میرے بچپن کے زمانے میں سائیکل ایک قابل عزت سواری سمجھی جاتی تھی جس کو حاصل کرنے کی تمنا تقریبا ہر طالبعلم کے دل جاگزیں ہوتی تھی ۔ پرنسپل و پروفیسر ، چھوٹے سرکاری ملازمین مثلا سرکاری سکول کے اساتذہ ، ڈاکیے ، بنک افسران اور وکلا وغیرہ سب اسی پر اکتفا کرتے تھے ۔ جس طالبعلم کے والدین ازراہ تلطف اپنے ہونہار بروا کو سہراب ، ہرکولیس یا ریلے کی بائیسیکل لے کر دیتے تھے وہ سب سے پہلے پینٹر کے پاس جا کر اس کے عقبی مڈگارڈ پر ہیما مالنی یا نیتو سنگھ کی تصویر لگوانے کے علاوہ سرخ روشنائی سے یہ فقرہ ضرور لکھواتا تھا ‘ پپو یار تنگ نہ کر ‘ ۔ اب پتہ نہیں یہ پپو کون تھا جس کا واحد مشغلہ دوسروں کو تنگ کرنا ہوتا تھا البتہ اس بے ضرر دھمکی کے پیچھے فاعل کے دل پپو یار سے تنگ ہونے کی دھیمی آنچ میں سلگتی تمنا ضرور جھلکتی نظر آتی تھی ۔ سکول کے زمانے میں جس دوست پر بھی مجھے پپو ہونے کا شک گذرتا تھا اس کے قریب ہونے پر پتہ چلتا کہ یہ ہمارے مطلوبہ پپو نہیں کیونکہ اس پپو کو تو سب اتنا چھیڑتے تھے کہ اس کے پاس دوسروں کو تنگ کرنے کی فرصت ہی میسر نہیں ہوتی تھی ۔ بہرحال اصلی پپو سے ملنے کی خواہش میرے دل میں بھی اسی وقت سے جاگزیں ہے جس دن سے میں نے یہ فقرہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پڑھا تھا ۔ پپو کے ساتھ دوسرا لفظ جو اس کا ہمسر و ہم معنی معلوم پڑتا تھا اور سکول کے طالبعلموں میں زبان زد عام تھا وہ تھا لفظ پوپٹ ۔ اب یہ تو کچھ اندازہ تھا کہ پوپٹ پپو کی ذرا سپرلیٹو ڈگری ہے لیکن اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ کوئی پپو کب اور سلوک کے کون کون سے مراحل طے کرنے کے بعد پوپٹ کے اعلی مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا ہے یقیننا اس میں دو چار سخت مقام بھی آتے ہوں گے جن سے ہم لا علم ہیں اور جن پر کوئی اصلی تے وڈا پوپٹ ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ بہرحال پپو اور پوپٹ کے الفاظ سے میں نے جو خیالی تصور قائم کیا تھا وہ کچھ رنگین ، کچھ معصوم اور ذرا سا شوخ سا تھا ۔
لیکن چند روز قبل میرے اس رومانی تصور میں کھنڈت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو کے اس بیان نے ڈال دی ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پپو وزیر اعظم قرار دیا ہے ۔ نوجوت سنگھ ایک سکھ سردار ، سابقہ کھلاڑی اور موجودہ ٹی وی میزبان ہیں اور ہمارے خیال میں یقیننا پنجابی و مسلم تہذیب میں پپو کے اعلی و ارفع رومانی مقام سے ضرور آگاہ ہوں گے لیکن ان کے اس بیان نے ہمارے جیسے لاکھوں پپو پرستاروں ، اصلی پپووں اور پوپٹوں کی دل آزاری کی ہے جس کا مداوا ممکن نہیں ہے ۔ میری دانست میں اس طرح کے اخباری بیانات دینا ایک خطرناک رحجان ہے جس کا سختی سے سدباب کرنا ہمارے پپو کلچر کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے ۔ اگر یہ رحجان چل نکلا تو اس کی زد میں آنے سے سے ہمارے اپنے سیا ستدان بھی نہیں بچ سکیں گے ۔ ذرا تصور کیجئے کہ کل کلاں کوئی سیاستدان مثلا ذوالفقار مرزا اپنے کسی اخباری بیان میں رحمن ملک کو پپو وزیر داخلہ یا الطاف حسین کو پوپٹ ساستدان قرار دے دے تو ہماری نئی نسل کے اذہان میں پپو کا تصور کتنا الجھ جائے گا ۔ میری سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے یہ حکم جاری کرے کہ آئندہ کسی کو پپو ڈکلیئر کرنے کا اختیار سیاستدانوں کے بجائے صرف اردو بلاگستان کے جعفر اور ڈفر اعظم کو حاصل ہو گا ۔
