Monthly Archives: January 2012
جو عشق کو کام سمجھتے ہیں
ہمارے ہاں عموما دیکھا یہ چلن گیا ہے کہ ہم لوگ اپنے اپنائے ہوئے پیشے کے علاوہ کسی اور شعبے میں مشغلے کے طور پر بھی بہت کم دلچسپی لیتے ہیں ۔ گھر میں اتوار کی چھٹی کا دن سو کر گذارنے کے علاوہ بے معنی گپ شپ یا شکوہ شکایت میں وقت ضائع کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ گھر کا پنکھا خراب ہو گیا ہے تو میاں صاحب ملازم سے فرمائیں گے ، اچھا بازار سے الیکٹریشن کو بلا لاو ۔ وہ صاحب آ کر چیک کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ بس اے سی پاور سپلائی کی تار خراب ہو گئی تھی ٹھیک کر دی ہے ۔ تین سو روپے میرا محنتانہ ادا کر دیجئے ۔ گھر میں بیرونی دیوار کی اینٹیں اکھڑی ہوئی ہیں تو راج مزدور بلا کر روپے برباد کئے جاتے ہیں ۔ قربانی کا بکرا ذبح کر کے گوشت بنانا ہے تو جب تک قصائی سے گھر آ کر کام کرنے کا وقت نہ لے لیا جائے تو بیگم کا انگوٹھا آپ کے نرخرے پر رہتا ہے ۔ مغربی معاشروں کے باسیوں کی یہ ادا مجھے اچھی لگتی ہے کہ وہاں زیادہ تر لوگ اپنے گھر کی اشیا کی چھوٹی موٹی مرمت خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر مطلوبہ کام کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آئیندہ مستری کو بلا کر کام کروانے پر پیسے برباد نہ کرنے پڑیں ۔
ہمارے بھی ایک دوست تھے جو کچھ اسی قبیل کے تھے ۔ موصوف کو موٹر مکینکی کا شوق تھا ۔ دفتری اوقات کے علاوہ وہ فرصت میں ہم جیسے ناکارہ دوستوں کی صحبت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی پرانی جاوا موٹر سائیکل کا انجر پنجر ادھیڑ کر اسے بہتر بنانے میں مشغول رہتے تھے ۔ جب انہوں نے ایک پرانی کار خریدی تو گھر میں گڑھا کھود کر کار کے نیچے ٹھک ٹھک کرتے رہتے تھے ۔ بیوی سمیت گھر کی ہر چیز کوکارکردگی میں صف اول رکھنا ہی ان کے نزدیک اصل کام تھا ۔ ہم یہ بتانا بھول گئے کہ انہوں نے اپنی بیگم کی جہیز میں لائی کار کے ٹائر اتار کر اسے گیراج میں اینٹوں کے سہارے کھڑا کر رکھا تھا اور وہ موصوفہ خاندان کی شمالی علاقوں کی سیر پر جانے کے وقت ہی اس صلیب سے نیچے اترتی تھی ۔ اپنے علاوہ بیگم کو بھی ایک عدد پرانی کار خرید کر دی ہوئی تھی ۔ پرانی کاروں کا فائدہ یہ بتلاتے تھے کہ بازار میں بیگم اور کار پر کوئی بری نظر نہیں ڈالتا اور سڑک پر دوران سفر شورہ پشت ڈرائیور اپنی گاڑیاں ایک معقول فاصلے پر رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کسی کے گھر ملاقات سے واپسی پر بوقت رخصت بیگم گاڑی بیک کرتے ہوئے داخلی دروازے کے ستون پر مار دے تو کار سے زیادہ ستون کی مرمت کا بل بنتا ہے جو میزبان ازراہ مروت اپنی جیب سے ادا کرتا ہے ۔
ایک دن وہ ایک نئی نکور(ان کے حساب سے ) امریکن ساختہ سیکنڈ ہینڈ کار دکھانے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ بڑی سستی خریدی تھی ۔ کہنے لگے اس خریداری میں مجھے اے سی کی قیمت ادا نہیں کرنا پڑی کیونکہ خراب تھا ۔ گھر لا کر جب معائنہ کیا تو اے سی کے کنٹرول سرکٹ کی صرف ایک ڈائیوڈ خراب تھی جو ڈھائی روپے کی معمولی قیمت سے خرید کر تبدیل کر دی گئی ہے اور اب وہ مفت میں اے سی کے بُلے لوٹ رہے تھے ۔ معاملہ صرف کاروں تک محدود نہیں تھا گھر کا اے سی ، فریج اور ٹی وی وغیرہ بھی ان کی دست کاری کے ہنر سے رواں رہتا تھا ۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اچھا یہ بتاو کہ تمہارے پیچھے پڑا ہوا میرے گھر کا فریج اندازے سے کتنا پرانا ہو گا ۔ میں نے پندرہ سال کا محتاط اندازہ بتایا تو فرمانے لگے کہ چالیس سال پرانا ہے اور آج تک میرے ڈر سے ایک ایک ہفتے سے زیادہ خراب نہیں ہوا ۔
خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ مقصد تحریر یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے معمولی کام کرنا دین و دانش دونوں کا تقاضا ہے ۔ عثمانی سلاطین کے شہزادوں کی تربیت میں تحصیل علم کے علاوہ کوئی ہنر سیکھنا لازمی تھا ۔ برطانیہ کے پرنس چارلس ہنر کے لحاظ سے راج مستری ہیں ۔ ہماری تعلیم اور معاشرے کے چلن کی ایک بدقسمت یہ بھی ہے کہ یہاں ہنر اور ہنر مند کو ہیچ سمجھا جاتا ہے اور دوران تعلیم طلبا کو کسی ہنر سیکھنے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیئے جاتے ۔ خود طالبعلم بھی اس کی کوشش نہیں کرتے ہیں ۔ ایسے عالم میں پیشہ ور حضرات کے ہاں بھی کاہلی در آتی ہے اور وہ خود سے اپنے نظام میں بہتری کی کوشش نہیں کرتے بلکہ لگے بندھے آسان رستے پر رواں رہتے ہیں ۔
کئی برس گذرے میں جس ادارے میں ملازمت کرتا تھا اس میں امریکن ساختہ کیٹر پلر کمپنی کے جنریٹر استعمال ہوتے تھے ۔ جنریٹر کارکردگی میں تو اچھے تھے لیکن کچھ عرصہ جم کر چلنے کے بعد ان جنریٹر کے وولٹیج ریگولیٹر سرکٹ بورڈ خراب ہونا شروع ہو گئے ۔ یہ خراب سرکٹ بورڈ ادارے کی ورکشاپ میں جمع ہو کر ڈھیر کی صورت میں اختیار کر گئے ۔ جب ان بورڈز کی تعداد قابل برداشت حد سے زیادہ ہوگئی تو مینیجمنٹ نے کیٹر پلر کمپنی کے مقامی پاکستانی نمائندے سے رجوع کیا ۔ نمائیندہ صاحب فرمانے لگے کہ یہ سرکٹ تو سخت پلاسٹک کے مادے میں سیل بند ہیں ان کی مرمت کا پاکستان میں کوئی انتظام نہیں ۔ اب ان کی یا تو نئے کارڈز کے ساتھ بدلی ہو گی یا پھر خراب کارڈز برائے مرمت امریکہ بھیجے جائیں گے ۔ دونوں صورتوں میں اخراجات کا تخمینہ ڈالروں کی صورت میں ہوش ربا تھا ۔ ادارے نے یہ بلا اپنے انجنیئرز کے سر ڈال دی کہ ایک مہینے کے اندر اندر اس صورتحال کا کوئی ایسا حل نکالیں کہ ڈالر بھی نہ خرچ کرنے پڑیں اور جنریٹر بھی دوبارہ قابل استعمال ہو جائیں ورنہ ملازمت سے چھٹی ۔
انجنیئر نے یہ ماجرا دیکھا تو فکر پڑ گئی ورنہ اس سے پہلے تو یہ عالم تھا کہ کچھ اضافی وولٹیج ریگولیٹر خرید کر سٹور میں رکھے ہوئے تھے اور کسی ایک آدھ کارڈ کی خرابی کی صورت میں متبادل بڑے آرام سے سٹور سے حاصل کر کے لگا دیا جاتا تھا یا امریکہ سے آرڈر دے کر منگوا لیا جاتا تھا ۔ اب اس ڈھیر کو دیکھ کر ہڈ حرامی کے چھکے چھوٹ رہے تھے ۔ ہمت کر کے ایک صاحب نے ایک کارڈ لے کر اس کی اوپری پلاسٹک کی تہ جس میں سرکٹ بورڈ ملفوف تھا تیزاب میں ڈال کر پگھلانے کی کوشش کی تاکہ اصل پرزے عریاں ہو سکیں مگر پورا کارڈ تیزاب میں اس طرح تحلیل ہوا جیسے گرم چائے میں پاپا ۔ چودہ پندرہ دن کے اسی طرح کے مختلف صبر آزما تجربات کے بعد آخر کار پرزوں کے سرکٹ بورڈ کو سامنے لانے میں کامیاب ہو گئے ۔ جب سرکٹ بورڈ کی خرابی کو ڈھونڈنے کی غرض سے ٹیسٹ کیا گیا تو سب حیرت کے مارے دنگ رہ گئے ۔ سرکٹ کی خرابی کی وجہ ایک چھوٹی سی چپ یا ٹرپل فائیو نامی آئی سی تھی جس کی قیمت مقامی بازار میں اس وقت پانچ روپے تھی ۔ پھر کیا تھا ایک ہفتے کے اندر سب سرکٹ دھڑا دھڑ ٹھیک کر کے پلاسٹر آف پیرس کی کوٹنگ میں ملفوف ہو کر قابل استعمال بنا دیے گئے اور انجنیئرز کی نوکری شاباش کے ساتھ پکی ہو گئی ۔
