RSS

اتفاق

10 Feb

خوشونت سنگھ اپنی کتاب  ” سچ ، محبت اور ذرا سا کینہ “  میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ تقسیم ہند سے قبل اپنے ایک دہریے دوست اور اس کی فیملی کے ہمراہ غالبا لارنس گارڈن لاہور میں سیر تفریح کی غرض سے  گئے ہوئے تھے ۔ دوران کھیل  بچوں کی گیند ایک درخت کی بہت اونچی گھنی شاخوں میں پھنس گئی ۔  ہم سب نے مل کر کافی دیر بہت کوشش کی ، پتھر پھینکے گئے ، درخت ہلایا گیا لیکن گیند نے نہ اترنا تھا نہ اتری ۔ شاخوں میں پھنسی رہ گئی ۔ میرے منہ سے نکلا ” اب تو واہ گرو ہی اسے اتارے گا ” میرا دوست اتنی کوشش کے بعد چڑ سا گیا تھا ۔ کہنے لگا ” اگر واہگورو  یہ گیند خود بخود نیچے اتار دے تو میں اس پر ایمان لے آوں گا ” ۔ میں خاموش ہو گیا ۔ چند لمحوں کے بعد ناگہاں ایک بہت خفیف سا ہوا کا جھونکا آیا ، درخت کی شاخیں ہلیں اور گیند شاخوں سے پھسلتی ہوئی نیچے یوں آگری جیسے جادو کے زور سے نیچے گر پڑی ہو ۔ میرا دوست  ہنس کر کہنے لگا ” محض  اتفاق سے گری ہے ” ۔
بعض کام ہماری عادت بن جاتے ہیں اور ہم انہیں روٹین میں بے سوچے سمجھے کرتے ہیں ۔ میرے لیئے شروع سے ہی قرآن پاک کی تلاوت بھی ایک ایسا ہی کام تھا ۔ عام مسلمانوں کی طرح بچپن میں ہی مسجد میں قاری صاحب سے تیسویں پارے کی چند سورتیں رٹ لی تھیں ۔ بعد میں کچھ  آدھا قرآن حفظ کرنے کا موقع بھی ملا لیکن عربی زبان سے نابلد ہونے کی بنا پر تلاوت قرآن بلا سمجھے ایک مذہبی روٹین تھی جو میں ایک معمول کی طرح ادا کرتا تھا کہ ثواب ہوتا ہے ۔

بہت سال بیتے ، عملی زندگی میں آنے کے بعد ایک دن خیال آیا کہ قرآن کا فہم بھی ثواب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس روز سے میں نے کوشش شروع کر دی کہ نماز فجر کے بعد آیات کی تلاوت کے علاوہ ترجمہ بھی ساتھ پڑھوں چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو اور دن کے باقی حصے میں اس آیت پر غور و فکر کیا جائے ۔ علاوہ ازیں تلاوت اس طرح کی جائے جیسے اللہ میاں مجھ سے براہ راست مخاطب ہیں ۔ جس طرح علامہ اقبال کے والد نے انہیں فرمایا تھا۔  میں صبح کی نماز کے بعد قلت وقت کے باعث کہیں سے بھی قرآن کھول کر بمشکل ایک آیت بمعہ ترجمہ ہی تلاوت کر پاتا تھا ۔ ایک دن  حسب معمول قرآن کھولا توسورہ طلاق کی زیر نظر تصویر میں دکھائی گئی آیت پر نظر پڑی ۔

اور جو کوئی خدا کا تقوی اختیار کرے گا وہ اس کے لئے (رنج و محن) سے مخلصی ( کی صورت) پیدا کر دے گا ۔ اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے ( وہم و ) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا ۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہاتا ہے ) پورا کر دیتا ہے ۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

آیت اور ترجمہ پڑھنے کے بعد دفتر کی طرف گامزن وقت اور اس کے بعد باقی تمام دن  یہ  آیت ذہن میں گردش کرتی رہی ۔ نفس کہنے لگا یہ اللہ میاں نے کیا عجب بات کہی ہے ۔ ایسی جگہ سے رزق کی ترسیل جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو اور خدا اپنا کام پورا کرتا ہے ۔ حالانکہ  جدید دنیا میں رزق کے ذرائع پر اللہ کی بجائے اس کے بندے قابض ہیں جنہوں نے عرصہ بیتا خدا کو اس دنیا سے دیس نکالا دے دیا ہے ۔ جسے چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں ۔ جس کی چاہے معیشت تنگ کر دیتے ہیں  ۔ اس طرح کی بات کسی مذہبی منتر کا حصہ تو ہو سکتی ہے عقل کی نہیں۔میرے اندر کا سادہ اور کم علم  مسلمان حتی المقدور  نفس کے ساتھ مناظرہ  کر رہا تھا کہ یہ کتاب اللہ کی سچی اور آخری کتاب ہے اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تحریف سے محفوظ رہی ہے ۔ تو شک کیوں ؟ ۔

نفس کہنے لگا بھئی اول تو یہ باتیں اساطیرالاولین ہیں ۔ مذہب اس دور میں پٹ چکا ہے عقل نے سائنس کی مدد سے اس دور میں مذہب کا جنازہ نکال دیا ہے اور تم کہتے ہو یہ آیت سچ ہے ۔ اچھا اگر یہ سچ بھی ہے تو اس کے مخاطب صرف مومنین ہیں جو صرف قرون اولی میں پائے جاتے تھے اور تم خود مانتے ہو کہ تم محض نام کے مسلمان ہو، مومن ہونے کی منزل سے کوسوں دور ہو ۔ اس لئے بس شانت رہ کر ڈگڈگی کی تال پر ناچتے رہو اور غیب سے روزی کی باتوں کی  بجائے اس دنیا کے روزی رسانوں کی باتوں پر زیادہ کان لگا کر دھیان دیا کرو۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ۔
دونوں اپنی اپنی دفاعی پوزیشن پر ڈٹ گئے تھے ۔ چند روز اندرونی بحث کے دوران میرے اندر کے مسلمان کی مسلسل تکرار سے جب نفس عاجز آ گیا تو جھلا کر کہنے لگا ” اچھا اپنے اللہ سے کہو کہ تمہیں ایسی جگہ سے رزق بہم پہنچائے جس کا تمہیں وہم و گمان بھی نہ ہو ۔ کسی دوست یا رشتہ دار سے قرض مانگنے کے تم کبھی روادار نہیں رہے ۔ تنخواہ میں اضافہ بعید از قیاس ہے ۔ آسمان سے نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس تمہاری جھولی میں گرنے سے رہا ۔ اپنے اللہ سے کہو اپنی آیت کو سچ ثابت کرے ، ورنہ چھوڑو ایسی باتیں ، بس ثواب  وغیرہ اور روٹین کی خاطر تلاوت کر لیا کرو لیکن خبردارجو ایسی باتوں پر اعتماد کیا ، یہ دور عقل کا ہے ، سائنس کا  ہے ، ترقی کا ہے ۔ ایسی باتیں دیوانے ہی سوچ سکتے ہیں ” ۔
نفس کی اس دھونس کے پیچھے بات یہ تھی کہ ان دنوں کسی ضرورت کے تحت مجھے کچھ معمولی رقم کی اشد ضرورت تھی ۔ بینک یا کسی اور ذریعے سے میں ادھار لینا نہیں چاہتا تھا لیکن ضرورت تھی کہ اپنی جگہ منہ کھولے بیٹھی تھی جس کا پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ ایک ہفتہ کے مناظرے میں مسلمان صاحب ذرا  کچے  ہو کر چپ سے ہو گئے تھے ۔ نفس خوشی کے عالم میں دھمالیں ڈاال رہا تھا ۔ دیکھا میں سچ  نہ کہتا تھا ۔ اب مسلمان صاحب بھی کچھ قائل ہو کر ، ممنوعہ لکیر عبور کر کے نفس کے ساتھ معاہدہ سقوط ڈھاکہ پر دستخط کرنے کے لئے تیاری کر رہے تھے ۔

