RSS

Monthly Archives: February 2012

خوب است ، خوب است

آج میرے ایک اور ہزارہ  دوست کے اہل خانہ کوئٹہ سے  سامان باندھ ایک دور دیس آسٹریلیا ، اجنبیوں کے درمیان جا بسنے کے منتظر بیٹھے ہیں ۔ میں 2004ء میں جو کوئٹہ میں ہزارہ کے جلوس پر شدت پسندوں کی فائرنگ کے زخمیوں کو اپنے ہاتھوں سے اسپتال میں اُٹھانے کے باوجود امید کی روشن شمع دل میں لیئے پھرتا تھا ۔ آج  اپنے اس دوست کو وطن پرستی ، اسلام اور موت کے معین وقت سے متعلق سارے  وعظ سنا بیٹھا ہوں جسے اس نے بڑے تحمل سے سن کر خاموشی اختیار کر لی ہے ۔ لیکن آج پتہ نہیں کیوں مجھ جیسے ازلی امید پرست کے دل میں بھی ایک شدید ٹیس اٹھی ہے جو سارے بدن میں پھیل رہی ہے ۔ نجانے اس کا سلسلہ کہاں تمام ہو ۔ اسی سے متعلق میرے ایک عزیز دوست محمد حسن معراج کا یہ کالم آج سے کچھ عرصہ قبل سپرد قلم ہوا تھا لیکن زیور طباعت سے آراستہ نہ ہو سکا ، اُن کی اجازت سے پیش خدمت ہے ۔

شام ڈھلے ، پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاوس  (Orchard House) کی طرف جانے والی سڑک پر مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں جگنو ایک دم چمکتے سامنے آ جاتے ہیں ، کچھ تو یوں اس قدر نزدیک کہ جیسے ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیئے جا سکیں ۔ کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے یاد کیئے جاتے ہیں ۔ دبیز ایرانی قالینوں سے مزین گھر ان کی درویش صفتی کے عکاس ہیں ، نہ مکینوں کو کسی کی بات چبھتی ہے اور نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے ۔ رات کی روٹی  دستر خوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی کا ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں ۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935ء کا زلزلہ ابھی تک نہیں گیا ، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے  مخصوص ” خوب است ، خوب است ” سے سارے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں ۔
ہزارہ کے بارے میں پورے یقین سے کہنا تو ممکن نہیں ، مگر ہو سکتا ہے یہ لوگ 740 ء میں خلیفہ وقت کے ہاتھوں شہید ہونے والے حضرت زید کی اولاد میں سے ہوں ، جو مزید استحصال سے بچنے کے لیئے جارجیا تک منتشر ہو ئے اور پھر مختلف مسلمان حملہ آوروں کے ہمراہ یہاں تک پہنچے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سیاہ پوش خانمیں ایرانی تاریخ سے کسی نکتئہ اعتراض کی مانند خارج ہوئی ہوں ۔ قاف لیگ میں شامل نہ ہوئی ہوں اور پھر اس شہر میں قافلوں نے پڑاو ڈال لیئے ہوں ۔ یہ بھی گمان کیا جا سکتا ہے کہ وسط ایشیا میں جب آل رسول پر قافیہ تنگ ہوا تو ان لوگوں نے یہاں ہجرت کی ۔ ان تمام باتوں سے بے نیاز ، کوئٹہ بہر حال تقریبا ایک ڈیڑھ صدی سے ان کا مسکن ہے ۔
جذبوں میں حلاوت اور محبتوں میں مسابقت کے یہ اصحاب کہف آج کوئٹہ کے ایک غار میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس غار کا نام  ” ہزارہ ہاوسنگ سوسائٹی  ” ہے ۔ آج سے چھ سال اُدھر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو مجھے ان کی وسعت قلبی کا احساس ہوا ۔ نہ دولہے کی والدہ کو خیال آیا کہ میں پنجابی ہوں اور نہ دلہن کی ماں کو میرا اہلسنت و الجماعت کا مسنون طر یقہ نظر آیا ۔ دونوں طرفین نے میری بھرپور پذیرائی کی ۔ مہندی پہ فارسی کے گیت ایک طرف اور پنجابی کے ٹپے دوسری طرف دم بدم چلتے رہے ۔

اُس وقت ” ہماری ” مہذب دنیا میں ثقافتی حساسیت اتنی عام نہیں ہوئی تھی اور نہ کچھ بوری بند لاشوں کا رحجان  تھا ،  میں نے دولہے کی بابت دریافت کیا تو پتہ چلا سویڈن میں برسر روزگار ہے ۔ پھر دولہے کے ایک دوست کا احوال پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ جرمنی میں ہے ۔ تھوڑی دیر مجھے لگا کہ یہ کوئٹہ نہیں شاید گجرات یا سیالکوٹ کا کوئی نواحی قصبہ ہے جس میں ہر شخص بالواسطہ یا بلا واسطہ پردیس سے منسلک ہے ۔ گفتگو ذرا آگے بڑھی تو پتا چلا کہ یہ ہجرت کسی سنت کا اتباع نہیں اور نہ ہی اللہ کے فضل کی جستجو ہے ۔ “مرد حق؟ ” نے 1980ء کے عشرے میں جو پنیری لگائی تھی آج وہ اپنی بہار دکھلا رہی ہے ۔ آج کے یہ اصحاب کہف کسی رومی سپاہی سے نہیں بلکہ اپنے نبیؐ اور اس کے صحابہ کے سپاہیوں سے خوفزدہ ہیں ۔
بوقت رخصت ، دلہن کی سہیلیوں نے میرے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پہ مہندی لگا کر ایک چھوٹی سی پگڑی سر پر جما دی ۔۔۔ میں نے مسکرا کر شوخی سے کہا ” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ؟ ” اور سارے ماحول میں خوب است ، خوب است اور قہقہوں کی پس پردہ موسیقی پھیل گئی ۔
پہلے محرم کے جلوس پہ بم پھٹے ، پھر چہلم پہ نامعلوم افراد کی فائرنگ کی خبریں آنا شروع ہوئیں اور اب مستونگ میں زائرین کی بس سے ہزارہ کو اتار کے مار دیا گیا ۔ یہ سفر لگ بھگ پانچ سات سالوں کی کہانی ہے ۔ مگر بم دھماکے اور فرقہ ورایت اتنی تکلیف دہ نہیں جتنی وہ بے حسی کا مظاہرہ ہے جو ہم تمام لوگ بحیثیت قوم کر رہے ہیں ۔ اپنے آسودہ حال گھروں میں بیٹھ کر اس واقعہ کو پاک ایران گیس پائپ لائن کا رد عمل سمجھ لینا بہت آسان ہے مگر انتہا پسندی کے جن کو بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہے ۔ شادی کی تقریب کا میرا معصوم سوال شاید آج پوری ہزارہ برادری کا پاکستانیوں سے سوال ہے

” میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو کروں تلاش ؟ ” ۔

مگر شاید اب ” خوب است ” کہنے والا بچا ہی نہیں

تمام شد

 
7 Comments

Posted by on February 28, 2012 in منتشر اوراق

 

غبار عسکری

مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ اصناف کتب میں پہلا درجہ کسے دیتے ہو تو میں بلا تامل جواب دوں گا “آپ بیتی” ۔ کیونکہ  اس دنیا میں سب سے زیادہ دلچسپ شے بذات خود انسان ہے اور آپ بیتی کسی بھی انسان کی عمر بھر کا نچوڑ چند سو صفحات میں آپ کے سامنے لا کر رکھ دیتی ہے ۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سچا آپ بیتی نویس ایک بہادر شخص ہوتا ہے جو اپنے تمام اچھے برے تجربات ، افعال اور خیالات قاری کے سامنے بلا کم و کاست پیش کر دیتا ہے کہ ” اب فیصلہ ترے ہاتھ میں ہے مری تقصیر کا ” ۔

کرنل ریٹائرڈ سید شفاعت علی کی آپ بیتی اس پوسٹ کے عنوان کے نام پر نظر سے گذری ۔ دو تین دفعہ پڑھی اور ہر دفعہ نیا مزہ آیا ۔ حُب دوستاں کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ لطف زندگی کا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مزہ اُٹھایا جائے ۔ اسی سلسلے میں چند اقتباسات نقل کر رہا ہوں ۔ امید ہے پسند آئیں گے۔