آج میرے ایک دوست کسی انجینئر کا تذکرہ کر رہے تھے جو پاکستان کی کسی حساس تنصیب کی دیکھ بھال پر مامور تھے ۔ پلانٹ پر کوئی پُلی نما مکینیکل پرزہ ٹوٹ کر خراب ہو گیا تھا اور باوجود تلاش و بسیار عالمی منڈی سے حاصل نہیں ہو سکا تھا چنانچہ پلانٹ بند پڑا تھا ۔ یہ انجنیئر صاحب اپنے کام سے عشق کے معاملے میں صادق تھے ۔ سوچ سوچ کر انہوں نے اپنی پرانی مرسڈیز کار میں سے پلانٹ کے خراب پرزے سے ملتی جلتی پُلی نکالی ۔ مقامی خرادے کے پاس جا کر کچھ ترمیم اضافہ کروایا اور لا کر پلانٹ میں فٹ کر دیا اور پلانٹ چالو ہو گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ جس صبح جناب وزیر اعظم پاکستان نے پلانٹ کے دورے پر آنا تھا اس دن یہ صاحب گھسا پرانا اورآل بمعہ ہوائی چپل پہنے گھوم رہے تھے اور انہیں بمشکل واپس گھر بھیجا گیا کہ جناب وزیر اعظم صاحب کی تعظیم میں صرف آج اگر وہ ساتھ ستھرا لباس بمعہ بند بوٹ پہن لیں گے تو انتظامیہ اور قوم پر ان کا احسان عظیم ہو گا ۔
سچ پوچھیئے تو میں نے کامیاب لوگوں ایک عادت بہت مشترک پائی ہے کہ اپنے کام سے عشق کے علاوہ ان کی دلچسپی کا دائرہ دوسرے شعبوں تک بھی پھیلا ہوا تھا ۔ اگر آپ میرا حال پوچھتے ہیں تو مت پوچھیں بلکہ فیض احمد فیض کی زبانی صرف اتنا ہی کہ سکتے ہیں کہ
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آڑے آتا رہا
اور عشق سے کام الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
پپو اور پوپٹ
میرے بچپن کے زمانے میں سائیکل ایک قابل عزت سواری سمجھی جاتی تھی جس کو حاصل کرنے کی تمنا تقریبا ہر طالبعلم کے دل جاگزیں ہوتی تھی ۔ پرنسپل و پروفیسر ، چھوٹے سرکاری ملازمین مثلا سرکاری سکول کے اساتذہ ، ڈاکیے ، بنک افسران اور وکلا وغیرہ سب اسی پر اکتفا کرتے تھے ۔ جس طالبعلم کے والدین ازراہ تلطف اپنے ہونہار بروا کو سہراب ، ہرکولیس یا ریلے کی بائیسیکل لے کر دیتے تھے وہ سب سے پہلے پینٹر کے پاس جا کر اس کے عقبی مڈگارڈ پر ہیما مالنی یا نیتو سنگھ کی تصویر لگوانے کے علاوہ سرخ روشنائی سے یہ فقرہ ضرور لکھواتا تھا ‘ پپو یار تنگ نہ کر ‘ ۔ اب پتہ نہیں یہ پپو کون تھا جس کا واحد مشغلہ دوسروں کو تنگ کرنا ہوتا تھا البتہ اس بے ضرر دھمکی کے پیچھے فاعل کے دل پپو یار سے تنگ ہونے کی دھیمی آنچ میں سلگتی تمنا ضرور جھلکتی نظر آتی تھی ۔ سکول کے زمانے میں جس دوست پر بھی مجھے پپو ہونے کا شک گذرتا تھا اس کے قریب ہونے پر پتہ چلتا کہ یہ ہمارے مطلوبہ پپو نہیں کیونکہ اس پپو کو تو سب اتنا چھیڑتے تھے کہ اس کے پاس دوسروں کو تنگ کرنے کی فرصت ہی میسر نہیں ہوتی تھی ۔ بہرحال اصلی پپو سے ملنے کی خواہش میرے دل میں بھی اسی وقت سے جاگزیں ہے جس دن سے میں نے یہ فقرہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پڑھا تھا ۔ پپو کے ساتھ دوسرا لفظ جو اس کا ہمسر و ہم معنی معلوم پڑتا تھا اور سکول کے طالبعلموں میں زبان زد عام تھا وہ تھا لفظ پوپٹ ۔ اب یہ تو کچھ اندازہ تھا کہ پوپٹ پپو کی ذرا سپرلیٹو ڈگری ہے لیکن اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ کوئی پپو کب اور سلوک کے کون کون سے مراحل طے کرنے کے بعد پوپٹ کے اعلی مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا ہے یقیننا اس میں دو چار سخت مقام بھی آتے ہوں گے جن سے ہم لا علم ہیں اور جن پر کوئی اصلی تے وڈا پوپٹ ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ بہرحال پپو اور پوپٹ کے الفاظ سے میں نے جو خیالی تصور قائم کیا تھا وہ کچھ رنگین ، کچھ معصوم اور ذرا سا شوخ سا تھا ۔
لیکن چند روز قبل میرے اس رومانی تصور میں کھنڈت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو کے اس بیان نے ڈال دی ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پپو وزیر اعظم قرار دیا ہے ۔ نوجوت سنگھ ایک سکھ سردار ، سابقہ کھلاڑی اور موجودہ ٹی وی میزبان ہیں اور ہمارے خیال میں یقیننا پنجابی و مسلم تہذیب میں پپو کے اعلی و ارفع رومانی مقام سے ضرور آگاہ ہوں گے لیکن ان کے اس بیان نے ہمارے جیسے لاکھوں پپو پرستاروں ، اصلی پپووں اور پوپٹوں کی دل آزاری کی ہے جس کا مداوا ممکن نہیں ہے ۔ میری دانست میں اس طرح کے اخباری بیانات دینا ایک خطرناک رحجان ہے جس کا سختی سے سدباب کرنا ہمارے پپو کلچر کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے ۔ اگر یہ رحجان چل نکلا تو اس کی زد میں آنے سے سے ہمارے اپنے سیا ستدان بھی نہیں بچ سکیں گے ۔ ذرا تصور کیجئے کہ کل کلاں کوئی سیاستدان مثلا ذوالفقار مرزا اپنے کسی اخباری بیان میں رحمن ملک کو پپو وزیر داخلہ یا الطاف حسین کو پوپٹ ساستدان قرار دے دے تو ہماری نئی نسل کے اذہان میں پپو کا تصور کتنا الجھ جائے گا ۔ میری سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے یہ حکم جاری کرے کہ آئندہ کسی کو پپو ڈکلیئر کرنے کا اختیار سیاستدانوں کے بجائے صرف اردو بلاگستان کے جعفر اور ڈفر اعظم کو حاصل ہو گا ۔
افغان باقی
کچھ عرصہ قبل نیٹ گردی کرتے ہوئے ایک کتاب جس کا نام ”AMONG THE WILD TRIBES OF THE AFGHAN FRONTIER ” ہے ڈانلوڈ کی ہے ۔ اس کا مصنف ڈاکٹر تھیوڈر لیٹن پینل نامی ایک انگریز مشنری طبیب تھا جو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے سلسلے میں سن 1893 کے آس پاس بنوں شہر کے مشنری ہسپتال میں کئی سال مقیم رہا تھا ۔ اپنے تبلیغی کام کے سلسلے میں وہ قبائلی علاقہ جات کے طول و عرض میں بلا خوف و خطر بغیر کسی مسلح محافظ کے گھومتا تھا ۔ بعد میں اس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل مذکورہ بالا کتاب لکھی اور اس کتاب میں قبائلی جنہیں وہ افغان کہتا ہے ، ان کے عادات و خصائل کا تذکرہ تفصیل سے کرتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں ۔
مشرق ایک تضاد کا نام ہے اور افغانوں کا کردار اس بیان کی صحیح عکاسی کرتا ہے ۔ ان کے کردار میں بیک وقت بہادری ، عیاری و دغابازی ، وفاداری ، مذہبی کٹڑ پن ، لالچ ، حرص ، مہمان نوازی اور چوری سے محبت آپس میں یوں گندھی ہوئی ہیں کہ ان اجزا کو الگ الگ کر کے کسی افغان کی شخصیت کا تجزیہ کرنا بہت مشکل کام ہے ۔
