پاکستان اور اسلام ۔ احمد رفیق اختر
میں نے پہلے پہل پروفیسر احمد رفیق اختر کا ذکر ممتاز مفتی کی کتاب ” تلاش ” میں پڑھا ۔ وہ انہیں جدید زمانے کا ایک با علم صوفی قرار دیتے ہیں مفتی نے ان کے پاس اللہ کے عطا کردہ علم الاسماء کا بھی ذکر کیا مگر میں نے اسے ممتاز مفتی کی روایتی عقیدت پسندی سمجھا جو وہ ہر منفرد فرد کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں اورجس کا مظاہرہ وہ اپنی کتاب الکھ نگری میں کر چکے تھے ۔ چند سال بعد ممتاز کالم نویس جاوید چوہدری نے بھی ان سے ایک ملاقات کے بعد انہیں اپنے ایک کالم میں ” ماڈرن صوفی “کہا ۔ جاوید چوہدری جیسے تشکک پسند صحافی کے قلم سے پروفیسر کی تعریف پڑھ حیران ہوا کیونکہ جاوید چوہدری ایک زمانے میں اپنے آپ کو اپنی عقلیت پرستی کی بنا پر مذاق میں دہریہ کہا کرتے تھے ۔ چنانچہ میں نے جاوید سے پروفیسر کا فون نمبر حاصل کیا مگر پروفیسر سے بات نہ ہو سکی ۔ ایک دفعہ پنڈی جاتے ہوئے بغیر ملاقات کا وقت طے کئے ان کے آبائی شہر گوجر خان میں پروفیسر سے ملاقات کی ٹھانی مگر پروفیسر ایک لیکچر کے سلسلے میں میر پور گئے ہوئے تھے ۔
اس بات کو چند ایک برس بیت گئے تو مجھے پتہ چلا کہ پروفیسر اتوار کے دن مخصوص اوقات میں فون خود اٹینڈ کرتے ہیں ۔ کافی دفعہ کوشش کے بعد میں ایک دن پروفیسر سے فون پر بات کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ ان دنوں میں کچھ جذباتی اور دوسرے قسم کے مسائل سے دوچار تھا ۔ میں نے فون پر اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں اپنے ذاتی مسائل پر ان کا مشورہ چاہتا ہوں ۔ پروفیسر نے کہا کہ پہلے اپنا مکمل نام بتاو ۔ میں نے نام بتایا تو پروفیسر بغیر کچھ مزید پوچھے میری شخصیت کے تجزیے میں مصروف بولنا شروع ہو گئے ۔ دو تین منٹ میں انہوں نے میرا اندرونی پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیا اور مجھے چند اسمائے ربانی پڑھنے کی تلقین کی تاکہ میری شخصیت کے اندر توازن پیدا ہو سکے ۔ اس کے بعد یہ گفتگو ختم ہو گئی ۔
بچپن میں کتابوں سے شغف کی بنا پر ، میں علم نفسیات ، مابعدالنفسیات ، ٹیلی پیتھی ، مراقبہ اور پامسٹری وغیرہ کا مطالعہ کرتا رہا تھا اور اس بات سے آگاہ تھا کہ ان علوم کی مدد سے کوئی فرد محدود حد تک کسی دوسرے انسان کو پڑھ سکتا ہے مگر محض نام سن کی کسی فرد کا اس حد تک گہرا نفسیاتی تجزیہ کرنا ایک محیرالعقول بات تھی ۔اور س بات نے مجھے کچھ عرصہ حیران و پریشان رکھا
میرے ابتدائی بچپن کے چند سال ایک ایسی جگہ بسر ہوئے جو ملک کے ایک مشہور ترین صوفی بزرگ کے مزار سے بہت قریب تھی ۔ میرا جو بھی عزیز اُس شہر کام کے سلسلے میں جاتا ،صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری ضرور دینے جاتا ۔ اس کے علاوہ بھی میرے چند عزیر کچھ دور ایک اور دوسرے شہر میں ایک مشہور مرحوم بزرگ کے مزار پر حاضر ہوتے تھے اور مشہور تھا کہ ان کے مزار کی مسجد میں نو راتیں قیام اور عبادت کرنے سے دعا قبول ہو جاتی ہے اور دلی مرادیں پوری ہوتی ہیں ۔ بعض اوقت مجھے بھی میرے عزیز رشتہ دار ساتھ لے جاتے تھے ۔ مگر میں اپنی سکول کی سائنسی تعلیم کی وجہ سے ہر بات کو حواس اور عقل کے ترازو کی مدد سے پرکھنے کا عادی ہو چکا تھا ۔ مجھے بزرگان دین کے مزاروں پر عوام کی اندھی عقیدت میں کوئی کشش نظر نہیں آتی تھی اور میں محض مزار پر فاتحہ پڑھنے ، مٹھائی کھانے ، قوالی اور دھمال دیکھنے اور سرکس کے جھولوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ۔ بعد میں ان بزرگان دین کے حالات زندگی جاننے کی کوشش میں چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیا تو یہ لوگ مجھے کسی اور دنیا کے افراد لگے ۔ کوئی فاقہ کش ، چلوں کی خاطر کنووں میں الٹا لٹکنے والا ، ہر وقت تسبیح پھیرنے والا ، علم معاشیات سے ناآشنا اوراور بعض کو روایات کے مطابق تو ولایت اس بات پہ ملی تھی کہ ان کے مرشد نے خوش ہو کر ان کی طرف ایک نظر الفت کی تھی اور ان کا سینہ معرفت اور نور سے بھر گیا تھا ۔ مجھے یہ لوگ ایسے افسانوی کردار لگے جن کو ان کے چاہنے والوں نے حکایات اور قصہ گوئی کے فن سے عام انسانوں کی بجائے فرشتوں کے زیادہ قریب کر دیا تھا بھلا ایک مرحوم مسلمان کسی دوسرے زندہ مسلمان کو کیا فائدہ یا نقصان دے سکتا ہے ۔ دورسرے لفظوں میں ، میرا شمار منکرین تصوف میں ہوتا تھا ۔
2004 میں مجھے حادثتا چند ایک ایسے روحانی تجربات سے ذاتی طور پر گذرنا پڑا جس کا میں بذات خود شاہد تھا (جس میں میری کوئی کوشش شامل نہیں تھی) اور میں ان کا انکار بھی نہیں کر سکتا تھا اور اب یہ تجربات میرے پچھلے تمام خیالات کی عمارت گرانے کے درپے تھے۔ مگر میری عقل نے آگے بڑھ کر ایک وار کیا اور سمجھایا کہ یہ محض ایک اتفاق ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ پھر اسی دوران میرے ایک بہت عزیز دوست جو کہ بہت تعلیم یافتہ ، دنیا کی سیاحت کیے ہوئے ، نیوزویک اور فارن پالیسی میگزین کے رسیا اورایک بہت ذمہ دار سرکاری عہدے پر سارا دن عملی مسائل کی گتھیاں سلجھاتے ہیں ، اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور اپنی روحانی وارداتوں کی تفصیل مجھ سے بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ آج بھی اپنی منتخب کردہ راہ سلوک پر گامزن ہیں اور وقتا فوقتا اس موضوع پر فون کے ذریعےبات چیت ہوتی رہتی ہے مگر میں عقل اور عشق دونوں کے درمیاں آج بھی کھڑا ہوں اور فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ تصوف کا ایک فرد کی عملی زندگی اور پاکستان میں کیا کردار ہے اور کس قسم کا اسلام پاکستان کت لئے سود مند ہے۔
مگر بہرحال اس بات کا سراغ ضرور مل گیا ہے کہ اس دنیا کے متوازی ایک روحانی سسٹم بھی کام کر رہا ہے جو حواس کی گرفت سے باہر ہے ۔(اور بھی ذاتی تجربات و واقعات ہیں مگر چونکہ ذاتی نوعیت کے ہیں اس لئے ان کا ذکر مناسب نہیں ) ۔
پروفیسر احمد رفیق اختر کے متعلق بھی میں اب تک خود کوئی فیصلہ نہیں کر پایا کہ وہ کیا ہیں ۔ ایک ماڈرن اور با علم صوفی ؟ ، ایک ناکام گورنمنٹ سرونٹ / ٹیچر ؟ ، ایک جذباتی اور اس معاشرے کا مس فٹ انسان جو ایک جذباتی لمحے کی گرفت میں آ کر اپنی برسوں پرانی ملازمت کو لات مار کر خالی ہاتھ اپنے آبائی شہر گوجر خان میں آ کر برتنوں کی دکان کھول لیتا ہے یا پھر ایک شہرت کی ہوس کا مارا ہوا شخص جو اپنی انا کی تسکین مذہب کا لبادہ اوڑھ لوگوں کا مرکز نگاہ بن کر کرنا چاہتا ہے ؟ ۔