کرنل شفاعت کے اجداد سن 1500 ء میں  چنگیز خانی چنگیزیت سے نجات حاصل کرنے کی خاطر وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے دلی آ بسے ۔ وہی دلی جو اک عالم میں انتخاب تھا ۔ دلی شہر کی خدمت ان کے خاندان نے آنے والی تاریخ میں خوب  کی اور اشراف خاندانوں میں شمار ہوئے ۔ مصنف نے 1946 میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا ، پاکستان ہجرت  ، والدین سے بچھڑنے اور انہیں تلاش کرنے کے صدمے سہے ، تین جنگیں لڑیں ، پاکستان آرمی ان کی اصل محبت بنی جو اب تک قائم ہے ۔ سپاہ گری کے ساتھ فرصت میں مصوری ان کا شغل رہی ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد شہر ستم گراں کراچی مقیم ہوئے اور سن 1994 میں  کینیڈا جا بسے جہاں تقریبا اسی سال کی عمر میں بھی  کینیڈا اردو ایسوسی ایشن کے فعال رکن ہیں ۔ مصنف کا انداز بیان شگفتہ ، سلاست اور روانی لیئے ہوئے ہے اور قاری کو کہیں پر بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا ۔

کتاب کے حرف اول میں یوں  فرماتے ہیں

“پچھتر سے زیادہ برساتیں میرے سر سے گذر گئیں ۔ میرے کانوں کے بیچ جو کاسہ سر ہے اس میں ایک انبار ہے ، اسے جب کریدتا ہوں تو ایک غبار بن کر امڈ پڑتا ہے ۔ اس میں یادوں کے کچھ موتی بکھرے پڑے ہیں ۔ میں ان موتیوں کو پرونے بیٹھا تو ایک کتاب بن گئی

یہ افسانہ نہیں ، آپ بیتی ہے ۔ نہ زیادہ نہ کم ۔ ایک سوانح عمری اس بچے کی جو دہلی کے ایک پرانے اور دقیانوسی خاندان میں اکلوتا پوتا جو تھا وہ ابھی حیات ہے ، ایسی جگہ پر جو اپنی جائے پیدائش سے اتنی دور ہے ہے کہ اس سے زیادہ دور دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں ۔ بے شک اللہ نے ایسا ہی چاہا تھا ۔

میں نے اپنے والدین کی پہلی حکم عدولی یہ کی تھی کہ انکی مرضی کے خلاف پیشہ عسکری اختیار کر لیا ۔ لیکن فوج نے ایسا کندن بنایا کہ علم حرب طرز زندگی بن گیا ۔جب بھی وقت نے پکارا ، میں سینہ سپر رہا ، کبھی نہ گھبرایا ۔ انڈین آرمی سے میری تین مرتبہ مڈھ بھیڑ ہوئی اور ہر تجربہ باعث تسکین رہا ۔ فوج نے جب پاکستان کے لیئے ایک نیا طرز حکومت “مارشل لا ” کے نام سے نکالا تو ضرور سرافگندہ ہوا ۔ ایک بے چینی اور لاچاری کی کیفیت میں رہا مگر پھر بھی حکم عدولی نہیں کی ۔ دن رات کی بساط پر ایک پیادے کا روپ رچا کر ، ہر خانہ سیدھا چلتا رہا ۔ کبھی سیدھا چل کر کسی “رخ” کو کاٹا ، کبھی “گھوڑا ” مارا اور کبھی “بادشاہ ” کو شہ دی ۔ جب بساط اُٹھ گئی تو میں نے قلم اُٹھایا اور بساط پر جو بازی کھیلی تھی اس کے نوٹ پہلی بار انگریزی میں مرتب کیئے اور اس کا عنوان تجویز کیا “Memories of a Dirty Soldier ” ۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں ایک فوجی روزنامچہ ہے ۔ حقائق سے بھرپور ، لیکن زبان کی چاشنی سے خالی ۔ اپنی کہانی زبان غیر میں جچی نہیں ۔ میں نے بہتر یہ سمجھا کہ انگریزی کی اس کتاب کا ترجمہ اپنی لہراتی زبان میں کروں ۔ گالی اپنی زبان میں دی جائے تو تسلی بخش ہوتی ہے “

کرنل شفاعت اپنی ننھیالی حویلی ” نمک والوں کا پھاٹک “  کے مکینوں کا ذکر کرتے ہوئے کوئی راز چھپاتے نہیں بلکہ انہیں  بیروں کے پوٹ کی طرح خود سر بازار الٹ دیتے ہیں ۔

” ہمارا خاندان بہت دقیانوسی تھا ، اور گھر میں بہت شریفانہ ماحول دکھایا جاتا تھا ۔ نو سال کی لڑکی گھر سے باہر نہ جا سکتی تھی ۔ کوئی غیر مرد اندرون خانہ نہ آ سکتا تھا ۔ پوری حویلی میں صرف ایک راستے سے اندر آ سکتے تھے اور اس پر پہرہ لگا رہتا تھا ۔ پوری حویلی میں کوئی کھڑکی باہر نہیں کھلتی تھی  مگر اندرون خانہ باسیوں کی سیکس سے وہ  رنگ آشنائی تھی کہ سگمنڈ فرائڈ دیکھ لیتے تو انگشت بدنداں رہ جاتے ۔ ماحول تنگ تھا اور خواتین و حضرات  مرغن کھانے کھا کھا کر حرام توپ بنے ہوئے تھے ۔ بات بے بات بے قابو ہو جاتے تھے ، میرا اندازہ ہے کہ جتنی سیکس لائف آج  کینیڈا میں غلیظ ہے اتنی ہی وہاں اس زمانے میں تھی ۔ میرے خیال سے حویلی کا ماحول نہایت غلیظ تھا ۔ خواتین سب کی سب ان پڑھ تھیں ۔ وہ عمروعیا کی زنبیل پر یقین رکھتی تھیں ۔ وہ اس طوطے سے جو ڈبیا میں بند رہتا ، ہر کام کروا سکتی تھیں ۔

ایک اور کیرکٹر جو میرے ذہن میں نقش ہے وہ ہے ” چیخا ” ۔ یہ ایک ایسا تعلیم یافتہ شخص ہوتا تھا جس کو ہزاروں اشعار زبانی یاد ہوتے تھے ۔ بے حد روشن دماغ ، چالاک اور بے حد ذلیل ، ماہانہ تنخواہ پاتا تھا۔ اس کا کام محض یہ ہوتا تھا کہ اپنے مالک کو ہر حال میں خوش رکھے ۔ یہاں حالات کی تشریح ضروری ہے ۔ رنج وغم ، شادی ، وصل غیر قانونی ، رفع حاجات ، غسل واجب ، بوریت اور وغیرہ وغیرہ ۔ اگر مالک کو قبض ہو جاتا تو یہ بیت الخلا کے دروازے پر بیٹھ جاتا اور ایسی آوازیں نکالتا جیسے چڑیا کو بلا رہا ہو ۔ ” آجا میری پیاری آ جا ۔ وہ آئی ” ۔ اگر کسی مہ جبین کا گذر مہمان خانے سے ہو جائے اور مالک کی نیت میں خلل آ جائے تو بند کمرے کے باہر چیخا دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ۔ شروعات حسن کی رعنائیوں کے اشعار سے کرتا ۔ پھر وصل کے ہر دور کی مناسبت سے اشعار سناتا قصیدہ پڑھتا کہ کس طرح اس کا مالک ایک لالہ رخ پر رستم زماں بن کر بہر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتا ہوا فتح یاب اور سرخ رو نکلا ۔ آخر میں نازک بدن کی طرف سے فریا د کرتا اور پناہ مانگتا ۔ ان نامعقول صاحب کا گذر زنان خانے میں بھی ہونے کا امکان تھا ۔ میرے قیاس سے باہر ہے کہ یہ صاحب “خاص” موقعوں پر اندرون خانہ جا کر کیا کچھ گُل کھلاتے ہوں گے ؟ ۔

جو کچھ میں نے رقم کیا وہ میرا تخیل نہیں ہے ۔ یہ واقعات میرے دماغی کمپوٹر پر محفوظ ہیں ۔ میں اپنے آپ کو موجودہ دور میں خوش قسمت پاتا ہوں کہ وہاں نہیں ہوں ۔ ہماری تہذیب و تمدن کے یہی ذلیل شوق تھے جن کی وجہ سے ہم نے سب کچھ کھویا اور کچھ بھی نہ پایا ۔ “

عنوان “طفل مکتب ” میں یوں رقم طراز ہیں

” کوئی اور نر بچہ ساتھی نہ ہونے کی وجہ سے ، بچپنے میں میری صحبت دوشیزاوں سے رہی اور میں ہمیشہ ان کا تختہ مشق رہا ۔ میں کم عمری میں حرف “ر” نہیں ادا کر سکتا تھا ۔ زبان سے “ر” کی جگہ “ل” کی آواز نکلتی تھی ۔ “ر” اور “ل” کے الٹ پھیر کو لڑکیاں طرح طرح سے میری زبان سے گل فشانیاں کرواتیں اور خوب ہنستیں اور ننھے میں پوچھتے اس میں ہنسے کی کیا بات ؟

