Monthly Archives: April 2010
پنجابی فلم ۔ وارث شاہ ۔ عشق دا وارث
قصہ ہیر رانجھا پنجابی زبان کا وہ قصہ ہے جس نے پنجاب کے باسیوں کو صدیوں سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ یوں تو ہیر کا قصہ ماضی میں بہت سے شاعروں مثلا دمودر کھتری، باقی کو لابی ، شاہجان مقبل ، احمد گجر اور دیگر شعرا نے بھی لکھا تھا مگر جو شہرت ہیر وارث شاہ کو حاصل ہوئی اس کے سامنے باقی شعرا ماند پڑ گئے ۔ اس قصے میں اٹھارویں صدی کا پنجاب اپنی پوری تہذیب و ثقافت کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ اپنی شاعری کے متعلق وارث شاہ نے خود کہا کہ میرے اشعار قرآن مجید کی آیات کی تفسیر ہیں ۔
ایہہ معنی خاص قرآن مجید دے نیں
جیہڑے شعر میاں وارث شاہ دے نیں
اس لافائی شاعر اور پنجابی زبان کے شکیسپئر و سعدی نے قصبہ جنڈیالہ شیر خان تحصیل و ضلع شیخوپورہ میں 1722ءمیں سید خاندان میں آنکھ کھولی آپ کے والد کا نام سید گلشیر شاہ تھا جو سادات خاندان سے تھے ۔ وارث شاہ نے قرآن پاک اور دیگر ابتدائی علوم کی تعلیم آبائی قصبہ جنڈیالہ شیر خان سے حاصل کی اور بعدازاں اپنے خیالات و احساسات کا اظہار کرنے کیلئے پنجابی زبان کا انتخاب کیا ۔ وہ پنجابی زبان کے ایک عظیم صوفی اور شاعر بابا بلھے شاہ کے ہم عصر تھے۔ بعد میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے وارث شاہ اس وقت کے علم و ثقافت کے مرکز قصور پہنچے اور مخدوم میاں غلام مرتضی قصوری کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ (انہیں میاں غلام مرتضی سے بابا بلھے شاہ نے بھی درس نظامی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ) درس نظامی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وارث شاہ باطنی علم کے حصول کی خاطر پاکپتن چلے گئے اور حضرت بابا فرید گنج شکر کے گدی نشین سے بیعت ہوئے ۔ کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد انہوں نے گھر واپسی کی راہ لی اور راستے میں آج کے ساہیوال اور پاکپتن کے درمیان موجود گاوں ملکہ ہانس میں کچھ عرصہ قیام کیا اور محلہ مجاہد میں ایک مسجد کی امامت کا فریضہ ادا کرتے رہے ۔ یہیں قیام کے دوران مسجد کے حجرے میں انہوں نے ہیر وارث شاہ لکھی ۔ اپنی تصنیف مکمل کرنے کے بعد جب وہ اسے لے کر اپنے استاد محترم کی خدمت میں پہنچے تو میاں غلام مرتضی نے مطالعہ کے بعد کہا ” تم نے علم و حکمت کے موتی بان کی رسی میں پرو دے ” ۔
ہیر وارث شاہ بظاہر دوسرے عام قصوں کی طرح ایک عشقیہ قصہ ہے مگر اس قصے میں ہیر اور رانجھا اپنے قبائلی پولیٹیکل کلچر ،اکنامکس اور مذہبی پیشوائیت کے خلاف بغاوت کی علامت ہیں ۔ ہیر کے کردار کو پنجاب کی عورت کی آواز بھی کہا جاتا ہے جو معاشرے کے ظلم اور منافقت کے خلاف اپنی آواز اٹھاتی ہے ۔ اس قصے میں علم و حکمت کی باتیں بھی جا بجا بکھری نظر آتی ہیں ایک جگہ فرماتے ہیں
وارث شاہ محبوب نوں تدوں پائیے
جدوں اپنا آپ گنوا لیے
