افغان باقی
کچھ عرصہ قبل نیٹ گردی کرتے ہوئے ایک کتاب جس کا نام ”AMONG THE WILD TRIBES OF THE AFGHAN FRONTIER ” ہے ڈانلوڈ کی ہے ۔ اس کا مصنف ڈاکٹر تھیوڈر لیٹن پینل نامی ایک انگریز مشنری طبیب تھا جو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے سلسلے میں سن 1893 کے آس پاس بنوں شہر کے مشنری ہسپتال میں کئی سال مقیم رہا تھا ۔ اپنے تبلیغی کام کے سلسلے میں وہ قبائلی علاقہ جات کے طول و عرض میں بلا خوف و خطر بغیر کسی مسلح محافظ کے گھومتا تھا ۔ بعد میں اس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل مذکورہ بالا کتاب لکھی اور اس کتاب میں قبائلی جنہیں وہ افغان کہتا ہے ، ان کے عادات و خصائل کا تذکرہ تفصیل سے کرتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں ۔
مشرق ایک تضاد کا نام ہے اور افغانوں کا کردار اس بیان کی صحیح عکاسی کرتا ہے ۔ ان کے کردار میں بیک وقت بہادری ، عیاری و دغابازی ، وفاداری ، مذہبی کٹڑ پن ، لالچ ، حرص ، مہمان نوازی اور چوری سے محبت آپس میں یوں گندھی ہوئی ہیں کہ ان اجزا کو الگ الگ کر کے کسی افغان کی شخصیت کا تجزیہ کرنا بہت مشکل کام ہے ۔
دو الفاظ ہر افغان کی زبان پر ہر وقت بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایک عزت اور دوسرا شرم ۔ لیکن لفظ عزت سے کیا مراد ہے اگر کسی افغان سے پوچھیں گے تو شاید وہ بھی اس کا مطلب واضح طور پر نہ بیان کر سکے ۔ چنانچہ بعض اوقات عزت کا مطلب اپنے کسی عزیز کے قتل کا انتقام فریق مخالف کے خاندان کے کئی افراد قتل کر کے لینا ہوتا ہے تو دوسری جگہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سرکاری تقریب میں اس کی نشست اس کے کسی دشمن سردار کے مقابلے میں قدرے نیچی جگہ پر تھی ۔
انتقام کا کلچر وہ عفریت ہے جس نے افغانوں کی زندگی کی جڑیں تک کھود ڈالی ہیں اور یہ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک افغانوں کا نقطہ نظر انتقام کی اندھی روایت کے متعلق بدل نہیں جاتا ۔ افغانوں کے بعض اشراف خاندان اس انتقام کی آگ میں جل کر اب تقریبا عنقا ہونے کے قریب ہیں ۔
افغانوں کی نظر میں وہی افسر طاقتور ٹھہرتا ہے جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے سختی سے پیش آئے ، جس کی بہادری مسلمہ ہو اور جو ایک دفعہ فیصلہ کرنے کے بعد اپنا قدم واپس نہ اٹھائے ۔ ایسے افسر کے زیر قیادت یہ اس حد تک وفادار رہتے ہیں کہ آگ و خون کے دریا میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ اگر کوئی افسر نرم ہے تو یہ اس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوتے ہیں اور مضبوط افسر کے ہاتھ میں یہ ریشم کے تھان طرح نرم ہوتے ہیں ۔
دھوکہ دہی افغان کردار کا یک نمایاں پہلو ہے اور جو اجنبی لوگ ان کے اس پہلو سے آگاہ نہیں ہوتے وہ ان سے شکست کھا جاتے ہیں ۔ دھوکہ دہی سے طاقت کے حصول کے بعد یہ جابر حکمران ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اس طاقتور فریق کے ساتھ وفاداری بھی نبھاتے ہیں جو ان کا حاکم بن جاتا ہے ۔
ایک دفعہ ایک انگریز پولیٹیکل افسر افغانوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر بیٹھا بات چیت کر رہا تھا ۔ اس پہاڑی کے ایک طرف افغانستان اور دوسری طرف انڈیا نظر آ رہا تھا ۔ یہ افغان اس افسر کے اپنے علاقہ میں ایک طویل قیام کی وجہ سے اعتماد کرتے تھے اور اپنے قبیلے کے بعض اہم راز بھی اسے بتلا دیتے تھے ۔ اس افسر نے ان افغانوں سے پوچھا کہ یہ بتلاو کہ اگر انگریزوں اور روسیوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے ؟ ۔
ان افغانوں نے پوچھا کہ آپ کیا ہم سے سچ سننا چاہتے ہیں یا وہ جواب جو آپ کو پسند آئے ؟ ۔
وہ جو سچ ہے وہ بتاو ۔ اس افسر نے جواب دیا ۔
تو انہوں نے کہا ، کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ہم اپنے ان پہاڑوں پر بیٹھ کر آپ دونوں کے لڑنے کا تماشہ دیکھیں گے اور جو کوئی شکست کھائے گا ہم پہاڑوں سے اتر کر اس کا سب کچھ لوٹ لیں گے حتی کہ کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ اللہ اکبر ہمارے لئے وہ کیا خوشی کا وقت ہو گا۔
ان افغانوں نے سچ کہا تھا لیکن یہ بھی سچ اور افغانوں کا تاریخی کردار ہے کہ مال غنیمت ابھی پوری طرح جمع بھی نہیں ہوتا کہ یہ اس کی تقسیم کے معاملے پر ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑناشروع کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کا حسد اور لڑائیاں افغان کردار کا بنیاد جزو ہیں اور یہ اس وقت ہی متحد ہوتے ہیں جب ان کا دشمن مشترکہ ہو اور پھر دشمن کا خطرہ دور ہوتے ہی لڑائی پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔ اپنی اس عادت کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اصل میں ان کے اسلاف میں سے ایک بزرگ نے اپنے کسی عمل سے اللہ تعالی کو ناراض کیا تھا اور اللہ نے سزا کے طور پر یہ بدی ان پر مسلط کر دی تھی کہ وہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانوں میں امن اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک جنگ نہ ہو رہی ہو ۔
Like this:
Be the first to like this post.
Tags: tribes, wild tribes of the afghan frontier
یاسرخوامخواہ جاپانی
January 24, 2012 at 8:50 AM
اور اب یہ ساری عادات پاکستانیوں میں جمع ہیں۔۔۔
محمد ریاض شاہد
January 24, 2012 at 11:08 PM
پاکستانیوں کی عزت افزائی کا شکریہ ۔ تو کیا خیال ہے جاپانیوں کے موضوع کمفرٹ وومن پر نہ کچھ لکھ دوں ۔
Ali Hasaan
January 24, 2012 at 8:06 PM
آپ کے لائن کے شروع کے الفاط پورے نہیں آتے
محمد ریاض شاہد
January 24, 2012 at 11:05 PM
جی ہاں یہ کروم براوزر کی کارستانی ہے ۔ فائر فاکس میں ٹھیک دکھتا ہے