پچھلی پوسٹ میں ذکر ہوا تھا کہ انسان اسرار سے ہمیشہ محبت کرتا رہا ہے ۔ میرے لئے اس کائنات میں انسان خود سے ایک دلچسپ چیز ہے ۔ میں اپنے بچپن سے جاننا چاہتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہوتے ہیں ، ایک جیسے ماحول میں پرورش پانے والے دو بھائی متضاد طبیعتوں کے مالک کیوں کر بن جاتے ہیں ۔ ایک ڈاکو کو ڈاکو معاشرہ بناتا ہے یا خرابی کی جڑیں اس کی اپنی شخصیت میں دور پاتال تک کہیں پھیلی ہوتی ہیں ۔ ہمارے گھر میں والد صاحب کو مخفی علوم سے کچھ دلچسپی تھی ۔ چنانچہ گھر میں ہر طرف علم نجوم ، نفسیات و ما بعد نفسیات اور الا بلا قسم کی کتابیں رلتی رہتی تھیں ۔ ان سب علوم میں سے مجھے علم دست شناسی پسند آیا کیونکہ اس میں آپ کو علم نفسیات کی طرح معمول کو طویل ٹیسٹوں سے گزارنا نہیں پڑتا ، علم نجوم کی طرح مخاطب کی بالکل درست تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش جاننے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ مخاطب اگر بے دھیانی میں میز پر ہاتھ پھیلائے لن ترانی کر رہا ہے تو دست شناسی کی مدد سے آپ ایک دو منٹ میں جان جاتے ہیں کہ موصوف کو کس خانے میں فٹ کیا جائے ۔
دست شناسی سیکھنے کی طلب مجھے لاہور میں معظم خان تک لے گئی ۔ معظم خان کو پامسٹری سے عشق تھا وہ نہ صرف پامسٹری کے ہندو سکول آف تھاٹ اور یورپین سکول آف تھاٹ پر عبور رکھتے تھے بلکہ سکن پیٹرنز کے علم کا مطالعہ انہوں نے ماسکو یونیورسٹی سے کیا تھا ۔ جو کہ پاکستان میں بہر حال ایک نئی چیز تھی ۔ دست شناسی کی مدد سے اولاد کی پیشین گوئی کے موضوع پر پر معظم صاحب نے کہا کہ ا اس سلسلے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کی جا سکتی اور ابھی یہ غور طلب مسئلہ ہے البتہ ایک چینی چارٹ کا ذکر کیا جو بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ” فلسفہ تقدیر اور دست شناسی ” میں شائع کیا ۔ اس چارٹ کو کی مدد سے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کسی خاتون کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی مگر شرط یہ ہے کہ یہ ضروری معلوم ہو کہ خاتون جب حاملہ ہوئی تھی تب اس کی عمر کیا تھی اور اس نے کس مہینے میں کنسیو کیا تھا ۔
کل یہ بات یاد آئی تو میں نے نیٹ پر یہ چارٹ تلاش کیا ۔ نیٹ پر موجود چارٹ معظم کی کتاب کے چارٹ سے تو مختلف ہے اور ان چارٹس کی کوئی سائنسی توجیہ بھی نہیں ہے البتہ دلچسپی کی چیز ہے ۔
ایک دفعہ میں نے دوران گفتگو اپنی مسجد کے خطیب صاحب سے اس کا ذکر کیا تو فرمانے لگے کہ ہمارے استاد صاحب نے بھی ہمیں اس سلسلے میں ٹوٹکا بتایا تھا کہ حاملہ عورت کی آنکھوں میں دیکھو ۔ اگر اس کے پیٹ میں موجود بچہ لڑکا ہے تو وہ آپ سے دیر تک نظر ملائے گی اور اگر لڑکی ہے تو فورا نظریں جھکا لے گی ۔ واللہ اعلم

بچے کی جنس کا تعین کرنے کا چینی چارٹ

Ali Hasaan
January 22, 2012 at 11:28 PM
واہ جی واہ
بڑی مزے کی چیز بتائی۔
معظم صاحب سے ملاقاتوں پر مزید کچھ تحریر کریں
Naeem
January 22, 2012 at 11:41 PM
چنا چاٹ نما کسی چیز کے چکر میں آیا تھا۔۔۔ بچہ چارٹ پڑھ کر جا رہا ہوں۔۔۔ وقت کا زیاں بہرحال نہیں تھا۔۔۔ قلیل عرصے میں دوسری پوسٹ ہے آپکی، امید کرتا ہوں کہ لکھتے رہیں گے۔۔۔
aniqa
January 22, 2012 at 11:41 PM
اتفاق کی بات ہے کہ مجھے بھی دست شناسی سے خاصی دلچسپی ہے۔ بلکہ ایک دفعہ اس سے کچھ پیسے بنائے بھی۔ فائدہ اسکا یہ آپ نے درست بتایا کہ کوئ شخص آپکے سامنے ہاتھ پھیلائے اپنی ہی باتیں کر رہا ہو لیکن آپ اسکے متعلق کام کی باتیں جان جاتے ہیں۔ چینی بڑے وہمی ہوتے ہیں اس قسم کے علوم پہ انہوں نے کافی کام کیا ہے۔ لیکن آخر میں ایک بات جو سمجھ آتی ہے انسان جو کرنا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔
محمد ریاض شاہد
January 22, 2012 at 11:46 PM
علی حسن صاحب کیا آپ معظم صاحب کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یا پامسٹری کے بارے میں ؟ معظم صاحب آجکل صدیق ٹریڈ سنٹر لاہور میں بیٹھتے ہیں ۔ اب آکر انہوں نے دست شناسی سے زیادہ علم نجوم پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ دست شناسی کا یورپین سکول آف تھاٹ سائنس کے زیادہ قریب ہے ہے یہ انسانی شخصیت کے بارے میں تو درست بتاتا ہے مگر اس میں پیشین گوئی کی صلاحیت محدود ہے اور اسی وجہ سے علم نجوم کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ میں بہر حال دست شناسی کو تجزیہ شخصیت کے لئے ہی استعمال کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔
محمد ریاض شاہد
January 22, 2012 at 11:52 PM
نعیم صاحب وہ چنا چاٹ والی کوئی بات آپ اپنی بلاگ پوسٹ میں لکھیں گے تو شاید مجھے بھی کچھ ایسا یاد آ جائے
محمد ریاض شاہد
January 22, 2012 at 11:54 PM
محترمہ عنیقہ صاحبہ
یہ تو بہت خوب بات ہے کہ آپ کو بھی دلچسپی ہے دست شناسی سے ۔ کبھی کچھ شیئر کیجئے گا دلچسپ بات
Jafar
January 23, 2012 at 9:56 PM
تو اگر الٹرا ساونڈ کرالیا جائے تو وہ بہتر نہیں رہتا
محمد ریاض شاہد
January 23, 2012 at 10:40 PM
جی بالکل بہتر رہتا ہے لیکن الٹرا ساونڈ بھی تقریبا پندرہ ہفتوں کی پریگننسی کے بعد ہی بچے کی سیکس بتا سکتا ہے ۔ اس سے پہلے ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں اور یہ چارٹ بھی شاید طویل اندازوں پر مبنی ہے ۔ اس چارٹ کو آپ اس طرح بھی لے سکتے ہیں کہ وہ کون سے مہینے ہیں جن میں بچے یا بچی کی خواہش رکھنے والے جوڑے زیادہ پر امید ہو سکتے ہیں ۔ ویسے اس چارٹ کا تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ۔ کچھ شغل رہے گا