یہ اقتباس جناب اشفاق احمد کی کتاب “بابا صاحبا ” سے لیا گیا ہے اور قارئین کی دلچسپی کے لیئے نقل کیا جا رہا ہے۔ اشفاق احمد روم یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر فیراکوتی سے معجزے کی ممکنات اور سائنسی نظریے کے متعلق مکالمے کا بیان کر رہے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ مکالمہ کس سن میں وقوع پذیر ہوا(غالبا ستر کی دہائی میں) اور آج اس موضوع پر سائنسی تحقیق کی کیا صورتحال ہے ۔
پروفیسر کہنے لگے ‘ پرانے وقتوں کے بھگت ، بھکاری ، سادھ اور صوفی ایک ہی بات کہا کرتے تھے کہ یہ مادہ اور اس کے ساتھ وجود میں آئی ہوئی مادی زندگی دراصل توانائی کا ہی ایک روپ ہے ۔ یہ سب شکتی ہے اور سارا سنسار شکتی کی لیلا ہے “۔
لوگ کہتے تھے یہ بھگتوں کا وہم ہے !
پھر ڈھائی ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے کہا زندگی ایٹموں کا مجموعہ ہے اور ایٹم توانائی کی ایک شکل ہے ۔ چنانچہ اس ظطریے کے تحت سائینسی گروہ پیدا ہو گیا ۔ انہوں نے بھی کہا زندگی توانائی ہے ۔
تو لوگوں نے کہا کو ئی ثبوت !
اب سائنسدانوں کے پاس ایسے نفیس اور حساس آلات تو نہیں تھے جس کے زور پر وہ دکھا سکتے اور لوگوں کو ثبوت بہم پہنچا سکتے ۔۔۔ شرمندہ سے ہو کر رہ گئے ۔
تو معترضین نے کہا ” جھوٹ “
پرانے بھگتوں اور سیانوں نے یہی کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت تو نہیں البتہ ہم اپنی کشفی زندگی سے بتا سکتے ہیں کہ مادہ دراصل شکتی ہی ہے ۔
لوگوں نے کہا یہ بھی جھوٹ ! ۔
بڑی دیر تک صوفی اور سائنسدانوں کے درمیان جھگڑا چلتا رہا مگر کوئی اپنے دعوے کا ثبوت فراہم نہ کر سکا ۔ ۔ پھر 1900 میں ایک شخص آئن سٹائن نامی نے ریاضی کی ایک مساوات حل کر کے اعلان کیا ” توانائی مادہ ہے ” E= mc2 ” یعنی توانائی کو اگر روشنی کی رفتار کے مربع سے ” متعلق ” کر دیا جائے تو یہ مادے میں تبدیل ہو جائے گی ۔
میرے لیئے ان کی باتیں سمجھنا کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا ان میں ریاضی کے جبریے آنے لگے تھے ۔
انہوں نے کہا ” اس کلیے کے بعد سائنس دانوں نے متفقہ طور پر اقرار کیا کہ پرانے وقتوں کے لوگ ایٹم کی جسامت اور شباہت کے متعلق جو تصور رکھتے تھے ، ایٹم اس سے بھی چھوٹا ہے اور دوسری طرف بہت بڑا ہے ۔ یعنی جو ایٹم سینٹ پیٹر کے گنبد جتنا ہو گا اس کا مرکز نمک کے ذرے کے برابر ہو گا ۔ جس طرح سینک سلائی تیزی سے گھوم کر دائرے بناتی ہے ایسے ہی الیکٹران اپنے مرکزے کے گرد چار سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم کر ایٹم کو اس کا ” اوپری وجود ” مہیا کرتا ہے ۔ جس طرح مرکزے کے گرد الیکٹرون گھومتا ہے اسی طرح مرکزے کے اندر پروٹان اور نیوٹرون گردش کر رہے ہیں ۔ اپنی تیز رفتاری میں یہ الیکٹران کے بھی گورو ہیں ۔ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ ۔!