جب لڑکیاں بالیاں سیر سپاٹے کو جاتیں تو مجھے اس واسطے ساتھ رکھتیں کہ ایک مرد ساتھ رہے گا ۔ دل میں انہیں یقین تھا کہ اس اللہ میاں کی گائے سے زیادہ دماغ تو اس دوپٹے میں ہو گا جسے وہ اچھالتی تھیں  ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک دن سہانے موسم میں سب لڑکیاں بے پردہ باہر نکل پڑیں ۔ کوئی چھ سات لڑکیاں ہوں گی ۔ مجھ کو بھی ساتھ لے لیا کہ چلو ایک مرد بھی ساتھ ہو جائے گا ۔ میں اتنا چھوٹا تھا کہ میری کوئی سنتا نہیں تھا اور اتنا بڑا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ یہ لہراتا قافلہ کوئی ایک فرلانگ گیا ہو گا کہ اس قافلے کے سامنے تقدیر کا مارا فقیر آ گیا ۔ لمبا سا کرتہ پہنے ، لمبی سی داڑھی ، لمبے لمبے بال اور لال لال آنکھیں ۔ سب لڑکیاں لہراتی ہوئی سڑک کے بیچ آ گئیں اور ایک متحدہ محاذ بنا لیا ۔ جب وہ اس فقیر کے پاس پہنچیں تو ایک لڑکی نے کہا

” تمہیں شرم نہیں آتی سڑک پر گھوم رہے ہو ؟۔

دوسری نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی جوان لڑکیوں کو دیکھ رہے ہو؟ ۔

تیسری نے کہا ۔ بے شرم اپنا منہ ڈھانپو ۔

فقیر بڑا غیرت مند تھا بیچارے نے اپنا لمبا کرتہ آگے سے آُٹھایا اور اپنے منہ پر ڈال لیا ۔ اس کے جسم پر سوائے کُرتے کے اور کوئی لباس نہ تھا اور جو کچھ اس نے چُھپا رکھا تھا وہ ان جوان لڑکیوں کے سامنے نمایاں کر دیا ۔ سب لڑکیوں کے منہ سے نکلا ” ہائے اللہ ” اور سب کی سب بھاگی آئیں اور مجھ سے چمٹ گئیں ۔ سب سے بڑی والی نے کہا

” ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے “

شفاعت کی زندگی رنگا رنگ واقعات سے بھرپور ایک کلائیڈوسکوپ  ہے جسے وہ تیز تسلسل سے بیان کرتے چلے جاتے ہیں ۔ مصنف واقعات کو بیان کرتے ہوئے اپنا  مختصربے لاگ تجزیہ بھی ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ گاندھی جی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ، ریاست حیدر آباد کے سقوط کے وقت وہ ریاست کی فوج میں سیکنڈ لفٹیننٹ تھے اور اس جنگ کو وہ بجا طور پر “جنگ شرفا ” کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جنرل نیازی ،جنرل ٹکا ،جنرل عتیق الرحمان ، میجر عزیز بھٹی ، 1965 کی جنگ ، مشرقی پاکستان کے طوفان ، بنگالی تعصب کا زہر اور ہمارے اکابرین کی غلطیاں ، 1971 کی جنگ، 1977 کا مارشل لا وغیرہ ان کی زندگی کے اہم واقعات  ہیں جنہیں وہ بیان کرتے ہوئے کہیں خندہ  زن اور کہیں رنجیدہ گذرتے چلے جاتے ہیں ۔

عہد کپتانی کے دور میں امریکہ فورٹ سل میں ایک کورس پر جاتے ہوئے انہیں اپنے ایک سینئر میجر اسحاق کی معیت کا شرف  ائر پورٹ سے حاصل ہوا۔ اسے بیان کرتے ہیں

” میں ماری پور کے فضائی مستقر پر اپنے سامان کا جائزہ لے رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں میجر اسحاق صاحب بھی وہاں موجود ہیں ۔ ہم دونوں نے علیک سلیک کی ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ۔ وہ مجھ سے کوئ آٹھ سال سینئر تھے ۔ جب میں ملتان میں 7 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری میں تھا تو وہ وہاں سیکنڈ ان کمانڈ تھے ۔ میں ان سےبہت ادب سے مخاطب ہوتا تھا ۔ وہ بڑے کٹڑ قسم کے زاہد خشک تھے ۔ یہ گدے دار کرسی پر نہ بیٹھتے تھے کیونکہ اس میں عیاشی کی بو پائی جاتی تھی ۔ کھانا کم اور نپا تُلا کھاتے تھے ۔ پان اور سگریٹ بیڑی سے پرہیز کرتے تھے ۔ صحیح معنوں میں زاہد ، عابد بلکہ واعظ اور مجسمہ بوریت تھے ۔  میں نے انہیں دیکھا تو دل میں کہا ” ابے مارے گئے ” وہ تھوڑی دیر کے بعد بھاگے بھاگے میرے پاس آئے کہنے لگے “Shafaat , are proceeding to Fort Sill ? ” میں نے ہاں میں جواب دیا تو کہنے لگے “You Know in America , there are no porter or Qullies.We have to carry our own lugguage. I will carry your lugguage and you will carry mine ” ۔میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہمارے پاس سامان بہت کم ہے کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیئے اور اگر آئی تو میں یقیننا خدمت کے لیئے موجود تھا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہوئے کہ برخوردار قابو میں تھا ۔ سامان کی لوڈنگ شروع ہوئی ۔ میجر اسحاق میرا اٹیچی کیس اُٹھا کر جہاز کی طرف روانہ ہوئے میں نے ان کا اٹیچی کیس اُٹھایا ۔ میجر اسحاق میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ۔ وہ جگہ جہاں سے ہم سامان اُٹھا کر لائے تھے خالی ہو چکی تھی ۔ مگر ؟ مگر ایک چھوٹی سی چیز چمک رہی تھی ۔ جب میں نے اس چیز پر فوکس کیا تو وہ ایک پیتل کا لوٹا تھا ۔ خالص پیتل کا ڈھلا ہوا بھاری لوٹا ۔ میری جان نکل گئی ۔ دبی آواز میں ، میں میجر اسحاق سے مخاطب ہوا جو مسلسل میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ” Sir is that Your’s? ” ۔ میجر اسحاق نے زور زور سے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا  ۔ تب مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ کیوں انہوں نے مجھ سے یہ عہد واثق لیا تھا کہ میں ان کا سامان اُٹھاوں ۔ اُ س منحوس گھڑی سے لے کر اس مبارک گھڑی جب ہم فورٹ سل پہنچے وہ ہماری تہذیب کا علمبردار بھاری بھرکم لوٹا میرے سر پر سوار رہا اور اس سفر میں اس نے اپنے مالک سے وفا صرف واش روم میں کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔

  ایک دن وہ خلاف معمول میری بڑی تعریفیں کرنے لگے ۔ ہنستے ہوئے خوش مزاجی سے میری تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کر دیے کہ میں دنیا کا بہترین مکینک ہوں ۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی ماں کو یاد کیا ” اماں ! دیکھو یہ کیا کرنے والے ہیں میرے ساتھ ۔ بچاو! ” لیکن وہ فورٹ سل میں میری مہارت کا سکہ بیٹھنے کا ذکر کیئے چلے جا رہے تھے ۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں نے صاف صاف الفاظ میں پوچھا کہ کیا کام ہے ؟ ۔ کہنے لگے “  Shafaat , my lota is leaking” ۔ میری پھونک نکل گئی اور غبارے کی طرح زمین پر گر پڑا ۔ “  You see Shafaat , i dropped it in toilet , please get it repaired” ۔ یہ سن کر میرے غبارے میں اتنا غصہ بھرا کہ دل چاہا کہ انکے سر پر وہ پیتل ولا لوٹا دے ماروں ۔ جس نے میرا امریکہ آنے کا سفر اجیرن بنا دیا تھا ۔ لیکن رشتہ برخورداری کا تھا خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ اپنا مدعا ظاہر کر چکے تو خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے کیونکہ ان کی مصلحت اسی میں تھی ۔ میرے کورس میں امریکی فوجی بھی تھے میں نے ان سب کو جمع کیا اور تفصیل سے سمجھایا کہ پاکستان میں سب سے اہم چیز وہ ہے جسے LOTA  کہتے ہیں اور پھر اس کا استعمال سمجھایا ۔ زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے ۔ پھر اس پیتل کے لوٹے کا ذکر کیا جو اپنی ذات میں واحد لوٹا ہے جو سات سمندر پار کر کے فورٹ سل پہنچ چکا ہے ۔ ان سب نے میجر اسحاق سے لوٹا دکھانے کی درخواست کی  ۔ وہ اسے نکال لائے ۔ اب جو دیکھا تو اس کی ٹُوٹی اور جسم کے جوڑ پر تھوڑا سا کریک آ گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں پانی ٹھہرتا نہ تھا ۔ معلوم ہوتا تھا کہ لوٹے نے اپنے مالک سے تنگ آکر اپنی تھوتھنی زمین پر مار کر خود کشی کی کوشش کی تھی ۔”

