کون بھلے کُو مندے
18
Feb
نے سنسکرت پنڈت شاستری تلونڈی سے سیکھی اور عربی فارسی مولوی قطب الدین سے پڑھی۔ ان کے بچپن کا دور انتشار کا زمانہ تھا ۔ اگرچہ بہلول لودھی نے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن سماج میں ایک طرف تو ہندو مذہب نے ذات پات کے سسٹم کے تحت اپنے ہی ہم مذہبوں کو سماج کی پست ترین سطح پر رکھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہوس اقتدار اور حب مال کی طمع کے زیر اثر جس سردار کو بھی موقع ملتا تھا وہ اپنی سپاہ لے کر مخالف فریق سے بھڑ جاتا تھا ۔ اس ساری کشمکش میں پسنے والے آج کی طرح کوئی اور نہیں بلکہ عوام ہی تھے ۔ نانک نے نے اس صورتحال میں بہتری لانے کی ٹھانی اور تقریبا تیس سال کی عمر میں سفر پر روانہ ہوئے ۔ مسلمان رباب نواز بھائی مردانا اس کا ہمرکاب تھا۔
یاسرخوامخواہ جاپانی
February 18, 2012 at 5:08 AM
معلوماتی اور دلچسپ تحریر کیلئے شکریہ
محمد ریاض شاہد
February 19, 2012 at 6:25 AM
عدنان مسعود
February 18, 2012 at 5:13 AM
سفر میں خصوصا کسی دلچسپ جگہ پر “سوچا اب بھٹک گئے ہیں تو ذرا جان بوجھ بھٹکتے رہتے ہیں” کا جو مزا ہے وہ صرف بھٹکنے والا ہی جانتا ہے۔ روداد سفر کا شکریہ۔
محمد ریاض شاہد
February 19, 2012 at 6:30 AM
قبلہ ہم تو آپ کی نثر کے معترف ہیں ۔ ویسے بھی کراچی والے اردودانوں کے سامنے اردو میں لکھتے اور بولتے ہوئے ہم پنجابیوں کی گھگھی بندھ جاتی ہے ۔ مجھے یاد ہے جب ہماری کراچوی اردودان بھابھی نے پہلی دفعہ سمجھایا تھا کہ حرف “ق ” اور “ک ” کا تلفظ کیسے کرتے ہیں ۔ بس وہ دن اور آج کا دن ہم نے اردو سے وہی سلوک کرنا شروع کر دیا ہے جو ہمارے ہاں ذاتی منکوحہ سے روا رکھا جاتا ہے ۔ بس جو کچھ ہے اسی پر گذارہ کر لیا کریں
افتخار اجمل بھوپال
February 18, 2012 at 12:29 PM
اچھا کہانی گو طرزِ تحریر ہے
آپ نے جاوید ناصر صاحب کا ذکر کیا ہے ۔ جانتے ہیں یہ صاحب ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہے لیکن بہت پہلے جب کرنل تھے تو تائب ہو کر تبلیغی اجتماعات میں شرکت شروع کر دی تھی اور انکساری اختیار کر لی تھی
محمد ریاض شاہد
February 19, 2012 at 6:31 AM
معلموت کا شکریہ اجمل صاحب ۔ یقیننا آپ کی معلومات وسیع ہیں
Ali Hasaan
February 18, 2012 at 4:04 PM
بہت عمدہ ۔ پم ویسے تو ساری دنیا کا علم رکھتے ہیں پر اپنے حال کی خبر نہیں۔
عنیقہ ناز
February 18, 2012 at 5:19 PM
اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب کی زمین نے ڈھائ پیغمبر پیدا کئے۔
محمد ریاض شاہد
February 18, 2012 at 11:21 PM
محمد ریاض شاہد
February 19, 2012 at 6:32 AM
ہاں شاید اسی چیز کی کمی ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو بہت کم جان پائے ہیں ہر معاملے میں اور غلط فہمی کا شکار ہیں
Zainab Wahidi
February 19, 2012 at 2:01 AM
پر مغز تحریر ہے
محمد ریاض شاہد
February 19, 2012 at 6:34 AM
مغز تو پتہ نہیں بس یوں ہی چلتا رہتا ہوں جو جی میں آئے چھاپ دیتا ہوں لیکن دل میں ڈرتا بھی رہتا ہوں کہ قارئین پتہ نہیں کیا دل میں سوچتے ہوں گے ۔ آپ نے لکھا ہے آپ کا شکریہ نوازش