پروفیسر صاحب بولے” کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ پروٹان اور نیوٹرون بھی ایسے تیز رفتار چکر ہوتے ہوں گے جیسے سلگتی ہوئی سینک سلائی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ باقاعدہ وجود رکھتے ہیں اور سب اٹامک ذرات ہیں ۔ اس دریافت کے بعد دنیائے سائنس میں فساد برپا ہو گیا ۔ وہ جو مادے کو ٹھوس اور زندگی کو سالڈ سمجھتے تھے پھر شیر ہو گئے اور وہ جو زندگی کو توانائی گردانتے تھے پھر صفائی کے کٹہرے میں آ گئے ۔”
پھر پتہ چلا یہ جو جوہری ذرات میں اٹامک پارٹیکلز ہیں جس سے پروٹان اور نیوٹران کا ہیولا بنتا ہے ، اصل میں پارٹیکل نہیں ہیں بلکہ موج ہیں ، لہر ہیں ، بس ارتعاش ہیں ۔ ان میں کچھ بھی ٹھوس نہیں ۔ ان کی حقیقت سالڈ نہیں ہے ۔ چناچہ اب ، اس لمحے فزکس کے سامنے ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ ایک اہم مسئلہ ۔ کیا سب اٹامک پارٹیکلز ٹھوس ذرات ہیں یا صرف موجیں اور لہریں ہیں ۔ “
ابھی ہمارے آلات ایسے حساس اور اور دقیق نہیں ہیں نہ ہی ان میں کوئی کشفی طاقت ہے جو اصل حقیقت کو کھول کر بیان کر سکیں ۔ ہمارے پے درپے تجربوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کوئی جگہ زندگی کے بنیادی یونٹ موجوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور کئی مقامات پر یہ ذرات کی صورت میں اجاگر ہوئے ہیں ۔ اب کیا اعلان کریں موج کہ پارٹیکل ؟
چناچہ اب تک یہی معلوم ہو سکا ہے کہ سارا بکھیڑا تجربہ کرنے والوں کا ہے ۔ اگر تجربہ کرنے والوں کے ذہن میں ، روح میں ، بدن میں یہ تصور جاگزیں ہے کہ یہ سب اٹامک ، پارٹیکلز ہیں تو اس کو پارٹیکلز ہی نظر آئیں گے ، ذرے ہی دکھائی دیں گے ۔ اور اگر اس کے دھیان میں ، اس کے خیال میں ، اس کے گیان میں ، اس کے بدن میں ، اس کی آتما میں یہ تصور ہے کہ یہ موجیں ہیں ، ارتعاش ہے ، لہریں ہیں تو پھر اس کو وہ موجیں ہی دکھائی دیں گی ۔ جب کبھی بھی وہ تجربہ کرے گا ، سب اٹامک پارٹیکلز موجیں ہی بن کر اس کے سامنے آئیں گی ۔
میں نے پہلی دفعہ سائنسی تجربے کو اس قدر مجبور و معذور پایا تھا کہ وہ دراصل حقیقت اجاگر کرنے کی بجائے تجربہ کرنے والی کی خواہش ، ہوس اور وسواس کا تابع ہوا بیٹھا تھا ۔ لیکن شاید میں غلط سمجھا تھا ۔ سائنس کی دنیا میں نہ کبھی ایسا ہوا تھا نہ ہی اس کی امید تھی ۔
پروفیسر فیراکوتی کہنے لگے ” یہاں تجربے اور مشاہدے پر اور اس کے قدرتی نتیجے پر حقیقت کا اطلاق نہیں بلکہ تجربہ کرنے والے کی مرضی اور منشا کا اختیار ہے ۔ ۔ یہ مشاہدہ کرنے والے کارشناس کے من چلے کا سودا ہے ۔ موج چاہے ، موج دیکھ لے ، موجی کو موجیں ملیں ، ترابی کو ذرے !”