یعنی محبوب سے وصال اس وقت ہی ممکن ہوتا ہے جب اپنا ارادہ اور انا محبوب کے در پر قربان کر دیا جائے ۔
اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں
وارث شاہ نہ عادتاں جاندیاں نئیں
بھانویں کَٹیے پورا پورا جی
یعنی انسان اپنی خصلیتیں نہیں بدلتا چاہے اس کے جسم کو کئی ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے
سید وارث شاہ نے اس دور میں آنکھ کھولی جب انگریز ہندو پاک کو سونے کی چڑیا سمجھتے تھے اور اسے اپنے دام میں پھانسنے کی تگ دو میں مصروف تھے اوریہاں کے مغل حکمران انگریزی چیرہ دستیوں، چالبازیوں، مکاریوں اور عیاریوں کے شکار تھے ایک ضعیف، لاغر اور لاچار تہذیب دم توڑ رہی تھی اور جبکہ اس کی کوکھ سے ایک نئی تہذیب جنم لینے والی تھی وارث شاہ بحیثیت ایک باشعور اور حساس انسان ان حالات سے آگاہ و آشنا تھے سو انہوں نےاپنے قصے میں جگہ جگہ اس پنجاب کی جھک دکھائی ہے جو کہ افراتفری اور انتشار کے دور سے گذر رہا تھا۔ ہیر کے مطالعہ کے دوران ہمیں وقائع نگاری کے بڑے واضح اور اعلیٰ نمونے ملتے ہیں یوں لگتا ہے کہ وارث شاہ ہمیں کسی ایسی بلند جگہ لیے کھڑے جہاں سے پنجاب کی تمام تر روز مرہ زندگی کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ سید وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شکسپیئر بھی کہا جاتا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ انگریزی شاعری کے طالب علم جب کبھی پنجابی کلام پڑھتے ہیں تو یورپ کے شکسپیئر لارڈ باٹرن اور ورڈز ورتھ جیسے شاعروں سے وارث شاہ کو بڑا شاعر پاتے ہیں۔ وہ وارث شاہ کی ہیرمیں سب کچھ ڈھونڈ سکتے ہیں جو انہیں ورڈز ورتھ اور شکسپیئر کی شاعری سے ملتا ہے۔
وارث شاہ او سدا ای جیوندے نیں
جنہاں کیتیا ں نیک کمائیاں نیں
یعنی وارث شاہ جن سے نیک اعمال سرزد ہوتے ہیں وہ مرتے نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
وارث شاہ کی تصنیف پنجاب زبان کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ جس میں آپ نے پنجاب کی تہذیب و ثقافت کو مختلف پیراؤں میں سمونے کے علاوہ ماحول رسم و رواج ، طرز بودو باش، صنعت و حرفت، آلات کشاوری، طبی ادویہ، اسمائے حیوانات اور ان کے خصائل بیان کر کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ۔ وارث شاہ فن موسیقی سے بھی مکمل طور پر آشنا تھے اور ان کی ایک تصنیف میں فن موسیقی کے چھ بڑے راگوں کا بھی تذکرہ کیا ۔ بعض اصحاب وارث شاہ کو ملامتی صوفی کہہ کر پکارتےہیں ۔ ان کی وفات 1798 عیسوی میں ہوئی اور ان کا مزار لاہور کے قریبی قصبے جنڈیالہ شیر خان ضلع شیخوپورہ میں ہےجہاں ہر سال میلہ لگتا ہے اور ہیر پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے ۔
اب آتے ہیں فلم ” وارث شاہ ۔ عشق دا وارث “ کی طرف ۔ یہ فلم انڈیا میں بنی ، برطانیہ میں 2006 میں ریلیز ہوئی اور وارث شاہ کی زندگی پر بننے والی غالبا پہلی فلم ہے ۔ یہ فلم آسکر ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوئی ۔