اچانک دو تین روز بعد مجھے ایک خط بذریعہ ڈاک موصول ہوتا ہے جو دور کسی دوسرے شہر میں واقع  بینک کے سرکل آفس سے میرے نام آیا تھا ۔  سرکل آفس کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بینک کی فلاں برانچ کا دس سالہ آڈٹ کیا ہے ۔ اس آڈٹ کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ  آپکا ایک بینک کھاتہ پچھلے دس سال سے غیر فعال ہے اور اس میں اتنی رقم موجود ہے ۔  پندرہ دن کے اندر مطلع کیجئے کہ آپ اس بینک اکاونٹ کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں ۔ بصورت دیگر کھاتہ بند کر دیا جائے گا اور رقم بینک کے خزانے میں جمع کر لی جائے گی ۔

میں نے اپنے ذاتی کاغذات کی پڑتال کی ۔ بینک کو جوابی خط میں شناختی کارڈ کی کاپی کے ہمراہ تفصیلات سے آگاہ کیا کہ  بیان کردہ  کھاتہ تو میرا ہی ہے لیکن میرے پاس چیک بک موجود نہیں ازراہ کرم رقم میرے موجودہ بینک کی فلاں شاخ میں منتقل کر کے یہ پرانا کھاتہ بند کر دیا جائے ۔

ایک ہفتے کے اندر ہی میرے موجودہ بینک کھاتے میں منتقل ہو گئی ۔  میں پرانے کھاتے سے تمام رقم نکلوانے بعد اس کے متعلق بھول بھال چکا تھا ۔ غالبا میرے دوستوں اور شناساوں وغیرہ کے ذمے جو چھوٹی موٹی رقوم واجب الادا تھیں وہ مجھے مطلع کیئے بغیر پچھلے دس سالوں میں اس توقع کے ساتھ اُس کھاتے میں جمع کراتے رہے تھے کہ جب میں استفسار کروں گا تو مجھے بتا دیں گے جو میں نے کبھی نہیں کیا کیونکہ ذہن سے اتر چکا تھا ۔ قارئین کرام ، یہاں یہ بتا دوں کہ ملنے والی رقم میری  مطلوبہ ضرورت سے تقریبا دگنی تھی ۔

اندر کے مسلمان نے فخر سے کہا ” اب بتاو خدا سچا اور  قادر ہے یا مجبور محض “

نفس نے ہنس کر کہا  ” بے وقوف ، یہ محض اتفاق ہے “

 
 

28 Responses to اتفاق

  1. Ali Hasaan

    February 10, 2012 at 2:23 AM

    لا جواب۔
    آج تو آپ نے ہمارا دل ہی موہ لیا۔
    واللہ خیر الرازقین۔۔۔
    اللہ ہم سب کو اچھا انسان اور اچھا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اور خدا را اپنے برائوزر کے ساتھ کچھ کیجیے۔ ہر لائن کے تین چار لفظ اڑا ہی دیتا ہے۔ ہم تو شوق سے مجبور ہو کر پڑھ لیتے ہیں جیسے تیسے نئے پڑھنے والے اتنا تکلف نہیں کیا کرتے کہ خاص طور پر فائر فاکس میں کھولیں۔
    اللہ آ پکو خؤش رکھے

     
  2. یاسرخوامخواہ جاپانی

    February 10, 2012 at 4:40 AM

    بہت اعلی۔۔۔

     
  3. افتخار اجمل بھوپال

    February 10, 2012 at 9:49 AM

    سُبحان اللہ و بحمدہ
    واللہ خيرالرازقين

     
  4. احمد عرفان شفقت

    February 10, 2012 at 10:02 AM

    بھئی کمال تحریر ہے ماشاء اللہ ۔ آپکے انداز بیان کے تو ہم پہلے سے ہی معترف رہے ہیں لیکن آج تو واقعئی کمال لکھ ڈالا۔

     
  5. waseem rana

    February 10, 2012 at 11:16 AM

    تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیا ہر دفعہ اندرکے مسلمان سے نفس ہی جیتتا ہے۔۔۔۔۔۔کہ کبھی ۔۔۔۔۔۔۔؟
    ماشاءاللہ زبردست تحریر ہے۔۔۔۔۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 11, 2012 at 11:47 AM

      فی الحال تو نفس ہی جیتتا ہے :)

       
  6. نبیل

    February 10, 2012 at 2:49 PM

    جزاکم اللہ خیرا

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 11, 2012 at 11:46 AM

      جناب محترم یاسر ، افتخار احمد بھوپال ، احمد عرفان شفقت ، وسیم رانا اور نبیل صاحب
      میں آپ سب دوستوں کا مشکور ہوں کہ آپ نے پسند کیا ۔ خدا آپ کو آسانیاں عطا کرے ۔

       
  7. شاگرد

    February 10, 2012 at 4:07 PM

    بہت اعلیٰ بھئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہانی دیگر اس طرح کی ایمان افروز کہانیوں کی طرح سراسر جھوٹی لگ رہی ہے۔
    دوسری بات یہ ہے کہ صرف اچھی اچھی باتیں ہی کیوں لکھی جاتی ہیں؟ اگر ایسا ایک اچھا واقعہ ہے تو اس کے سامنے سو ایسے واقعات ہوں گے جب انسان ایک دانے کے لیے ترستا ترستا مر کھپ گیا۔ کتنے ظلم سہے۔ افریقہ میں کروڑوں لوگ بھوک سے مر گئے حالانکہ ان کے رزق کی ذمے داری بھی شاید کسی کے ہاتھ میں ہے۔ اور آنکھیں کھول کر اردگرد لاچار لوگوں پر بھی نظر ڈالیں۔ ان کے لیے یہ رزق کی تنگی کیوں؟ ان کو پیدا کرنے والا بھول گیا یا غلطی سے پیدا کر دیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 11, 2012 at 10:35 AM