کہنے لگے اس حیرت انگیز انکشاف نے دنیا کا صدیوں پرانا اصول توڑ کے خاک میں ملا دیا ہے کہ تجربہ چاہے کہیں بھی کیا جائے ، کوئی بھی کرے اس کے نتائج یکساں ہوں گے ۔
یہاں سب اٹامک سطح پر سارا اختیار تجربہ کرنے والے کے تصرف میں آ گیا ۔ ایٹم نے اپنی روح تجربہ کرنے والے کے اختیار میں دے دی ۔ اس کو گورو ، مرشد اور مالک مان کر خود اس کا بردہ بن کر تھرکنے لگا ۔
پروفیسر فیراکوتی کہ رہے تھے اور میرے کانوں میں رینک بازار جالندھر میں تخت پوش جوڑ کر اس کے اوپر بیٹھے مبارک علی خان فتح علی خان کی آواز گونج رہی تھی
تو ہر دم می نمائی جلوہ من ہر بار می رقصم
بہر رنگے کہ می رقصا نیم اے یا رمی رقصم
اس کے ساتھ ہی میرا پگ گھنگھرو باندھ کر ناچ رہی تھی
سارا مشرق اسی موضوع میں ڈوبا ہوا تھا ۔
مجھے بڑی دیر تک بے خبر پا کر وہ میرا چہرا دیکھتے رہے اور پھر شاید میرے اندر کا کلائیڈوسکوپ بھانپ کر ہولے سے میرا کندھا چھو کر بولے ” میں تم کو زیادہ پریشان نہین کرنا چاہتا لیکن تم نے معجزے اور کرامت کے متعلق پوچھا ہے اس لیئے میں اتنا ضرور ہوں گا کہ معجزے اور کرامت کے بارے میں ایک سائنسدان کی حیثیت سے میں کچھ نہیں کہ سکتا ۔ نہ اس کا بطلان کر سکتا ہوں ، نہ اس کی تصدیق کر سکتا ہوں ۔ میں تم کو صرف یہ بتا رہا ہوں کہ ہماری روزمرہ زندگی کے تعقل یا تصور ایٹمی سکیل پر بالکل معتبر اور موثر نہیں ۔ نہ ہی ہم ان کو اپنے حساب سے درست اور صحیح کر سکتے ہیں ۔
مثال کے طور پر اس وقت جو کتاب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب میں ٹھوس اور وزنی کے مقابلے میں خالی زیادہ ہے ۔ اس کا قابل محسوس وجود کم ہے اور ناقابل محسوس خالی پن زیادہ ہے ۔ یعنی وہی پرانی بات کہ Something کے مقابلے میں Nothing زیادہ ہے ۔ اس کتاب کے ایٹموں میں الیکٹران ایسی تیزی سے گھوم رہے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو ایک ٹھوس وجود عطا کر رکھا ہے ۔انہی کے وجود سے اس کتاب کی جلد ، جلد کے ڈورے ، حرف اور سیاہی عنوانات کی گرفت میں ہے ۔
یہ ایک دھوکا ہے ، Illusion ہے ۔ اگر اس کتاب کے سارے الیکٹران ایک ساتھ طے کر کے گھومنا چھوڑ دیں تو یہ کتاب خاک کی مٹھی بن کر تمہارے ہاتھ سے نیچے گر جائے گی ۔ گرے گی نہیں بلکہ پکڑے پکڑے غائب ہو جائے گی ۔ ۔۔۔ جھر ریٹ ! سب لوگ تالی بجاو ۔
پھر فورا کہنے لگے ” میں تم سے کوئی مابعدالطبیعیاتی بکواس نہیں کر رہا ۔ حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔ ایک طبیعاتی حقیقت ، ایک سائنسی حقیقت ۔ ہمارے ارد گرد یہ سب کچھ یہ دیوار ، پتھر ، ہوائی جہاز ، کار تمہارا وجود یہ سب اپنے مرکزے کے گرد الیکٹرون کی گردش اور ارتعاش سے وجود پذیر ہیں ۔ ہم یہ لہر ، یہ موج ، یہ ارتعاش نہیں دیکھ سکتے ۔ ہماری حسیات اتنی قوی نہیں ہیں ۔ لیکن ہم یہ ضرور جان گئے ہیں کہ الیکٹرون کی یہ گردش جاری ہے ۔