فلم کا آغاز مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں موسیقی کے علامتی جنازہ نکالنے سے ہوتا ہے ۔ کیونکہ بادشاہ کے خیال میں موسیقی سے انسان خدا سے دور ہو جاتا ہے ۔ پھر وارث شاہ(گرداس مان) کا کردار دکھایا جاتا ہے جو موسیقی سیکھنے کے لئے ایک گرو کی تلاش میں ہوتا ہے ۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ میاں مخدوم(مکیش رشی) جنگل میں ایک خفیہ مقام پر موسیقی کی تعلیم دیتے ہیں تو وہ ان سے ملنے پہنچ جاتا ہے ۔ میاں مخدوم اسے بتاتے ہیں کہ اس میں بہت صلاحیت ہے مگر اس کے دل میں وہ سوز نہیں جو اسے ہیر لکھنے اور اپنی موسیقی کو رنگ بخشے میں مدد دے ۔ چنانچہ وہ ایک دوسرے گاوں چلا جاتا ہے جہاں موسیقی ابھی ممنوع نہیں ہوئی ۔ مغل بادشاہ کو جب میاں مخدوم کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ موسیقی کی تعلیم دیتے ہیں تو ان کے قتل کا حکم صادر کرتا ہے اور میاں مخدوم کو پھانسی دے دی جاتی ہے ۔ اُدھر وارث شاہ کا نئے گاوں میں بھاگ بھری (جوہی چاولہ) نامی ایک عورت سے سامنا ہوتا ہے جو وارث شاہ کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور وارث شاہ کا بھی یہی حال ہوتا ہے ۔ مگر ایک اور عفیفہ سابو(دیویا دتہ) بھی وارث شاہ کے عشق کی آگ میں جل رہی ہوتی ہے ۔اور اپنی پوری کوشش کرتی ہے کہ بھاگ بھری کا کانٹا صاف کر دے ۔ بالآخر بھاگ بھری کی شادی زبردستی سابو کے بھائی سے ہو جاتی ہے ۔ اور وارث شاہ محسوس کرتا ہے کہ عشق کے سوز کو سینے میں فروزاں رکھنے کے لئے اسےاس گاوں سے اب چل دینا چاہیے ۔
فِلم میں اٹھارویں صدی کا منظر پیش کرنے کے لیے مشرقی پنجاب کے ضلع روپ نگر کو چنا گیا تھا۔ سیٹ کے لیے اصل درخت لگائے گئے اور بعض اوقات سیٹ دیکھنے کے لیے آنے والے وہاں بنی مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے بھی اتار دیتے تھے۔ اس سیٹ کو دیکھنے کے لئے ہزاروں سیاح بھی آئے ۔ بہرحال اپنی تمام تر تاریخی خامیوں اور موسیقی ورقص کی طرف بے جا جھکاو کے باوجود یہ فلم ایک اچھی کاوش ہے اور پنجابی زبان سے شغف رکھنے والے حضرات اس سے لطف اندوز ہوں گے ۔
فلم میں میاں مخدوم پھانسی سے پہلے اردو میں نغمہ سرا
فلم میں وارث شاہ حاکم شہر کی فرمائش پرنغمہ سرا
اللہ ہو تونبہ کہندا اے (تونبہ ۔ ستار کے کدو والا حصہ تونبہ کہلاتا ہے ۔ پنجاب میں استعمال ہونے والا ستار سے ملتا جلتا ساز جس میں تین تاریں ہوتی ہیں اور دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی پر فولادی انگشتانہ پہن کر بجایا جاتا ہے ۔ سائیں اختر اور سائیں ظہور یہی ساز بجانے کے ماہر تھے)
ہیر کے کچھ چنیدہ اشعار
حوالہ جات
وارث شاہ پر اردو ٹائمز کا مضمون
قصہ ہیر وارث شاہ پر جیو ورلڈ کا مضمون
المیہ آزادی
