ہمارے ہاں عموما دیکھا یہ چلن گیا ہے کہ ہم لوگ اپنے اپنائے ہوئے پیشے کے علاوہ کسی اور شعبے میں مشغلے کے طور پر بھی بہت کم دلچسپی لیتے ہیں ۔ گھر میں اتوار کی چھٹی کا دن سو کر گذارنے کے علاوہ بے معنی گپ شپ یا شکوہ شکایت میں وقت ضائع کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ گھر کا پنکھا خراب ہو گیا ہے تو میاں صاحب ملازم سے فرمائیں گے ، اچھا بازار سے الیکٹریشن کو بلا لاو ۔ وہ صاحب آ کر چیک کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ بس اے سی پاور سپلائی کی تار خراب ہو گئی تھی ٹھیک کر دی ہے ۔ تین سو روپے میرا محنتانہ ادا کر دیجئے ۔ گھر میں بیرونی دیوار کی اینٹیں اکھڑی ہوئی ہیں تو راج مزدور بلا کر روپے برباد کئے جاتے ہیں ۔ قربانی کا بکرا ذبح کر کے گوشت بنانا ہے تو جب تک قصائی سے گھر آ کر کام کرنے کا وقت نہ لے لیا جائے تو بیگم کا انگوٹھا آپ کے نرخرے پر رہتا ہے ۔ مغربی معاشروں کے باسیوں کی یہ ادا مجھے اچھی لگتی ہے کہ وہاں زیادہ تر لوگ اپنے گھر کی اشیا کی چھوٹی موٹی مرمت خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر مطلوبہ کام کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آئیندہ مستری کو بلا کر کام کروانے پر پیسے برباد نہ کرنے پڑیں ۔
ہمارے بھی ایک دوست تھے جو کچھ اسی قبیل کے تھے ۔ موصوف کو موٹر مکینکی کا شوق تھا ۔ دفتری اوقات کے علاوہ وہ فرصت میں ہم جیسے ناکارہ دوستوں کی صحبت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی پرانی جاوا موٹر سائیکل کا انجر پنجر ادھیڑ کر اسے بہتر بنانے میں مشغول رہتے تھے ۔ جب انہوں نے ایک پرانی کار خریدی تو گھر میں گڑھا کھود کر کار کے نیچے ٹھک ٹھک کرتے رہتے تھے ۔ بیوی سمیت گھر کی ہر چیز کوکارکردگی میں صف اول رکھنا ہی ان کے نزدیک اصل کام تھا ۔ ہم یہ بتانا بھول گئے کہ انہوں نے اپنی بیگم کی جہیز میں لائی کار کے ٹائر اتار کر اسے گیراج میں اینٹوں کے سہارے کھڑا کر رکھا تھا اور وہ موصوفہ خاندان کی شمالی علاقوں کی سیر پر جانے کے وقت ہی اس صلیب سے نیچے اترتی تھی ۔ اپنے علاوہ بیگم کو بھی ایک عدد پرانی کار خرید کر دی ہوئی تھی ۔ پرانی کاروں کا فائدہ یہ بتلاتے تھے کہ بازار میں بیگم اور کار پر کوئی بری نظر نہیں ڈالتا اور سڑک پر دوران سفر شورہ پشت ڈرائیور اپنی گاڑیاں ایک معقول فاصلے پر رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کسی کے گھر ملاقات سے واپسی پر بوقت رخصت بیگم گاڑی بیک کرتے ہوئے داخلی دروازے کے ستون پر مار دے تو کار سے زیادہ ستون کی مرمت کا بل بنتا ہے جو میزبان ازراہ مروت اپنی جیب سے ادا کرتا ہے ۔
ایک دن وہ ایک نئی نکور(ان کے حساب سے ) امریکن ساختہ سیکنڈ ہینڈ کار دکھانے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ بڑی سستی خریدی تھی ۔ کہنے لگے اس خریداری میں مجھے اے سی کی قیمت ادا نہیں کرنا پڑی کیونکہ خراب تھا ۔ گھر لا کر جب معائنہ کیا تو اے سی کے کنٹرول سرکٹ کی صرف ایک ڈائیوڈ خراب تھی جو ڈھائی روپے کی معمولی قیمت سے خرید کر تبدیل کر دی گئی ہے اور اب وہ مفت میں اے سی کے بُلے لوٹ رہے تھے ۔ معاملہ صرف کاروں تک محدود نہیں تھا گھر کا اے سی ، فریج اور ٹی وی وغیرہ بھی ان کی دست کاری کے ہنر سے رواں رہتا تھا ۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اچھا یہ بتاو کہ تمہارے پیچھے پڑا ہوا میرے گھر کا فریج اندازے سے کتنا پرانا ہو گا ۔ میں نے پندرہ سال کا محتاط اندازہ بتایا تو فرمانے لگے کہ چالیس سال پرانا ہے اور آج تک میرے ڈر سے ایک ایک ہفتے سے زیادہ خراب نہیں ہوا ۔
خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ مقصد تحریر یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے معمولی کام کرنا دین و دانش دونوں کا تقاضا ہے ۔ عثمانی سلاطین کے شہزادوں کی تربیت میں تحصیل علم کے علاوہ کوئی ہنر سیکھنا لازمی تھا ۔ برطانیہ کے پرنس چارلس ہنر کے لحاظ سے راج مستری ہیں ۔ ہماری تعلیم اور معاشرے کے چلن کی ایک بدقسمت یہ بھی ہے کہ یہاں ہنر اور ہنر مند کو ہیچ سمجھا جاتا ہے اور دوران تعلیم طلبا کو کسی ہنر سیکھنے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیئے جاتے ۔ خود طالبعلم بھی اس کی کوشش نہیں کرتے ہیں ۔ ایسے عالم میں پیشہ ور حضرات کے ہاں بھی کاہلی در آتی ہے اور وہ خود سے اپنے نظام میں بہتری کی کوشش نہیں کرتے بلکہ لگے بندھے آسان رستے پر رواں رہتے ہیں ۔
کئی برس گذرے میں جس ادارے میں ملازمت کرتا تھا اس میں امریکن ساختہ کیٹر پلر کمپنی کے جنریٹر استعمال ہوتے تھے ۔ جنریٹر کارکردگی میں تو اچھے تھے لیکن کچھ عرصہ جم کر چلنے کے بعد ان جنریٹر کے وولٹیج ریگولیٹر سرکٹ بورڈ خراب ہونا شروع ہو گئے ۔ یہ خراب سرکٹ بورڈ ادارے کی ورکشاپ میں جمع ہو کر ڈھیر کی صورت میں اختیار کر گئے ۔ جب ان بورڈز کی تعداد قابل برداشت حد سے زیادہ ہوگئی تو مینیجمنٹ نے کیٹر پلر کمپنی کے مقامی پاکستانی نمائندے سے رجوع کیا ۔ نمائیندہ صاحب فرمانے لگے کہ یہ سرکٹ تو سخت پلاسٹک کے مادے میں سیل بند ہیں ان کی مرمت کا پاکستان میں کوئی انتظام نہیں ۔ اب ان کی یا تو نئے کارڈز کے ساتھ بدلی ہو گی یا پھر خراب کارڈز برائے مرمت امریکہ بھیجے جائیں گے ۔ دونوں صورتوں میں اخراجات کا تخمینہ ڈالروں کی صورت میں ہوش ربا تھا ۔ ادارے نے یہ بلا اپنے انجنیئرز کے سر ڈال دی کہ ایک مہینے کے اندر اندر اس صورتحال کا کوئی ایسا حل نکالیں کہ ڈالر بھی نہ خرچ کرنے پڑیں اور جنریٹر بھی دوبارہ قابل استعمال ہو جائیں ورنہ ملازمت سے چھٹی ۔
انجنیئر نے یہ ماجرا دیکھا تو فکر پڑ گئی ورنہ اس سے پہلے تو یہ عالم تھا کہ کچھ اضافی وولٹیج ریگولیٹر خرید کر سٹور میں رکھے ہوئے تھے اور کسی ایک آدھ کارڈ کی خرابی کی صورت میں متبادل بڑے آرام سے سٹور سے حاصل کر کے لگا دیا جاتا تھا یا امریکہ سے آرڈر دے کر منگوا لیا جاتا تھا ۔ اب اس ڈھیر کو دیکھ کر ہڈ حرامی کے چھکے چھوٹ رہے تھے ۔ ہمت کر کے ایک صاحب نے ایک کارڈ لے کر اس کی اوپری پلاسٹک کی تہ جس میں سرکٹ بورڈ ملفوف تھا تیزاب میں ڈال کر پگھلانے کی کوشش کی تاکہ اصل پرزے عریاں ہو سکیں مگر پورا کارڈ تیزاب میں اس طرح تحلیل ہوا جیسے گرم چائے میں پاپا ۔ چودہ پندرہ دن کے اسی طرح کے مختلف صبر آزما تجربات کے بعد آخر کار پرزوں کے سرکٹ بورڈ کو سامنے لانے میں کامیاب ہو گئے ۔ جب سرکٹ بورڈ کی خرابی کو ڈھونڈنے کی غرض سے ٹیسٹ کیا گیا تو سب حیرت کے مارے دنگ رہ گئے ۔ سرکٹ کی خرابی کی وجہ ایک چھوٹی سی چپ یا ٹرپل فائیو نامی آئی سی تھی جس کی قیمت مقامی بازار میں اس وقت پانچ روپے تھی ۔ پھر کیا تھا ایک ہفتے کے اندر سب سرکٹ دھڑا دھڑ ٹھیک کر کے پلاسٹر آف پیرس کی کوٹنگ میں ملفوف ہو کر قابل استعمال بنا دیے گئے اور انجنیئرز کی نوکری شاباش کے ساتھ پکی ہو گئی ۔
آج میرے ایک دوست کسی انجینئر کا تذکرہ کر رہے تھے جو پاکستان کی کسی حساس تنصیب کی دیکھ بھال پر مامور تھے ۔ پلانٹ پر کوئی پُلی نما مکینیکل پرزہ ٹوٹ کر خراب ہو گیا تھا اور باوجود تلاش و بسیار عالمی منڈی سے حاصل نہیں ہو سکا تھا چنانچہ پلانٹ بند پڑا تھا ۔ یہ انجنیئر صاحب اپنے کام سے عشق کے معاملے میں صادق تھے ۔ سوچ سوچ کر انہوں نے اپنی پرانی مرسڈیز کار میں سے پلانٹ کے خراب پرزے سے ملتی جلتی پُلی نکالی ۔ مقامی خرادے کے پاس جا کر کچھ ترمیم اضافہ کروایا اور لا کر پلانٹ میں فٹ کر دیا اور پلانٹ چالو ہو گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ جس صبح جناب وزیر اعظم پاکستان نے پلانٹ کے دورے پر آنا تھا اس دن یہ صاحب گھسا پرانا اورآل بمعہ ہوائی چپل پہنے گھوم رہے تھے اور انہیں بمشکل واپس گھر بھیجا گیا کہ جناب وزیر اعظم صاحب کی تعظیم میں صرف آج اگر وہ ساتھ ستھرا لباس بمعہ بند بوٹ پہن لیں گے تو انتظامیہ اور قوم پر ان کا احسان عظیم ہو گا ۔
سچ پوچھیئے تو میں نے کامیاب لوگوں ایک عادت بہت مشترک پائی ہے کہ اپنے کام سے عشق کے علاوہ ان کی دلچسپی کا دائرہ دوسرے شعبوں تک بھی پھیلا ہوا تھا ۔ اگر آپ میرا حال پوچھتے ہیں تو مت پوچھیں بلکہ فیض احمد فیض کی زبانی صرف اتنا ہی کہ سکتے ہیں کہ
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Like this:
Be the first to like this post.
نبیل
January 26, 2012 at 6:41 PM
اللہ تعالی نے ہر ایک کو مختلف ٹیلنٹ دیا ہے۔ اب یہ فرد پر منحصر ہے کہ وہ اس ٹیلنٹ کو کتنا استعمال کرتا اور نکھارتا ہے۔ دوسرے شعبوں میں دلچسپی اچھی بات ہے، لیکن کم از کم اپنی فیلڈ میں مہارت اور کمال ضرور حاصل کرنا چاہیے۔
محمد ریاض شاہد
January 29, 2012 at 2:16 PM
کسب کمال کن کہ عزیز از جہاں شوی
نبیل
January 26, 2012 at 6:48 PM
بائی دا وے میں آپ کے بلاگ پر اردو ایڈیٹر بکمارکلٹ کے ذریعے اردو میں تبصرہ کرتا ہوں۔ آپ چاہیں تو دوسروں کی رہنمائی کے لیے اپنے بلاگ کی سائیڈ بار پر اس کا ربط دے سکتے ہیں۔
http://www.urduweb.org/blog/2011/07/275
محمد ریاض شاہد
January 29, 2012 at 3:20 PM
نبیل صا حب مجوزہ اردو ایڈیٹر بکمارکلٹ کا لنک شامل کر دیا ہے ۔ کی بورڈ کو کلک کرنے سے ایڈیٹر کا صفحہ کھل جاتا ہے ۔
Jafar
January 26, 2012 at 9:01 PM
دلچسپ لکھا ہے
aniqa
January 26, 2012 at 11:12 PM
ہمم، یہ تو آپ نے مرد حضرات کے بارے میں لکھا ہے۔ میرے شوہر صاحب اسی کٹیگری میں آتے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے انجینیئر ہیں اور ہمارے گھر میں ہر قسم کے اوزار موجود ہونگے۔ گھر میں کوئ چیز انجینیئرنگ کے نمونوں کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