کینیڈا سمندر کنارے سیر کے دوران رسالہ “پارس ” کا شمارہ پڑھتے ہوئے طرز بیاں کچھ یوں ہے  ۔

” اس رسالے میں مضامین کا آغاز حمد رب جلیل سے ہوا ہے ۔ اشعار اچھے لگے ، بندش الفاظ لاجواب پائی ۔ تجسس پیدا ہوا کہ حامد شاعر کون ہے ۔ اسی صفحہ پر ایک آدمی کی تصویر  بھی ملی ۔ تصویر کسی ریٹائرڈ اکاونٹ کلرک کی لگی ۔ جیسے وہ ڈاک خانے سے پنشن حاصل کرنے کے لیئے قطار میں کھڑا ہو کہ میری باری آ ئے تو میں بھی پنشن کا فارم بھروں ۔ جس چھڑی سے وہ سہارا لیئے کھڑا تھا وہ بھی بوسیدہ ہو کر فریادی معلوم ہوتی تھی کہ اب میں تمہارا بوجھ سنبھال سنبھال کر تھک چکی ہوں ۔ پھر شاعر کے نام پر نگہ گئی۔ میر عثمان خان ۔ آصف سابع ۔ صاحبو سچ کہتا ہوں ۔ دل پر ایسی موگری پڑی کہ ایک دم آسماں کو دیکھا اور اندھیرا چھا گیا ۔ منہ سے نکلا ۔ “Mir Usman Ali Khan .Asif the Seventh . His exahalted Highness The Nizam of HyderAbad , the richest man of the world ” ۔ میں نے اپنا سر پکڑ لیا ۔ اندھیرے میں کالے سفید نقطے جھلملاتے نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ان نکتوں میں رنگ بھرنا شروع ہوا اور شکلیں ابھرنا شروع ہوئیں ۔ مقامات سامنے آئے ۔ واردات ہوتی نظر آنے لگیں ۔ ایک سینما تھا جو چل پڑا ۔ فشار خون بڑھا ۔ میرے خون میں جو نمک تھا اس نے خون کو ابالا دیا ۔ نمک حلالی عود آئی ۔ کیوں نہ آتی میں کچھ عرصے کے لیئے میر عثمان علی کا نمک خوار رہ چکا تھا ۔ میں نے انکی فوج میں کچھ عرصے نوکری کی ہے ۔

اے تازہ واردان بساط ہوائے دل

  زنہار! اگر تمہیں ہوس ناونوش ہے

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہو “

میری ذاتی رائے میں کرنل شفاعت کو اردو ادب میں ان کا وہ جائز مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار ہیں ۔ کیونکہ کرنل محمد خان اور میجر سیدضمیر جعفری کو تو اردو قارئین نے سر آنکھوں پر بٹھا کر انہیں مزاح کے سالاروں کا لقب دیا لیکن کرنل شفاعت بھی میرے خیال میں قلم قبیلہ کے کسی جرنیل سے کم نہیں ۔ امید ہے آنے والا وقت اس فروگذاشت کی تلافی کر دے گا ۔

کتاب رائل بک کمپنی  ریکس سنٹر فاطمہ جناح روڈ کراچی نے سن دو ہزار پانچ میں شائع کی۔ ISBN-969-407-289-7 ۔ ایمزان ڈاٹ کام پر ان کی ایک اور کتاب زعفران عسکری کا بک کور بھی دیکھا ، شاید وہ ان کی ایک دوسری کتاب کا عنوان  ہے ۔

محترم عثمان سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو کرنل شفاعت کا برقی پتہ  اگر کینیڈا اردو ایسوسی ایشن وینکوور سے مل سکے تو روانہ فرما کر ممنون ہونے کا موقع فراہم کریں ۔

 
8 Comments

Posted by on February 19, 2012 in تبصرہ کتب

 

کون بھلے کُو مندے

اس دفعہ کی میلادالنبی کی چھٹیاں آئیں تو سوچا روٹین سے چھٹکارا پا کر ایک آدھ دن گھوم پھر آئیں ۔ سیالکوٹ میں ہمارے ایک محبی و مخلصی دوست رہتے ہیں جن کے ساتھ مل کر ہم  ایک زمانے  کراچی میں بقول شخصے پنجابی لفظ “گھڑمس ” مچایا کرتے تھے ۔ لیکن جب سے وہ بیوی کو پیارے ہوئے ہیں اس دن سے ان کی خبر نہیں ملتی۔ پتہ نہیں شادی کے بعد یہ بیویاں شوہروں پر کیا جادو کرتیں ہیں کہ اچھے بھلے انسان کو قصہ کہانیوں کا طوطا بنا کر رکھ دیتی ہیں  ۔سیالکوٹ میں ان سے ایک رات کی ملاقات میں “رج  کے گل بات ” کرنے کے بعد براستہ ناروال لاہور جاتے ہوئے ایک جگہ راستہ بھول کر ایک ذیلی سڑک پر جا نکلا ۔ چونکہ گھر میں بھی صرف بیگم ہی ہمارا انتظار کر رہی تھیں اس لیئے مجھے بھی کچھ جلدی نہیں تھی ۔ سوچا اب بھٹک گئے ہیں تو ذرا جان بوجھ کر بھٹکتے رہتے ہیں ۔ چاروں اور سر سبز پنجاب کا منظرپھیلا ہوا تھا جو میری روح تک اتر جاتا ہے ۔ گندم کی فصل نے زمیں پر جیسے سبز مخمل کا قالین دور تک بچھا رکھا تھا جس کے بیچ میں سرسوں کے بکھرے کھیت زرتار سے کی ہوئی کشیدہ کاری کا منظر پیش کر رہے تھے ۔ کہیں کوئی نوجوان الھڑ دوشیزہ ساگ چنتی اپنے خاندان کے ہمراہ کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستی ہوئی ، کسی کھیت کے درمیان کچی مٹی یا اینٹوں سے بنے گھروندے نما مکان اور درخت موسم سرما کی دھوپ میں چمک رہے تھے اور یہ سارا منظر دور افق میں تنی دھند کی چادر میں گم ہو رہا تھا ۔

ایک جگہ سرراہ  ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا ” دربار صاحب گوردوارہ کرتار پور ” ۔  یوں تو پاکستان کے گوشے گوشے میں مندر اور گوردوارے بکھرے پڑے ہیں لیکن چند ایک  مخصوص مقامات کو چھوڑ کر زیادہ تر کی حالت  اجڑے ہوئے آثار قدیمہ سے زیادہ نہیں لیکن اس بورڈ پر لگتا تھا تازہ رنگ و روغن کیا گیا تھا ۔ اک راہ گیر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ” نیڑے ای بابے نانک دی قبر اے ” ۔ سکھ مذہب کے بانی گورو نانک کی جنم بھومی کے متعلق تو مجھے علم تھا لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کہاں مدفون ہیں ۔ میں نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر  گاڑی گوردوارے کی سمت موڑ دی ۔

گورونانک (1469 تا 1539) برصغیر پاک و ہند کی وہ ایسی محترم شخصیت ہیں جن کو عوام کے محروم طبقات اپنا کہتے ہیں۔ وہ پاکستانی پنجاب کے شیخوپورہ شہر  کے نزدیک واقع ایک گاوں تلونڈی رائے بھوئے (اب ننکانہ صاحب شہر) میں ایک ہندو جاٹ گھرانے میں بادشاہ بہلول لودھی  کے دور میں پیدا ہوئے۔  گورو نانک نے سنسکرت پنڈت شاستری تلونڈی سے سیکھی اور عربی فارسی مولوی قطب الدین سے پڑھی۔ ان کے بچپن کا دور انتشار کا زمانہ تھا ۔ اگرچہ بہلول لودھی نے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن سماج میں ایک طرف تو ہندو مذہب نے ذات پات کے سسٹم کے تحت اپنے ہی ہم مذہبوں کو سماج کی پست ترین سطح پر رکھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہوس اقتدار اور حب مال کی طمع کے زیر اثر  جس سردار کو بھی موقع ملتا تھا وہ اپنی سپاہ لے کر  مخالف فریق سے بھڑ جاتا تھا  ۔ اس ساری کشمکش میں پسنے والے آج کی طرح کوئی اور نہیں بلکہ عوام ہی تھے ۔  نانک نے نے اس صورتحال میں بہتری لانے کی ٹھانی اور تقریبا تیس سال کی عمر میں  سفر پر روانہ ہوئے ۔ مسلمان رباب نواز بھائی مردانا اس کا ہمرکاب تھا۔

