RSS

ترقی کے گھوڑے

15 Apr

سات آٹھ سال کے ایک طویل عرصے کے بعد پچھلے نومبر  اپنے ننھیالی گاوں جانے کا اتفاق ہوا ۔ رات کو آرام کرنے کے بعد دوسرے دن اپنی بیگم اور چھ سالہ بیٹے کے ہمراہ کھیتوں کی طرف نکل گیا ۔ وہاں پہنچا تو ماموں کھیت میں بیلوں کی مدد سے ہل چلانے میں مشغول تھے ۔ بیگم اور بیٹا کچھ کھانے کی تلاش یں گاجریں اکھاڑنے میں مصروف ہو گئے ۔ بیٹا کسی گاجر کو اکھاڑنے کی کوشش میں زور لگاتا تو گاجر تو زمین ہی رہ جاتی مگر ہاتھ کی گرفت پھسلنے کی وجہ سے دھڑام سے زمین پر گرتا اور اس کے منہ سے زور کا قہقہہ نکلتا اور ہم بھی اس میں شریک ہوجاتے ۔ ماموں قریبی کھیت سے چند گنے توڑ کر لے آئے اور انہیں بیگم کے حوالے کرنے کے بعد اپنے کام میں جا کر دوبارہ مصروف ہوگئے ۔ میں جانتا تھا کہ انہوں نے صبح صادق کے وقت ہل چلانا شروع کیا تھا اور اس کام کو بارہ بجے سے پہلے ختم کرنا ضروری تھا ورنہ بیل مشقت اور گرمی کی وجہ سے نڈھال ہو جاتے۔ بیٹا اب گنا چوسنے کی  دھینگا مشتی میں مصروف تھا ۔ میں نے چاروں طرف پھیلے ہوئے سر سبز کھیتوں کی طرف نظر دوڑائی تو لگا جیسے میرے اندر ایک سکون کی لہر اترتی چلی جا رہی ہو ۔  میں شیشم کے سائے تلے پڑے ہوئے ماچے پر نیم دراز ہو گیا ۔میرے تصور میں بچپن کا زمانہ گھومنے لگا ۔

میری والدہ سکول کی چھٹیوں میں ہم بچوں کو لے کر اپنے میکے آ جاتی تھیں ۔ ننھیالی گاوں کے قریبی شہر تک کا سفر بس میں طے ہوتا اور اس کے بعد گاوں تک کا سفر تانگے میں ۔ چھوٹا ہونے کی بنا پر مجھے تانگے میں عین گھوڑے کے عقب میں تانگے کی سواریوں کے قدموں میں جگہ ملتی ۔ گھوڑا صاحب دوران سفر اپنی دم سے میرے منہ پر پچارا پھیرنے کا کام بڑی خوشدلی سے کرتے ۔ پتہ نہیں وہ جان بوجھ کر ایسا کرتا تھا یا مجھے ایسا احساس ہوتا تھا کہ دل میں بے اختیار یہ خواہش ابھرتی تھی کہ کب میں بڑا ہوں گا کہ سیٹ پر بیٹھنے کا حقدار ٹھہروں گا ۔ گاوں میں ابھی تک پکی سڑک اور بجلی کی نعمت یا زحمت نہیں پہنچی تھی ۔ گاوں کے عین درمیان میں جب ہم تانگے سے اترتے تو کنوویں سے پانی بھر کر جاتی ہوئی چنچل لڑکیاں سر پر دود دو گھڑے رکھے ہماری والدہ کے قریب سے گذرتی ہوئی سلام کرتیں ، حال پوچھتیں اور تیز تیز قدموں سے ہم سے آگے نکل جاتیں ۔ ان کی زبانی ہمارے آنے کی اطلاع ہماری خالاوں کو ہمارے گھر جانے سے بہت پہلے مل جاتی اور وہ گھر سے دوپٹے سنبھالتی قلانچیں بھرتی  ہوئی ہماری جانب اآتیں اور ہم بچے بھی وفور اشتیاق سے ان محبت کی پوٹلیوں سے لپٹ جاتے ۔

