RSS

سائنس کا مومن ۔ الیگزنڈر فلیمنگ

15 Feb

قارئین کرام ! میری اس پوسٹ کو محترمہ عنیقہ صاحبہ کی اس پوسٹ  کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے ۔

محترمہ عنیقہ صاحبہ

باقی سائنسدانوں کی ذاتی زندگی کے متعلق تو میرا مطالعہ محدود ہے لیکن سر الیگذنڈر فلیمنگ کا ایک انٹرویو میری نظر سے گذرا ۔ اسے پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا لیں کہ یہ شخص وحی کی دی ہوئی مومن کی تعریف سے کتنا قریب ہے ۔  اس کی اپروچ خدا کے متعلق کتنی صحیح اور جامع ہے ۔ انٹرویوئر ایک مسلمان شخص ہے ۔ طوالت کے پیش نظر بعض غیر ضروری جملوں کی تلخیص کر دی گئی ہے ۔

“میں نے کہا ” سر فلیمنگ ، یہ ہوٹل آپ کے شایان شان نہیں ہے آپ ہمیں اطلاع کرتے ہم آپ کے شایان شان بندوبست کر دیتے “

“انہوں نے کہا ” نہیں میرے حساب سے تو اچھا خاصا ہوٹل ہے ۔

“میں نے کہا ” سر آپ جیسے لوگوں کو مہنگائی کی کیا پرواہ ، آپ تو پنسلین کے موجد ہیں “

کہنے لگے ” ہاں جب میں نے پنسلین کی ایجاد سے ہونے والی متوقع  آمدنی کا  تخمینہ لگایا تو یہی کوئی ہالینڈ اور بلجیم کے سالانہ بجٹ کے برابر تھی ۔ یہ آمدنی اتنی زیادہ تھی کہ اس نے بڑھ بڑھ کر میرے گلے کا ہار بن جانا تھا ۔ دیمک کی طرح مجھے چاٹ جانا تھا ۔ اس کے مقابلے میں ، میں صرف زندہ رہنا چاہتا تھا ۔ یہ دریافت میری ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔ اس دریافت کا عطا کنندہ خدا ہے ، ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت کے طور پر ملا ہے ۔ اس کی ملکیت پوری خدائی ہے ۔ میں نے دوائیں بنانے والی کمپنیوں کو اس بات کا پابند کر دیا ہے کہ اس دنیا کا کوئی ملک ، کوئی شہر ، کوئی انسان ، کوئی معاشرہ جہاں بھی اسے بنائے ، وہ اس کا انسانی اور قانونی حق ہو گا اور اس پر میرا کوئی اجارہ نہ ہوگا ۔”

“میں تھوڑی دیر تک سر جھکا کر بیٹھا رہا تو سر فلیمنگ مسکرا کر بولے ” تمہیں کہو مجھ جیسا نادار شخص بھلا اچھا ہوٹل کیسے افورڈ کر سکتا ہے ۔ اس دنیا میں تو بہت سوں کو رہنے کے لیئے جھونپڑی تک میسر نہیں ” ۔

“میں نے کہا ” سر کیا آپ کو یقین ہے کہ پنسلین عطیہ خداوندی تھی اور اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہ تھا ؟ “

کہنے لگے ” میں اس اسے دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور تھا ، ایک آلہ ضرور تھا لیکن اس کا موجد یا مخترع نہیں تھا ۔ صرف اس کا انکشاف کرنے والا تھا اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خدا کا کرم اور اور اس کی عنایت تھی ۔ اصل میں جتنی بھی دریافتیں یا انکشافات ہوتے ہیں وہ خدا کے حکم اور فضل سے ہوتے ہیں ۔ “

“یہ کہ کر وہ رکے اور کہنے لگے ” معاف کرنا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں ؟ ۔

“میں نے کہا ” بلکل رکھتا ہوں سر اور پورے کا پورا رکھتا ہوں ، وہ تو اصل میں ہے ہی ہمارا آپ یورپ والوں کو تو ہم نے ادھار پر دے رکھا ہے سو اب اس کی واپسی شروع ہو گئی ہے ۔ “

“کہنے لگے ‘ میں نے اس لیئے پوچھا تھا کہ تم سے بہت سارے نوجوان خواہ وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے ، اپنے علم کے زور پر خدا کے منحرف ہو گئے ہیں ۔ میرا اندازہ تھا کہ تم بھی انہیں میں سے ہو لیکن تمہارے بیان نے میرا اندازہ غلط ثابت کر دیا ۔