انقلاب فرانس جدید عہد کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ انسانیت میں ایک نئےدور کی بنیاد رکھی تھی ۔ روسو کے افکار اس انقلاب کی بنیاد تھے ۔ جب تمام یورپ اور ایشیا بادشاہت اور مذہبی پیشوائیت کے نظام کے جبر تلے کراہ رہے تھے اس وقت روسو کے خیالات تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح لوگوں کے لئے امید کا پیغام لائے ۔ اس نے کہا کہ “انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ہر طرف وہ زنجیروں ميں جکڑا ہوا ہے۔” ۔ انقلاب کے بعد کے عہد میں اس نظریے کی شدت سے حفاظت اور پر چار کیا گیا ۔ اس نظریے پر یورپ اور مغربی تہذیب کی فکری میراث قائم رہی ہے اور برابر قائم ہے ۔ اپنے ابتدائی دور میں آزادی کے تصور کے ساتھ انسان نے اپنے سفر کا آغاز کیا ۔ یورپی اہل نظر نے خوش خبری دی کہ ایک نیا زمانہ ظاہر ہو رہا ہے ، ایک بہتر دنیا پیدا ہو رہی ہے ۔ امید ، اعتماد ،نیکی ،روشنی اور آزادی کی کرنوں کے ساتھ ایک نئے جہان کی آمد مقدر ہو چکی ہے ۔ لیکن دو سو برس کے سفر کے بعد اس خبر کا پتہ چلا کہ دنیا کی جو شکل ظاہر ہوئی ہے وہ ویسی نہیں ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا ۔
دو سو برس قبل کے دیکھے گئے خواب کی دنیا اہل یورپ کے فکر اور فلسفے کی دنیا تھی اور آج ظاہر ہونے والی دنیا جس میں ہم بستے ہیں ایک سراسیمہ دنیا ہے ۔ انسان عظیم کائناتی سطح پر ہونے والے کسی حادثے سے خوفزدہ ہے ۔ انسانیت جیتے ہوئے جینے سے مایوس ہو رہی ہے ۔ ہمارے ماضی کا انسان اپنے مستقبل کے رخ کو پہچاننے کی مہارت رکھتا تھا لیکن اب ایک بھی شخص ایسا نہیں جو دوسرے شخص سے خوفزدہ نہ ہو ۔ ایسا کیوں ہوا ۔ شاید آزادی کے نعرے کا تعین کرتے وقت آزادی کی حددو کا تعین نہیں کیا گیا تھا اور یہ نہ سوچا گیا کہ بے شرط آزادی کا راستہ یقیننا تباہی کا راستہ ہے ۔ آج انسان اپنی ہلاکت خیز جبلت کے تسلط میں آ چکا ہے ۔ ہر دوسرے انسان کے خلاف اس نے دشمنی کو پال رکھا ہے ۔ ہم غصے اور غضب ناکی کے دن کاٹ رہے ہیں ۔ آزادی کے فلسفے نے خواہشوں کو کھلا چھوڑ دینے سے ایک نہ رکنے والا طوفان پیدا کر دیا ہے جس کے ریلے میں ہر شے ڈوب جانے کا خطرہ ہے ۔ ہم نے اس سے بچنے کے لئے کلچر میں پناہ لی ہے مگر ہمارا کلچر کیا ہے محض ایک پردہ جس نے ہماری آنکھوں سے ہمارے عذاب ، ہمارے دکھ ، ہمارے خوف اور ہم پر وارد ہونے والی موت کو چھپا رکھا ہے ۔
انتہا درجے کی سیاست کاری اس لئے رواج پا چکی ہے کہ ہم نا امیدی کی گرفت میں آ چکے ہیں ۔ لگتا ہے کہ سیاست ہی انسان کے زوال کا سبب بنے گی ۔ بے شمار لوگوں پر چند انسانوں کا تسلط ہمارے زمانے کی حقیقت بن گیا ہے کیونکہ ہوس اقتدار کے باعث انسان کا ذہن بگڑ گیا ہے ۔ اب انقلاب اس لئے نہیں آتے کہ انسانوں کے درمیان محبت کا فروغ ہو بلکہ انقلاب لوگوں کو سزا دینے کے لئے ہوتے ہیں ۔ انسانوں کے مابین بھائی چارے کے جذبے کو سیاست نے کچل دیا ہے ۔
انقلاب فرانس نے کلچر کے ذریعے انسان کو مرکز مانا اور ماورا اور میٹا فزکس کو اپنے کائناتی نقشے سے خارج کر دیا اس طرح روحانی امور کی بجائے نفسیاتی امور کی اہمیت بڑھتی گئی ۔ اب حالت یہ ہے کہ انسان مسلسل گردش میں ہے اور پوچھ رہا ہے کہ میں عمدہ زندگی کیسے جی سکتا ہوں ؟ میں اپنے کیف اور خوشی کے لئے کون سے ذرائع تلاش کر سکتا ہوں ؟۔