اپنے آباد ہونے کے زمانے سے یہ گاوں اپنی ایک لگی بندھی ڈگر پر رواں دواں تھا ۔ انگریزوں کے زرعی بندوبست کے تحت گاوں ایک منصوبہ بندی کے تحت آباد کیا گیا تھا ۔ گاوں کی گلیاں  بلا مبالغہ ایک دو رویہ سڑک سے زیادہ فراخ تھیں ۔ گاوں کے دونوں طرف میٹھے پانی کے کنویں تھے کیونکہ باقی زیر زمین پانی استعمال کے قابل نہیں تھا۔ پورا گاوں ایک آزاد اکائی(Independent Unit) کی مانند  تھا ۔ زراعت بیلوں کی مدد سے ہوتی تھی ۔ نہری پانی پر انحصار تھا ۔ گھر کی ضروریات کی تقریبا تمام اشیاء کھیت اور گاوں سے ہی دستیاب ہو جاتی تھیں ۔ سال بھر کی خوراک کے لئے گندم کٹائی کے بعد مٹی کے بنے ہوئے بھڑولوں میں سٹور کر لی جاتی تھی ۔ گڑ اور شکر وغیرہ دیسی طریقے سے خود ہی تیار کرنے کے بعد بوریوں میں بھر کر گھر کے سب سے بڑے اندھیرے کمرے میں رکھ دی جاتیں تھی جہاں دن کے وقت بھی اندھیرا چھایا رہتا اور صرف چھت پر جا کر مُگھ پر رکھی ہوئی پرانی ہانڈی اٹھانے کے بعد ہی سورج کی روشنی اندر آتی اور کچھ سجھائی دیتا ۔ ہر گھر میں دودھیل بھینسیں سیروں کے حساب سے دودھ دیتی تھیں ۔ دودھ بیچنا باعث عار سمجھا جاتا تھا  ۔ دودھ بلونے کے بعد مکھن تو استعمال کے لئے رکھ دیا جاتا البتہ لسی ضرورت مند افراد مانگ کر لے جاتے یا گھر میں کھناے کے ساتھ استعمال ہوتی ۔ غربت ضرور تھی مگر اس کا تلخ احساس نہیں تھا ۔ لوگ خوش باش رہنے کی کوشش کرتے تھے اور ہر غم کو اللہ کی مرضی سمجھ کر آنسو پونچھ کر صبر کر لیتے تھے ۔ صابن وغیرہ کے اجزا دکان سے خرید کر گھر میں ہی خواتین کپڑے دھونے کا صابن بنا لیتی تھیں ۔ مجھے سب سے مزیدار کام سویاں بنانے کا لگتا تھا ۔ گھر کے بوڑھے اور دانتوں سے محروم بزرگ افراد کے لئے آٹے کی  سویاں ہاتھ سے بٹ لی جاتی تھی بقیہ کے لئے ہاتھ سے چلانے والی مشین کی مدد لی جاتی تھی ۔