“میں نے کہا ” سر علمی اور عقلی طور پر تو میں اپنے دہریے دوستوں کے ساتھ ہوں لیکن جذباتی طور پر میں اب بھی خدا کا بندہ ہوں اور اس سے وابستہ ہوں “

“ہنس کر کہنے لگے ” بس اس ذیل میں جذباتی وابستگی ہی کی ضرورت ہے ، سو ہے ، باقی رہے علم و عقل تو ان کے نشانے بدلتے رہتے ہیں ۔ ان کی کچھ ایسی فکر نہیں کرنی چاہیئے “

“میں نے کہا  ”سر یہ وضاحت فرمائیں کہ اصل میں جتنی بھی ایجادات و انکشافات ہوتی ہیں ، وہ خدا کے حکم سے ہوتی ہیں ؟۔”

کہنے لگے ” خدا علیم ہے اور اس کائنات کے اندر اور اس سے باہر اسے ہر شے کا علم ہے ۔ وہ اپنی مرضی سے ، اپنے حساب سے ، اپنے ارادے سے ، انسانوں پر علم منکشف کرتا رہات ہے ۔ علم اسی کا عطا کردہ ہے ، نام بندے کا ہو جاتا ہے ۔

“میں نے کہا ” اس کا ثبوت ؟”

“فرمانے لگے ” اگر انسان اپنی کوشش ، محنت ، جدوجہد ، اور لگن کے ساتھ کسی نادریافت کو دریافت کرنے پر تل جائے تو وہ اس وقت تک دریافت نہیں ہو سکتی ، جب تک اس کے اترنے کا حکم نازل نہ ہو جائے ۔

“ان کی بات پیچیدہ تو نہیں تھی لیکن نئی ضرور تھی ۔ اس لئے میں ٹھیک سے سمجھ نہ سکا ، مسکرا کر بولے ” خدا علیم مطلق ہے اور اس کے پاس ہر شے کا علم ہے ، وہ جب چاہتا ہے ، جب پسند کرتا ہے ، جب مناسب خیال کرتا ہے ، اس علم کو دنیائے انسان کو عطا کر دیتا ہے ۔ نہ پہلے ، نہ بعد ، ٹھیک مقررہ وقت پر ، اپنے حکم کی ساعت کے مطابق  ۔ میں نے اس اصول کو لندن کے ایک سکول میں بچوں کو یوں سمجھایا تھا کہ خدا کو آستانے پر ایک لمبی سلاخ کے ساتھ بے شمار علم کی پوٹلیاں لٹک رہی ہوتی ہیں ۔ جب وہ چاہتا ہے ، جب مناسب خیال کرتا ہے ، قینچی سے ایک پوٹلی کا دھاگا کاٹ کر حکم دیتا ہے ” سنبھالو! علم آ رہا ہے ۔ ” ہم سائنسدان جو دنیا کی ساری لیبارٹریوں میں ایک عرصے سے جھولی پھیلائے اس علم کی آرزو میں سرگرداں ہوتے ہیں  ان میں سے کسی کی جھوی میں یہ پوٹلی گر جاتی ہے اور وہ خوش نصیب انسان گردانا جاتا ہے “

“میں نے کہا ” سر پھر تو مزے ہیں ۔ آدمی منہ اٹھا کر علم کی پوٹلی کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جونہی علم کی پوٹلی قریب آئے ، اسے کاٹی مار کار لے بھاگے “۔

“کہنے لگے ” اس سے پتنگ تو لوُٹے جا سکتے ہیں علم نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق کے لوگ آج تک پتنگ ہی لُوٹتے رہے ہیں ۔ علم پر دسترس حاصل نہ کر سکے ۔ علم کا اتار صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اپنی لیبارٹریوں میں ، علم کی آرزو میں رقص بسمل کی طرح تڑپتے رہتے ہیں ۔  ایک وقت مقررہ پر ان کی آرزو پوری ہو جاتی ہے ۔ ان کے کسی ساتھی کو “سر” مل جاتا ہے  یہ بھید ان سب کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے ۔ یہ مشرکہ ملکیت ان کی معرفت دنیائے انسان میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔ کام ہمارا ہوتا ہے ، حکم اس کا ۔ محنت ہماری ہوتی ہے ، آرڈر وہاں سے ہوتا ہے ۔ کوشش ہم کرتے ہیں ، مختاری اس کی ہوتی ہے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ ہم صرف محنت کے زور پر کامیاب ہو جائیں ۔ سر مارتے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا ، لیکن مارتے رہنا پڑتا ہے کہ سر مارتے رہنے والے کے پاس ہی پیغام پہنچتا ہے ۔ دریا کنارے بنسری بجانے والے کے پاس نہیں ۔ پوٹلی وہیں گرتی ہے ، جہاں جھولی پھیلی ہوئی ہو ۔ یہ الگ بات ہے کہ پوٹلی ایک ہی جھولی میں گرتی ہے ۔ اور وقت مختار کُل کی طرف سے معین ہوتا ہے ٫

