Monthly Archives: September 2011
طارق علی
ہمارے ملک کا اردو دان طبقہ طارق علی کے نام سے زیادہ واقف نہیں ہے ۔ طارق علی پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیڑ مظہر علی خان کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی والدہ طاہرہ مظہر علی خان سر سکندر حیات خان کی بیٹی تھیں جو تقسیم سے پہلے پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔جناب مظہر علی خان جنہوں نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات پر ایوب خان کے شب خون کے بعد بطور ایڈیٹر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بعد میں ایک ہفت روزہ ”ویو پوائنٹ“ نکالا جو خان صاحب کی سوچ کے مطابق بائیں بازو کی پالیسیوں اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے کام کرتا تھا- وہ کئی بیسٹ سلیرز کتابوں کے مصنف ہیں اور مغربی ملکوں میں ان کو انتہائی احترام سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے قائد اعظم سے شروع لے کر آنے والے کسی کو نہیں بخشتے جس کا مظاہرہ انہوں نے اپنی کتاب ، ڈو ال پاکستان ” میں کیا ہے ۔ ان کی سوچ کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں ۔

طارق علی
۔ طارق علی ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور دنیا کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب فکر و نظر ہیں۔ جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔ طارق علی اپنی طالب علمی کے زمانے میں بائیں بازو کے طالب علموں کے غیر متنازع لیڈر تھے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بڑے سیاسی مفکر کے طور پر ابھرے اور مغرب میں لوگ انہیں پاکستان کا ایک انتہائی قابل فخر سپوت سمجھتے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور امریکہ اور یورپ مزید برآں جنوبی امریکہ کی ایک جانی پہچانی علمی شخصیت ہیں۔ وہ ایک بہت کامیاب براڈ کاسٹر بھی ہیں اور بی بی سی کے متعدد پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں ان کی باتیں غور سے سنی جاتی ہیں۔ طارق علی کی مشہور کتابوں میں Can Pakistan Survive? The Death of a State (1991), Pirates Of The Caribbean: Axis Of Hope (2006), Conversations with Edward Said (2005), Bush in Babylon (2003), and Clash of Fundamentalisms: Crusades, Jihads and Modernity (2002), A Banker for All Seasons (2007), The Duel (2008) and The Obama Syndrome (2010 Leopard and Fox شامل ہیں۔
ان کا زیر نظر مضمون پاکستان کے چونسٹھ برس پورے ہونے پر لکھا گیا تھا ، جس کا آسان ترجمہ اپنے پاکستانی قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ۔ مترجمہ جنابہ مریم حسین ہیں اور یہ ترجمہ ٹاپ سٹوری ڈاٹ کام سائٹ سے من و عن لیا گیا ہے ۔
آج کے پاکستان کی حالت اس بیمار کی سی ہو چکی ہے جو نہ تو پورا ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی حکومت وہاں آ سکتی ہے جو اس ملک کو کچھ آگے لے جا سکے اور اس احساس نے بہت سارے لوگوں کو ایک عشرے سے ڈپریشن کا شکار کیا ہو اہے۔ پاکستان کے اصل حکمران فوجی اور سویلین ، بڑے مزے سے فوجی، سیاسی، انتظامی، معاشی اور عدلیہ کی طاقت کے مزے اڑا رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے اکثر ممالک میں یہی کچھ ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان فرق اتنا زیادہ ہے کہ وہاں کمزور اکثریت کو طاقت ور اور امیر لوگوں سے جو کہ اقلیت میں ہیں، بچانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
برادریاں اور رشتہ داریوں کے نیٹ ورک، غنڈوں کی طرف سے زندگی کی ضمانت وغیرہ سے کچھ فرق تو پڑ سکتا ہے لیکن یہ سوچنا کہ یہ لوگوں کو پانی، بجلی، رعایتی آٹا، صحت کی سہولیتں، تعلیم وغیرہ دے سکتے ہیں کا مطلب احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہو گا۔ ایسی ترقی جس کا کوئی فائدہ ہو، اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کے لیے ہو نہ کہ چند لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان میں اس طرح کی ترقی کبھی نہیں ہوئی جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے۔قصور نہ تو قسمت کا ہے اور نہ ہی پاکستانی لوگوں کا، جن کی برداشت اور صبر دیکھنے کے لائق ہے۔ پاکستانی عوام نے سیاسی جماعتوں اور فوجی حکمرانوں کو بھی آزمایا ، لیکن پھر بھی انہیں کچھ نہیں ملا۔ اس حقیقت کے باوجود ، پاکستان عوام ابھی بھی وہاں کی مذہبی جماعتوں میں شامل ہونے کے لیے اتنی جلدی میں نہیں ہیں جب کہ مسلح جہادیوں گروہ میں شامل ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب تک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے مذہبی اور جہادیوں گروپس میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے اگرچہ لوگوں کو جنت کے بہت سارے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے پاکستان کے بارے میں بنائے گئے امیج کے برعکس، عام پاکستانی مذہبی شدت پسندوں کے جال میں نہیں آ رہے۔پاکستان میں آبادی کی سائنس کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی اس وقت پچیس سال سے کم عمر ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ بیروزگاری بہت ہے۔ ان میں سے اکثریت تعلیم چاہتی ہے، انہیں نوکریاں چاہیں جب کہ سیاسی کرپشن کا تو جواب ہی نہیں۔اب سوال یہ ہے کیا ان کے یہ مطالبات کبھی پورے ہوں گے؟پاکستان کی سیاسی زندگی تین چیزوں سے عبارت ہے۔۔۔ امریکہ، آرمی اور کرپٹ حکمران جن کے نمانئدے اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری ہیں۔ زرداری صاحب کو دینا بھر میں مال بنانے اور بے حساب جائیداد بنانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہونے والے پول میں ان کی مقبولیت کا گراف صرف دو فیصد تھا۔ ظالم پنجابی طعنے اکثر ان’’ معززین‘‘ کو سننے کو ملتے ہیں جب وہ عوام سے ملنے کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے تھوڑی سی زیادتی ہے کیونکہ یہ پنجابی طعنے خیر سے مسلم لیگ کے لیڈروں پر بھی اپلائی کئے جاسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اب سیاست سے ایک طرح سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاستدان ایسے چالاک لوگ ہوتے ہیں جو پیسہ کمانے پر لگے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ان گروہوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو بعد میں ان کے ووٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔امریکہ اس وقت افغانستان میں ایک جنگ لڑ رہا ہے وہ پاکستان کے اندر تک پھیل گئی ہے اور ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے۔ رہی سہی کسر امریکی ڈرون حملوں نے پوری کر دی ہے جو کہ پاکستان کے حکمرانوں کی مرضی سے کیے جارہے ہیں اور جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا اصل مقصد ’’دہشت گردوں‘‘ کو مارنا ہے لیکن مارے معصوم اور عام لوگ جاتے ہیں۔ ان ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام لوگوں کی تعداد اس وقت دو ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے اور ان مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔پاکستانی فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز بھی اس وقت شمالی علاقوں میں اپنے لوگوں کے خلاف حملے کرکے ایک طرح سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے ساتھ واقع اورکزائی ضلع سے ڈھائی لاکھ لوگوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا اور انہیں مہاجرین کمپیوں میں لا کر ڈال دیا۔ ان میں سے بہت ساروں نے انتقام لینے کی قسم کھائی اور اب شدت پسندوں نے اور تو اور ائی ایس ائی اور دوسرے فوجی ٹھکانوں کو اب نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔معیشت کا حال بہت برا ہے اور آئی ایم ایف کی پاکستان کو قرضہ دینے کی شرائط روز بروز سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں بلاواسطہ ٹیکس پر اصرار کرنا جہاں امیر لوگ واقعتا ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے، ایک ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کرنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سارے شہروں میں اس کے خلاف فسادات ہوئے ہیں اور واپڈا کے دفتروں کو جلا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کا عام پاکستانیوں کے لیے یہ پیغام بڑا واضع اور صاف ہے۔۔۔’’پیسے زیادہ دو، لیکن لو کم‘‘ ۔دو ہزار دس کے سیلاب نے یہ بات ثابت کی کہ پاکستانی حکمران اور اعلی طبقات اپنے لوگوں کی کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ ابھی تک سیلاب کی کہانیاں لوگوں کو ڈرا دیتی ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام صحرا میں ایک پانی کے قطرے کی بوند کے مانند ہیں۔ پاکستان کے سالانہ قومی بجٹ پر فوج کا قبضہ ہے۔ سیاسی گینگ وار نے کراچی کا حشر کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایک اور فوجی بغاوت کا وقت آن پہنچا ہے لیکن پاکستان فوج اس وقت غیر مقبول ہے اور امریکہ بھی اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ ایک اور فوجی انقلاب کے لیے اپنی رضامندگی کا اظہار کرے۔تاہم یہ بھی ایک بہیودہ مذاق سے کم بات نہیں ہے کہ فوج نے پاکستان پر سیاستدانوں کی نسبت بہتر حکمرانی کی ہے۔ حقائق اس بات کی حمایت نہیں کرتے۔ سیاستدانوں اور جرنیلوں نے عام پاکستانیوں کی طرف ہمیشہ بے نیازی کا برتاؤ کیا ہے۔ دنیا کا سب سے گندا کاروبار یہ رہا ہے کہ ہر شے کو مارکیٹ اور نجی منافع خوری پر چھوڑ دو۔ اب اس سے بات نہیں بنتی خصوصا پاکستان جیسے ملکوں میں۔پاکستان کا اندورنی زوال اور اس میں توڑ پھوڑ بڑی تیزی سے ہورہی ہے۔ یہاں شدید مایوسی اور اس سے بڑھ کر یہ احساس کہ یہاں کسی چیز کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ، بڑے عرصے سے پیدا ہو چکا تھا، جب فیض احمد فیض نے اپنی ایک متاثر کن نظم میں اپنی دھرتی کو ایک ’’ مردہ پتوں کے جنگل‘‘ اور’’ درد کا اجتماع‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔ ان برسوں میں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکا ، جس سے یہ سب کچھ رک یا بدل جاتا۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لوگوں میں بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے جس سے موجودہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا ہے۔جلد یا بادیر، لوگ اٹھیں گے اور اس سارے گند کو صاف کریں گے۔ اب مجھ سے یہ مت پوچھیں کہ کب !!