ان سوالوں میں سے کوئی بھی ایسا سوال نہیں جو انسان اپنی روح کے بارے میں پوچھتا ہو یا ان صداقتوں کے بارے میں جو میٹا فزکس سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس طرح انسانی زندگی کا بنیادی سوال کہ موت کیا ہے اور مرنا کیا ہے انسانی ذہن سے محو ہو چکا ہے اور کائنات اور انسان کے درمیان رشتہ کا سوال انسانی فکر سے مٹ چکا ہے
حوالہ جات
روسو
انقلاب فرانس
ہمارا ادبی اور فکری سفر ۔ مصنف جیلانی کامران
اقبال اور عصری مسائل ۔ مصنفہ ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف
گونگا معاشرہ
آپ پاکستان میں کسی بھی شہری محفل میں کھڑے ہو جائیں اور تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کریں تو سوائے بزرگوں کے ، ہر مخاطب دو چار جملوں کے بعد ایک لفظ کا استعمال ضرور کرے گا ۔ یو نو (You Know) اور اگر اس سے ملتا جلتا لفظ نہ کہے تو دوران گفتگو ہاتھوں کو زور زور سے مخاطب کے چہرے کے سامنے ضرور ہلائے گا تاکہ جو وہ نہیں کہ سکا وہ ہاتھوں کی حرکات سے پہنچا سکے۔ گفتگو اگر انگریزی میں شروع ہوئی ہے تو دو چار جملوں کے بعد اردو کی پٹڑی پر آ جائے گی مگر اس میں انگریزی الفاظ کا جا بجا استعمال درد کے پیوند کی طرح ہر گھڑی لگتا چلا جائے گا ۔اور اس کے بعد پھر انگریزی کا ایک جملہ سنگ گراں کی طرح آپ کے حسن سماعت کے لئے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر حضرات ابلاغ کے معاملے میں میں تقریبا اسی طرح درد زہ کی سی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں ۔ دوچار فقرے بولنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ابلاغ مکمل نہیں ہوا چناچہ پھراردو سے انگریزی یا اس کے برعکس گیئر بدلا جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے کلچر کے متعلق بے یقینی کا شکار ہیں اور صحیح طور پر اپنا ثقافتی تشخص نہیں کر پا رہے ۔
زبان اظہار کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ ترقی یافتہ قوموں میں زبان تیزی سے ترقی کرتی ہے اور اس میں نئے الفاظ کا اضافہ تیزی سے ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اردو زبان میں بھی الفاظ کا اضافہ ہوا ہے انگریزی الفاظ کی کھپت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ مگر اگر غور سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ترقی محض مادی میدان میں ہوئی ہے جبکہ سماجی میدان میں ہنوز جمود کا سا عالم طاری ہے ۔ نئے محاورے ، نئی ضرب الامثال ، نئی کہاوتوں ، نئی تشبیہات و تلمیحات کا استعمال کم دیکھنے میں آتا ہے ۔