سر پپو کا یار ہونا ضروری ہے۔ یہ معلوم نہیں یار ہونی کی شرط صرف مردوں تک محدود ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔
خیر ممکن ہے وجوت سنگھ سدھ کے یار ممنوہن صاحب ہوں اور اس ہی بات پر انہوں نے اُسے پپو قرار دے دیا ہوں۔
جناب یہی تو معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ کل فیس بک پر ایک دلکش دوشیزہ کی تصویر کے نیچے حال دل سنانے کے ماہر جناب جعفر کا کمنٹ کچھ یوں تھا ” ماشااللہ بڑی پوپٹ بچی ہے ” ۔ لگتا ہے کہ پوپٹ کے مقام کی حد کہیں نہیں ہے بلکہ پوپٹ کا مقام ہر کہیں ہے یعنی اس لفظ کا اطلاق آپ جہاں دل چاہے ہر دلکش چیز پر کر سکتے ہیں ۔ مگر ہماری صرف استدعا یہی ہے کہ اس میں حس جمال و حد ادب کو بہر حال ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔
ویسے سدھو اپنے مزاحیہ پروگرام کی میزبانی کرتے ہوئے کچھ بولتے چالتے نہیں ، بس لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں اور بڑے پپو لگتے ہیں
سنا ہے کہ ہر پپو کے پیچھے بھی ایک پپو ہوتا ہے یعنی ہر سچ کے پیچھے بھی ایک سچ ہوتا ہے ۔ جہاں سچ بولا جا رہا ہوتا ہے وہ پورا سچ نہیں ہوتا اس کے پیچھے لپکتا پپو یعنی سچ کو تلاش کرنا چاہیے ۔
ہم نے بزرگوں سے ایسے سنا کہ پپو، بچے ہوتے ہیں اور پوپٹ بچیاں ہوتی ہیں
جہاں تک جناب سدھو کا سوال ہے تو ان کو سکھ ہونے کی رعایت ملنی چاہیے اور یہ بھی پتہ لگانا چاہیے کہ اس بیان کے جاری کرتے وقت دن کے پورے بارہ بجے تھے یا کچھ وقت باقی تھا۔
قلم، ماشاءاللہ خوب رواں ہے آپ کا آج کل۔
مزے دار تحریر
قبلہ جعفر صاحب
ہمت افزائی کا شکریہ ۔ تحریر پوسٹ کرنے کے بعد دیر تلک میں یہی سوچتا رہا کہ کیا اعلی چول ماری ہے بلکہ میں تو اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے کے درپے تھا ۔ پھر سوچا کہ اب لکھ دیا ہے ۔ چلنے دو ۔
قلم رواں کا قصہ بھی یوں ہے کہ اب میں نے سوچا ہے کہ جب بھی ، جو حی دل میں آئے ، جیسا آئے آنکھیں بند کر کے بس چھاپ دو ۔ آخر اتنے سارے اخباری کالم نگار اپنے اخباری کالم بھنگ کا پیالہ پی لکھتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں میاں یہ کیا لکھت ہو تو ہمارے قارئین کونسا ہمیں سیارہ بدر کر دیں گے ۔ آمد کا شکریہ
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات مجھے افسوس ہوتا ہے ،کہ بعض ایسے معاشرتی کرداروں سے ملنے کی عمر میں دیار غیر میں آگیا۔۔
میرے جیسوں کو تو پپو تحاریر میں ہی ملتا ہے۔۔اور پوپٹ ہم روزانہ دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں۔۔۔خیال رہے یہ پوپٹ لڑکی ہوتی ہے۔
جناب یاسر صاحب
آپ نے جاپان میں یقیننا مجھ سے زیادہ سیکھا ہو گا اور امید ہے کہ آپ اپنے بلاگ پر اپنے تجربات شیئر کریں گے ۔ تصحیح کا شکریہ ۔ یہ پوسٹ بس یونہی لکھ ماری تھی ۔
