RSS

گھر جاندی نے ڈرنا

03 Feb

دیوان سنگھ مفتون قیام پاکستان سے پہلے دہلی سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ اخبار ” ریاست” کے کھرے اور انقلابی قسم کے ایڈیٹر تھے ۔ وہ گوجرانوالہ کے قریب ایک گاوں میں پیدا ہوئے اور ایک سیلف میڈ قسم کے انسان تھے ۔ ان کے اخبار ریاست میں معمول کی خبروں کے علاوہ اس دور کے راجے رجواڑوں اور مسلم ریاستوں کے نوابین کےاندرونی خفیہ راز سکینڈل کی صورت میں زیادہ شائع ہوتے تھے ۔ اس جرم کی پاداش میں وہ اکثر ہتک عزت کے دعووں کی جواب دہی کے لئے ان ریاستوں کی عدالتوں میں دھکے بے مزہ ہوئے بغیر کھاتے رہتے تھے ۔ اُن کی آپ بیتی کتابی صورت میں “ناقابل فراموش ” کے نام سے شائع ہوئی ۔ دراصل یہ ان کے اخبار میں قسط وار شائع ہونے والے مضامین کا مجموعہ تھی اور اپنے زمانے کی بیسٹ سیلر کتابوں میں شمار ہوتی تھی ۔ اس کتاب میں وہ کسی جگہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دل میں ٹھان لے کہ اس کے جنازے میں کم از کم سو افراد شریک ہوں تو اس کا اسلوب حیات بدل جاتا ہے ۔ یہ پڑھ کر مجھے  اسلامی تاریخ میں خلیفہ وقت کے زیر عتاب امام احمد بن حنبل یاد آ جاتے ہیں جنہیں خلیفہ نے اپنے حق میں فتوے کے حصول میں ناکامی پر کہا تھا ” میں آپ کو  عوام میں رسوا کر دوں گا ” تو امام نے کہا تھا ” کون رسوا اور کون معزز ہے اس بات کا فیصلہ ہمارے جنازے کر دیں گے ۔

  جدید میجمنٹ گرو ڈاکٹر سٹیفن آر کووی اپنی ساری عمر ہاورڈ یونیورسٹی میں بزنس پڑھاتے رہے  ۔ اپنی مشہور زمانہ کتاب “ُپر اثر لوگوں کی سات عادات ” میں جو ان کے بیان کے مطابق  پچھلے دو سو سالہ مینجمنٹ کے علم کا نچوڑ ہے ، اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی نہ کوئی مشن ہونا چاہِے ۔ مشن کے بغیر زندگی ایسے ہی ہے جیسے بغیر سٹیرنگ کے کوئی سمندر میں تیرتا ہوا جہاز ، جو تیرتا تو رہتا ہے لیکن کبھی منزل پر نہین پہنچ پاتا کیونکہ اس کی کوئی واضح منزل نہیں ہوتی ۔ مشن زندگی میں کی جانے والی جدو جہد کو سمت دیتا ہے ۔ انسانی کوششوں کو بارآور کرنے میں مدد دیتا ہے  ۔ زندگی کے مشن کے تعین کے لئے وہ ایک مثال دیتا ہے کہ فرض کریں کہ آپ وفات پا چکے ہیں اور آپ کی میت کے گرد آپ کے دوست اور عزیز و اقارب جمع ہیں ۔ آپ بعد از وفات اپنے بارے میں اُن کے منہ سے جو سچے الفاظ سننے کے متمنی ہیں ۔  اصل میں وہی آپ کی زندگی کا مشن ہے ۔ مشن اور کچھ نہیں کرتا صرف انسان کا زندگی کو دیکھنے کا زاویہ نظر بدل دیتا ہے ۔ جب آپ کے مشن کا تعین ہو جائے تو اس بات کا ادراک کرنا ضروری ہے کہ آپ کی دوسروں پر اثر پذیری کے دو دائرے آپ کی ذات کے ارد گرد کھنچے ہیں ۔ پہلا وہ چھوٹا دائرہ جس میں موجود اشیاء پر آپ براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں(جسے کووی سرکل آف انفلوئنس کا نام دیتا ہے) ، مثلا آپ کی ذات ،خاندان ، قریبی دوست احباب اور آفس وغیرہ کے معاملات ۔ دوسرا وہ بڑا دائرہ جس میں واقع اشیاء و معاملات پر آپ کی براہ راست اثر پذیری محدود ہے ( سرکل آف کنسرن) مثلا شہری و ملکی معاملات ، خطے اور دنیا کی سیاسی ، معاشی و جنگی پالیسیاں وغیرۃ -