      محترم شاگرد صاحب
      بھئی جس اللہ کی بات ہو رہی ہے وہ تو ابتدائی انسانی تاریخ میں اپنے ماننے والے بندوں کو بچاتا بھی رہا ہے ، بلا محنت رزق نازل بھی کرتا رہا ہے ، اُس دور کے انسانوں کی عقل کو دنگ کر دینے والے معجزے بھی برپا کرتا رہا ہے لیکن جب انسان اس قابل ہو گیا ، عقل کے اس مقام پر پہنچ گیا جہاں وہ اُس کی دی ہوئی ہدایت کو خود پرکھ سکے ، اس نے اپنی ہدایت مکمل کر دی ۔ کہ دیا کہ اب تو چاہے تو مانے چاہے تو انکار کر دے ۔ انکار کرنے والوں کو وقفہ مہلت دیتا ہے اور ماننے والوں سے کہتا ہے کہ میں اپنے ماننے والوں کو پانچ ہیڈز سے ضرور آزماوں گا ۔ ”‌ ولنبلونکم بشئي من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس والثمرات و بشر الصابرين الذين اذا اصابتہم مصيبة قالوا انّا للہ و انا اليہ راجعون، اولئک عليہم صلواة من ربہم و رحمة و اولئک ہم المہتدون” ”‌
      يقينا ہم تمہارا امتحان مختصر سے خوف اور بھوک اور جان، مال اور ثمرات کے نقص کے ذريعہ ليں گے اور پيغمبر آپ صبر کرنے والوں کو بشارت دے ديں جن کي شان يہ ہے کہ جب ان تک کوئي مصيبت آتي ہے تو کہتے ہيں کہ ہم اللہ کے ليے ہيں اور اسي کي بارگاہ ميں پلٹ کر جانے والے ہيں- انہيں افراد کے ليے پروردگار کي طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور يہي ہدايت يافتہ لوگ ہيں-” ۔
      لیکن اگر آپ کی اپروچ اور ہے ، اگر آپ بندوں کو قاضی الحاجات سمجھیں گے تو وہ آپ کو بندوں کے حوالے ہی کر دے گا کہ تجھے تو مجھ سے زیادہ ان سے امیدیں ہیں ، تو لگا رہ ، مشقت میں پڑا رہ۔ ان سے مانگتا مانگتا مر کھپ جا ۔ میں بے نیاز ہوں ۔
      ایک چیز خدا کا فضل ہوتا ہے ، وہ عزت والا رزق جو خلق کا محتاج نہ ہو ، آپ کی معممولی سی کوشش زیادہ بارآور ہو جائے اور نہ ماننے والے کو شاید بہت زیادہ مشقت کرنی پڑے ۔

       
      • شاگرد

        February 11, 2012 at 9:18 PM

        پہلے اللہ اپنے بندوں کو بچاتا رہا اور آج کے بندوں کو بندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا واہ جی۔
        بلکہ یوں کہہ لینا اچھا ہو گا کہ پہلے اللہ بندوں کو بچاتا رہا آج بندے احسان اتار رہے ہیں اور اُسے بچا رہے ہیں ورنہ ایمان والوں کا بات بات پر ایمان نکلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

         
        • محمد ریاض شاہد

          February 12, 2012 at 1:06 AM

          محترم شاگرد صاحب
          آپ کائنات کو ایک چھوٹے سے اینگل سے دیکھ رہے ہیں ۔ اگر نظام شمسی کی عمر چھ بلین سال ہو تو تخلیق دنیا کا پیمانہ ایک ارب سال کے برابر بنتا ہے – آج ہم سب ایک صدی کے لوگ ہیں ۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس محدود اینگل کو ترک کرنا ہو گا ۔ خدا تو کہتا ہے ہے کہ ” انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا” ماس تھا ، ایمبریو کی فارم میں تھا ، کہیں زمین یا پانیوں میں درخت کی شاخ سے جڑا کسی درخت کی شاخ کو چوس رہا تھا ۔ آج سے اربوں سال پہلے اس نے چاہا کہ وہ اس سنگل سیل کو آگے بڑھائے ۔ سنگولر سیل کو ڈبل کر دیا ۔اگر وہ پہلے Amiba Protious تھا تو اب Pramicia Caratam تھا ۔ لیکن اب بھی انسان اس قابل نہ تھا کہ خدا کو پہچان سکے ۔ اسنے اسے سماعت کے سسٹم بخشے ۔ پھر اسے عقل دی ۔ وہ اسے چار آئس ایج سے بھی بچا لایا ۔ آئس ایج کوئی چھوٹی نہیں ہوتی ۔ زمین پر آٹھ آٹھ میل گہری برف کی تہ پڑتی تھی ۔ آخری آئیس ایج تیس سے پچاس ہزار سال پہلے گذری ہے ۔ لیکن اس کے باوجود انسان کمزور تھا ۔ کڑکتی بجلیوں سے ڈر جاتا تھا اسے سجدے شروع کر دیتا تھا ۔ صدیاں گذریں جب عقل میچور ہوئی تو خدا نے کہا کہ اس عقل کا پرائم فنکشن بڑا سمپل ہے ۔ چاہو تو مجھے مانو چاہے تو میرا انکار کر دو ۔
          کسی استاد اور بڑے آدمی کی صفت یہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے نظریات انسانوں پر ٹھونسے یا کسی پروپیگنڈے سے آشنا کرے ۔ بڑا استاد وہ ہوتا ہے جو اشیاء کی خوبی اور برائی دونوں بیان کردے اور پھر کہے کہ جاو اب جو نظریات تم ٹھیک سمجھتے ہو انہیں جا کر پوری آزادی سے ٹیسٹ کرو ۔ لیکن اس دنیا میں کچھ ایسے نطام بھی رہے ہیں جو انسان کی فلاح کا خدا کا انکار کر کے دعوی کرتے تھے ۔ کمیونزم نے اپنے نظریات میں کبھی مداخلت پسند نہیں کی ۔ جب ایک دفعہ میکسم گورکی نے لینن کو خط لکھا اور کہا کہ
          If God willing , we shall meet in Kremlin
          تو لینن نے اسے جواب دیا
          You still believe in God ?. What are you writing in your letter?
          تو گورکی نے لکھا
          No I dont believe in God
          میں تو God کو محاورتا استعمال کر رہا ہوں ۔ یہ زبان پر چڑھا ہوا ہے ۔ تو اس پر لینن نے کہا جب تک خدا تمہارے محاوروں سے بھی نہیں نکل جاتا تم اچھے کمیونسٹ نہیں ہو سکتے ۔
          اللہ آپ سے بلائنڈ فیتھ نہیں مانگتا ۔ کیا آپ کو اس بات پر کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ جہاں مسلمان ہیں وہاں وہاں خزانے ہیں اور جہاں جہاں خزانے ہیں وہاں مسلمان ہیں ۔ بغیر کچھ کئے یہ کاہل اور سست مسلمان ان پر عیش کئے جا رہے ہیں ۔ تو خدا نے تو بندوبست کر رکھا تھا ہزاروں ، اربوں سال پہلے ۔
          مارنے کی بات کے متعلق اتنا عرض کر دوں کہ مسلم دنیا میں مدت سے کوئی ترقی نہیں ہو رہی ۔ اس سے خدا کی پوزیشن کو سخت خطرہ لاحق ہے ۔ کیونکہ خدا کے وکیل وہ ہیں جو آج سے صدیاں قبل کا نصاب پڑھ کر آج کی مسوری یونیورسٹی کے پروفیسر کے اعتراض کا اور خدا کے متعلق دلائل دیتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی ترقی ہو رہی ہے تو ڈیفنس انڈسٹری میں ہو رہی ہے ۔ پاکستان ، ایران ، ترکی ، مصر ، سعودی عرب ، قازقستان اور انڈونیشیا سب ہتھیاروں کی صنعت میں ترقی کر رہے ہیں ۔ کیا آپ کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ نہیں؟ ۔
          مجھے نہیں اندازہ کہ جو سوال جس طرح آپ کے ذہن میں ہے اس کا میں نے جواب دے دیا ہے ۔ جعفر صاحب کے جواب میں میرا کمنٹ بھی پڑھ لیں۔ اگر کوئی تفصیل بتائیں گے تو مزید عرض کروں گا ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کمنٹ ایک خطیبانہ رنگ اختیار کر گیا ہے ۔