نانک نے متلاشئی حق کے طور پر میں شہرت پائی۔ وہ ہند میں موجود تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی زیارت کو گئے،اسلام کی وحدانیت سے متاثر نانک کے قدم اسے مکے کی اس زیارت گاہ کی طرف لے گئے کہ جو دنیا میں خدا کا اولین گھر کہلاتا ہے۔ بغداد سے گذرتے ہوئے اس کا مسلمان صوفیا سےبھی مکالمہ ہوا۔ واپسی پر انہوں نے مسلمانوں اور ہندوں کے مذاہب میں میں موجود خدا کی ایکتا  کے تصور اور انسانی مساوات پر زور دیا اور کہا

اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے

اک نور سے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے

(مفہوم ۔ خدا نے اپنے نور سے سب مخلوق کو پیدا کیا ،اسی سے کائنات ، تو پھر کون شخص افضل اور کون نیچ ہے ) ۔

گوردوارے میں بھائی منجیت سنگھ نے ہمارا استقبال کیا ۔ گوردوارے کے مختلف حصے دکھائے اور بتایا کہ یہ گوردوارہ تقسیم کے بعد سے بند پڑا تھا -  محکمہ اوقاف کے پرانے ڈی جی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید ناصر نے کوشش کر کے اس کی تزئین و آرائش کے بعد تقریبا دس سال قبل اسے کھلوایا ہے ۔ دنیا بھر سے سکھ اس گوردوارے کی زیارت کے لیئے آتے اور قیام کرتے ہیں جس کی گواہی  وہاں فائبر سے بنے ہوئے گیسٹ روم دے رہے تھے ۔ ابھی کچھ دن قبل ساوتھ ایشین جرنل کی خاتون صحافی اس کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنا کر گئی ہیں۔ یہ گوردوارہ انڈیا پاکستان  سرحد سے محض چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اور اس کے قریب ہی دریائے راوی پر وہ مشہور جسڑ پل ہے جہاں 1965 کی جنگ میں آتش و آہن کا مقابلہ ہوا تھا۔ اس گوردوارے کی اہمیت کے متعلق انہوں نے  بتایا کہ گورو نانک نے اپنی تبلیغ کے سفر کے بعد زندگی کے آخری اٹھارہ برس اس جگہ پر گذارے تھے اور یہیں ان کا انتقال ہوا تھا ۔  روایت کے مطابق ان کے وفات کے بعد مسلمان اور نانک کے عقیدت مندوں میں ان کی آخری رسومات کے متعلق جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ ہندو  انہیں ہندو سمجھ کر ان کی میت کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان  انہیں ان کی خدا کی وحدانیت اور اسلام کے اصولوں پر مبنی تبلیغ کی وجہ سے مسلمان مان کر دفن چاہتے تھے ۔ آخر کار جب ان کی میت پر سے چادر ہٹائی گئی تو وہاں میت غائب ہو چکی تھی اور صرف پھول پڑے تھے ۔ مسلمانوں نے آدھے پھولوں کو دفن کر کے قبر بنا دی اور ہندووں نے اپنے حصے کو جلا کر راکھ دفن کر کے سمادھی ۔ اب ایک ہی گوردوارے میں قبر اور سمادھ  دوونوں موجود ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ گورو نانک نے اپنی تعلیمات کے ذریعے  اپنے عقیدت مندوں پر بہت گہرا اثر چھوڑا اور ان کے ماننے والوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی ۔

ڈاکٹر سر محمد اقبال گورو بابا نانک صاحب کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں

بُت کدہ پھر بعدِ مدت کے مگر روشن ہوا

نورِ ابراہیمؑ سے آزر کا گھر روشن ہوا

پھر اُٹھی آخر صداتوحید کی پنجاب سے

ہند کو اِک مرد کامل نے جگایا خواب سے      ”بانگ درا“

گورو نانک کی قبر پر مندرجہ ذیل پنجابی شعر رقم ہے ۔ یہ شعر انڈیا میں تقسیم ہند کے موضوع پر بننے والی فلم    ” پنجر “  کا تھیم سانگ بھی ہے ۔

اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے

اک نور سے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے

گوردوارے کی چند تصاویر میرے کیمرے سے

 
 

سائنس کا مومن ۔ الیگزنڈر فلیمنگ

قارئین کرام ! میری اس پوسٹ کو محترمہ عنیقہ صاحبہ کی اس پوسٹ  کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے ۔

محترمہ عنیقہ صاحبہ

باقی سائنسدانوں کی ذاتی زندگی کے متعلق تو میرا مطالعہ محدود ہے لیکن سر الیگذنڈر فلیمنگ کا ایک انٹرویو میری نظر سے گذرا ۔ اسے پڑھ کر آپ خود اندازہ لگا لیں کہ یہ شخص وحی کی دی ہوئی مومن کی تعریف سے کتنا قریب ہے ۔  اس کی اپروچ خدا کے متعلق کتنی صحیح اور جامع ہے ۔ انٹرویوئر ایک مسلمان شخص ہے ۔ طوالت کے پیش نظر بعض غیر ضروری جملوں کی تلخیص کر دی گئی ہے ۔

“میں نے کہا ” سر فلیمنگ ، یہ ہوٹل آپ کے شایان شان نہیں ہے آپ ہمیں اطلاع کرتے ہم آپ کے شایان شان بندوبست کر دیتے “

“انہوں نے کہا ” نہیں میرے حساب سے تو اچھا خاصا ہوٹل ہے ۔

“میں نے کہا ” سر آپ جیسے لوگوں کو مہنگائی کی کیا پرواہ ، آپ تو پنسلین کے موجد ہیں “

کہنے لگے ” ہاں جب میں نے پنسلین کی ایجاد سے ہونے والی متوقع  آمدنی کا  تخمینہ لگایا تو یہی کوئی ہالینڈ اور بلجیم کے سالانہ بجٹ کے برابر تھی ۔ یہ آمدنی اتنی زیادہ تھی کہ اس نے بڑھ بڑھ کر میرے گلے کا ہار بن جانا تھا ۔ دیمک کی طرح مجھے چاٹ جانا تھا ۔ اس کے مقابلے میں ، میں صرف زندہ رہنا چاہتا تھا ۔ یہ دریافت میری ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔ اس دریافت کا عطا کنندہ خدا ہے ، ایک عطیہ ہے جو مجھے امانت کے طور پر ملا ہے ۔ اس کی ملکیت پوری خدائی ہے ۔ میں نے دوائیں بنانے والی کمپنیوں کو اس بات کا پابند کر دیا ہے کہ اس دنیا کا کوئی ملک ، کوئی شہر ، کوئی انسان ، کوئی معاشرہ جہاں بھی اسے بنائے ، وہ اس کا انسانی اور قانونی حق ہو گا اور اس پر میرا کوئی اجارہ نہ ہوگا ۔”

“میں تھوڑی دیر تک سر جھکا کر بیٹھا رہا تو سر فلیمنگ مسکرا کر بولے ” تمہیں کہو مجھ جیسا نادار شخص بھلا اچھا ہوٹل کیسے افورڈ کر سکتا ہے ۔ اس دنیا میں تو بہت سوں کو رہنے کے لیئے جھونپڑی تک میسر نہیں ” ۔

“میں نے کہا ” سر کیا آپ کو یقین ہے کہ پنسلین عطیہ خداوندی تھی اور اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہ تھا ؟ “

کہنے لگے ” میں اس اسے دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور تھا ، ایک آلہ ضرور تھا لیکن اس کا موجد یا مخترع نہیں تھا ۔ صرف اس کا انکشاف کرنے والا تھا اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خدا کا کرم اور اور اس کی عنایت تھی ۔ اصل میں جتنی بھی دریافتیں یا انکشافات ہوتے ہیں وہ خدا کے حکم اور فضل سے ہوتے ہیں ۔ “

“یہ کہ کر وہ رکے اور کہنے لگے ” معاف کرنا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو یا نہیں ؟ ۔

“میں نے کہا ” بلکل رکھتا ہوں سر اور پورے کا پورا رکھتا ہوں ، وہ تو اصل میں ہے ہی ہمارا آپ یورپ والوں کو تو ہم نے ادھار پر دے رکھا ہے سو اب اس کی واپسی شروع ہو گئی ہے ۔ “