مگر بہر حال پروفیسر کا مطالعہ اسلام اور جدید علوم کے متعلق وسیع ہے ۔ وہ اسلام اور تصوف کی دقیانوسی اصطلاحات کی بجائے جدید اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور اپنے علم کی بنا پر سامعین اور ماننے والوں پر ان کی مضبوط گرفت قائم رہتی ہے ۔ ان کے لیکچرز سے مجھے بھی اپنے کچھ سوالوں کے جواب ملے اگرچہ ان کے خیالات ، نظریات اور معلومات کے ناقدین بھی بے شمار ہیں ۔
ان کا ایک آڈیو لیکچر بعنوان ” پاکستان اور اسلام ” مجھے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں دلچسپ لگا ۔ جو حضرات اس قسم کے مواد سے رغبت رکھتے ہیں ان کی سہولت کے لئے میں نے اسے نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے ۔ سنیئے اور اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے ۔
لیکچر ۔ “پاکستان اور اسلام ” ۔ دورانیہ : تقریبا دو گھنٹے

Like this:
Be the first to like this post.
Tags: احمد رفیق اختر ، تصوف ، پاکستان ، اسلام ، صوفی ، صوفی اسلام ، اسلامی لیکچر
عبداللہ
March 15, 2010 at 5:14 AM
ڈاکٹر اسرار احمد کا بھی یہی نظریہ ہے !
صرف اتنے سے فرق کے ساتھ کہ انکا کہنا ہے کہ جو لوگ پاکستان کی مخالفت کررہے تھے وہ صرف اس لیئے کہ انکا خیال تھا کہ ساری دنیا مسلمانوں کے لیئے ہے اوراس لیئے بھی کہ انہیں ایک بڑے حصے کو چھوڑ کر ایک چھوٹے حصے پر قانع نہیں ہونا چاہیئے،مگر جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ مشیئت الہی یہی تھی اس لیئے ان مین سے بہت سے پاکستان آگئے باوجود وہاں گھر اور جائدادیں ہونے کے
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 12:03 AM
عبداللہ شکریہ
مگر بات اس سے زیادہ گہری تھی ۔ اس کے لئے علامہ اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی کا قصہ جاننا ضروری ہے ۔
عبداللہ
March 19, 2010 at 2:37 AM
Can you please write this story?
محمد ریاض شاہد
March 19, 2010 at 2:55 AM
اس کا ذکر علامہ اقبال کے ضمن میں آئے گا۔
عنیقہ ناز
March 15, 2010 at 10:39 AM
اس سلسلے میں منیر عباسی نے ایک پوسٹ چند مہینے پہلے لکھی تھی۔ مجھے اسکا عنوان یاد نہیں وہی بتا سکتے ہیں پھر نیٹ پہ سرچ کی اور انکے متعلق کافی متنازع رائے بھی سامنے آئیں۔
بہر حال جن کرامات کو لوگ روحانی شخصیات سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ ناکے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس وقت تک انسانی دماغ کو مکمل طور پہ سمجھ نہیں جا سکا ہے اسی طرح کائنات نہ صرف نا تمام ہے بلکہ ہم تو بیشتر رازوں کے بارے میں ابھی کچھ نہیں جانتے۔ انسانی عقل کا سفرشروع ہوئے ابھی کچھ زیادہ عرصہ بھی تو نہیں ہوا شاید تین چار ہزار سال پہلے انسان نے تحریر کرنا شسیکھا۔ تو ابھی اس مرحلے پہ کچھ کہنا آسان نہیں۔ آج اگر ایک پین کلر سے درد کا اثر تھوڑی دیر کے لئے ختم ہو جاتا ہے تو آج سے تین سو سال پہلے کے شخص کے لئے یہ ایک جادو یا کرامت ہی ہوگی۔