تو پھر یہ طے پایا کہ اس کائنات میں ہونے کے مقابلے میں نہ ہونا زیادہ پایا جاتا ہے ۔ان اشیا میں جو پچھلے لاکھوں کروڑوں سالوں سے ساکت و صامت نظر آتی ہیں ، ان میں گردش کا عمل اور مسلسل حرکت کا عمل جاری ہے ۔
ہر طرح کی زندگی توانائی ہے ۔ زندگی کچھ ہونے کا اور کسی وجود کا یا کسی دیہہ کا نمود بظاہر ضرور پیش کرتی ہے ، لیکن ہے نہیں ۔ حقیقت میں یہ توانائی ہے بس۔
اور تمہارے سوال کے جواب میں ، میں بس اس قدر کہ سکتا ہوں کہ یہ توانائی انسانی تعامل کی ، انسانی انٹرایکشن کی جواب گوئی ضرور کرتی ہے ، کیوں کرتی ہے ، کیسے کرتی ہے ، اس کا ہمیں علم نہیں ، یہ انسان کی جواب دہندہ ضررو ہے ۔ اس طریق تعامل میں ، اس انٹرایکشن میں کیا راز ہے ، اس کا بھید نہیں ملتا ۔ میرا مطلب ہے اس وقت تک نہیں ملا آگے کی خبر نہیں ۔
Like this:
One blogger likes this post.
عدنان مسعود
February 13, 2012 at 4:51 AM
” یہ مشاہدہ کرنے والے کارشناس کے من چلے کا سودا ہے ۔ موج چاہے ، موج دیکھ لے ، موجی کو موجیں ملیں ، ترابی کو ذرے !”, غالبا اس سے اچھی طرح پارٹکل اور ویو کی دوی کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ بہت خوب اقتباس سے۔ اب جبکہ ہگس بوسون جسے ‘گاڈ پارٹکل’ بھی کہا جاتا ہے کی سرگرم تلاش جاری ہے اور امید ہے کہ ایل ایچ سی کے نتائج جلد ہی ہمیں کاینات کی اس گتھی کو سلجھانے میں مدد دیں گے۔ ماہرین نظریاتی طبعیات کا خیال ہے کہ یہ ذرہ طور پر ہر ذرے کو مادیت دے گیا۔ یہ جو کہا گیا کہ ” اگر اس کتاب کے سارے الیکٹران ایک ساتھ طے کر کے گھومنا چھوڑ دیں تو یہ کتاب خاک کی مٹھی بن کر تمہارے ہاتھ سے نیچے گر جائے گی”، نیوٹونین طبعیاتی نقطہ نگاہ سے اسکی امکانی حیثیت پر تو بحث نہیں کی جاتی لیکن کوانٹم طبعیات کی اسٹرنگ تھیوری میں اسکو باقاعدہ ایک حقیقت مان کر اس کے احتمال کی پرابیبلیٹی معلوم کی جاسکتی ہے، ڈاکٹر براین گرین کی ایلیگنٹ یونیورس میں اسکا دلچسپ نظریاتی تجربہ موجود ہے۔ اسٹرنگ تھیوری اور ایم تھیوری ہی ایسی مابعد الطبعیات باتوں سے نسبت رکھتی ہے، کلاسکل کوانٹم فزکس چونکہ میکرو پارٹکلز پر کسی کوانٹم نظریے کا اطلاق نہایت عبث سمجھتی ہیں خواہ وہ مثال کے طور پر ہی کیوں نا ہو۔ ایم تھیوری کی کسی بھی جدید کتاب کو جو عام قاری کے لیے لکھی گی ہے اٹھا کر دیکھ لیں، صوفیوں کی گردانوں سے کچھ کم نہیں
تو ہر دم می نمائی جلوہ من ہر بار می رقصم
عثمان
February 13, 2012 at 6:30 AM
اس فینومینا کا مشاہدہ کرنا ہے تو اس کا ایک آسان طریقہ ڈبل سلٹ تجربہ کا مشاہدہ ہے۔ میرے جیسے لے مین کے لئے اس پر اب تک جو سب سے سہل اور اپ ٹو ڈیٹ مختصر تحریر گزری ہے وہ برائن گرین کی کتاب فیبرک آف کاسموز کا چوتھا باب ہے۔ میری آپ اور آپ کے روحانی قارئین سے گڑگڑاتے ہوئے التجا ہے کہ سائنس کا اسرار جاننے کے لئے سائنس ہی سے رجوع کیجیے ۔ اور کچھ نہیں تو مذکورہ باب کا ہی مطالعہ کر لیجیے۔
نوٹ : تبصرے کا روئے سخن سائنسی تفصیل اور متعلقہ تجربہ پر ہے۔ روحانیت / مذہب / مافوق الفطرت کو کوئی چلینج نہیں۔