“کہنے لگے ‘ میں نے اس لیئے پوچھا تھا کہ تم سے بہت سارے نوجوان خواہ وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے ، اپنے علم کے زور پر خدا کے منحرف ہو گئے ہیں ۔ میرا اندازہ تھا کہ تم بھی انہیں میں سے ہو لیکن تمہارے بیان نے میرا اندازہ غلط ثابت کر دیا ۔

“میں نے کہا ” سر علمی اور عقلی طور پر تو میں اپنے دہریے دوستوں کے ساتھ ہوں لیکن جذباتی طور پر میں اب بھی خدا کا بندہ ہوں اور اس سے وابستہ ہوں “

“ہنس کر کہنے لگے ” بس اس ذیل میں جذباتی وابستگی ہی کی ضرورت ہے ، سو ہے ، باقی رہے علم و عقل تو ان کے نشانے بدلتے رہتے ہیں ۔ ان کی کچھ ایسی فکر نہیں کرنی چاہیئے “

“میں نے کہا  ”سر یہ وضاحت فرمائیں کہ اصل میں جتنی بھی ایجادات و انکشافات ہوتی ہیں ، وہ خدا کے حکم سے ہوتی ہیں ؟۔”

کہنے لگے ” خدا علیم ہے اور اس کائنات کے اندر اور اس سے باہر اسے ہر شے کا علم ہے ۔ وہ اپنی مرضی سے ، اپنے حساب سے ، اپنے ارادے سے ، انسانوں پر علم منکشف کرتا رہات ہے ۔ علم اسی کا عطا کردہ ہے ، نام بندے کا ہو جاتا ہے ۔

“میں نے کہا ” اس کا ثبوت ؟”

“فرمانے لگے ” اگر انسان اپنی کوشش ، محنت ، جدوجہد ، اور لگن کے ساتھ کسی نادریافت کو دریافت کرنے پر تل جائے تو وہ اس وقت تک دریافت نہیں ہو سکتی ، جب تک اس کے اترنے کا حکم نازل نہ ہو جائے ۔

“ان کی بات پیچیدہ تو نہیں تھی لیکن نئی ضرور تھی ۔ اس لئے میں ٹھیک سے سمجھ نہ سکا ، مسکرا کر بولے ” خدا علیم مطلق ہے اور اس کے پاس ہر شے کا علم ہے ، وہ جب چاہتا ہے ، جب پسند کرتا ہے ، جب مناسب خیال کرتا ہے ، اس علم کو دنیائے انسان کو عطا کر دیتا ہے ۔ نہ پہلے ، نہ بعد ، ٹھیک مقررہ وقت پر ، اپنے حکم کی ساعت کے مطابق  ۔ میں نے اس اصول کو لندن کے ایک سکول میں بچوں کو یوں سمجھایا تھا کہ خدا کو آستانے پر ایک لمبی سلاخ کے ساتھ بے شمار علم کی پوٹلیاں لٹک رہی ہوتی ہیں ۔ جب وہ چاہتا ہے ، جب مناسب خیال کرتا ہے ، قینچی سے ایک پوٹلی کا دھاگا کاٹ کر حکم دیتا ہے ” سنبھالو! علم آ رہا ہے ۔ ” ہم سائنسدان جو دنیا کی ساری لیبارٹریوں میں ایک عرصے سے جھولی پھیلائے اس علم کی آرزو میں سرگرداں ہوتے ہیں  ان میں سے کسی کی جھوی میں یہ پوٹلی گر جاتی ہے اور وہ خوش نصیب انسان گردانا جاتا ہے “

“میں نے کہا ” سر پھر تو مزے ہیں ۔ آدمی منہ اٹھا کر علم کی پوٹلی کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جونہی علم کی پوٹلی قریب آئے ، اسے کاٹی مار کار لے بھاگے “۔

“کہنے لگے ” اس سے پتنگ تو لوُٹے جا سکتے ہیں علم نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق کے لوگ آج تک پتنگ ہی لُوٹتے رہے ہیں ۔ علم پر دسترس حاصل نہ کر سکے ۔ علم کا اتار صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اپنی لیبارٹریوں میں ، علم کی آرزو میں رقص بسمل کی طرح تڑپتے رہتے ہیں ۔  ایک وقت مقررہ پر ان کی آرزو پوری ہو جاتی ہے ۔ ان کے کسی ساتھی کو “سر” مل جاتا ہے  یہ بھید ان سب کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے ۔ یہ مشرکہ ملکیت ان کی معرفت دنیائے انسان میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔ کام ہمارا ہوتا ہے ، حکم اس کا ۔ محنت ہماری ہوتی ہے ، آرڈر وہاں سے ہوتا ہے ۔ کوشش ہم کرتے ہیں ، مختاری اس کی ہوتی ہے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ ہم صرف محنت کے زور پر کامیاب ہو جائیں ۔ سر مارتے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا ، لیکن مارتے رہنا پڑتا ہے کہ سر مارتے رہنے والے کے پاس ہی پیغام پہنچتا ہے ۔ دریا کنارے بنسری بجانے والے کے پاس نہیں ۔ پوٹلی وہیں گرتی ہے ، جہاں جھولی پھیلی ہوئی ہو ۔ یہ الگ بات ہے کہ پوٹلی ایک ہی جھولی میں گرتی ہے ۔ اور وقت مختار کُل کی طرف سے معین ہوتا ہے ٫

“میں نے کہا ” سر یہ پوٹلی گورے کی جھولی میں ہی کیوں گرتی ہے کالے کی جھولی میں کیوں نہیں گرتی ؟  ”۔

“کہنے لگے ” اس کے نزدیک گورے اور کالے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔سب اس کی مخلوق ہیں ۔ جب وہ علم کی پوٹلی کاٹ کر نیچے روانہ کرتا ہے تو کالے کو بھی آواز دیتا ہے کہ جھولی پھیلاو علم آرہا ہے ۔ دامن کشادہ کرو نئی بات آ رہی ہے ۔ اس پر کالا ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ہے کہ دامن کدھر سے پھیلاوں ، میں نے تو قمیص ہی نہیں پہنی ہوئی ۔ حد درجہ گرمی ہے ۔ پھر وہ پیرا شوٹ پوٹلی اپنا رستہ بدل لیتی ہے اور ان ہزاروں  ، لاکھوں رقص کناں سائنس دانوں کے اوپر لہرانے لگتی ہے جو کئی سال سے آرزو کے چہرے اوپر اٹھائے اپنے عمل کی آنکھ پینل پر جمائے بے چینی سے جھوم رہے ہوتے ہیں “۔

“میں نے کہا کہ ” سر آپ یہ کس طرح کہ سکتے ہیں کہ یہ سب عطا سے تعلق رکھتا ہے اس میں انسانی عمل کی کوئی خوبی نہیں ۔ “

کہنے لگے ” کوشش ، جدو جہد اور عمل سے کچھ نہیں ہوتا ، مگر کرتے رہنا چاہیئے ، یہی انسان کا کمال اور اس کی خوبی ہے ۔ “

میں نے کہا ” یہ بات کہ علم اللہ کی طرف سے ملا ہے اور علم و مطلق کے حکم سے عطا ہوتا ہے ، ایک مقررہ وقت پر جاری کیا جاتا ہے ، اس کی کوئی سائینسی توجیہ تو میرے ذہن میں نہیں آتی ۔ انسان اپنی زندگی کی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے ۔ اس کے علم میں تدریجی طور پر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ اپنے علم کی سیڑھیاں ایک ایک طے کر کے ان بلندیوں کی طرف بڑھتا ہے اس میں ڈیٹ کس طرح مقرر کی جاسکتی ہے ؟” ۔