“میں نے کہا ” سر یہ پوٹلی گورے کی جھولی میں ہی کیوں گرتی ہے کالے کی جھولی میں کیوں نہیں گرتی ؟  ”۔

“کہنے لگے ” اس کے نزدیک گورے اور کالے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔سب اس کی مخلوق ہیں ۔ جب وہ علم کی پوٹلی کاٹ کر نیچے روانہ کرتا ہے تو کالے کو بھی آواز دیتا ہے کہ جھولی پھیلاو علم آرہا ہے ۔ دامن کشادہ کرو نئی بات آ رہی ہے ۔ اس پر کالا ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ہے کہ دامن کدھر سے پھیلاوں ، میں نے تو قمیص ہی نہیں پہنی ہوئی ۔ حد درجہ گرمی ہے ۔ پھر وہ پیرا شوٹ پوٹلی اپنا رستہ بدل لیتی ہے اور ان ہزاروں  ، لاکھوں رقص کناں سائنس دانوں کے اوپر لہرانے لگتی ہے جو کئی سال سے آرزو کے چہرے اوپر اٹھائے اپنے عمل کی آنکھ پینل پر جمائے بے چینی سے جھوم رہے ہوتے ہیں “۔

“میں نے کہا کہ ” سر آپ یہ کس طرح کہ سکتے ہیں کہ یہ سب عطا سے تعلق رکھتا ہے اس میں انسانی عمل کی کوئی خوبی نہیں ۔ “

کہنے لگے ” کوشش ، جدو جہد اور عمل سے کچھ نہیں ہوتا ، مگر کرتے رہنا چاہیئے ، یہی انسان کا کمال اور اس کی خوبی ہے ۔ “

میں نے کہا ” یہ بات کہ علم اللہ کی طرف سے ملا ہے اور علم و مطلق کے حکم سے عطا ہوتا ہے ، ایک مقررہ وقت پر جاری کیا جاتا ہے ، اس کی کوئی سائینسی توجیہ تو میرے ذہن میں نہیں آتی ۔ انسان اپنی زندگی کی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے ۔ اس کے علم میں تدریجی طور پر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ اپنے علم کی سیڑھیاں ایک ایک طے کر کے ان بلندیوں کی طرف بڑھتا ہے اس میں ڈیٹ کس طرح مقرر کی جاسکتی ہے ؟” ۔

“کہنے لگے ، بدن کی ، ماحول کی اور روح کی ارتقئی منازل ایک ترتیب سے چلتی ہیں ، اور ان میں ذیل بندی سے ایک تسلسل ترقی ہوتی چلی جاتی ہے ۔ لیکن ذہن انسانی کسی ڈسپلن کا پابند نہیں ہوتا ، خیال کے دانے کسی مالا میں پروئے نہیں ہوتے ۔ فکر اور تمثال میں صف بندی نہیں ہوتی ۔ ذہن انسانی شاخ بہ شاخ ایک بندر کی طرح چھلانگیں مارتا رہتا ہے ۔ کوئی بات پہلے ذہن میں آ جاتی ہے اور کوئی بعد میں ۔ سوچ ارتقائی منازل طے کرنے کی پابند نہیں ہوتی ۔ چناچہ ایجاد اور اختراع کی دنیا میں انسان نے بہت ساری ایسی چیزوں کو تکمیل پہنچانے کی کوشش کی جو آج تک مکمل نہیں ہو سکیں اور جو اب بھی انسانی دسترس سے باہر ہیں ۔ بہت سی ایسی ہین جن کی بابت اس نے سوچا تک نہ تھا اور وہ گھڑی گھڑائی اس کے قدموں میں آن گریں گی ۔ کچھ خواب میں متشخص ہوئیں ۔ کچھ رویا میں فارمولا بن کر سکرین کے سامنے آ گئیں ۔ انسان ہل چلا سکتا ہے ، زمین تیار کر سکتا ہے پانی دے سکتا ہے ، بوائی کر سکتا ہے لیکن بیج پھاڑ کر اس میں سے بوٹا پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ علم  علیم و مطلق کے پاس  ہے ۔اگر اس نے چاہا اور اس نے پسند فرمایا تو یہ بوٹا پیدا کرنے کا علم بھی انسان کو عطا کرے گا ۔  مگر اپنی مرضی سے اپنی پسند سے ، اپنے منتخب وقت کے مطابق ۔”