گندم کو گاہنے کے لئے ابھی تھریشر نہیں آئی تھی ۔ اگر تھی بھی تو صرف سرکاری محکمے اسے کرایے پر دیتے تھے اور کسان ان آلات کو مہنگا اور پیسے کا ضیاع جان کر اپنے زور بازو اور بیلوں کی مدد سے گندم گاہ لیتےتھے ۔ گھر میں جلانے کا ایندھن کھیت کے درختوں ، جھاڑیوں اور گوبر کے اپلوں  سے حاصل کیا جاتا تھا ۔ غریب غرباء شاملات دیہہ کی سرکاری زمین سے اپنے جانوروں کے لئے گھاس اور جلانے کی جھاڑیاں حاصل کر لیتے تھے ۔ ابھی جدید فیشن کی وبا نہیں آئی تھی چناچہ مائیں لڑکی کے پیدا ہونے کے وقت سے ہی جہیز کے لئے ایک ایک کپڑا جمع کرنا شروع کر دیتی تھیں جو گاوں کا جولاہا گندم کی معمولی سی سالانہ مقدار کے عوض کپاس کی فراہمی پر تیار کر دیتا تھا ۔ گاوں میں اشیاء کی خریدوفروخت زیادہ تر بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی تھی ۔ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں ہم بچوں کو جب برف کے گولے کھانے کا شوق چراتا تو نانی ہم بچوں کے دامنوں میں گندم ڈال دیتی اور ہم اس کے عوض دکان سے انہیں دامنوں میں بتاشے ، نمک پارے ، اور ہاتھ میں گنڈا گولا لے کر لوٹتے ۔ شہر کا رخ صرف عدالت میں پیشی ، کسی جائیداد کے مقدمے کی کاروائی کے لئے تھانیدار یا تحصیلدار کے حضور حاضری اور بیٹی کے جہیز کے لئے سنار سے زیور بنوانے کے سلسلے میں ہی کیا جاتا تھا ورنہ شہر ایک دوسری دنیا تصور کیا جاتا تھا ۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے ۔ اگر مجھے گھر کی تعمیر کرنی ہے تو میرے عزیز اور دوست دنوں بلکہ مہینوں بلامعاوضہ اس کام میں ہاتھ بٹاتے ۔ پیسہ کم تھا مگر محبت زیادہ تھی ۔

پھر اچانک پاکستانی گورنمنٹ کو ملک کو ترقی دینے کی سوجھی ۔ بڑے بڑے پراجیکٹس کا ڈول ڈالا گیا ۔ ہمارے گاوں کے قریب سے پہلی دفعہ ہائی پاور بجلی کی لائین گذاری گئی ۔ ریڈیو پر جدید طریقہ زراعت اور خاندانی منصوبہ بندی کا پرچار کیا جانے لگا ۔ ادھر خلیجی ریاستوں میں افرادی قوت کی مانگ بڑھ رہی تھی ۔ اکہتر کی جنگ میں شکست نے قوم کی روح کو مضمحل کر دیا تھا اور اس کا علاج اب اسلامی نظام کے قیام اور معاشی ترقی میں ڈھونڈا جا رہا تھا ۔ اسلامک سوشل ازم کے نام پر قوم کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے دام میں گرفتار کیا جا رہا تھا ۔ میرے نانا کے گھر کے سامنے والے گھر کے باہمن (یہ گھرانا مسلمان ہونے سے پہلے ہندو برہمن تھا ) خاندان کے لڑکے اب سعودی عرب میں ائرپورٹ پر لوڈر کا کام کرتے تھے اور واپسی پر قیمتی گھڑیوں ، ٹیپ ریکارڈر ، غیر ملکی کپڑوں ، خوشبویات اور دوسرے قسم کے سامان سے لدے پھندے گھر لوٹتے اور چند دن کے قیام کے بعد اسی مزدوری کے جہنم میں جنت کی تلاش میں نکل جاتے ۔ گاوں میں اب پکی سڑک اور بجلی پہنچ چکی تھی ۔ ان دونوں کے آنے سے گاوں کے کلچر میں نمایاں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی ۔ بجلی سے چلنے والی اشیاء کا حصول اب محبت پر مقدم تھا شہر تک آنے جانے کی آسانی نے جدید زمانے کی مصنوعات کو گاوں تک پہنچا دیا تھا ۔ اب مہمان کے آنے پر گھرکی شکر والی میٹھی لسی کی بجائے سیون اپ پیش کرنے کا رواج پڑ گیا تھا جبکہ اس سے پہلے اس کا استعمال صرف پیٹ میں درد کے مریض کے لئے ہی کی جاتا تھا ۔ لوگ اب پیسہ کمانے کی دوڑ سے واقف ہو رہے تھے تاکہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ ماڈرن بنایا جا سکے ۔