           
  8. Jafar

    February 10, 2012 at 10:45 PM

    بقول “شگرد” ایسے “ایمان افروز” واقعات میرے علم میں بھی ہیں اور چند بیتے بھی ہیں لیکن جیسا “شگرد” نے کہا کہ سراسر جھوٹے اور بقول خشونت سںگھ کے یار، اتفاق ہوتے ہیں۔
    افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آپ جیسے صفا چٹ لوگوں میں بھی مولوی چھپا ہوتا ہے۔ دنیا بنی بھی اتفاق سے تھی اور چل بھی اتفاق سے رہی ہے۔ یقین نہ آئے تو مکی سے پوچھ لیں

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 11, 2012 at 11:35 AM

      محترم جعفر ساحب
      شکریہ ۔ انسانی تاریخ کے اندر یہ دستور رہا ہے کہ سائینس کی نئی دریافتوں اور ایجادوں کو دینی تحریکوں اور اداروں نے بڑی تاخیر کے ساتھ قبول کیا ہے ۔ اسی طرح سائینس نے بھی الوہی روش کو بڑی دیر کے بعد قابل توجہ سمجھا ۔
      ہم انسان کیا ہیں ؟ ۔ محض اپنی حسیات کا مجموعہ ہیں ۔ انہیں کے زور پر ہم نے دنیا کو سمجھا اور پرکھا ہے ۔ ہماری حسیات محدود و مشروط ہیں ، دنیا کے بارے میں ہمارا عقیدہ بہت لمیٹڈ ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ جب مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ، سونگھائی نہیں دیتی ، سنائی نہیں دیتی ، جسے میں چھو نہیں سکتا ، چکھ نہیں سکتا اسے میں کیسے مان لوں کہ وہ ساتھ ہے ، ارد گرد موجود ہے ۔ اگر ہے بھی تو اس کا کیا فائدہ ؟
      جیسے انرجی کی لہریں ہمارے چاروں طرف موجود ہے لیکن محسوس نہیں ہوتا ، ہماری حسیات میں وہ میٹر نصب نہیں جو گھٹتی بڑھتی ڈگری کو دکھا کر مطمئن کر سکے ۔ حالانہ اگر کوئی ریڈیو یا کوئی ٹی وی موجود ہو تو ہم کوئی بھی لہر ٹیون کر کے اپنی مرضی کی دھن سن سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس غیر مرئی چیزوں کو محسوس کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں لیکن کتا بہت ہلکی خوشبو سونگھ کر بتا سکتا ہے کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے :) ۔ بلی رات کو دیکھ سکتی ہے ، پرندے آنے والے زلزلوں کی خبر پا لیتے ہیں ، لیکن انسان میں یہ صلاحیتیں نہیں ہیں ہم سب ان سے عاری ہیں ۔ اس لیئے ہماری زندگی میں پیش آنے والے بعض واقعات جن کی عقلی توجیہ ہمارے پاس موجود نہیں ہوتی اسے ہم اتفاق کہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ شاید سائنس ایک دن ترقی کر کے اس مقام پر پہنچ جائے جہاں وہ ایسے واقعات کی توجیہ کر سکے جو بظاہر سمجھ میں نہیں آتے ۔
      مرحوم یو ایس ایس آر میں ٹیلی پیتھی اور مابعد الطبعیات پر ریسرچ چل رہی تھی ۔ وہ ان علوم کو میدان جنگ میں استعمال کرنا چاہتے تھے ۔ چند میٹر دور تک پیغام بھیجنے کا تجربہ کامیاب بھی ہو گیا تھا لیکن روس کے سکڑنے کے بعد وہ ریسرچ بھی ٹھپ ہو گئی ۔
      میرے اندر مولوی ، میرے بچپن سے چھپا ہوا ہے ۔ تقریبا سات سال کی عمر میں مجھے احساس ہوا کہ میں آج کی اصطلاح میں ” فنڈو :) ” ہوں ۔ تقریبا اٹھارہ سال کی عمر میں میں نے فنڈوازم کے خلاف بغاوت کر دی اور اپنی عقل کے چنے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔ مولوی کو میں نے ڈنڈے مار مار کر بھگا دیا تھا ۔ پھر ایک لمبا مشکل راستہ طے کرنے کے بعد ، کھیہہ کھا کر ، خوار و رسوا ہو کر مجھے ناچار اللہ کے دامن میں پناہ لینی پڑی ۔ اللہ نے مجھے پھر سے کامیابی کی اس اڑان پر گامزن کر دیا جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا ۔ مولوی پاس کھڑا کھیسیں نکال رہا تھا ۔ اب میں اسے مارتا تو نہیں لیکن کچھ کہتا بھی نہیں ۔ لیکن یقین مانیے میں اس سے دامن چھڑانا چاہتا ہوں اسے اپنی نظروں کے سامنے سے غائب کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ سخت جان ہے مرتا بھی نہیں جاتا بھی نہیں ۔
      دنیا کے اتفاق کے بارے میں اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ اللہ کے بغیر بھی زندگی گذر سکتی ہے مگر اللہ کی مہربانی سے ۔اللہ اگر منوانا چاہے کہ میرے بغیر تمہارے تمہاری زندگی نہیں گذر سکتی تو اس کے پاس بڑے طریقے ہیں لیکن کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ ایک لوکل انسٹانس (Local Instance) میں اور ایک محدود پیمانے پر اللہ کی ضرورت نہیں تو کل پڑ جائے ۔ علت و معولول سے پرے ، خدا انسان کی پہلی ترجیح ہے ۔ لیکن میں کسی دہریے سے یہ نہیں کہ سکتا (He has a right to deny God and live on his own) لیکن ماننے والے کے لئے خدا صرف ایک نام نہیں ہے وہ ایک مسقل عقلی و عملی مداخلت ہے ۔ آپ کی زندگی میں ایک ایلین(Alien) مداخلت ہے ۔ کسی کو وزیر اعظم بنا کر پھانسی پر لٹکا دیتا ہے اور کسی خاک نشیں کو سارے زمانے میں عزت دے دیتا ہے ۔ وہ تو ہر جگہ مداخلت کر رہا ہے ۔ اس کے بعد بھی کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اسے مان کر اس سے توجہ ہٹا لیں ۔ جو خدا کو نہیں مانتے (Its all easy for them) ۔ ہمارا ان سے کوئی گلا نہیں ۔ (If they can persist on their faith , they are the most welcomed people but i wonder if they can)
       