“کہنے لگے ، بدن کی ، ماحول کی اور روح کی ارتقئی منازل ایک ترتیب سے چلتی ہیں ، اور ان میں ذیل بندی سے ایک تسلسل ترقی ہوتی چلی جاتی ہے ۔ لیکن ذہن انسانی کسی ڈسپلن کا پابند نہیں ہوتا ، خیال کے دانے کسی مالا میں پروئے نہیں ہوتے ۔ فکر اور تمثال میں صف بندی نہیں ہوتی ۔ ذہن انسانی شاخ بہ شاخ ایک بندر کی طرح چھلانگیں مارتا رہتا ہے ۔ کوئی بات پہلے ذہن میں آ جاتی ہے اور کوئی بعد میں ۔ سوچ ارتقائی منازل طے کرنے کی پابند نہیں ہوتی ۔ چناچہ ایجاد اور اختراع کی دنیا میں انسان نے بہت ساری ایسی چیزوں کو تکمیل پہنچانے کی کوشش کی جو آج تک مکمل نہیں ہو سکیں اور جو اب بھی انسانی دسترس سے باہر ہیں ۔ بہت سی ایسی ہین جن کی بابت اس نے سوچا تک نہ تھا اور وہ گھڑی گھڑائی اس کے قدموں میں آن گریں گی ۔ کچھ خواب میں متشخص ہوئیں ۔ کچھ رویا میں فارمولا بن کر سکرین کے سامنے آ گئیں ۔ انسان ہل چلا سکتا ہے ، زمین تیار کر سکتا ہے پانی دے سکتا ہے ، بوائی کر سکتا ہے لیکن بیج پھاڑ کر اس میں سے بوٹا پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ علم  علیم و مطلق کے پاس  ہے ۔اگر اس نے چاہا اور اس نے پسند فرمایا تو یہ بوٹا پیدا کرنے کا علم بھی انسان کو عطا کرے گا ۔  مگر اپنی مرضی سے اپنی پسند سے ، اپنے منتخب وقت کے مطابق ۔”

” میں تو ایک موٹی سی بات جانتا ہوں اور میرے مشاہدے میں لوٹ لوٹ کر یہی حقیقت نمایاں ہو رہی ہے کہ علم انسان کے اندر سے نمود نہیں ہوتا ، ہمیشہ اوپر سے عطا ہوتا ہے ۔ انسان کی کتنی آرزو تھی ہوا میں اُڑنے کی لیکن خدا کی بالکل مرضی نہ تھی کہ وہ اڑے ، چناچہ سینکڑوں اس کوشش میں ہلاک ہوئے ، کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ پھر جب علم اُتارا گیا ، ایک خاص وقت آنے پر ہوا پیمائی کا اصل اصول ذہن میں ڈالا گیا ۔ تو بات شیشہ ہو گئی اور انسان اپنی پہلی کوشش میں سمندر پار کر گیا ‘ ۔

“میں نے کہا سر مییں بھی یہی بات کہ رہا ہوں کہ انسان تجربے کر کر کے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر انسان بالآخر کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔۔۔  ۔۔۔ اور پھر “

” ضروری نہیں ، ضروری نہیں ۔”  انہوں نے بات کاٹ کر کہا ” انسان غلطیوں پر غلطیاں کیئے جاتا ہے ، سبق سیکھے جاتا ہے لیکن کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پاتا ۔ ارد گرد غلطیوں کے انبار لگ جاتے ہیں ۔ ڈھیروں ڈھیر غلطیاں جمع ہو جاتی ہیں لیکن کامیابی کی منظوری کہیں اور سے ملتی ہے ۔”

“کہنے لگے ” ایک بیماری ہے کینسر ۔ دنیا کی ہر بڑی لیبارٹری میں اور سائینس کے ہر بڑے معاملہ میں اس پر ریسرچ ہو رہی ہے ۔ لاکھوں پونڈ اس کی ریسرچ پر لگ رہے ہیں ۔ ہزاروں ماہرین اس پر ریسرچ کر کے آپس میں نوٹس ملا رہے ہیں ۔ لیکن اس بیماری کا علاج ملتا ہی نہیں ہے ۔”

“میں  نے کہا ” اور علیم مطلق کے پاس اس بیماری کا علاج موجود ہے ؟۔”

“کہنے لگے ” بالکل بلا شک وشبہ اور سو فیصد تیر بہدف علاج موجود ہے ، لیکن انسان کو اپنی کوشش اور جدوجہد سے اس کے علاج کی الف بے بھی معلوم نہیں ہو سکی ۔ “

“ایک وقت آئے گا جب اس موذی مرض کا علاج ایک پوٹلی میں بندھا بندھایا پیراشوٹ میں رکھا ہوا آئے گا اور اس وقت جو طلبگار قسمت والا ہو گا اسے حاصل کر لے گا ۔ “

 
8 Comments

Posted by on February 15, 2012 in منتشر اوراق

 

شکتی اور مادہ

یہ اقتباس جناب اشفاق احمد کی کتاب “بابا صاحبا ” سے لیا گیا ہے اور قارئین کی دلچسپی کے لیئے نقل کیا جا رہا ہے۔  اشفاق احمد روم یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر فیراکوتی سے  معجزے کی ممکنات اور سائنسی نظریے  کے متعلق مکالمے کا بیان کر رہے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ مکالمہ کس سن میں وقوع پذیر ہوا(غالبا ستر کی دہائی میں) اور آج اس موضوع پر سائنسی تحقیق کی کیا صورتحال ہے ۔

پروفیسر کہنے لگے ‘ پرانے وقتوں کے بھگت ، بھکاری ، سادھ اور صوفی ایک ہی بات کہا کرتے تھے کہ یہ مادہ اور اس کے ساتھ وجود میں آئی ہوئی مادی زندگی دراصل توانائی کا ہی ایک روپ ہے ۔ یہ سب شکتی ہے اور سارا سنسار شکتی کی لیلا ہے “۔

لوگ کہتے تھے یہ بھگتوں کا وہم ہے !

پھر ڈھائی ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے کہا  زندگی ایٹموں کا مجموعہ ہے اور ایٹم توانائی کی ایک شکل ہے ۔ چنانچہ اس ظطریے کے تحت سائینسی گروہ پیدا ہو گیا ۔ انہوں نے بھی کہا زندگی توانائی ہے ۔

تو لوگوں نے کہا کو ئی ثبوت !

اب سائنسدانوں کے پاس ایسے نفیس اور حساس آلات تو نہیں تھے جس کے زور پر وہ دکھا سکتے اور لوگوں کو ثبوت بہم پہنچا سکتے ۔۔۔ شرمندہ سے ہو کر رہ گئے ۔

تو معترضین نے کہا ” جھوٹ “

پرانے بھگتوں اور سیانوں نے یہی کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت تو نہیں البتہ ہم اپنی کشفی زندگی سے بتا سکتے ہیں کہ مادہ دراصل شکتی ہی ہے ۔

لوگوں نے کہا یہ بھی جھوٹ ! ۔

بڑی دیر تک صوفی اور سائنسدانوں کے درمیان جھگڑا چلتا رہا مگر کوئی اپنے دعوے کا ثبوت فراہم نہ کر سکا ۔ ۔ پھر 1900 میں ایک شخص آئن سٹائن نامی نے ریاضی کی ایک مساوات حل کر کے اعلان کیا ” توانائی مادہ ہے ” E= mc2 ” یعنی توانائی کو اگر روشنی کی رفتار کے مربع سے ” متعلق ” کر دیا جائے تو یہ مادے میں تبدیل ہو جائے گی ۔

میرے لیئے ان کی باتیں سمجھنا کافی مشکل ثابت ہو رہا تھا ان میں ریاضی کے جبریے آنے لگے تھے ۔

انہوں نے کہا ” اس کلیے کے بعد سائنس دانوں نے متفقہ طور پر اقرار کیا کہ پرانے وقتوں کے لوگ ایٹم کی جسامت اور شباہت کے متعلق جو تصور رکھتے تھے ، ایٹم اس سے بھی چھوٹا ہے اور دوسری طرف بہت بڑا ہے ۔ یعنی جو ایٹم سینٹ پیٹر کے گنبد جتنا ہو گا اس کا مرکز نمک کے ذرے کے برابر ہو گا ۔  جس طرح سینک سلائی تیزی سے گھوم کر دائرے بناتی ہے  ایسے ہی الیکٹران  اپنے مرکزے کے گرد چار سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم کر ایٹم کو اس کا  ” اوپری وجود ” مہیا کرتا ہے ۔ جس طرح مرکزے کے گرد الیکٹرون گھومتا ہے اسی طرح مرکزے کے اندر پروٹان اور نیوٹرون گردش کر رہے ہیں ۔ اپنی تیز رفتاری میں یہ الیکٹران کے بھی گورو ہیں ۔ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ ۔!