ایسا لگتا ہے کہ عالمی سطح پر جنگ عظیم دوم کے بعد سرمایہ دار نے ترقی کے نظریے کا زبردست پرچار کیا تھا اور اس سلسلے میں بہت پیسہ خرچ کیا گیا تھا ۔ ایلون ٹافلر کے الفاظ میں یہ دوسری لہر کو پوری دنیا میں شدت سے ہیشقدمی کرانے کے عمل کا آغاز تھا ۔ ترقی کے اس نظریے کی شدت سے تبلیغ کی گئی کہ “تاریخ کا بہاو ، غیر متبدل طور پر ، انسانیت کے لئے ایک بہتر زندگی کی طرف گامزن ہے اور ہمیں اس بہاو کو تیز کرنے کے لئے کوشش کرنا چاہیے “۔ چناچہ کاروباری لوگوں اور کسانوں نے یکساں طور ہر نئی فیکٹری ، ہر نئی تیار کردہ شے ، ہر نئی رہائشی تعمیرات ، شاہراہ یا ڈیم برے سے اچھے یا بہتر کی جانب سفر جان کر اس کا استقبال کیا ۔  شاعروں ، ڈرامہ نگاروں اور مصوروں نے اس ترقی کو الوہی فریضہ اور حق سمجھ لیا کہ آخر ترقی ہی نے فطرت کی تباہی و بربادی اور کم ترقی یافتہ تہذیبوں کی فتح کا جواز مہیا کیا ۔ ایڈم سمتھ کے افکار ایک بائبل کی طرح معاشروں پر چھاتے چلے گئے حالانکہ “دولت اقوام ” میں ترقی انسانیت کا تصور نہیں تھا بلکہ تصرف ایک بنیادی پتھر تھا ۔

پاکستان میں بھی آنے والے زمانے میں ترقی کے نام پر حکومتی کوشش ، میڈیا کے ذریعے اور سرمایہ خرچ کر کے گاوں کے  آزاد یونٹ کو توڑا گیا ۔ نتیجتا ترقی کا تصور شہری زندگی سے وابستہ ہو گیا ۔ آبادی کی نقل مکانی دیہات سے شہروں کی جانب شروع ہوئی ۔ شہروں کا انفراسٹرکچر اتنی آبادی کے لئے نہیں بنایا گیا تھا چناچہ وہ اپنی آخری حد تک دباو کا شکار ہوگیا اور آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔ شہر مسائلستان بن چکے ہیں ۔ گاوں سے نقل مکانی کرنے والا اب اپنے گاوں کی آزاد مٹی کی بوباس کی یاد کو سینے میں لئے شہر سے چمٹا ہوا ہے کیونکہ اس نے اپنی روح ترقی کی دیوی کے چرنوں میں دان کر دی ہے ۔

اور میں اس ماچے پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اپنی مٹی سے ناطہ دوبارہ استوار کروں یا پھر اس سے دامن چھڑا کر اجنبی سرزمینوں اور ترقی کی شاداب چراگاہوں کی طرف نکل جاوں جہاں مزید ترقی میرا انتظار کر رہی ہے ۔ رہی بات روح اور فلاح کی تو اسے کون پوچھتا ہے ۔ ویسے بھی ترقی  فلاح کی دشمن ہے ۔ فلاح کا رخ انسان کے اندر کی طرف ہوتا ہے اور ترقی جسم پر توجہ مرکوز کرتی ہے ، انا کی پرورش کرتی ہے ۔ اسراف اس کا بنیادی پتھر ہے ، مسابقت اس کا تیل ہے جس سے ترقی کی مشین چلتی ہے ۔ مگر لگتا ہے کہ اب آ کر فیصلہ شاید میرے ہاتھ میں بھی نہیں رہا ۔ ایسا لگتا ہے کہ میں ترقی کی بگھی میں بیٹھا ہوا ہوں شاید اس بگھی میں بیٹھنے کا انتخاب میں  نے بہت پہلے کیا تھا اور اب اس کے گھوڑے پوری رفتار مجھے بھگائے لئے جا رہے ہیں ۔ میں انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر وہ میرے اشاروں پر دھیان نہیں دے رہے ۔