aniqaamar@yahoo.com
February 13, 2012 at 11:22 AM
اشفاق صاحب جب روم میں تھے یہ غالباً پینتیس سے چالیس سال پرانی بات ہو گی۔ طبیعیات اس وقت سے آگے جا چکی ہے۔ دنیا پچھلے پچیس سالوں میں علم کے آتش فشاں سے گذری ہے اور گذر رہی ہے۔
سائینس دریافت کا عمل ہے۔ پچھلے سو سالوں میں انسان نے سائینس کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا ہے اسکی بنیاد پہ نہ سائینس کو برا بھلا کہا جا سکتا ہے نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیکھا جو سائینس نے دکھایا وہ ہزاروں سال پہلے جوگی کہہ چکے ہیں۔ ہم ہزاروں سال پہلے اور آجکے زمانے کا فرق اب بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ علم جو جوگی ایک اسرار بنا کر رکھتے تھے۔ سائینس نے اسے ہر خاص و عام کے لئے کھول دیا ہے یہ سائینس کا کم احسان نہیں ہے۔ زندگی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے اب کسی بزرگ کامل کی کٹیا پہ زندگی لگانے کے بجائے کسی لیب میں لگائیے۔ اور پھر دیکھیں کہ کائینات کیسے گفتگو کرتی ہے۔
کرامت یا مافوق الفطرت کوئ چیز اسی وقت تک رہتی ہے جب تک اسکا علم نہیں ہوتا۔ جب علم میں آجائے تو پھر وہ فطرت ہو جائے گی۔ اب علم حاصل کرنے کے دو طریقے ہو گئے۔ یا تو ایک شخص پہلے سے ہی ایک عمل کو مافوق الفطرت سمجھ لے اور سبحان اللہ کہہ کر اسے من و عن تسلیم کر لے۔ اس سے بے چینی کم رہتی ہے اور روزمرہ کے کام روزمرہ کے انداز میں ہوتے رہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ ہر چیز کو فطرت جانے اور جو سمجھ میں نہیں آرہا اسے اپنی کم علمی سمجھ کر اسکی مزید کھوج کرے۔ یہ ایک اضطرابی حالت دیتی ہے۔ جس کے لئے علامہ نے کہا کہ خدا تجھے کسی طوفاں سے ہمکنار کرے ، کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں۔ دیکھا جائے تو گردش ذرات بھی اضطراب ہی تو ہے۔ جب کہ تجھ بن نہیں کچھ موجود، پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
محمد ریاض شاہد
February 14, 2012 at 1:11 AM
محترمہ عنیقہ صاحبہ
شکریہ
میں نہ ذاتی طور مذہب کے خلاف ہوں اور نہ سائنس کے , مندرجہ بالا اقباس بھی سائینس کے خلاف نہیں ہے ۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ دونوں کے علمبردار ذرا ایک دوسرے سے دور دور کھنچے رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو جھوٹا سمجھتے ہیں ۔ ذرا بے صبرے ہیں ۔ سائنس بھی اللہ کا عطا کردہ ڈسپلن ہے ۔ اس کی بڑی نعمت ہے ۔ لیکن سائنس بنی نوع انسان کے لیئے امن ، مسرت ، فلاح اور خوشیوں کا پیام نہیں لا سکی ۔ یہ انسانوں کے لیئے آسائش کا سامان ضرور مہیا کرتی ہے ۔ انسان کو جسمانی آسانیاں عطا کرتی ہے ۔ لیکن اتنی ساری آسائشیں انسان کے دکھوں کو دور نہیں کر سکتیں ۔ وقتی طور پر تھوڑا سا ریلیف ضرور ملتا ہے لیکن جلد ہی یہ رحمت زحمت میں بدل جاتی ہے اور انسان پھر پہلے جیسا دکھی ہو جاتا ہے ۔ان آسائشوں کے عادی ہونے کے بعد ہم مزید آسائشوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور رہٹ کا یہ چکر چلتا ہی جاتا ہے ۔