Shoiab Safdar Ghumman
January 26, 2012 at 4:49 PM
سر پپو کا یار ہونا ضروری ہے۔ یہ معلوم نہیں یار ہونی کی شرط صرف مردوں تک محدود ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔
خیر ممکن ہے وجوت سنگھ سدھ کے یار ممنوہن صاحب ہوں اور اس ہی بات پر انہوں نے اُسے پپو قرار دے دیا ہوں۔
محمد ریاض شاہد
January 26, 2012 at 5:55 PM
جناب یہی تو معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ کل فیس بک پر ایک دلکش دوشیزہ کی تصویر کے نیچے حال دل سنانے کے ماہر جناب جعفر کا کمنٹ کچھ یوں تھا ” ماشااللہ بڑی پوپٹ بچی ہے ” ۔ لگتا ہے کہ پوپٹ کے مقام کی حد کہیں نہیں ہے بلکہ پوپٹ کا مقام ہر کہیں ہے یعنی اس لفظ کا اطلاق آپ جہاں دل چاہے ہر دلکش چیز پر کر سکتے ہیں ۔ مگر ہماری صرف استدعا یہی ہے کہ اس میں حس جمال و حد ادب کو بہر حال ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔
ویسے سدھو اپنے مزاحیہ پروگرام کی میزبانی کرتے ہوئے کچھ بولتے چالتے نہیں ، بس لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں اور بڑے پپو لگتے ہیں
سنا ہے کہ ہر پپو کے پیچھے بھی ایک پپو ہوتا ہے یعنی ہر سچ کے پیچھے بھی ایک سچ ہوتا ہے ۔ جہاں سچ بولا جا رہا ہوتا ہے وہ پورا سچ نہیں ہوتا اس کے پیچھے لپکتا پپو یعنی سچ کو تلاش کرنا چاہیے ۔
Jafar
January 26, 2012 at 9:06 PM
ہم نے بزرگوں سے ایسے سنا کہ پپو، بچے ہوتے ہیں اور پوپٹ بچیاں ہوتی ہیں
جہاں تک جناب سدھو کا سوال ہے تو ان کو سکھ ہونے کی رعایت ملنی چاہیے اور یہ بھی پتہ لگانا چاہیے کہ اس بیان کے جاری کرتے وقت دن کے پورے بارہ بجے تھے یا کچھ وقت باقی تھا۔
قلم، ماشاءاللہ خوب رواں ہے آپ کا آج کل۔
مزے دار تحریر
محمد ریاض شاہد
January 26, 2012 at 9:48 PM
قبلہ جعفر صاحب
ہمت افزائی کا شکریہ ۔ تحریر پوسٹ کرنے کے بعد دیر تلک میں یہی سوچتا رہا کہ کیا اعلی چول ماری ہے بلکہ میں تو اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے کے درپے تھا ۔ پھر سوچا کہ اب لکھ دیا ہے ۔ چلنے دو ۔
قلم رواں کا قصہ بھی یوں ہے کہ اب میں نے سوچا ہے کہ جب بھی ، جو حی دل میں آئے ، جیسا آئے آنکھیں بند کر کے بس چھاپ دو ۔ آخر اتنے سارے اخباری کالم نگار اپنے اخباری کالم بھنگ کا پیالہ پی لکھتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں میاں یہ کیا لکھت ہو تو ہمارے قارئین کونسا ہمیں سیارہ بدر کر دیں گے ۔ آمد کا شکریہ
یاسرخوامخواہ جاپانی
January 28, 2012 at 5:24 AM
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اوقات مجھے افسوس ہوتا ہے ،کہ بعض ایسے معاشرتی کرداروں سے ملنے کی عمر میں دیار غیر میں آگیا۔۔
میرے جیسوں کو تو پپو تحاریر میں ہی ملتا ہے۔۔اور پوپٹ ہم روزانہ دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں۔۔۔خیال رہے یہ پوپٹ لڑکی ہوتی ہے۔
محمد ریاض شاہد
January 28, 2012 at 3:50 PM
جناب یاسر صاحب
آپ نے جاپان میں یقیننا مجھ سے زیادہ سیکھا ہو گا اور امید ہے کہ آپ اپنے بلاگ پر اپنے تجربات شیئر کریں گے ۔ تصحیح کا شکریہ ۔ یہ پوسٹ بس یونہی لکھ ماری تھی ۔