 

30 Responses to ترقی کے گھوڑے

  1. ابن سعید

    April 15, 2010 at 7:57 AM

    برادرم بس اتنا بتا دیں کہ آپ کو میری کہانی حرف بحرف کیسے معلوم ہوئی؟ وہ کہانی جسے شاید میں بھی اس خوبصورت انداز سے سنانے کا اہل نہیں ہوں۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 9:51 PM

      وہ بلھے شاہ نے کیا کہا تھا کہ
      میں سمجھتا تھا کہ آگ محض میرے مکاں کو لگی ہے مگر جب مکاں کے اوپر چڑھ کر نظر دوڑائی تو سب عالم اس میں مبتلا دیکھا

      آپ غالبا روبی آن ریل میں پروگرامنگ کرتے ہیں ۔ روبی خوب ہے مگر میں اس میں کچھ زیادہ کر نہیں پایا ۔ ڈاٹ نیٹ ہی اپنی کاہلی کی وجہ سے جان سے چمٹ گیا ہے

       
      • ابن سعید

        April 18, 2010 at 4:01 AM

        واہ ما شاء اللہ یعنی کہ آپ ڈاٹ نیٹ کے پروگرامر ہیں، بہت خوب۔ ریاض بھائی کوئی بھی ایسی مخصوص پروگرامنگ زبان نہیں جس کا پروگرامر کہا جاؤں۔ میں ضرورت پڑنے پر کسی بھی زبان میں ہاتھ پاؤں مار سکتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے پروگرامنگ زبانوں کے دو چار ماڈل ہوتے ہیں اور انھیں میں سبھی سما جاتے ہیں۔ بس تھوڑے سے کیورڈس اور سنٹیکس جاننے ہوتے ہیں بس۔ باقی وہی لوپ، وہی کنڈیشنز وہی فنکشن اور پیرا میٹر، وہی ڈاٹا ٹائپ، وہی آبجیکٹ اور کلاسیز وغیرہ وغیرہ۔ ویسے یہ سچ ہے کہ بہت ہی ہیومن فرینڈلی اور ریپڈ ڈیویلپمینٹ ریڈی ہونے کی وجہ سے مجھے روبی آن ریلز بہت پسند آیا۔

         
  2. افتخار اجمل بھوپال

    April 15, 2010 at 9:52 AM

    خوبصورت
    ميرے والدين نے يہ کام نہيں کيا اور ميرے ماموں نے تو شايد يہ کام ہوتا بھی نہ ديکھا ہو گا ۔ مگر مجھے ان چيزوں کا شوق رہا ۔ ميں نے بچپن ميں گاجريں بھی اکھيڑيں اور کھائيں اور گنے بھی توڑے اور چوسے ۔ صبح سويرے کنويں پر نہايا بھی ۔
    آہ ۔ اب تو کھيت ديکھنے کو ہی ترس گئے ہيں کہ شہر اتنے بڑے ہو گئے ہيں کہ کھيتوں تک پہنچتے ہمت جواب دے جاتی ہے

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 9:59 PM

      مسلمان تہذیب کا بنیادی وصف زمیں اور مناظر فطرت سے محبت رہا ہے ۔ کل تک ہر گھر میں املتاس کا درخت ، چنبیلی ، رات کی رانی ، گل بنفشہ وغیرہ لازمی ہوتے تھے ۔ بعض اوقات صبح آنکھ گل یاسمین کی خوشبو سے کھلتی جو قریب ہی گھر کے صحن میں لگا ہوتا تھا ۔ یا والدہ چند پھول ہمارے سرہانے رکھ دیا کرتی تھیں ہم انہیں سونگھتے مسجد سیپارہ پڑھنے جاتے تو بہت لطف آتا

