RSS

پنجابی واراں

20 Sep

وار کے لفظی معنی رزمیہ نظم کے ہیں ۔ یہ ایک ایسی طویل نظم ہوتی ہے جس میں کسی بہادر شخص یا قبیلے کی بہادری کی تعریف کی گئی ہو اور اس کی جرآت اور شجاعت پر واری صدقے ہونے کا اظہار کیا گیا ہو ۔ ان کا یہ کام نیک ہونا چاہیے اور اس کا مجموعی تاثر جوش کا ہونا ہونا چاہیے نا کہ غم کا ورنہ مرثیہ کہلائے گا ۔ وار یا جنگ نامہ دنیا کے تمام قبائلی اور زرعی معاشروں کا حصہ رہا ہے مثلا فرانس کے بادشاہ شارلیمن کے بھانجے رولینڈو کے نام پر ” سانگ آف رولینڈو ” جو مسلمان اور باسک لشکر کے ہاتھوں سپین میں مارا گیا اور اس کی بہادری کے قصے صدیوں تک یورپ کے گویے گاتے رہے۔ عرب میں بھی لشکر کے عقب میں رجز پڑھنے والے خصوصا عورتیں اپنی افواج کا دل ایسے اشعار سے بڑھاتیں ۔ پنجاب میں بھی وار صدیوں تک بہت مقبول رہی ۔  پرانے زمانے میں پنجاب میں جہاں قصے اور رومانوی داستانیں چوپال میں بیٹھ کر سنی جاتی تھیں، وار میدانِ جنگ میں سنائی جاتی  ۔ یہ روایت دنیا کی کئی زبانوں میں موجود ہے اور جب سورما میدانِ جنگ میں لڑرہے ہوتے تھے تو واریئے، میراثی، راگی یا ڈھاڈی پیچھے سے بلند آواز میں ان کے اجداد کے کارنامے انہیں سناتے تھے جنہیں وار کہتے تھے۔  پنجاب میں وار کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ سلاطین کے عہد سے بھی پہلے سے چلی آرہی ہے۔  ان واروں میں قدیم پنجاب کی عام زندگی کی تمام تاریخ موجود ہے۔ مثلاً سماج کی کیا اخلاقی اقدار تھیں، بہادری کیا تھی اور دھوکہ دہی کیا تھی؟ سچ کیا تھا اور سچ کے لیے مرنا کیا؟  وغیرہ ۔

 بعد میں ان واروں میں جنگوں کے علاوہ عشق کی داستانیں بھی سنائی جانے لگیں کہ ان صوفی مزاج گانے والوں کے مطابق یہ بھی سماج کے جامد رویوں کے خلاف بغاوت کی ایک شکل تھیں  . وار گانے والے کھڑے ہو کر گاتے ہیں اور اسے دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثری بیانیہ حصے جن میں کہانی کو واقعات کی اہم تبدیلیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور شعر بند یا بحر میں بندھے ہوئے حصے جنہیں گا کر سنایا جاتا ہے۔ واریں گانے والے روایتی چمک دمک والے لباس پہن کر میدان میں اترتے ہیں اور موضوع کی مناسبت سے اداکارانہ انداز میں روایتیں بیان کرتے ہیں۔ داستان کے المیہ، طربیہ، پرجوش اور جنگی حصوں کے ساتھ ساتھ بیان کرنے والے کی شخصیت اور انداز بدلتا رہتا ہے جو انہیں کرداروں اور ان کی اس لمحے کی حقیقت کے قریب تر لے جاتا ہے۔

واروں کو اقسام کے لحاظ سے تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

1 ۔ رزمیہ واراں

2 ۔ رومانی واراں

3 ۔ ٘مذہبی واراں

چند مشہور پنجابی واریں یہ ہیں ۔

 کربلا دی  وار ،  مرزے دی وار ، دلا بھٹی دی وار ، ملتان شہر دی وار ، سید دی وار ، سکھاں دی وار ، نادر شاہ دی وار

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی درسی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ ان واروں کے بالکل برعکس ہے۔ ان واروں کے ہیرو اس مذہبی شناحت سے بالکل بالاتر ہیں جو پاکستانی ریاست کا خاصہ رہی ہے۔ جہاں یہ سکندرِ اعظم سے لڑنے والے ہندو راجہ پورس کے گن گاتی ہیں، وہاں یہ مغلوں کو ’چغتے‘ کے طور پر یاد کرتی ہیں اور ان کے خلاف لڑنے والے دلا بھٹی اور جیمل پھتہ کی بہادری کے قصے سنا کر نوجوانوں کو ان جیسے سورما بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جیمل پھتہ ایک آزاد طبع ہندو سورما تھا جس نے اکبر کے بہت سے مطالبے پورے کیے مگر جب اکبر نے اس کی بیٹی کی خوبصورتی کی تعریف سن کا رشتہ مانگا تو وہ اکبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ آج کے پنجاب میں وار بھی اپنے اختتام پر ہے۔ زمانے بدلنے کے ساتھ ساتھ جہاں باقی اصناف میں لکھنے، گانے، اداکاری اور ہدایت کاری کی سپیشلائزیشن بڑھتی گئی ہے، دوسری رویتوں کے ساتھ یہ قدیم روایت بھی غائب ہو رہی ہے۔

مرزے  جٹ دی وارا ۔ افضل بھٹی

مرزے جٹ دی وار ۔ مس پوجا

 
2 Comments

Posted by on September 20, 2011 in فن اور فنکار

 

2 Responses to پنجابی واراں

  1. محمد وارث

    September 20, 2011 at 9:53 AM

    بہت خوبصورت اور معلوماتی تحریر ہے ریاض صاحب، لاجواب۔

     
  2. Naeem Akram Malik

    September 20, 2011 at 1:31 PM

    اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری تاریخ کو بُرے طریقے سے مسخ کیا گیا ہے، اسلامائیزیشن کے نام پر نا ہم آگے کے رہے ہیں اور نہ پیچھے کے۔ دُلے بھٹی اور راجہ پورس جیسے لوگ بلاشبہ اس علاقے کے اصل باشندے اور جیالے سپوت تھے جبکہ بابر، اکبر، نادر شاہ، ہمایوں وغیرہ سارے طاقتور غیر ملکی حکمران۔ دیکھا جائے تو عراق کے تیل پر قبضہ کر کے جو کام آج امریکہ کر رہا ہے، اُس دور میں مغلوں نے بالکُل وہی کیا تھا۔ اور محمد بِن قاسم بھی کوئی انکے مامے کا پتر نہیں تھا، ہماری درسی کُتب میں بہرحال ان سب کو خلط ملط کر کے نسلوں کی نسلیں کنفیوز کی جا رہی ہیں۔
    اور مجھے نہیں تھا پتہ۔۔۔ کہ وار بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔ اس طرز میں شاید عارف لوہار کے کچھ گیت سُنے تھے۔۔۔ آپکی بڑی مہربانی ایسی اعلٰی چیز سے تعارف کروایا۔۔۔
    ہندوستانی پنجاب کے سِکھ ہم لوگوں کی نسبت اپنے اصل سے بہت قریب ہیں۔۔۔ کچھ دِن قبل جیزی بی کی ویڈیو دیکھی جِسکا ٹائٹل دُلے کا انتقام تھا۔۔۔ کافی دِلچسپ لگی۔۔۔
    کھانا لگ گیا۔۔۔ میں تو بھاگوں۔۔۔ مزید لکھوں گا۔۔۔

     

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s