      • Jafar

        February 11, 2012 at 9:32 PM

        یہ تبصرہ ایک باقاعدہ پوسٹ میں چھاپے جانے کے قابل ہے

         
  9. Rizwan

    February 10, 2012 at 11:42 PM

    جناب بینک کا کردار اگر نکال دیتے تو کچھ بہتر نہیں تھا؟ اسطرح لوگ لاٹری، پرائز بانڈ اور نا جانے کیا کیا مثالیں اٹھا لائیں گے۔
    اللہ کی رزاقی میں کوئی شک نہیں وہی سب سے بہتر رزق دینے والا رزاق ہے اوررزق دینے کے لیے اس سودی نظام کا قطعا محتاج نہیں ہے۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 11, 2012 at 10:04 AM

      محترم رضوان صاحب
      کردار نکال دیتے کا کیا مطلب ۔ جب بینک نے اس سارے معاملے میں کردار ادا کیا تھا تو لکھا ہے نا ۔ وہ پیسے میرے اپنے تھے ، حق حلال کی کمائی تھی اس میں لاٹری کی بات کہاں آ گئی ۔ بس جگہ بدلنے اور عرصہ گذر جانے کے بعد بھول جانے کے باعث یہ معاملہ غیاب میں چلا گیا تھا ۔ اگر بینک کوتاہی کرتا یا ڈاک کا خط دو تین پتوں سے گھومتا ہوا مجھ تک نہ پہنچتا تو شاید مجھے نہ ملتے ۔ اللہ نے مجھے قرض لے کر کسی کا احسان مند ہونے سے بچا لیا۔۔
      میرا اکاونٹ اب بھی غیر سودی ہے اور میں اپنی ذاتی بچت پر بھی کوئی سود نہیں لیتا ۔

      ا

       
  10. عدنان مسعود

    February 12, 2012 at 2:11 PM

    بہت خوب، نہایت عمدہ تحریر ہے۔ تعریف کے سوا اب تبصرے کے لیے کچھ رہا نہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور۔

     
  11. aniqaamar@yahoo.com

    February 12, 2012 at 4:09 PM

    خیر مجھے شاگرد صاحب کی ہی بات سے اتفاق ہے۔ یہ کوئ اب ایک صدی کی بات نہیں ابتدائے حیات سے انسان قحط اور خشک سالی کا حادثات اورقدرتی آفات کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دور کیوں جائیے ابھی جب زلزلہ آیا تو لوگ دیوار سے کھڑے اپنے پیاروں کی چیخیں سنتے رہے لیکن اللہ نے انکی مدد نہیں کی۔ کیونکہ یہ خدا کا کام نہیں۔ ان مرنے والوں کے سب نہیں کچھ نہ کچھ تو ہونگے جو خدا پہ مکمل بھروسہ رکھتے ہونگے۔
    میرا خیا لہے کہ ایمان ان سب سے ماوراء کوئ چیز ہے۔
    میں ابھی ایک دو روز پہلے ہی اشفاق احمد کی کوئ تحریر پڑھ رہی تھی جس میں وہ کسی ایسی ہستی کی تلاش میں تھے جو رسول اللہ کے زمانے میں یہاں موجود تھی۔ خیر انکا مدعا اس طرح پورا ہوا کہ وہ اپنے ایک بے اولاد دوست کے ساتھ انکے مزار پہ پہنچے اور صاحب مزار کی کرامت کہ انکے یہاں اسکے بعد بیٹے کی پیدائیش ہوئ۔
    ادھر ہندوستان میں شو لنڈ نامی ایک پتھر کا خدا ہوتا ہے اسکے آگے ہندو اپنی اولاد کے لئے سر رگڑتے ہیں اور انکی دعا سنی جاتی ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی کرامات کی کمی نہیں۔ انسان پوچھتا ہے کہ باقی سب کو بھی اپنے اپنے خداءووں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے ملتا ہے۔ اگر کوئ ریسرچ کنڈکٹ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم ہر ایک جب خلوص دل کے ساتھ جدو جہد کرتا ہے اسے ملتا ہے۔ انسانی دماغ کو اب تک پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا۔ اور بہت ساری چیزیں ابھی تک اصرار میں ہیں۔
    ملنا یا نہ ملنا خدا سے تعلق کی کوئ واضح شرط نہیں۔ یہاں بڑے بڑے متقی لوگوں کو شدید کسمپرسی سے گذرتے دیکھا ہے اور ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو گیارہویں کی فاتحہ سے سمجھتے ہیں کہ ان پہ اللہ نے رحمت کے دروازے کھول دئیے ہیں۔
    اب آپ نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیاہے۔ اس سے آگے میں آپکو قرآن کی آیت کا حوالہ دیتی ہوں خبیثوں کے لئے خبیث جیون ساتھی اور طیبوں کے لئے طیب جیون ساتھی۔ لیکن آپ خود ہی ذرا اپنے ارد گرد کی زندگی کا جائزہ لے کر بتائیں کہ یہ کتنا درست لگتا ہے۔ اس سے میں تو یہ معنی اخذ کرتی ہوں کہ جو معنی یا پس منظر اسکا بتایا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
    خود رسول اللہ کی زندگی دیکھئیے۔ فاقوں کی وجہ سے پیٹ پہ پتھر باندھا ہوا ہے۔ شعب ابی طالب میں تین سال جی ہاں پورے تین سال اپنے خاندان کے جس میں شیر خوار بچے تک شامل تھے اس طرح گذارے کہ درختوں کے پتے کھانا پڑے۔ خدا نے پورے تین سال تک انہیں رزق سمیت ہر چیز کی سختی میں رکھا۔ کیا وہ چاہتے تو خدا سے دعا کر کے اس عذاب سے جان نہ چھڑا لیتے۔ نہیں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
    نواسہ ء رسول اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا کیا انکی دعا اور توکل خدا کسی گنتی میں نہ تھی۔
    سو یہ بالکل ضروری نہیں کہ توکل خدا کا نتیجہ ہمیشہ خواہش کرنے والے کے حق میں نکلےدیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر۔
    آپکے واقعے کا پوسٹ مارٹم یہ ہے کہ دس سال سے خدا اس چیز کی پلاننگ کر رہا تھا کہ آپ اس دن اسے آزماءیں گے اور وہ آپکی آزمائیش پہ پورا اترے گا۔ جیسے بس اسٹاپ پہ کھڑے ہو کر میں دعا مانگتی ہوں کہ یا اللہ بس جلدی سے آجائے اور وہ فوراً حاضر ہو جاتی ہے۔ اسکا آخری اسٹاپ میرے بس اسٹاپ سے پون گھنٹے کے فاصلے پہ ہوتا ہے لیکن خدا اس چیز کی پلاننگ مجھ سے کہیں پہلے کرتا ہے کہ میں جب یہ دعا مانگوں تو بس قریب میں موجود ہو۔
    نہیں میرا خیال ہے خدا نے لنکس اس طرح نہیں رکھے۔ یہ کسی اور طرح کام کرتے ہیں۔ انسان کو انہیں ڈھنڈھںے کی کوشش کرنی چاہئیے بجائے اسکے کہ آسان طریقہ اختیار کرے یعنی اسرار کو اور گہرا کرے اور پھر کہے سبحان اللہ۔
    آپ نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس خزانے موجود ہیں اور وہ عیاشی کر رہے ہیں۔ عرب مسلمانوں کو یہ عیاشی آج سے پچاس سال پہلے نصیب ہوئ۔ اس سے پہلے کے حالات آپ تاریخ سے جان سکتے ہیں۔ اسلام آنے کے بعد فوراً بعد تو عربوں کے مالی حالات درست ہوئے۔ جنگوں میں کامیبای ہوئ۔ مال غنیمت ملا۔ لیکن اسکے چند سو سالوں بعد یہ سب ختم ہو گیا۔ یہ وہی سعودی عرب ہے جہاں اٹھارہویں صدی میں عورتیں برہنہ پھرتی دکھآئ دیتی تھیں غربت کی وجہ سے۔
    ان اسلامی ممالک میں دنیا کے غریب ترین ممالک بھی شامل ہیں لیکن آپ نے انہیں یکسر بھلا دیا۔ کیا وہ عربوں کے مقابلے میں زیادہ بد کرادر اور خدا پہ کم توکل کرنے والے لوگ ہیں؟
    سو عقلی اور عملی سطح پہ ہی نہیں روحانی سطح پہ بھی مجھے اس نکتہ ء نظر سے اتفاق نہیں۔
     