       
  3. DuFFeR - ڈفر

    April 15, 2010 at 10:03 AM

    بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے جی آپ نے یہ سب
    میں بھی بہت سوچتا ہوں کہ واپسی کا رستہ لوں
    لیکن اس بگھی سے اترنے کا خیال تو آتا ہے ارادہ نہیں بن سکتا

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:08 PM

      چلیں اگر ہم اترنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو رخ انور کو ہی یار کی طرف کر لیتے ہیں اس کا بھی اپنا مزہ ہے

       
  4. naeem akram malik

    April 15, 2010 at 10:23 AM

    آپ نے تو تصویر ہی بنا دی۔۔۔ ویسے آجکل بیلوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، ٹریکٹر زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔۔۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:11 PM

      جی ہاں ایسا ہی ہے مگر تیل کی قیمتیں سنتے ہیں تو بیل والوں پر رشک آتا ہے ۔ میرے ماموں بھی جب کاہل پن کرنا چاہتے ہیں تو ٹریکٹر بلوا کر کام کرا لیتے ہیں مزے سے۔ مگر اسکا بل دیتے ہوئے بلبلا اٹھتے ہیں ۔

       
  5. احمد عرفان شفقت

    April 15, 2010 at 10:23 AM

    بہت خوبصورت بیان کیا ہے۔ بغیر وہاں گئے گاوں کی زندگی یوں دیکھ لی جیسے وہاں پر ہی موجود ہوں۔اور باہمی محبت سے مادییت کی جانب سفر بھی خوب بیان کیا ہے آپ نے۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:13 PM

      جی ہاں میرے خیال میں ہمیں ترقی ضرور کرنا چاہیے مگر باہمی محبت اس کا ایک بنیادی پتھر ہونا چاہیے

       
  6. سیفی

    April 15, 2010 at 11:45 AM

    (………..
    گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں ہم بچوں کو جب برف کے گولے کھانے کا شوق چراتا تو نانی ہم بچوں کے دامنوں میں گندم ڈال دیتی اور ہم اس کے عوض دکان سے انہیں دامنوں میں بتاشے ، نمک پارے ، اور ہاتھ میں گنڈا گولا لے کر لوٹتے
    …………….)

    کیا منظر نگاہوں کے سامنے کھینچ کر رکھ دیا آپ نے۔ واللہ اتنی مزیدار تحریر میں نے آج تک نہیں پڑھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں اپنے بچپن سے اب تک کی فلم دیکھ رہا ہوں

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:14 PM

      سیفی صاحب
      میں تو اور واقعات بھی بیان کرنا چاہتا تھا مگر ڈر رہا تھا کہ قارئین کہیں گے کہ اس پینڈو پر آج دورہ پڑ گیا ہے اس لئے احتراز کیا ہے

       
      • احمد عرفان شفقت

        April 21, 2010 at 2:01 PM

        کاش آپ یہ احتراز نہ کرتے تو اور بھی لطف آتا۔ اب امید ہے کہ جو کچھ یہاں قلمبند ہونے سے رہ گیا ہے وہ سب انشاءاللہ جلد ہی ایک اور الگ پوسٹ میں ہمیں پڑھنے کو ملے گا۔

         
  7. محمداسد

    April 15, 2010 at 1:50 PM

    بہت اعلیٰ پایہ کی تحریر۔ ایک بار مکمل پڑھ لی مگر دوسری اور تیسری بار بھی ضرور بالضرور پڑھوں گا تاکہ پوری طرح استفادہ ہو۔