خواتین اگر کچھ پڑھ لکھ جائیں تو اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ بس پتہ نہیں کیا توپ چیز بن گئ ہیں۔ گھر کے کام تو حقیر ترین قرار پاتے ہی ہیں اسکے علاوہ بھی کسی اور مشغلے میں وقت نہیں لگاتیں۔ اس لئے جب لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ میں اپنے ہی نہیں اپنی بچی کے کپڑے بھی خود سیتی ہوں، گھر میں کھانا ہی نیں بناتی بلکہ روزانہ کی ڈبل روٹی تک شوق سے بناتی ہوں تو انہیں ذرا جھٹکا لگتا ہے۔ بچوں کے کپڑے تو ریڈی میڈ بہت ملتے ہیں کسی نے ہم سے کہا آپ اتنا وقت کیوں لگاتی ہیں۔ اس لئے کہ مجھے انکا میٹیریئل ، ڈیزائن اور قیمت پسند نہیں آتی۔ جس قیمت میں خالص ریشم اور سوتی کپڑا مل جائے اس قیمت میں مصنوعی کپڑا کیوں پہنائیں۔ سوائے مغربی کپڑوں کے میں خود کپڑے سیتی ہوں اس لئے انکے پاس کپڑوں کا ذخیرہ رہتا ہے جس پہ میری لاگت بازار سے کہیں کم ہوتی ہے۔ کبھی کبھی چیزیں خراب بھی ہو جاتی ہیں۔ اور وہ نہیں بنتا جو ہم چاہتے ہیں لیکن اس سے بھی کچھ علم میں اضافہ ہوتا ہے البتہ کچھ حیرانی کا اظہار کرتے ہیں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی آپ یہ سب کرتی ہیں۔ لفظ شوق سے انکی تسلی نہیں ہوتی۔ اس راز کو صرف میرے شوہر صاحب ہی سمجھ پاتے ہیں۔
اس سال میرا پروگرام ہے کہ اپنی بچی کے کمرے میں خود پینٹ کر کے دیوار پہ ڈیزائین بناءونگی۔ اسکے لئے نیٹ سے مدد لینی ہوگی، لیکن یہ ایک دلچسپ کام رہے گا۔
مشغلہ انسان کو مصروف رکھتا ہے اور تخلیقی مشغلہ اسے خوش باش رکھتا ہے۔
محمد ریاض شاہد
January 27, 2012 at 10:07 PM
بہت خوب یعنی آپ دونوں ہی ایک جیسے ہیں اس طرح مقابلہ خوب رہتا ہو گا
۔ ۔ مجھے بھی بچوں کے بنے بنائے کپڑے پسند نہیں آتے اس لئے گھر کی سلائی مشین اور بیگم زندہ باد ۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ مفید مشغلہ آپ کو نہ صرف جوانی میں خوش باش رکحتا ہے بلکہ بڑھاپے میں جب بوڑھے فرد کے قریب کوئی بھی نہیں پھٹکتا شام کے اس جھٹپٹے میں نفسیاتی سہارا دیا رکھتا ہے ۔
Ali Hasaan
January 27, 2012 at 7:27 PM
بہت اچھے۔ ویسے بھی کام کرتے ہماری قوم کو اکثر “موت” پڑتی ہے
محمد ریاض شاہد
January 27, 2012 at 10:21 PM
ایک ہی کام ایک وقت میں خوشی اور دوسرے وقت پیشہ بن جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر طارق رحمن کی شارٹ سٹوری ” ورک ” خوبصورت تحریر ہے ۔ ان کی کتاب ” ورک اینڈ ادر شارٹ سٹوریز ” نوے کی دہائی میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ کتاب امیزان پر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں ۔
یاسرخوامخواہ جاپانی
January 28, 2012 at 5:32 AM
عمدہ لکھنے والا قاری کو کھینچ کے لے آتا ہے۔
جناب بہت اعلی
محمد ریاض شاہد
January 28, 2012 at 3:47 PM
عمدہ تو پتا نہیں ، لیکن اگر آپ کو پسند آیا ہے تو یہ میری عزت افزائی ہے
ضیاءالحسن خان
January 28, 2012 at 7:57 PM
MAIN AKSAR FARIGH TIME MAIN “Soona” BANATA HOUN
محمد ریاض شاہد
January 28, 2012 at 9:21 PM
اسی لیئے سونے کی طلب و قیمت بڑھ رہی ہے ۔