    • محمد ریاض شاہد

      February 12, 2012 at 11:15 PM

      محترمہ عنیقہ صاحبہ
      شکریہ ۔
      یہ پوسٹ ایک ذاتی اور داخلی تجربے سے متعلق تھی ۔ داخلی تجربات ہر شخص کے مختلف ہوتے ہیں اور ان کی فہم و تشریح ہر انسان اپنی فہم اور بساط کے مطابق کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے جو آپ کا تجربہ ہو وہ میرا نہ ہو اور جو مجھے تجربہ ہوا وہ آپ کو نہ ہوا ہو ۔ میں اس تجربے کو یوں لیتا ہوں کہ جب میں ایک دفعہ پھر لڑھک کر انکار کرنے والوں کے گروہ میں شامل ہونے جا رہا تھا اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا ، اتنے ناامید مت ہو ، میں تو تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہوں لیکن تم مجھے ماننے کے لئے مجزے مانگتے ہو اور ماننے والوں کا یہ انداز نہیں ہوا کرتا ۔
      تو ابتدایہ عرض ہے کہ خدا کسی میتھیمیٹکس فارمولا کا بائی پراڈکٹ نہیں ہے کہ کسی لیبارٹری میں مل جائے ۔ وہ کہتا ہے میں تمہیں ہرگز نہیں ملوں گا اگر میں تمہاری زندگی کی ترجیح اول نہیں ہوں ۔ وہ آپ کی دوسری پرائرٹی پر آ کر ملنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔
      مذہب اور سائنس میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سائنس میں آپ کو کیریکٹر ڈیولپ نہیں کرنا پڑتا ۔ آپ کے جذبات سائنسی نتائج میں شامل نہیں ہوتے ۔ دو جمع دو چار ہی رہیں گے ۔ چاہے آپ جذباتی ہوں ، غصیلے ہوں یا متفکر ہوں ۔ چاہے بیوی سے لڑ کر آئے ہوں یا طلاق یافتہ ہوں ۔ چاہے آپ کسی قسم کی اداسی کا شکار ہوں ، دو جمع دو پانچ نہیں ہو سکتے ۔ دو جمع دو آپ کے احساسات سے نہیں بدلیں گے ۔ لیکن دوسری طرف خدائی سائنسز اور طرح کی ہیں ۔ اسی لئے اسلامی مذہب کے کسی صوفی یا ماہر کو پتہ ہے کہ میرا ذرا سا احساس کمتری ، میری ریڈنگ بدل دے گا ، میرا ذرا سا غصہ اللہ کے بارے میں میرے احساس اور ریڈنگ کو بدل دے گا ۔ مذہب اور سائینس میں یہ فرق بڑا اہم ہے ۔
      غور و فکر ہمیشہ کسی نہ کسی ڈاٹا پر استوار ہوتی ہے اور عقل کا کمپیوٹر اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیتا ہے جس کا ڈیٹا اس کے پاس نہ ہو ۔ مذہب کی رو سے خدا قرآن کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ ” ان نحن نزلنا الذکر انا لحافظون ” ہم نے اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ۔ سائنس کے پاس خدا کا ڈیٹا نہیں ہے اس لیئے اور اس بات کی توثیق نہیں کر سکتی کہ خدا ہی اس کی حفاظت کر رہا ہے یا یہ محض انسانوں کا کام ہے ۔ اگر یہ انسانوں پر چھوڑ دیا گیا تو پھر یہ اللہ اتنا بڑا دعوی کیوں کر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ اپنی کتاب کے شروع میں اتنا بڑا دعوی کرتا ہے کہ “ذالک الکتاب لا ریب فیہ ” ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔اب کسی کو اللہ پر شک ہے یا غصہ ہے تو خدا تو چیلنج کرے کہ میں نے تجھے غلط ثابت کر دیا ۔ انسان کی دس باتیں بھی غلط ثابت ہو جائیں تو اس کے انسان ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن خدا کی ایک بات بھی اگر غلط ثابت ہو جائے تو وہ خدا نہیں رہتا ۔
      اب آتے ہیں آپ کے سوالوں کی طرف
      زلزلہ زمین کی عادت ہے اور یہ اس وقت بھی ہلتی تھی جب انسان اس زمین پر نہیں آیا تھا ۔ مزید برآں کسی انسان کا مرنا ہمارے نزدیک تو ایک سانحہ ہو سکتا ہے مگر اللہ کے نزدیک نہیں ، کسی نیک انسان کے لیئے نہیں وہ اللہ سے ملنے بڑی خوشی سے روانہ ہوتا ہے ۔ ہاں اس کے لیئے ہو سکتا ہے جس نے بڑی مشکل سے عمر لگا کر کچھ جمع جتھا کیا ہو کہ کچھ مزے کروں گا اور موت آ لے ۔ کون نیک اور متقی ہے اور کون گناہ گار اس کا حساب اللہ کے پاس ہے میرے آپ کے پاس نہیں ۔ وہ تو کہتا ہے کہ ، مت کہو اپنے آپ کو پرہیز گار ، میں دلوں کے بھید جانتا ہوں کہ کون کتنا متقی ہے ۔
      اشفاق صاحب کی بابا رتن ہندی والی بات جب میں نے بھی پہلے پہل پڑھی تھی تو مجھے بالکل بکواس لگی تھی ۔ تا آنکہ مجھے اس طرح کا ذاتی تجربہ نہیں ہوا ۔ کیا آپ اس پر یقین کریں گی کہ مجھے میرا بیٹا خواب میں ایک وہ بزرگ آ کر دے گئے تھے جن کا انتقال 1946 میں ہو گیا تھا اور جو مشرقی پنجاب میں کہیں مدفون ہیں ۔ میں یہ بات اپنے کمنٹ میں زور پیدا کرنے کے لیئے نہیں لکھ رہا۔ میں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن بابا رتن ہندی کا ذکر آیا تو لکھنا پڑا ۔ یہ میرا ایک ذاتی تجربہ ہے جسے آپ میرا دماغی عارضہ یا اتفاق قرار دے کر رد کر سکتی ہیں ۔ لیکن اگر مجھے یہ تجربہ ہوا ہے تو میرا خیال اور ایمان اور طرح کا ہے ۔ میں خدا سے مانگتا ہوں اور جب مجھے ملتا تو میں اسے خدا کی طرف سے نعمت سمجھتا ہوں ۔ شیو لنگ سے مانگنے والے کو آزادی ہے کہ وہ اسے خدا سمجھتا ہے تو اس سے مانگ لے ۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ تبت کے لاما (Levitate) کرنے کے لیئے مشقتیں کرتے ہیں ۔ لیکن ان کی ساری تگ و دو محض ایک شعبدے کے لیئے ہوتی ہے ، اللہ کے لیئے نہیں ۔
      مسلمان اور کافر کی جدوجہد کے بار آور ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ دونوں کو محنت کا صلہ ملتا ہے ۔ لیکن مومن کے بارے میں اللہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ۔ اس کی کوششیں بار آور کرتا ہوں ۔ اس کی کم محنت کا زیادہ صلہ دے دیتا ہوں ۔ یہاں نہ دوں تو آخرت کے لیئے بچا کر رکھ لیتا ہوں ۔ جو یہاں لینا چاہتا ہے اسے یہاں دے دیتا ہوں ۔
      خبیث عورتوں اور مردوں والی آیت کا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ مومنین کو پاکیزہ عورتوں کا انتخاب کرنا چاہیئے ورنہ اللہ کون سا کسی کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ کسی ناپاک عورت سے شادی یا تعلق قائم نہ کرو ۔ ہاں اپنے منتخب بندوں کو اپنے فضل سے اس گناہ کبیرہ سے بچا لیتا ہے ۔

