سے سب مخلوق کو پیدا کیا ،اسی سے کائنات ، تو پھر کون شخص افضل اور کون نیچ ہے ) ۔

گوردوارے میں بھائی منجیت سنگھ نے ہمارا استقبال کیا ۔ گوردوارے کے مختلف حصے دکھائے اور بتایا کہ یہ گوردوارہ تقسیم کے بعد سے بند پڑا تھا -  محکمہ اوقاف کے پرانے ڈی جی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید ناصر نے کوشش کر کے اس کی تزئین و آرائش کے بعد تقریبا دس سال قبل اسے کھلوایا ہے ۔ دنیا بھر سے سکھ اس گوردوارے کی زیارت کے لیئے آتے اور قیام کرتے ہیں جس کی گواہی  وہاں فائبر سے بنے ہوئے گیسٹ روم دے رہے تھے ۔ ابھی کچھ دن قبل ساوتھ ایشین جرنل کی خاتون صحافی اس کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنا کر گئی ہیں۔ یہ گوردوارہ انڈیا پاکستان  سرحد سے محض چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اور اس کے قریب ہی دریائے راوی پر وہ مشہور جسڑ پل ہے جہاں 1965 کی جنگ میں آتش و آہن کا مقابلہ ہوا تھا۔ اس گوردوارے کی اہمیت کے متعلق انہوں نے  بتایا کہ گورو نانک نے اپنی تبلیغ کے سفر کے بعد زندگی کے آخری اٹھارہ برس اس جگہ پر گذارے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہوا تھا ۔  روایت کے مطابق ان کے وفات کے بعد مسلمان اور نانک کے عقیدت مندوں میں ان کی آخری رسومات کے متعلق جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ ہندو  انہیں ہندو سمجھ کر ان کی میت کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان  انہیں ان کی خدا کی وحدانیت اور اسلام کے اصولوں پر مبنی تبلیغ کی وجہ سے مسلمان مان کر دفن چاہتے تھے ۔ آخر کار جب ان کی میت پر سے چادر ہٹائی گئی تو وہاں میت غائب ہو چکی تھی اور صرف پھول پڑے تھے ۔ مسلمانوں نے آدھے پھولوں کو دفن کر کے قبر بنا دی اور ہندووں نے اپنے حصے کو جلا کر راکھ دفن کر کے سمادھی ۔ اب ایک ہی گوردوارے میں قبر اور سمادھ  دوونوں موجود ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ گورو نانک نے اپنی تعلیمات کے ذریعے  اپنے عقیدت مندوں پر بہت گہرا اثر چھوڑا اور ان کے ماننے والوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی ۔

ڈاکٹر سر محمد اقبال گورو بابا نانک صاحب کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں

بُت کدہ پھر بعدِ مدت کے مگر روشن ہوا

نورِ ابراہیمؑ سے آزر کا گھر روشن ہوا

پھر اُٹھی آخر صداتوحید کی پنجاب سے

ہند کو اِک مرد کامل نے جگایا خواب سے      ”بانگ درا“

گورو نانک کی قبر پر مندرجہ ذیل پنجابی شعر رقم ہے ۔ یہ شعر انڈیا میں تقسیم ہند کے موضوع پر بننے والی فلم    ” پنجر “  کا تھیم سانگ بھی ہے ۔

اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے

اک نور سے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے

گوردوارے کی چند تصاویر میرے کیمرے سے

 
 

13 Responses to کون بھلے کُو مندے

  1. یاسرخوامخواہ جاپانی

    February 18, 2012 at 5:08 AM

    معلوماتی اور دلچسپ تحریر کیلئے شکریہ

     
  2. عدنان مسعود

    February 18, 2012 at 5:13 AM

    سفر میں خصوصا کسی دلچسپ جگہ پر “سوچا اب بھٹک گئے ہیں تو ذرا جان بوجھ بھٹکتے رہتے ہیں” کا جو مزا ہے وہ صرف بھٹکنے والا ہی جانتا ہے۔ روداد سفر کا شکریہ۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 19, 2012 at 6:30 AM

      قبلہ ہم تو آپ کی نثر کے معترف ہیں ۔ ویسے بھی کراچی والے اردودانوں کے سامنے اردو میں لکھتے اور بولتے ہوئے ہم پنجابیوں کی گھگھی بندھ جاتی ہے ۔ مجھے یاد ہے جب ہماری کراچوی اردودان بھابھی نے پہلی دفعہ سمجھایا تھا کہ حرف “ق ” اور “ک ” کا تلفظ کیسے کرتے ہیں ۔ بس وہ دن اور آج کا دن ہم نے اردو سے وہی سلوک کرنا شروع کر دیا ہے جو ہمارے ہاں ذاتی منکوحہ سے روا رکھا جاتا ہے ۔ بس جو کچھ ہے اسی پر گذارہ کر لیا کریں

       
  3. افتخار اجمل بھوپال

    February 18, 2012 at 12:29 PM

    اچھا کہانی گو طرزِ تحریر ہے
    آپ نے جاوید ناصر صاحب کا ذکر کیا ہے ۔ جانتے ہیں یہ صاحب ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہے لیکن بہت پہلے جب کرنل تھے تو تائب ہو کر تبلیغی اجتماعات میں شرکت شروع کر دی تھی اور انکساری اختیار کر لی تھی

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 19, 2012 at 6:31 AM

      معلموت کا شکریہ اجمل صاحب ۔ یقیننا آپ کی معلومات وسیع ہیں

       
  4. Ali Hasaan

    February 18, 2012 at 4:04 PM

    بہت عمدہ ۔ پم ویسے تو ساری دنیا کا علم رکھتے ہیں پر اپنے حال کی خبر نہیں۔

     
  5. عنیقہ ناز

    February 18, 2012 at 5:19 PM

    اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب کی زمین نے ڈھائ پیغمبر پیدا کئے۔ :)

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 18, 2012 at 11:21 PM

      :) اس میں سے اگر ایک کے نام کا ذکر اگر آپ نے کر دیا تو اس بلاگ کو شاید بند کرنا پڑے گا :) ۔

       
    • محمد ریاض شاہد

      February 19, 2012 at 6:32 AM

      ہاں شاید اسی چیز کی کمی ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو بہت کم جان پائے ہیں ہر معاملے میں اور غلط فہمی کا شکار ہیں

       
  6. Zainab Wahidi

    February 19, 2012 at 2:01 AM

    پر مغز تحریر ہے

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 19, 2012 at 6:34 AM

      مغز تو پتہ نہیں بس یوں ہی چلتا رہتا ہوں جو جی میں آئے چھاپ دیتا ہوں لیکن دل میں ڈرتا بھی رہتا ہوں کہ قارئین پتہ نہیں کیا دل میں سوچتے ہوں گے ۔ آپ نے لکھا ہے آپ کا شکریہ نوازش

       

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s