اگر لکھے کا اعتبار کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بشمول میرے ، ہم میں سے زیادہ تر افراد اپنے ارد گرد کے ماحول ، اپنے ملک ، اپنی ملت اور اس دنیا کو سچے دل سے سنوارنا چاہتے ہیں ۔ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں سکون ، امن اور ترقی چاہتے ہیں ۔ لیکن زیادہ تر یہ خواہش محض دوسروں پر تنقید و تنقیص  اور پند و نصائح کے ذریعے ٹھیک کرنے تک ہی محدود رہتی ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ میں تو کوئی خرابی نہیں ، مستند ہے میرا فرمایا ہوا ، لیکن میرے ارد گرد کے لوگ اور ماحول اگر ٹھیک ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ اس سلسلے میں ہمارا زیادہ تر وقت سرکل آف کنسرن میں گذرتا ہے حالانکہ یہ وقت سرکل آف انفلوئنس میں گذرنا چاہِے جس کا آغاز ہماری اپنی ذات سے ہوتا ہے ۔

صاحبو اپنی ذات کو ٹھیک کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے ۔ اس عمل میں اپنی خواہشات کو محدود کرنا پڑتا ہے ، نفس کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنی پڑتی ہے ، صبر ، شکر  ، کوشش اور امید کا دامن پکڑنا پڑتا ہے ۔ لالچ ، حسد اور کینہ کو دل سے باہر نکال پھینک کر کردار کو مضبوط کرنا پڑتا ہے ۔ ادھر کووی کہتا ہے کہ اگر آپ کا اپنا کردار مضبوط نہیں تو آپ اچھے لیڈر نہیں بن سکتے اور بنا لیڈر بنے آپ اپنی قسمت اور اپنے ماحول میں تبدیلی نہیں لا سکتے ، صرف خواہش ہی کر سکتے ہیں ۔

میرا شمار بھی ان کمزور لوگوں میں ہوتا ہے جو محض قول کے سہارے اپنی قسمت اور دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے چھے فٹ کے قلبوط کو ٹھیک کرنے کا سوچ کر وحشت ہوتی ہے ۔ میں اس معجزے کا منتظر رہتا ہوں کہ محض میرے کہے اور لکھنے سے سب کچھ بدل جائے گا ، ٹھیک ہو جائے گا ۔ میں بھی کامیاب لوگوں کی طرح زندگی میں بڑے کام کرنا چاہتا ہوں ، لمبی پلاننگ کرتا ہوں ، جس پر عملدرآمد کرنے کے لئے مناسب وقت کا منتظر رہتا ہوں اور اس بات کو نظر انداز کر دیتا ہوں کہ زندگی کی عمارت کی تعمیر ہمیشہ چھوٹی اینٹ سے ہوتی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے  سرزد ہونے والے مثبت اعمال مل کر ایک بڑی شخصیت اور کامیاب زندگی بناتے ہیں ۔

صحیح اور مثبت سمت میں اٹھایا ہوا کوئی قدم بھی چھوٹا نہیں ہوتا ، راہ گذر پر پڑا ہوا پتھر اُٹھانا ، کسی کو پہلے سلام کرنا ، کسی مجبور کو اپنا قیمتی وقت دے کر اس کی بات سننا۔ آفس میں بلا غرض کسی کے کام آجانا ، بس میں کسی بوڑھے بابے یا مائی کو اپنی سیٹ پیش کر دینا اور اگر ان سب کی استطاعت نہ ہو تو دین کی رو سے کسی کی  خوشی کی خاطر محض مسکرا دینا بھی ایک نیکی ہے ۔