      نبیؐ کی تنگی اور عسرت کے بارے میں یہ ہے کہ نبیؐ آنے والے زمانے کے لیئے ماڈل ہوتا ہے ۔ نبی کوئی غلطی یا عمل اس لیئے کر رہا ہوتا ہے کہ آنے والی امت کے لیئے ایک ریفرنس پوائنٹ مہیا ہو جائے ۔ یہ عسرت اختیاری تھی ۔ جو نبی شق القمر جیسے معجزے دکھا سکتا ہے کیا وہ اپنے لیئے نان جویں نہیں اللہ سے مانگ سکتا تھا ۔ مانگ سکتا تھا لیکن اسےؐ اپنے اللہ سے شرم آتی تھی کہ اپنے لیئے آخرت کے بجائے دنیا کی نعمتیں طلب کرے ۔ حدیث ہے کہ مسلمان امتی پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آتی جو نبیؐ پر گذر نہ چکی ہو ۔ نبیؐ کے تربیت یافتہ اصحاب نے اس وقت بھی عیش و عشرت کی زندگی کا انتخاب نہیں کیا جب وہ ان کے دست قدرت میں تھیں ۔ فتح بیت المقدس کے وقت حضرت خالد بن ولید اور محافظوں نے سرخ رنگ کی شالیں جنگی لباس کے اوپر پہن کر حضرت عمر کا استقبال کیا ۔ حضرت عمر غصے سے سرخ ہو گئے اور زمین سے خاک اٹھا کر ان کی طرف پھینکی ، کہا ، تمہیں شرم نہیں آتی کہ محض دو سال کے عرصے میں تم جنہیں نان جویں میسر نہیں تھا عیش میں پڑ گئے ہو ۔ حضرت خالد نے شال اٹھا کر نیچے اپنا جنگی لباس دکھایا اور کہا کہ یہ شالیں محض بیت المقدس کے اسقف اعظم سے سفارتی تقریب کی غرض سے پہنی گئی ہیں ۔ لیکن حضرت عمر مطمئین نہیں ہوئے ۔ میں چونکہ محض نام کا مسلمان ہوں اس لیے دنیا کی نعمتیں ہی طلب کرتا ہوں ۔
      نواسہ رسول کی قربانی پھر ایک ماڈل تھی ۔ ان پر آزمائش کے پانچ مرحلے صرف دس دن میں گذر گئے جو کسی عام مسلمان پر زندگی بھر میں گذرتے ہیں ۔ انہوں نے آنے والے زمانوں کے لیئے ایک سٹینڈرڈ سیٹ کر دیا کہ ایک مومن کا رویہ جبر کے مقابلے میں کیا ہوتا ہے ۔ وہ اپنی آخری خواہش میں کوئی کھانے کی چیز نہیں مانگتے بلکہ نماز پڑھنے کے وقت دینے کی استدعا کرتے ہیں ۔
      میرے بارے میں اللہ کی پللاننگ دس سال سے تھی یا ازل سے مجھے نہیں پتا ۔ لیکن مجھے وہ پتہ ہے جو اس واقعے میں میرے ساتھ پیش آیا ۔ میں اسے اللہ کی عطا سمجھتا ہوں اور اگر اب نہیں دیتا تو میں اسے آزمائش سمجھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ میرے کسی عمل کا اجر ضائع نہیں کرے گا ، شاید یہاں دے دے نہیں تو آخرت میں دے دے گا ۔
      آپ نے جن غریب مسلمان ملکوں کی بات کی ہے ان کے بارے میں ذرا جیالوجیکل رپورٹس نکال کر پڑھ لیں کہ کہاں یورینم پایا جاتا ہے اور کہاں ٹاٹینیم اور وہ اسے کتنے سستے داموں فروخت کر رہے ہیں ۔ آخر میں سندھ میں گیس تلاش کرنے والی ایک غیر ملکی کمپنی پیٹروناس کے غیر ملکی ڈائریکٹر کا بیان نقل کر کے کمنٹ ختم کرتا ہوں ” ٘Mr Riaz This whole area starting from Ghtotki till Arabian sea is floating on Natural gas , the problem is how to extricate it”

       
  12. Zia Ul Hassan Khan

    February 12, 2012 at 8:51 PM

    ریاض بھائی کمال کیا ہے ما شاءاللہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ کی تو بات ہی اور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ تو پھر آپ ہی ہیں ۔۔۔۔ آپ جیسا کوئی ۔۔۔ خیر ۔۔۔۔ جانے دیں :ڈ

     
  13. ڈفر - DuFFeR

    February 12, 2012 at 8:57 PM

    ہائے میری دُم :D :