نکی جئی ہٹی
اس دفعہ عید کی شاپنگ کرنے کے لئے فیملی کے اصرار پر بازارجانا ہوا ۔ اصرار پر اس لئے کیونکہ ایک عرصے سے ہم نے بازار کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہ نیک کام بیگم کے سپرد کر دیا ہے کیونکہ ہمیں اپنی صحت بہت عزیز ہے ۔ ہوتا یوں ہے کہ دکان پر جس شے کی قیمت ہمارے ذہن میں ہزار روپے ہوتی ہے جب دکاندار ہمارے استفسار پر اسے تین چار ہزار کا بتاتا ہے تو ہمارے ہوش اڑ اڑ جاتے اور واپس نہیں آتے ، ہمارا دل بھی بس ڈوب ڈوب جاتا ہے اور اس کے علاوہ دو چار چیزوں کی قیمتیں پوچھنے کے بعد بے عزتی کا احساس علیحدہ ہونا شروع ہے کہ کیونکہ دکاندار ان نظروں سے ہمیں گھورتا ہے جیسے کہ رہا ہو ” کہ پلے نئیں دھیلا تے کر دی اے میلا میلا ” اور آپ کو تو معلوم ہے کہ باس اور بیگم سے بے عزتی کروانے کے بعد کسی بھی شریف انسان کا بے عزتی میٹر ٹینک فل کا اشارہ کرنا شروع کر دیتا ہے اور مزید بے عزتی صحت کے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے ۔
خیر بیگم ہمیں ایک بہت بڑے کئی منزلہ شاپنگ سینٹر لے گئیں جہاں ہر دکان کا نام سٹائلش انگریزی اور کسی نہ کسی غیر ملکی کلچر کا مظہر تھا ۔ ایسے ناموں کے ہجوم میں ایک چھوٹی سی دکان پر نظر پڑی جس کا نام تھا “نکی جئی ہٹی ” ۔ صاحب دکان کی ہمت کی داد دینے کو چاہا جو اس غیر ملکی کلچر کے سیلاب کےعین درمیان اپنی دھرتی کی زبان میں نام کا کھوکھا کھولے بیٹھا تھا ۔ یادش بخیر ہمارے بچپن میں دکانوں کے نام عموما مقامی زبان میں ہی ہوا کرتے تھے جو عوام الناس کو آسانی سے سمجھ آ جایا کرتے تھے ۔ مثلا ہمارے قصبے میں سٹیشنری کی دکان ”رحمت دی ہٹی ” تھی ، سوڈا واٹر بنانے والوں کی دکان ” ننو کولا ” تھی ، منشیات فروخت کرنے کی دکان ” ٹھیکہ افیون و چرس ” تھی ، گھڑیاں ٹھیک کرنے کی دکان ” اشرف گھڑی ساز ” تھی اور لوہے کی اشیاء ” جانی لوہار دی ہٹی ” سے مل جاتی تھیں ۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے اب ایسے تمام نام نا پید ہو چکے ہیں ۔ میرے گھر کے قریب ریستوران کا نام” ڈراپ ان” ہے تو بیکری کا نام ‘ لا پونٹے ” ہے ، پرائیویٹ ہسپتال کا نام ” میڈی کیئر ” ہے تو بنگالی مٹھائیوں کی دکان ” سیون بیلز” ہے ۔
ایک اور خاصہ ان پرانی دکانوں کا یہ تھا کہ تقریبا ایک بازار میں ہی تمام قسم کی اشیا مل جاتی تھیں ۔ اب علیحدہ مارکیٹیں بن گئی ہیں ۔ کپڑے لینے ہیں تو ایک علاقے مارکیٹ میں جاو اور اگر سٹیل کے برتن لینے ہیں تو شہر کے ایک اور حصے میں جاو ۔ قیمہ کرنے کی مشین لینی ہے تو کہیں اور دھکے کھاو ۔
میں سوچتا ہوں کہ آخر ہم اپنی زبان ، طرز تعمیر ، لباس ثقافت اور کلچر سے اتنے شرمندہ کیوں ہیں کہ ہمیں بجلی کے سازوسامان کی دکان کا نام ” الیکٹرک کنسرن ” رکھنا پڑتا ہے اور خرادیے کی دکان کا نام ” لیتھ ورکس” ۔ آخر ہم کب اس احساس کمتری سے نجات پائیں گے ۔
چارہ گر
ٹی وی پر ایک مشہور پروگرام کے میزبان کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے شریک گفتگو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ سے کافی سخت لہجے میں سوال کر رہے تھے کہ فوج اس سارے معاملے میں خاموش کیوں ہے اور اگر خاموش ہے تو اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اب تک اس کے ادارے کےکارکنان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنایا گیا ورنہ فوج اب تک کسی سخت رد عمل کا اظہار کر چکی ہوتی ۔