” میں تو ایک موٹی سی بات جانتا ہوں اور میرے مشاہدے میں لوٹ لوٹ کر یہی حقیقت نمایاں ہو رہی ہے کہ علم انسان کے اندر سے نمود نہیں ہوتا ، ہمیشہ اوپر سے عطا ہوتا ہے ۔ انسان کی کتنی آرزو تھی ہوا میں اُڑنے کی لیکن خدا کی بالکل مرضی نہ تھی کہ وہ اڑے ، چناچہ سینکڑوں اس کوشش میں ہلاک ہوئے ، کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ پھر جب علم اُتارا گیا ، ایک خاص وقت آنے پر ہوا پیمائی کا اصل اصول ذہن میں ڈالا گیا ۔ تو بات شیشہ ہو گئی اور انسان اپنی پہلی کوشش میں سمندر پار کر گیا ‘ ۔

“میں نے کہا سر مییں بھی یہی بات کہ رہا ہوں کہ انسان تجربے کر کر کے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر انسان بالآخر کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔۔۔  ۔۔۔ اور پھر “

” ضروری نہیں ، ضروری نہیں ۔”  انہوں نے بات کاٹ کر کہا ” انسان غلطیوں پر غلطیاں کیئے جاتا ہے ، سبق سیکھے جاتا ہے لیکن کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پاتا ۔ ارد گرد غلطیوں کے انبار لگ جاتے ہیں ۔ ڈھیروں ڈھیر غلطیاں جمع ہو جاتی ہیں لیکن کامیابی کی منظوری کہیں اور سے ملتی ہے ۔”

“کہنے لگے ” ایک بیماری ہے کینسر ۔ دنیا کی ہر بڑی لیبارٹری میں اور سائینس کے ہر بڑے معاملہ میں اس پر ریسرچ ہو رہی ہے ۔ لاکھوں پونڈ اس کی ریسرچ پر لگ رہے ہیں ۔ ہزاروں ماہرین اس پر ریسرچ کر کے آپس میں نوٹس ملا رہے ہیں ۔ لیکن اس بیماری کا علاج ملتا ہی نہیں ہے ۔”

“میں  نے کہا ” اور علیم مطلق کے پاس اس بیماری کا علاج موجود ہے ؟۔”

“کہنے لگے ” بالکل بلا شک وشبہ اور سو فیصد تیر بہدف علاج موجود ہے ، لیکن انسان کو اپنی کوشش اور جدوجہد سے اس کے علاج کی الف بے بھی معلوم نہیں ہو سکی ۔ “

“ایک وقت آئے گا جب اس موذی مرض کا علاج ایک پوٹلی میں بندھا بندھایا پیراشوٹ میں رکھا ہوا آئے گا اور اس وقت جو طلبگار قسمت والا ہو گا اسے حاصل کر لے گا ۔ “

 
8 Comments

Posted by on February 15, 2012 in منتشر اوراق

 