     
  8. دوست

    April 15, 2010 at 3:53 PM

    اگا دوڑ تے پچھا چوڑ۔۔۔۔۔ ہم نے سب کو بجلی دی، سب کو گیس دی آج یہ حال ہے کسی کے لیے بھی بجلی اور گیس نہیں بچی۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:26 PM

      ایک تحقیقی مقالے کے سلسلے میں مجھے گیس تلاش کرنے والی مسلمان ممالک کی چند غیر ملکی کمپنیوں کے اہم عہدےداروں سے ملاقات کا موقع ملا تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ سکھر سے لے کر سمندر کے اندر تک کا علاق

       
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 10:35 PM

      اسلم آباد میں ایک تحقیقی مقالے کے سلسلے میں مجھے گیس تلاش کرنے والی مسلمان ممالک کی چند غیر ملکی کمپنیوں کے اہم عہدےداروں سے ملاقات کا موقع ملا تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ
      سکھر سے لے کر سمندر کے bot اندر تک کا علاقہ گیس کے ایک سمندر پر تیر رہا ہے ۔ مگر اسے نکالنے کے لئے عزم کی ضرورت ہے ۔
      لفظ “عزم” کا مطلب تو ہم پاکستانی ہونے کے ناطے خوب سمجھتے ہیں ۔

       
  9. عنیقہ ناز

    April 15, 2010 at 6:05 PM

    بہت خوب، میں نے نو دس سال کی عمر میں اپنے ابا کا گاءوں موجود انڈیا کو دیکھا تھا۔ ابھی تک اس ہریالی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
    ترقی کی سواری، شیر کی سواری ہے، کرتے رہئیے اترنے کا خیال بھی نہ لائیے کہ انجام اچھا نہ ہوگا۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 11:13 PM

      عنیقہ
      شکریہ

      رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
      نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
      میرا خیال ہے کہ میں مقام اعتدال ہی حاصل کر لوں تو بہت ہو گا

      ترقی کا میں خود علمبردار ہوں مگر ترقی کے نام پر جس پھوہڑ پن کا مظاہرہ ہمارے ہاں کیا گیا ہے اس سے دل دکھتا ہے ۔ مثلا آپ آج بھی برٹش دور کی کسی عمارت میں چلے جائیں آپ سخت گرمی میں بھی صرف پنکھے سے گذارہ کر سکتی ہیں ۔ مگر فلیٹ میں بغیر اے سی کے گذارہ نہیں ہو سکتا ۔
      گرمی کے موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے بزرگ مخصوص مشروبات اور غذائیں استعمال کرتے تھے جسے ہم دیسی اور متروک جان کر استعمال نہیں کرتے ۔ ہماری نانی گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ہم بچوں کو کچی امبیوں کا شربت ہر روز ایک گلاس پلا دیتی تھیں ۔ سخت دھوپ میں کھیلنے کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گرمی کی وجہ سے بیمار پڑے ہوں سوائے ایک آدھ بار کے ۔ آج کتنے لوگ محض سر اور گُدی کو سورج سے مناسب طور نہ ڈھانپنے کی وجہ سے ہیٹ سٹروک کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
      دو دن پہلے میرے باس نے مجھے بلا کر کہا کہ دوران کار تواضع کے لئے سربند ، بازار کی بنی ہوئی اشیاء جس میں پریزرویٹر استعمال ہوتا ہو اور تلی ہوئی کوئی چیز نہ پیش نہ کی جائے بلکہ صرف قدرتی ، سادہ اور موسم کا مقابلہ کرنے والی اشیاء ہی پیش کی جائیں
      لوٹ پیچھے کی طرف گردش ایام تو
      ہمیں ترقی کے نام پر احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اپنی تہذیب کی چند خوبصورت اشیاء کو چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
      شہروں کو مناسب حد تک ہی پھیلنا چاہیے اور بڑا ہونے پر نیا شہر آباد کرنا چاہِے
      مشینوں پر انحصار اچھی چیز ہے مگر ہاتھ سے کام کرنے کی عادت کو بھی استوار رکھنا چاہیے ۔ کار اچھی شے ہے مگر قریبی مارکیٹ سے دہی لانے میں کار کی بجائے سائیکل کا استعمال کوئی بری بات نہیں ۔
      بڑے پروجیکٹس کی بجائے چھوٹے چھوٹے یونٹ لگانے چاہیے ۔
      اس زمیں اور اس کے وسائل کو خدا کا عطیہ جان شکر ادا کرنا چاہئے اور شکر یہ ہے کہ اسراف نہ کریں ، اور اس زمین میں زہر نہ ملائیں اس سے محبت کریں