میرے پسندیدہ  مینجمنٹ گرو اور پنجابی شاعر میاں محمد بخش فرماتے ہیں۔

لوئے لوئے بھر لے کُڑیے ، جے تدھ بھانڈا بھرنا ۔

شام پئی بن شام محمد ، تے گھر جاندی نے ڈرنا ۔

اس سے پہلے کہ زندگی کی شام ، شام ہونے سے پہلے ہو جائے ، گھر واپسی کا خوف طاری ہو جائے ۔ محض تنقید ترک کر کے دوسروں کے لیئے مسکرانا شروع کر دیجئے ، کچھ تھوڑا وقت نکال کر بلا غرض دوسروں کے کام آجانا شروع کیجئیے ۔ پہلا قدم اُٹھائیے ۔ شاید اس طرح میرے اور  آپ کے جنازے میں لوگ ہمارے  متعلق وہی سچ کہیں گے جسے سننے کی خواہش ہم آج رکھتے ہیں ۔

 
 

Tags:

14 Responses to گھر جاندی نے ڈرنا

  1. زینب

    February 3, 2012 at 2:22 AM

    میں خود کو ٹھیک کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہوں لیکن ناکامی کا حملہ ہر کوشش پے پہلے سے زیادہ ہوتا ہے
    لیکن ہمت آج تک نہیں ہاری۔۔
    اب تو چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنے کا بھی رحجان نہیں رہا۔۔

     
  2. محمد ریاض شاہد

    February 3, 2012 at 2:30 AM

    محترمہ زینب صاحبہ
    میرے خیال میں ہر کوشش کے بعد کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہو جانا بھی ایک مثبت رویہ ہے ۔ نیکی کا ایک قدم ہے ۔ ہمت نہ ہارنا ہی انسان کا اصل مقام بندگی ہے ۔ اچھآ آپ صرف مسکرایا کیجئے ۔ :)

     
  3. عدنان مسعود

    February 3, 2012 at 9:24 AM

    ماشااللہ، بہت خوب لکھا ہے، اب اس تحریر کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لئے کوئئ جادوئئ تدبیر بتادیں تو بڑئ مہربانی ہوگی۔ :)

    اسٹیون کووی کی کتب کی تجاویز بلامبالغہ نہائت کارآمد ہیں اور یہ جو آپ نے سرکل آف انفلوینس اور سرکل آف کنسرن والی بات یاد دلائ ہے اس پر عمل کرنا بھی پروڈکٹیوٹی کے لئے اکثیر ہے۔ ایک معیاری تحریر کا شکریہ۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 6, 2012 at 9:23 PM

      جادوئی ترکیب بس یہی ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ، گندے ہیں ، مندے ہیں بس اللہ کے ساتھ لگ جائیں ۔ اس کا ذکر ہر وقت ہر جگہ ہر حالت میں اس طرح کریں جس طرح ہم اپنی کامیابیوں کا کرتے ہیں ۔ آپ کا ذکر بھی کسی بلند جگہ پر کچھ اور مخلوق میں ہو گا ۔ اس پاک ذکر کے طفیل شاید ہمارے اندر بھی کچھ تبدیلی آ جائے ۔کچھ حرارت عمل پیدا ہو جائے ۔
       
  4. محمودالحق

    February 3, 2012 at 10:02 AM

    اچھی تحریر پیش کرنے کا شکریہ ۔
    سوچ جب تک مثبت نہیں ہو گی ۔ نصیحت بھی بے اثر رہتی ہے ۔ معاشرے میں پنپتے اطوار بہت تحمل کے متقاضی ہوتے ہیں ۔ نہ ہی ان میں تبدیلی دنوں میں آتی ہے اور نہ ہی پل میں جاتی ہے ۔ اچحی سوچ معاشرے میں تبھی قابل قبول ہوتی ہے ۔ جب کہنے والا اپنے عمل سے اسے ثابت بھی کرے ۔ سیاست کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ کاوبار بھی ایمانداری کے ترازو سے تولے نہیں جاتے ۔ تفصیل طوالت اختیار کرنے کا اندیشہ ہے ۔ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے ۔ اپنا کام جاری رکھیں ۔
    مالی دا کم پانی لانا بھر بھر مشکاں پاوے

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 6, 2012 at 9:19 PM

      محمودالحق صاحب
      خوب فرمایا ۔ مالی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے :)
       