8 Responses to سائنس کا مومن ۔ الیگزنڈر فلیمنگ

  1. افتخار اجمل بھوپال

    February 15, 2012 at 8:38 AM

    ايقان و يقين اور کيا ہوتا ہے ؟
    آپ نے بر وقت اس مکالمے کو نقل کيا ہے ۔ اللہ خوش رکھے
    ہمارے ہاں بغير مطلب سمجھے کلمہ طيّبہ پڑھ لينے کو مسلمانی کا نام دے ديا گيا ۔ محنت کرنا معيوب بن چکا ہے ۔ ميں نہ تو سائنسدان ہوں اور نہ متقی ليکن ميں يقين رکھتا ہوں کہ بات پوٹلی والی درست ہے اور يہ گرتی اسی کی جھولی ميں ہے جو پيدا کرنے والے پر يقين رکھتے ہوئے خلوصِ نيّت سے محنت کرتا ہے ۔ مزيد يہ کہ يہ خلوص اور محنت بھی اللہ ہی عطا کرتا ہے ۔ آدمی جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی دی ہوئی توفيق سے ہی ہے
    بات اگر کيمياء کی ہی ہو تب بھی تاريخ بتاتی ہے کہ قديم بڑے کيمياء گر پادری تھے ۔ ايک مشہور نام اطالوی اميڈيو ايواگيڈرو

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 15, 2012 at 2:53 PM

      افتخار اجمل صاحب
      شکریہ
      میں نہ تو متقی ہوں اور نہ ہی کُلی طور پر شرع کا پابند انسان ۔ میں عام اور کمزور مسلمانوں کی طرح نام کا مسلمان ہوں جو ہر خطا کرنے کے باوجود اپنے مسلمان ہونے پر مصر رہتا ہے ۔ باقی یہ میری باتیں محض قول ہیں عمل کا نام نشان نہیں ۔ اللہ کے کرم سے شاید اس بھی کبھی توفیق ہو جائے ۔
      قرآن کہتا ہے کہ یہ متقین کے لیئے ہدایت ہے اور ان لوگوں کے لیئے جو اس میں بیان کیئے ہوئے غیبی حقائق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ سائنس بھی اسی حقیقت ازلی کی طرف چلی جا رہی ہے اور بالآخر اسے عقل کے ذریعے اسے اظہر من الشمس کر دے گی ۔ خدا سے ملنے کے دونوں طریقے ٹھیک ہیں ۔ دونوں اس راہ کے مسافر ہیں ۔ لیکن سائنس بہت وقت لیتی ہے ۔ اس کا ایک اپنا طریق کار ہے ۔

       
  2. aniqaamar@yahoo.com

    February 15, 2012 at 11:05 AM

    اگر انسان اپنی کوشش ، محنت ، جدوجہد ، اور لگن کے ساتھ کسی نادریافت کو دریافت کرنے پر تل جائے تو وہ اس وقت تک دریافت نہیں ہو سکتی ، جب تک اس کے اترنے کا حکم نازل نہ ہو جائے ۔
    یہ فلیمنگ کا کہنا ہے۔ یہاں پہلے یہ وضاحت کردوں کہ میں دہریہ نہیں ہوں۔
    واپس آئیے اس نکتے کی طرف۔ خدا کی بھی کچھ سنتیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ علم کو اچانک نازل نہیں کرتا۔ ارتقاء کی حالت میں دیتا ہے۔ اگر فلیمنگ صاحب آج سے تین ہزار سال پہلے پینسلین نکالنے کی کوشش کرتے تو فیل ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹھارہویں صدی سے پہلے انسان کو علم نہ تھا کہ بیماریاں جراثیم سے ہوتی ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کسی الہامی کتاب، کسی جوگی کے اقوال میں آپکو یہ بات نہیں ملے گی کہ جراثیم بھِ کوئ چیز ہوتے ہیں۔
    جب تک انسان اپنی سوچ میں ارتقاء سے نہیں گذرتا اسے کچھ نہیں ملتا۔ ارتقاء کے عمل سے گذرنے کے لئے جہد تفکر سے گذرنا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی ایک کے حصَ میں دریافت چلی جائے لیکن کیا یہ آپکو عجیب نہیں لگتا کہ دوسرے انسان اسکی اس بات کو بآسانی سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
    مثلاً ، ایک درد کی گولی ہمارے لئے کوئ معنی نہیں رکھتی۔ آج بحیثیت ایک کیمیاء داں میں آپکو بتا سکتی ہوں کہ درد کی یہ گولی کس طرح آپکے جسمانی درد کو کم کرتی ہے۔ محض پانچ سو سال پہلے اس گولی کو لے جائیں اور یہ اس وقت کے لوگوں کے لئے ایک جادو ہو گی۔
    کسی بھی علم کا نزول اس وقت ہوتا ہے اور وہاں ہوتا ہے جہاں ماحول اسکے لئے تیار ہوتا ہے۔ اسکے بغیر خدا کسی چمتکار کو دکھانے میں کوئ دلچسپی نہیں رکھتا۔
    اگر تمام انسان اپنی عقل کی نمود کو بند کر دیں تو خدا بھی آرام سے بیٹھ جائے گا۔ چاہے لاکحوں لوگ مر جائیں۔ اور ہم تاریخ میں دیکھ چکے ہیں۔ ہیں کہ پوری پوری قومیں ختم ہو گئیں۔
    قدیم کیمیءا گر پادری نہیں تھے۔ بلکہ یہ گرجا کا انتظام تھا کہ ہماری مساجد کے بر عکس وہاں تعلیمی نظام گرجا کے ساتھ چلتا تھا۔ اب بھی کراچی میں ہی دیکھ لیں تمام مشنری بہترین اسکولوں کے ساتھ گرجا موجود ہے۔ گرجا کے اس کنٹرول کی وجہ سے سائینس کے خلاف ایک زمانے میں پادری متحد ہو گئے تھے۔
    بہر حال ، یہ بات واضح ہے کہ علم میں خدا نے مومن اور مومن کی کوئ سرحد نہیں رکھی۔ بلکہ سائینس کی روح کو دیکھیں وہ اپنی بنیاد ایک دم سیکولر ہے۔ اور اسے بالکل پرواہ نہیں کہ خدا کیا کہہ رہا ہے۔ اس لئے بار بار مذہبی علماء سائینس اور مذہب کو آمنے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 15, 2012 at 2:45 PM