       
  10. محمد سعید پالن پوری

    April 15, 2010 at 7:17 PM

    بہت خوب،بہت شاندار۔ سب “ستائے ہوؤں” کے جذبات کی خوب ترجمانی۔ منظر نامہ والے بھی نظر انداز نہ کرسکیں گے

    اگر مجھے گھر کی تعمیر کرنی ہے تو میرے عزیز اور دوست دنوں بلکہ مہینوں بلامعاوضہ اس کام میں ہاتھ بٹاتے

    بلکل جی بلکل،شاعر کی زبان میں:

    تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
    ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب ملکر اٹھاتے ہیں

    میں انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر وہ میرے اشاروں پر دھیان نہیں دے رہے

    اللہ کے فضل سے میرے اشاروں پر تو انہوں نے دھیان دیدیا اور اب گاؤں کی زندگی سے مکمل طور پر لطف اندوز ہورہا ہوں۔ وطن کی اب جو قدر ہورہی ہے وہ پہلے نہ تھی

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 11:20 PM

      خوب فرمایا قبلہ
      یقیننا آپ ان لوگوں کی محرومی پر مسکراتے ہوں گے جو اس مزے سے محروم ہیں

       
  11. محمد احمد

    April 16, 2010 at 4:43 PM

    سبحان اللہ!

    اس قدر خوبصورت تحریر ہے کہ الفاظ اس کے بیان سے عاجز ہیں۔ بہت عمدہ منظر کشی کی ہے آپ نے گاؤں کے ماحول کی۔

    دل خوش ہو گیا۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 11:24 PM

      آپ کی نوازش ہے میرے لئے اسقدر خوبصورت الفاظ استعمال کرنے پر ۔ میں شکر گذار ہوںں

      میرا خیال ہے کہ اب ایک نیکی تو میرے نامہ اعمال میں یقیننا لکھی گئی ہوگی

       
  12. arifkarim

    April 16, 2010 at 10:14 PM

    جب پوری دنیا بینک سے حاصل ہونے والے ’’روپے‘‘ ہی نے چلانی ہے تو بندہ شہر نہ جائے گا تو اور کیا گاؤں میں سڑے گا؟

     
    • محمد ریاض شاہد

      April 16, 2010 at 11:30 PM

      شاہ فیصل نے ستر کی دہائی کی تیل کی بندش کے موقع پر امریکی سفیر سے کہا تھا کہ ہم تو بدو ہیں صحرا میں خیمے لگا لیں گے ۔ آپ کا کیا ہو گا ۔ چنانچہ اس مرد جلیل کا کام تمام کرنا پڑا
      آپ نے کہا تو خوب ہے مگر اب لگتا ہے کہ وہ وقت بہت تیزی سے قریب آ رہا ہے کہ آپ کے ہاتھ میںبہت سے نوٹ ہوں گے مگر دانہ گندم اور دوسری اشیائے صرف پہنچ سے دور ہون گی اور صرف وہی کھائے گا جو اگائے گا ۔

       
  13. محمد بلال اعظم

    March 14, 2012 at 9:52 AM

    بہت اچھا لکھا ہے آپ نے

     

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s