ملا اور صوفی نے باہر کی دنیا سے آنکھیں موند کر اندر کا نقارہ بجانا شروع کر دیا ۔ طرز کہن کے غیر تحقیق شدہ نظریات کو اعتقادات کو زندگی کی بنیاد بنا لیا ۔ حالانکہ زندگی نہ اندر ہے نہ باہر ۔ یہ اندر اور باہر دونوں ہے ۔ اصل میں کوءی بھی سچا مذہب سائنس کے خلاف نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ مذہب نہیں ہے ۔
سائنس نے اس دنیا میں بڑا کام کیا ہے اور بڑا نام پیدا کیا ہے ۔ اس کے اندر ہونے والی لگاتار ریسرچ نے اسے ایک بلند مقام تک پہنچا دیا ہے ۔ لیکن انسان کے اندر کی آگ ویسے ہی جل رہی ہے ۔ محض باہر کی ترقی اور دریافت نے انسان کو تباہی کے اور قریب کر دیا ہے ۔ لیکن کیا انسان دوسروں کو اذیت پہنچا کر خوش ہو سکے گا ؟۔ وہ ہمیشہ سے دوسروں کو اذیت پہنچا کر خوشی محسوس کرتا ہے ، اب بھی کر رہا ہے ۔ کیونکہ انسان غرض ، خواہشات اور غایت کا مارا ہوا جانور ہے جس کی طلب کبھی پوری نہیں ہوتی ۔ اس کامیابی نے اسے نارسزم کا شکار بنا دیا ہے ۔ خدا سے دور کر دیا ہے ۔ خدا کو اپنی زندگی سے نکال دیا ہے اور اگر خدا کا نام کہیں ہے بھِ تو وہ محض نام ہے ۔ پوجا پاٹ ہے اور بس ۔
لیکن لگتا ہے کہ اب آکر انسان وہ نہیں رہے گا جو وہ پہلے تھا ۔ سائنس نے پرانے اور فرسودہ خیالات پر کاری ضرب لگائی ہے ۔ اس نے ذہنوں کو آزاد کیا ہے ۔ ایک نئے مذہب کی طرف رجوع کیا ہے ۔ ایسا مذہب جو اندھے بہرے اعتقاد کی بجائے تفکر اور تدبر پر اپنی بنیادیں استوار کر رہا ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ سائنس کی بدولت مذہب شعور ذات کی سائنس بن جائے گا ۔ مذہب کی سائنس شروع ہی سے روشن ضمیر صوفیا کے اختیار میں رہی ہے ۔ لیکن یہ عوام اور لوگوں کے عمومی گروہوں تک پھیل نہیں سکی ۔ لیکن اب شاید سائینس کی بدولت سچے مذہب کو عروج حاصل ہو گا ۔ سائنس کی آتش مذہب کے اندر بھرے ہر طرح کے کھوٹ کو جلا کر اسے زرخالص بنائے گی ۔ خدا سے ملنے کا راستہ مہیا کرے گی ۔ اگر اسا ہونے سے پہلے نسل انسانی نے اپنے آپ کو اپنے نارسزم کے ہاتھوں تباہ نہ کر لیا تو ۔
Anwaar
February 13, 2012 at 4:04 PM
hello every one….you know that you can see only those thing whose emittes wave lenght of 400nm to 700nm…….if the emitted length change due to any external action the visible thing becomes unvisible….or goes in to x-rays region…….so every visible can go in to unvisible and every unvisible can come in to visible……..this is only fault of human eye….you can not see beyond this limit of 400nm to 700nm…….and now a days such material has been discovered that if you paint this material on visible things…it changes the wavelenght of that thing and that thing becomes unvisible……….