      محترمہ عنیقہ صاحبہ
      شکریہ
      مجھے آپ کے ایمان کا پکا یقین ہے اور میں آپ کو دہریہ نہیں سمجھتا ۔ مھے آپ کے زاویہ نظر کا اندازہ ہے ۔ میرے والد صاحب سائنس ٹیچر تھے اور میری تعلیم سائنس کے ماحول میں ہوئی ہے ۔ سائنسی نقطہ نظر کا طریق کار اور کسی نیک بزرگ کے طریق کار میں کیا فرق ہے اس کی تھوڑی سی جھلک مجھے کہیں اور سے تو نہیں مل سکی لیکن ایک مرحوم بزرگ کے تذکرے پر مبنی کتاب میرے پاس موجود ہے ۔ کچھ عرصہ بعد میرا ارادہ ہے کہ اس میں سے کچھ اقتباسات نقل کروں ۔ شاید کچھ اور باتوں پر ہم متفق ہو سکیں ۔ بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ

       
  3. waseem rana

    February 15, 2012 at 12:01 PM

    گڈ یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبردست۔۔۔۔۔۔۔صیح تشبی دی۔۔۔۔۔۔۔

     
  4. ڈاکٹر جواد احمد خان

    February 15, 2012 at 3:13 PM

    بہت عمدہ جناب۔۔۔ لیکن اس تحریر کا عنوان ” سائنس کا کافر” زیادہ مناسب ہوتا۔ اگر آپ عنیقہ ناز صاحبہ کے مضمون اور اسکے پیچھے عوامل کو ذہن میں رکھ لیتے۔

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 15, 2012 at 11:45 PM

      محترم ڈاکٹر جواد ساحب
      شکریہ
      آپ کا تجویز کردہ عنوان دلچسپ ہے اور میں نے اس اینگل سے سوچا نہیں تھا ۔ مزہ آیا ۔ لیکن میرا یہ خیال ہے کہ ہم بلاگنگ کرتے ہیں کوئی دنگل یا مناظرہ نہیں کر رہے ہوتے جہاں فریق مخالف کو دھوبی پٹڑا مار چت کر کے تماشائیوں سے تالیاں بجوانا مقصود ہوتا ہے ۔ یہاں تو ہم ایسے بات کر رہے ہوتے ہیں جیسے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں دوستوں سے تبادلہ خیال کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہر شخص حتی کہ ان پڑھ کے پاس بھی علم کی ایک نہ ایک رتی ضرور ہوتی ہے ۔ ہم سب علم کے کسی نہ کسی پہلو میں جاہل ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کسی کے کمنٹ یا بات میں کوئی ایسی بات چھپی ہوئی ہو جو ہمیں ایک نیا خیال ، نئی سمت دکھا دے ، ہم پہلے کے مقابلے میں بہتر انسان بن جائیں ۔ میں سارے معاملے کو اس طرح لیتا ہوں ۔ آمد کا شکریہ

       

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s