دو الفاظ ہر افغان کی زبان پر ہر وقت بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایک عزت اور دوسرا شرم ۔ لیکن لفظ عزت سے کیا مراد ہے اگر کسی افغان سے پوچھیں گے تو شاید وہ بھی اس کا مطلب واضح طور پر نہ بیان کر سکے ۔ چنانچہ بعض اوقات عزت کا مطلب اپنے کسی عزیز کے قتل کا انتقام فریق مخالف کے خاندان کے کئی افراد قتل کر کے لینا ہوتا ہے تو دوسری جگہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سرکاری تقریب میں اس کی نشست اس کے کسی دشمن سردار کے مقابلے میں قدرے نیچی جگہ پر تھی ۔
انتقام کا کلچر وہ عفریت ہے جس نے افغانوں کی زندگی کی جڑیں تک کھود ڈالی ہیں اور یہ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک افغانوں کا نقطہ نظر انتقام کی اندھی روایت کے متعلق بدل نہیں جاتا ۔ افغانوں کے بعض اشراف خاندان اس انتقام کی آگ میں جل کر اب تقریبا عنقا ہونے کے قریب ہیں ۔
افغانوں کی نظر میں وہی افسر طاقتور ٹھہرتا ہے جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے سختی سے پیش آئے ، جس کی بہادری مسلمہ ہو اور جو ایک دفعہ فیصلہ کرنے کے بعد اپنا قدم واپس نہ اٹھائے ۔ ایسے افسر کے زیر قیادت یہ اس حد تک وفادار رہتے ہیں کہ آگ و خون کے دریا میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ اگر کوئی افسر نرم ہے تو یہ اس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوتے ہیں اور مضبوط افسر کے ہاتھ میں یہ ریشم کے تھان طرح نرم ہوتے ہیں ۔
دھوکہ دہی افغان کردار کا یک نمایاں پہلو ہے اور جو اجنبی لوگ ان کے اس پہلو سے آگاہ نہیں ہوتے وہ ان سے شکست کھا جاتے ہیں ۔ دھوکہ دہی سے طاقت کے حصول کے بعد یہ جابر حکمران ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اس طاقتور فریق کے ساتھ وفاداری بھی نبھاتے ہیں جو ان کا حاکم بن جاتا ہے ۔
ایک دفعہ ایک انگریز پولیٹیکل افسر افغانوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر بیٹھا بات چیت کر رہا تھا ۔ اس پہاڑی کے ایک طرف افغانستان اور دوسری طرف انڈیا نظر آ رہا تھا ۔ یہ افغان اس افسر کے اپنے علاقہ میں ایک طویل قیام کی وجہ سے اعتماد کرتے تھے اور اپنے قبیلے کے بعض اہم راز بھی اسے بتلا دیتے تھے ۔ اس افسر نے ان افغانوں سے پوچھا کہ یہ بتلاو کہ اگر انگریزوں اور روسیوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے ؟ ۔
ان افغانوں نے پوچھا کہ آپ کیا ہم سے سچ سننا چاہتے ہیں یا وہ جواب جو آپ کو پسند آئے ؟ ۔
وہ جو سچ ہے وہ بتاو ۔ اس افسر نے جواب دیا ۔
تو انہوں نے کہا ، کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ہم اپنے ان پہاڑوں پر بیٹھ کر آپ دونوں کے لڑنے کا تماشہ دیکھیں گے اور جو کوئی شکست کھائے گا ہم پہاڑوں سے اتر کر اس کا سب کچھ لوٹ لیں گے حتی کہ کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ اللہ اکبر ہمارے لئے وہ کیا خوشی کا وقت ہو گا۔
ان افغانوں نے سچ کہا تھا لیکن یہ بھی سچ اور افغانوں کا تاریخی کردار ہے کہ مال غنیمت ابھی پوری طرح جمع بھی نہیں ہوتا کہ یہ اس کی تقسیم کے معاملے پر ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑناشروع کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کا حسد اور لڑائیاں افغان کردار کا بنیاد جزو ہیں اور یہ اس وقت ہی متحد ہوتے ہیں جب ان کا دشمن مشترکہ ہو اور پھر دشمن کا خطرہ دور ہوتے ہی لڑائی پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔ اپنی اس عادت کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اصل میں ان کے اسلاف میں سے ایک بزرگ نے اپنے کسی عمل سے اللہ تعالی کو ناراض کیا تھا اور اللہ نے سزا کے طور پر یہ بدی ان پر مسلط کر دی تھی کہ وہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانوں میں امن اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک جنگ نہ ہو رہی ہو ۔