پروفیسر صاحب بولے” کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ پروٹان اور نیوٹرون بھی ایسے تیز رفتار چکر ہوتے ہوں گے جیسے سلگتی ہوئی سینک سلائی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ باقاعدہ وجود رکھتے ہیں اور سب اٹامک ذرات ہیں ۔ اس دریافت کے بعد دنیائے سائنس میں فساد برپا ہو گیا ۔ وہ جو مادے کو ٹھوس اور زندگی کو سالڈ سمجھتے تھے پھر شیر ہو گئے اور وہ جو زندگی کو توانائی گردانتے تھے پھر صفائی کے کٹہرے میں آ گئے ۔”

پھر پتہ چلا یہ جو جوہری ذرات میں اٹامک پارٹیکلز ہیں جس سے پروٹان اور نیوٹران کا ہیولا بنتا ہے ، اصل میں پارٹیکل نہیں ہیں بلکہ موج ہیں ، لہر ہیں ، بس ارتعاش ہیں ۔ ان میں کچھ بھی ٹھوس نہیں ۔ ان کی حقیقت سالڈ نہیں ہے ۔ چناچہ اب ، اس لمحے فزکس کے سامنے ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ ایک اہم مسئلہ ۔ کیا سب اٹامک پارٹیکلز ٹھوس ذرات ہیں یا صرف موجیں  اور لہریں ہیں ۔ “

ابھی ہمارے آلات ایسے حساس اور اور دقیق نہیں ہیں نہ ہی ان میں کوئی کشفی طاقت ہے جو اصل حقیقت کو کھول کر بیان کر سکیں ۔ ہمارے پے درپے تجربوں سے  یہ ثابت ہوا ہے کہ کوئی جگہ زندگی کے بنیادی یونٹ موجوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور کئی مقامات پر یہ ذرات کی صورت میں اجاگر ہوئے ہیں ۔ اب کیا اعلان کریں موج کہ پارٹیکل ؟

چناچہ اب تک یہی معلوم ہو سکا ہے کہ سارا بکھیڑا  تجربہ کرنے والوں کا ہے ۔ اگر تجربہ کرنے والوں کے ذہن میں ، روح میں ، بدن میں یہ تصور جاگزیں ہے کہ یہ سب اٹامک ، پارٹیکلز ہیں تو اس کو پارٹیکلز ہی نظر آئیں گے ، ذرے ہی دکھائی دیں گے ۔ اور اگر اس کے دھیان میں ، اس کے خیال میں ، اس کے گیان میں ، اس کے بدن میں ، اس کی آتما میں یہ تصور ہے کہ یہ موجیں ہیں ، ارتعاش ہے ، لہریں ہیں تو پھر اس کو وہ موجیں ہی دکھائی دیں گی ۔ جب کبھی بھی وہ تجربہ کرے گا ، سب اٹامک پارٹیکلز موجیں ہی بن کر اس کے سامنے آئیں گی ۔

میں نے پہلی دفعہ سائنسی تجربے کو اس قدر مجبور و معذور پایا تھا کہ وہ دراصل حقیقت اجاگر کرنے کی بجائے تجربہ کرنے والی کی خواہش ، ہوس اور وسواس کا تابع ہوا بیٹھا تھا ۔ لیکن شاید میں غلط سمجھا تھا ۔ سائنس کی دنیا میں نہ کبھی ایسا ہوا تھا نہ ہی اس کی امید تھی ۔

پروفیسر فیراکوتی کہنے لگے  ” یہاں تجربے اور مشاہدے پر اور اس کے قدرتی نتیجے پر حقیقت کا اطلاق نہیں بلکہ تجربہ کرنے والے کی مرضی اور منشا کا اختیار ہے ۔ ۔ یہ مشاہدہ کرنے والے کارشناس کے من چلے کا سودا ہے ۔ موج چاہے ، موج دیکھ لے ، موجی کو موجیں ملیں ، ترابی کو ذرے !”

کہنے لگے اس حیرت انگیز انکشاف نے دنیا کا صدیوں پرانا اصول توڑ کے خاک میں ملا دیا ہے کہ تجربہ چاہے کہیں بھی کیا جائے ، کوئی بھی کرے اس کے نتائج یکساں ہوں گے ۔

یہاں سب اٹامک سطح پر سارا اختیار تجربہ کرنے والے کے تصرف میں آ گیا ۔ ایٹم نے اپنی روح تجربہ کرنے والے کے اختیار میں دے دی ۔ اس کو گورو ، مرشد اور مالک مان کر خود اس کا بردہ بن کر تھرکنے لگا ۔

پروفیسر فیراکوتی کہ رہے تھے اور میرے کانوں میں رینک بازار جالندھر میں تخت پوش جوڑ کر اس کے اوپر بیٹھے مبارک علی خان فتح علی خان کی آواز گونج رہی تھی

تو ہر دم می نمائی جلوہ من ہر بار می رقصم

بہر رنگے کہ می رقصا نیم اے یا رمی رقصم

اس کے ساتھ ہی میرا پگ گھنگھرو باندھ کر ناچ رہی تھی

سارا مشرق اسی موضوع میں ڈوبا ہوا تھا ۔

مجھے بڑی دیر تک بے خبر پا کر وہ میرا چہرا دیکھتے رہے اور پھر شاید میرے اندر کا کلائیڈوسکوپ بھانپ کر ہولے سے میرا کندھا چھو کر بولے ” میں تم کو زیادہ پریشان نہین کرنا چاہتا  لیکن تم نے معجزے اور کرامت کے متعلق پوچھا ہے اس لیئے میں اتنا ضرور ہوں گا کہ معجزے اور کرامت کے بارے میں ایک سائنسدان کی حیثیت سے میں کچھ نہیں کہ سکتا ۔ نہ اس کا بطلان کر سکتا ہوں ، نہ اس کی تصدیق کر سکتا ہوں ۔ میں تم کو صرف یہ بتا رہا ہوں کہ ہماری روزمرہ زندگی کے تعقل یا تصور ایٹمی سکیل پر بالکل معتبر اور موثر نہیں ۔ نہ ہی ہم ان کو اپنے حساب سے درست اور صحیح کر سکتے ہیں ۔

مثال کے طور پر اس وقت جو کتاب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب میں ٹھوس اور وزنی کے مقابلے میں خالی زیادہ ہے ۔ اس کا قابل محسوس وجود کم ہے اور  ناقابل محسوس خالی پن زیادہ ہے ۔ یعنی وہی پرانی بات کہ Something  کے مقابلے میں Nothing زیادہ ہے ۔ اس کتاب کے ایٹموں میں الیکٹران ایسی تیزی سے گھوم رہے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کو ایک ٹھوس وجود عطا کر رکھا ہے ۔انہی کے وجود سے اس کتاب کی جلد ، جلد کے ڈورے ، حرف اور سیاہی عنوانات کی گرفت میں ہے ۔

یہ ایک دھوکا ہے ، Illusion  ہے ۔ اگر اس کتاب کے سارے الیکٹران ایک ساتھ طے کر کے گھومنا چھوڑ دیں تو یہ کتاب خاک کی مٹھی بن کر تمہارے ہاتھ سے نیچے گر جائے گی ۔ گرے گی نہیں بلکہ پکڑے پکڑے غائب ہو جائے گی ۔ ۔۔۔ جھر ریٹ ! سب لوگ تالی بجاو ۔

پھر فورا کہنے لگے ” میں تم سے کوئی مابعدالطبیعیاتی بکواس نہیں کر رہا ۔ حقیقت بیان کر رہا ہوں ۔ ایک طبیعاتی حقیقت ، ایک سائنسی حقیقت ۔ ہمارے ارد گرد یہ سب کچھ یہ دیوار ، پتھر ، ہوائی جہاز ، کار تمہارا وجود  یہ سب اپنے مرکزے کے گرد الیکٹرون کی گردش  اور ارتعاش سے وجود پذیر ہیں ۔ ہم یہ لہر ، یہ موج ، یہ ارتعاش نہیں دیکھ سکتے ۔ ہماری حسیات اتنی قوی نہیں ہیں ۔ لیکن ہم یہ ضرور جان گئے ہیں کہ الیکٹرون کی یہ گردش جاری ہے ۔

تو پھر یہ طے پایا کہ اس کائنات میں ہونے کے مقابلے میں نہ ہونا زیادہ پایا جاتا ہے ۔ان اشیا میں جو پچھلے لاکھوں کروڑوں سالوں سے ساکت و صامت نظر آتی ہیں ، ان میں گردش کا عمل اور مسلسل حرکت کا عمل جاری ہے ۔

ہر طرح کی زندگی توانائی ہے ۔ زندگی کچھ ہونے کا اور کسی وجود کا یا کسی دیہہ کا نمود بظاہر ضرور پیش کرتی ہے ، لیکن ہے نہیں ۔ حقیقت میں یہ توانائی ہے بس۔

اور تمہارے سوال کے جواب میں ، میں بس اس قدر کہ سکتا ہوں کہ یہ توانائی انسانی تعامل کی ، انسانی انٹرایکشن کی جواب گوئی ضرور کرتی ہے ، کیوں کرتی ہے ، کیسے کرتی ہے ، اس کا ہمیں علم نہیں ، یہ انسان کی جواب دہندہ ضررو ہے ۔ اس طریق تعامل میں ، اس انٹرایکشن میں کیا راز ہے ، اس کا بھید نہیں ملتا ۔ میرا مطلب ہے اس وقت تک نہیں ملا آگے کی خبر نہیں ۔