     
  14. aniqaamar@yahoo.com

    February 13, 2012 at 12:37 PM

    اللہ کی دین تکالیف بھی ہوتی ہیں خوشیاں بھی۔ دونوں من جانب اللہ ہیں۔ بندہ اگر خدا کو تسلیم کرتا ہے تو دونوں ہی چیزیں ایک ہی طرح سے لیتا ہے۔ یہ میرا ذاتی نکتہ ء نظر ہے۔ اس لئے تصوف میں شکر اور صبر دونوں ایک نکتے پہ ایک ہی ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت روحانی مدارج طے کر لیں تو خوشی اور کلیف اپنے معنی کھو دیتے ہیں۔
    اگر خوشی کو اللہ کی عطا، رضا یا انعام قرار دے دیا جائے تو جن لوگوں کو میسر نہیں کیا انکا خدا نہیں ہے۔ یہی میرا سوال ہے۔
    رسول اللہ کو کوئ بیٹا نہیں ملا۔ دنیا میں اور بھی لا تعداد لوگ ہونگے جن کی اولاد نہیں ہوتی۔ بڑے نیک صالح اور انسان دوست لوگ۔ جنہیں خدا اس نعمت سے باوجود ہزار دعاءووں کے نہیں نوازتا تو کیا یہ کہا جائے کہ اللہ نے ان پہ کرم نہیں کیا؟
    ایک ہسپتال میں دو لوگ اپنے بیمار بچوں کے ساتھ موجود ہیں ایک دعا کرتا ہے اسکا بچہ ٹھیک ہوجاتا ہے وہ کہتا ہے جی مجھ پہ اللہ کا بڑا کرم ہے اور دوسرا کرتا ہے لیکن اسکے حصے میں مایوسی آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے ایسا کیا ہوا کہ اللہ نے مجھ پہ یہ ستم کر ڈالا۔ جس پہ اللہ کا کرم ہوتا ہے اسکا بچہ بڑا ہوتا ہے اور ڈاکا ڈالتے ہوئے مارا جاتا ہے۔ اب کہتے ہیں اس وقت مر جاتا تو اچھا تھا۔ یہ جو عطا اور غیر عطا ہے یہ سب ایک الیوژن ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں سے کوئ مستقل حیثیت نہیں رکھتی۔ آج انسان جس سے خوش ہوتا ہے کل اسی سے عاجز ہوتا ہے۔
    ہر شخص کو رتن ہندی کی طرح کے تجربات سے زندگی میں کبھی نہ کبھی تجربہ ہوتا ہے۔ آپ اسے روحانیت سے جوڑ دیتے ہیں اگلا نہیں جوڑتا۔ وہ اسکی کچھ اور توجیہات پیش کرتا ہے اور وہ بھی درست معلوم ہوتی ہیں۔
    یہاں ایک انتہائ اہم سوال اٹھتا ہے کہ کیا خدا کو اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے کسی مافوق الفطرت چیز کا انسان کو مشاہدہ کرانا ضروری ہے۔ آج ایک چیز کو کرامت سمجھ کر آپ روحانی طور پہ چارج ہو جاتے ہیں کل اسی چیز کی عقلی توجیہہ نکال کر اس طرح پیش کی جائے کہ جو آپکو کرامت سمجھ آئے وہ پانی پانی ہو جائے تو پھر اس ذریعے سے تسلیم کئے ہوئے خدا کا کیا ہوگا؟
    آپ نے کہا ہے کہ ان ممالک کے جیالوجیکل سروے دیکھیں۔ ساری دنیا ہی ایسے ذخائر کے اوپر بیٹھی ہوئ ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی پیداوار امریکہ کی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ کینیڈا میں بھی تیل کے ذخآئر اتنے زیادہ ہیں۔ مزید تیل نکالنے کے لئے جو چیز حائل ہے وہ انکے علاقے کے موسم کی سختی ہے۔ بجلی اتنی زیادہ ہے کہ کئ پاور اسٹیشن زائد پیداوار کی وجہ سے بند ہیں۔ بات یہ نہیں ہے کہ آپ کن ذخائر پہ بیٹھے ہیں بات یہ کہ کیا یہ ذخائر آپکا پیٹ بھر رہے ہیں آپکو خوشحالی دے رہے ہیں بس اس سوال کا جواب اسلامی دنیا کی کثیر تعداد سے پوچھیں اور وہ یقیناً یہ کہے گی، نہیں۔
    یقیناً وہ دور آنے والا ہے جب روحانیت کی حیثیت بھی ایک سائینسی علم کی طرح ہوگی۔ جب انسان کو حیرت پہوگی کہ اس نے اپنی توانائیوں کو پہچاننے میں کتنا زیادہ وقت لیا۔ لیکن یہ سب اس اسرار بھری دنیا کے طفیل نہیں ہوگا جو چیزوں کو مزید پر اسرار بناتی ہے بلکہ اس علم کے ذریعے ہوگا جو ہر بھید کو کھول دینے کی سعی میں ہے۔ وہی انسان خدا کو صحیح طور پہ جانے گا۔ وہی انسان خدا کا مقصود ہے اور اس وقت تک کن فیکون کا سلسلہ جاری رہے گا۔۔
    آپ نے بچوں کی فلم جمان جی دیکھی ہے مجھے خاصی روحانیت سے قریب اور مزے کی لگتی ہے۔

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 15, 2012 at 2:54 AM

      محترمہ عنیقہ صاحبہ
      کیوں نہ ہم اپنا تلاش کا سفر جاری رکھیں ۔ شاید کسی نہ کسی مقام پر پہنچ ہم ایک دوسرے کا نقطہ نظر بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔

       
  15. Jafar

    February 13, 2012 at 10:53 PM

    جناب من، عرض کیا ہے کہ
    ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ
    اور
    سوال گندم جواب “گوبھی”
    وغیرہ وغیرہ

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 14, 2012 at 12:24 AM

      قبلہ جعفر
      آپ بھی اگر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے تو خوب ہوتا ۔ مجھے بھی شاید کچھ نیا سیکھنے کو مل جاتا ۔

       
  16. راشد کامران

    February 14, 2012 at 2:08 AM

    ایک کتاب ہے جی بیلیونگ برین۔
    http://www.amazon.com/Believing-Brain-Conspiracies—How-Construct-Reinforce/dp/0805091254/ref=sr_1_1?ie=UTF8&qid=1329166565&sr=8-1

    اس کے ہر مقدمہ سے آپ مکمل اتفاق تو نہیں کرسکتے لیکن جس اچھے طریقے سے اس نے اس بات کو سمجھایا ہے کہ نفس، ضمیر، اندر کا آدمی، دل چاہنا، خیال آنا کس طرح محض دماغی حالتیں ہیں اور کس کس طرح ہمارا ذہن یا دماغ ہمیں غچہ دینے، فریب میں مبتلا رکھنے اور تو اور غیر طبعی کو طبعی تک ثابت کرسکتا ہے۔ جیسے کٹے ہوئے اعضاء کا درد ختم کرنے کے لیے آئینوں سے دماغ کو فریب دیتے ہیں ایسے ہی ہم اپنے اپنے یقین کو سینچنے کے لیے کچھ بھی کر جاتے ہیں۔ خدانخواستہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کسی فریب میں مبتلا ہیں بلکہ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ زاویہ نظر کسی بھی چیز کو یقین محکم یا اتفاق کا درجہ دیتا ہے اسی لیے ایک ہی متن کے لیے جزاک اللہ یا وٹ ف عام سی بات ہے۔

     
    • محمد ریاض شاہدم

      February 15, 2012 at 2:51 AM

      راشد کامران صاحب
      شکریہ ۔ میں شعور اور لاشعور کی کارستانیوں کے متعلق تھوڑا بہت آگاہ ہوں ۔ یقیننا یہ کتاب ایک دلچسپ مطالعہ ہوگا ۔ اگر میں اسے حاصل کر پایا

       

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s