Abdullah
February 14, 2012 at 2:00 PM
محمد ریاض شاہد صاحب یہ بازوق صاحب کے بلاگ پر آپکا دیا ہوا لنک غلام احمد پرویز کی کتاب کا، وائرس شو کررہا ہے کیا آپ اس کتاب کا کوئی دوسرا لنک فراہم کرسکتے ہیں؟
محمد ریاض شاہدم
February 14, 2012 at 3:18 PM
مجھے ای میل کر لیں میں ایک دو دن تک بھیج دوں گا ۔
ZAIN
February 15, 2012 at 10:32 AM
خدا کے فیصلوں اور اس کے امر کو انسانی عقل نہیں سمجھ سکتی جب تک خود خدا سمجھانا نہ چاہے – روح کو سمجھنا وہ بھی صرف اپنی ظاہری عقل سے نا ممکن امر ہے کیونکہ آپ جس چیز کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھلے ویسا ہونا پڑیگا – آپ جس جنس سے ہو اسی کے بارے میں آپ کی عقل کام کر سکتی ہے یا اسے پہچان سکتی ہے – روح اس مادی جسم کی اساس نہیں نا ہی روح سے یہ جسم بنا ہے روح کو اگر نور کہیں تو اس جسم کو جس سے یہ بنا ہے اس میں مٹی ہوا آگ اور پانی کی آمیزش ہے مگر زیادہ حصہ مٹی کا ہے – اس پتلے میں روح کو ڈالا گیا جو نور ہے – تو کیا آگ ، ہوا، پانی ، مٹی میں سے کسی کو نور کہا جاسکتا ہے – جب نہیں تو وہ اس چیز کو سمجھیں گی کیسے -
جس چیز کی جو اصل نہیں وہ اسے سمجھ بھی نہیں سکتا – اس کائنات میں ہر چیز کا وجود ان چاروں چیزوں میں سے کسی نہ کسی عنصر پر رکھا گیا ہے – کسی چیز نے ہوا سے بقا پائی کوئی آگ سے وجود میں آیا کسی کو پانی نے جلا بخشی اور کسی کی نمو مٹی سے ہوئی –
اور ان چاروں چیزوں کا مجموعہ حضرت انسان ہے ظاہری شکل میں تو کائنات کی ہر وہ چیز جو ان چیزوں سے بنی ہے اس پے حضرت انسان کی دسترس ہے اور وہ سمجھ جایئگا ان کی ماہیت ان کی اصلیت –
مگر جو چیز ان سے نہیں سمجھی جائے گی وہ ہے الله کی ذات یا اس کا حکم اس کو سمجھنے کے لئے ادھر ہی سے کوئی خاص چیز عنایت ہونے چاہیے تاکہ ہم اس کو اسی کی عنایت کردہ صلاحیت سے پہچان سکیں اور وہ ہے روح
ہم نے روح کو نہیں سمجھنا ہے روح تو وہ آلہ ہے جس کو پکڑ کر ہم نے خدا کو سمجھنا ہے اس کو پہچاننا ہے اسی لئے ہماری ہرتشخیص روح کو سمجھنے کے لئے غلط سمت میں جا رہی ہے
بھائیو روح کو نہیں سمجھنا روح کو پکڑ اسی سے رھنمائی لے کر الله تعالیٰ کو سمجھنا ہے
ورنہ حشر وہی ہوگا جیسا کہ اشفاق صاحب نے آخر میں کہا کہ بھٹکتے ہی رہیں گے -
Muhammad Asif
February 15, 2012 at 8:48 PM
Can any please upload Baba Sahiba in PDF format. thx
محمد ریاض شاہد
February 16, 2012 at 6:34 PM
It is a large book of about 668 page. I think you will have to order it from sang e meel publishers Lahore
kasim
May 15, 2012 at 4:41 PM
But still i want to know how one can go beyond time and space?