میرے والد صاحب اپنے سکول کے طالبعلموں میں ایک ہر دلعزیز سائنس ٹیچر کے طور پر مشہور تھے ۔ ایک دن جب میں نے ان سے کامیابی کا راز پوچھا تو کہنے لگے کہ مخاطب کی ذہنی سطح ، ماحول اور زبان کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔ ایک دہقانی لڑکے کونیوٹن یا بوائل کے اصول آپ انگریزی یا اردو کی اصطلاحات میں پڑھانے کی کوشش کریں گے تو ناکام رہیں گے ۔ اسے پنجابی زبان میں گاوں کی عام زندگی سے مثالیں دے کر ہی اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں ۔ یعنی اصل اہمیت ابلاغ کی ہے چاہے اردو میں ہو ، انگریزی میں یا پھر پنجابی میں ۔ میں نے اس اصول کو پلے باندھ لیا ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد لاہور میں ایک ستر سالہ خاتون مسز مسرت نے ایک ملاقات کے دوران مجھے زندگی کا ایک اور سبق دیا کہ ان کے والد نے ان کے بچپن میں ہی کہا تھا کہ جب اردو بولنا تو خالص اردو بولنا اور جب انگریزی بولنا تو خالص انگریزی بولنا ۔ ( مسز مسرت نے جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کی کتاب ” اے جج مے لاف ” کے کارٹون بنائے تھے اور ان کے والد میاں نظام الدین قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ریلوے کے وزیر تھے ۔ اب پتہ نہیں زندہ ہیں یا وفات پا چکی ہیں)
پاکستان کی آزادی کے وقت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی میں تھا ۔ کتابیں بھی انگریزی میں تھیں ۔ اساتذہ لیکچر بھی انگریزی میں دیتے تھے اور نوٹس بھی انگریزی میں لکھواتے تھے ۔ طلبا بھی اساتذہ سے انگریزی میں گفتگو کرنے کی کوشش کو ترجیح دیتے تھے ۔ پھر اردو کا چلن ہوا ۔ اساتذہ اور طلبا میں بے تکلفی قائم ہوئی ۔ کلاسوں میں طلبا کی دلچسپی بڑھی لیکن مجموعی طور پر معیار تعلیم پر منفی اثر پڑا ۔ طالبعلموں کی انگریزی کمزور ہو گئی اور انگریزی کتابیں ان کی سمجھ سے باہر ہو گئیں ۔ اردو انگریزی کی کھچڑی بن گئی ۔ لوگ اپنی دلی کیفیات کا اظہار بھی کرنے سے قاصر ہو گئے ۔ معیاری اردو اور انگریزی صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ لفظ آنٹی کے پردے میں خالہ ، چچی ، تائی یا پھوپھی کون چھپا ہے معلوم نہیں پڑتا اور ریڈرز ڈائجسٹ میں انگریزی لطیفہ پڑھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں ۔ سکول کے بچے اردو پڑھنے کے لئے ٹیوٹر ڈھونڈھتے ہیں ۔ شاید کچھ عرصہ کے بعد لوگ ایک دوسرے سے یہ کہتے نظر آئیں گے
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو ، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
بعض اوقات چواین لائی بہت یاد آتے ہیں جنہیں ایک غیر ملکی ملاقات کے دوران انگریزی بولنے کو کہا گیا تو ان کی طرف سے ایک جواب آیا جو تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لئے رقم ہو گیا ”چین گونگا نہیں ہے“۔
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
ہر چند سہارا ہے ، تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ، ایک عجب خوف سا دل کو
وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی ، لے اڑا نیندیں
وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی ، کھا گیا دل کو
یاں سانس کا لینا بھی ، گذر جانا ہے جی سے
یاں معرکہِ عشق بھی ، اک کھیل تھا دل کو
وہ آئیں تو حیراں ، وہ جائیں تو پریشاں
یارب کوئی سمجھائے ، یہ کیا ہوگیا دل کو