چینی چارٹ
پچھلی پوسٹ میں ذکر ہوا تھا کہ انسان اسرار سے ہمیشہ محبت کرتا رہا ہے ۔ میرے لئے اس کائنات میں انسان خود سے ایک دلچسپ چیز ہے ۔ میں اپنے بچپن سے جاننا چاہتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہوتے ہیں ، ایک جیسے ماحول میں پرورش پانے والے دو بھائی متضاد طبیعتوں کے مالک کیوں کر بن جاتے ہیں ۔ ایک ڈاکو کو ڈاکو معاشرہ بناتا ہے یا خرابی کی جڑیں اس کی اپنی شخصیت میں دور پاتال تک کہیں پھیلی ہوتی ہیں ۔ ہمارے گھر میں والد صاحب کو مخفی علوم سے کچھ دلچسپی تھی ۔ چنانچہ گھر میں ہر طرف علم نجوم ، نفسیات و ما بعد نفسیات اور الا بلا قسم کی کتابیں رلتی رہتی تھیں ۔ ان سب علوم میں سے مجھے علم دست شناسی پسند آیا کیونکہ اس میں آپ کو علم نفسیات کی طرح معمول کو طویل ٹیسٹوں سے گزارنا نہیں پڑتا ، علم نجوم کی طرح مخاطب کی بالکل درست تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش جاننے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ مخاطب اگر بے دھیانی میں میز پر ہاتھ پھیلائے لن ترانی کر رہا ہے تو دست شناسی کی مدد سے آپ ایک دو منٹ میں جان جاتے ہیں کہ موصوف کو کس خانے میں فٹ کیا جائے ۔
دست شناسی سیکھنے کی طلب مجھے لاہور میں معظم خان تک لے گئی ۔ معظم خان کو پامسٹری سے عشق تھا وہ نہ صرف پامسٹری کے ہندو سکول آف تھاٹ اور یورپین سکول آف تھاٹ پر عبور رکھتے تھے بلکہ سکن پیٹرنز کے علم کا مطالعہ انہوں نے ماسکو یونیورسٹی سے کیا تھا ۔ جو کہ پاکستان میں بہر حال ایک نئی چیز تھی ۔ دست شناسی کی مدد سے اولاد کی پیشین گوئی کے موضوع پر پر معظم صاحب نے کہا کہ ا اس سلسلے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کی جا سکتی اور ابھی یہ غور طلب مسئلہ ہے البتہ ایک چینی چارٹ کا ذکر کیا جو بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ” فلسفہ تقدیر اور دست شناسی ” میں شائع کیا ۔ اس چارٹ کو کی مدد سے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کسی خاتون کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی مگر شرط یہ ہے کہ یہ ضروری معلوم ہو کہ خاتون جب حاملہ ہوئی تھی تب اس کی عمر کیا تھی اور اس نے کس مہینے میں کنسیو کیا تھا ۔
کل یہ بات یاد آئی تو میں نے نیٹ پر یہ چارٹ تلاش کیا ۔ نیٹ پر موجود چارٹ معظم کی کتاب کے چارٹ سے تو مختلف ہے اور ان چارٹس کی کوئی سائنسی توجیہ بھی نہیں ہے البتہ دلچسپی کی چیز ہے ۔
ایک دفعہ میں نے دوران گفتگو اپنی مسجد کے خطیب صاحب سے اس کا ذکر کیا تو فرمانے لگے کہ ہمارے استاد صاحب نے بھی ہمیں اس سلسلے میں ٹوٹکا بتایا تھا کہ حاملہ عورت کی آنکھوں میں دیکھو ۔ اگر اس کے پیٹ میں موجود بچہ لڑکا ہے تو وہ آپ سے دیر تک نظر ملائے گی اور اگر لڑکی ہے تو فورا نظریں جھکا لے گی ۔ واللہ اعلم

بچے کی جنس کا تعین کرنے کا چینی چارٹ