  5. aniqa

    February 3, 2012 at 10:29 AM

    اگر کوئ شخص یہ سوچ لے کہ بحیثیت ایک مردہ اسے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اسکے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہونگے لیکن اس سے فرق پڑتا ہے کہ آج اسکے ساتھ کتنے لوگ ہیں تو بھی اسکا طرز فکر بدل جاتا ہے۔ اچھا وہ یہ سوچے کہ نہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ جنازے پہ کتنے لوگ ہیں اور نہ اس سے فرق پڑتا ہے کہ آج کتنے لوگ ساتھ ہیں تو بھی انداز فکر بدل جاتا ہے یہ سوچ ایک انقلابی کی بھی ہو سکتی ہے اور ایک خود غرض شخص کی بھی۔
    دراصل اخلاقی پند و نصائح بھی ایک انسان سے دوسرے انسان تک اپنا اثر بدل دیتے ہیں۔ کیونکہ تخیل کے پر ہوتے ہیں اوروسعت آسمان لا محدود۔
    حضرت اویس قرنی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انکے جنازے میں چار لوگ شامل تھے وہ آبادی سے خاصی دور کسی جنگل میں رہتے تھے اور اپنی والدہ کی خدمت کی خاطر انہوں نے دنیا ترک کر دی تھی۔ البتہ عاشق رسول تھے، انکے نام سے روحانیت میں ایک سلسلہ بھی ہے۔
    اسی طرح حق کی بالا دستی کی جنگ میں لاتعداد لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، ظلم کے خلاف لڑنے میں کتنے ہی لوگ سنگین اموات کا شکار ہوتے ہیں۔ انکی لاشوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ کچھ گمنام قبروں کا حصہ بنتے ہیں اور موت یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ کون معزز تھا اور کون رسوا۔ حتی کہ وقت بھی اس سلسلے میں خاموش رہتا ہے۔
    فیصلہ کون کرے گا؟ اخلاقی بہتری کا سبق کہاں سے شروع کرنا چاہئیے؟ کیا دنیا کے کسی بھی اصول میں مطلقیت اپنا وجود رکھتی ہے؟

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 6, 2012 at 9:17 PM

      محترمہ عنیقہ صاحبہ
      بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔ تاخیر سے جواب دینے کے لئے معذرت ۔ میں ذرا سیر کے لیئے ایک دو دن کے لیئے نکل گیا تھا اور وہاں انٹر نیٹ کے استعمال کا موقع نہیں تھا ۔
      جی ہاں زاویہ نظر سے فرق پڑتا ہے ۔ اور حامل کو وہی نظر آتا ہے جو وہ اعتبار کرتا ہے ۔ انبیاء ، رسول ،اور بھگت اپنی تعلیمات کے ذریعے ہمیشہ انسانوں کا زاویہ نظر ہی بدلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔
      امام احمد بن حنبل کے الفاظ کے متعلق شاید یہ غلط فہی پیدا ہوئی کہ میں بڑے جنازے کو کسی شخص کے نیک ہونے کی دلیل سمجھتا ہوں ۔امام جانتے تھے کہ خلیفہ وقت یا کسی بھی طاقتور شخص کا جنازہ کتنے تزک و احتشام سے اٹھتا ہے ۔ لیکن وہ اس تعظیم کی بات کر رہے تھے جو اخلاقی اصولوں پر استقامت سے ڈٹے رہنے والے شخص کے حصے میں موت کے بعد آتی ہے ۔ کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اور وہ انہیں لوگوں کی بات کر رہے تھے ۔ اور جن کی میتوں کا نام و نشاں نہیں ملتا عوام ان کی یاد میں گمنام شہیدوں کی یادگاریں تعمیر کر لیتے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایسے لوگوں کی اصل یادگاریں لوگوں کے دلوں میں ہوتی ہیں ۔ امام کی پشت پر کوڑے شاید تین دفعہ پڑے ہوں گے لیکن ایسی پشتوں پر لوگ ناز کرتے ہیں ،ان پر آنے والی نسلیں صدیوں کا بوجھ بڑِی خوشی سے اُٹھا لیتی ہیں ۔
      خلیفہ عبدالملک کو جب موت کا یقین ہو گیا تو اس نے کہا ” زندگی بھر یہ آرزو رہی کہ میں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مسرور کر سکوں لیکن کبھی سچی خوشی نصیب نہ ہوئی ، میں نے بادشاہت کا بوجھ اس لئے اپنے سر لیا کہ بادشاہت انسانی ترقی کی معراج ہوتی ہے لیکن مجھے دھوکہ ہوا۔ مِیں نے جو کچھ کیا میں اس پر نادم و متاسف ہوں ۔ لیکن افسوس اور تاسف کا وقت اب گذر چکا ہے اور میں ناکام و نامراد گناہوں کا بوجھ لیئے اس دنیا سے جا رہا ہوں ۔ میں نے جو راستہ اپنے لیئے منتخب کیا وہ غلط تھا ۔ میرے حال سے عبرت حاصل کرو ۔” ۔ یہ اس خلیفہ کا حال تھا جس کے گورنر حجاج بن یوسف نے خانہ کعبہ پر منجنیق سے سنگ باری کی تھی جس سے خانہ کعبہ کو نقصان پہنچا تھا ۔
      اسی طرح کے خیالات کا اظہار خلیفہ ہارون الرشید اور خلیفہ واثق باللہ نے کیا تھا ۔ سپین کے خلیفہ الحکم نے اپنی زندگی کے محض سات دنوں کو مسرور قرار دیا تھا جن میں اسے حقیقی خوشی میسر ہوئی تھی ۔ تمام زندگی کا حاصل محض سات دن ؟ ۔
      حضرت اویس قرنی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی مدینہ میں ادا کی گئی تھی اسی طرح نجاشی بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے خود ادا کی تھی ۔

       
  6. Ali Hasaan

    February 3, 2012 at 4:50 PM

    جنازے والی بات نکال کر باقی سب سے متفق ہیں۔ یہ مردہ پرست سوسائیٹی ہے یہاں مرنے کے بعد میں نے ایسی ایسی باتیں سنی ہیں اس کے لیے لوگوں کے منہ سے اگر وہ زندہ ہوتا تو اتنی تعریف سن کر وقت سے پہلے ہی مر جاتا۔سنا تھا جس کے جنازے میں زیادہ لوگ ہوں وہ جنت میں جاتے ہیں اس بات پر بھی ہمیشہ اعتراض رہا اور انتہائی ناقص مسلمان ہونے کے باوجود سوچا کہ اگر یہ جنت میں جائیں گے تو ہم تو بے فکر ہی ہو جائیں۔
    باقی نیکی کرنا اور حسن اخلاق اور دوسروں کا خیال کرنا جیسی باتوں کی ہماری سوسائیٹی کو اشد ضرورت ہے کیونکہ اچھی باتیں اچھے لوگوں کی طرح ہمارے ہاں سے اٹھتی جا رہی ہیں

     
    • محمد ریاض شاہد

      February 6, 2012 at 8:04 PM

      جناب علی حسن صاحب
      شکریہ ۔ میرے نزدیک اچھا انسان بننے کا سفر اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ یہ تصور کر لیں کہ سب آپ سے اچھے ہیں اور آپ کو ان کے مقابلے میں بہتر بن کر دکھانا ہے ۔ باقی جنازوں پہ مرحوم کی تعریف میں زیادہ غلو کرنا اگر آپ کو پسند نہیں آیا تو کسی بھی سلیم الطبع انسان کو پسند نہیں آئے گا ۔ لیکن اس بات سے آپ بھی اتفاق کریں گے کہ جنازہ اور قل کی تقریبات کو بہرحال محفل غیبت میں بھی نہیں بدلا جا سکتا ۔ مرحوم جو اور جیسا بھی ہو ایک بے بس شخص ہوتا ہے جس کا معاملہ اس وقت اللہ کے پاس ہوتا ہے وہ آپ کی طرف سے کسی بھلائی کا منتظر ہوتا ہے ۔ اس سلسلے میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی پیروی احسن ہے جو ان منافقین کو بھی اپنی چادر میں دفن کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کے نبی ٖؐ کو واضح علم تھا کہ ان کا دعوی مسلمانی محض زبانی حد تک محدود ہے ۔

       
  7. Dr. Raza Malik

    February 13, 2012 at 12:16 PM

    Respect others is the best rule of life.

     
  8. ام عروبہ

    February 21, 2012 at 4:43 AM

    اسلام علیکم
    ”میرے نزدیک اچھا انسان بننے کا سفر اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ یہ تصور کر لیں کہ سب آپ سے اچھے ہیں اور آپ کو ان کے مقابلے میں بہتر بن کر دکھانا ہے ”

    بالکل ٹھیک کہا آپ نے بھائ- اور واقعی یہ بہت مشکل کام ہے مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ نا ممکن نہیں ہے-

     

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s