صرف مسلمانوں میں ہی نہیں دنیا کے ہر مذہب کے ماننے والے ایسی روحانی شخصیات کو رکھنے کا دعوی کرتے ہیں۔ میں تو خود ایک ایسے شخص سے مل چکی ہوں جو بطاہر ہر ایسی بری عادت میں ملوث تھآ جو اسلامی لحاظ سے اسے فاسق بناتی ہو مگر کچھ محیر العقول قسم کی چیزیں اس نے صرف مجھے ہی نہیں کچھ اور لوگوں کو بھی کرع کے دکھائیں جنہیں اس نے ایک ہفتے کی محنت سے حاصل کیا تھا۔
یہ ااسکا دعوی نہیں تھا بلکہ میری آنکھوں دیکھی حقیقت ہے۔
بڑا لمبا مضمون ہے میری دلچسپی بھی ہے اس میں۔ مگر اس وقت اتنا ہی وقت ہے۔
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 12:15 AM
محترمہ عنیقہ صاحبہ
اس بارے میں فی الحال کچھ حتمی طور میں نہیں کہ سکتا ۔
یارب غم عشق بری بلا ہے
ہر اک شخص کا تجربہ نیا ہے
مکی
March 16, 2010 at 3:04 AM
یار یہ غلط بات ہے.. علمی موضوعات سے آپ ایک دم ڈھکوسلوں پر آگئے ہیں..
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 12:06 AM
مکی صاحب
اسلام علیکم
اصل میں موجودہ حالات میں پاکستان میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ کس طرح کا اسلام اصل اسلام ہے اور جو ہمارے معاشرے کو فلاح سے ہمکنار کر سکے
مکی
March 18, 2010 at 2:35 AM
وہ تو ٹھیک ہے یار مگر اس کا فیصلہ کیا یہ گدھے کریں گے!؟
محمد ریاض شاہد
March 19, 2010 at 5:33 PM
یار یہاں اسی قسم کے گدھے دستیاب ہیں چناچہ ہم انہیں سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
March 16, 2010 at 7:33 PM
قوم کو واعظ سے ذیادہ عمل اور عملی علمی موضوعات پہ مسلسل محنت اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہر وہ بیان جس کی فصاحت و بلاغت کا کوئی عملی اور مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو محض حجت اتمام ہے۔
اسلام اور صوٖیائہ ازم دو مختلف چہزیں ہیں۔ اسلام عمل کو جنت اور جہنم سے تعبیر دیتا ہے۔ جبکہ صوٖیاء ازام حقیقت سے فرار ہے۔ جو اسلام کے روح کے منافی ہے
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 12:10 AM
جاوید صاحب
شکریہ ۔ آپ جیسے باریک بین محترم سے مجھے زیادہ مفصل تجزے کی توقع تھی تاکہ مجھے بھی کچھ رہنمائی مل سکتی ۔ ویسے ذاتی طور میں شریعت کی پابندی کو تو آسانی سے قبول کر لوں مگر صوفی بننا اپنے آپ کو بہت مشکل میں ڈالنا ہے ۔ تصوف تو ظاہر اور باطن کے ایک ہونے اور ہر بات میں رضائے الہی ڈھونڈنے کا نام ہے
محمد ریاض شاہد
March 17, 2010 at 8:17 AM
محترم قارئین
میرا نیٹ کل سے خراب ہے ۔ اس لئے تبصروں کا جواب لکھنے سے معذور ہوں ۔امید ہے کہ ایک آدھ دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔
محمد سعید پالن پوری
March 17, 2010 at 9:06 PM
جاوید بھائی! آپ کی بات صحیح ہے، فلسفہ تصوف واقعی اسلام سے متصادم ہے لیکن تصوف ،بالفاظ دیگر “احسان”، اس کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے
محمد سعید پالن پوری
March 17, 2010 at 11:24 PM
ریاض بھائی آجکل آپ “فارم” میں ہیں ایک کے بعد ایک زبردست پوسٹ اللہ کرے زورکلک اور زیادہ
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 12:11 AM
محمد سعید پالن پوری صاحب
اسلام علیکم
شکریہ ۔ یہ سب آپ جیسے قارئین کی رہنمائی اور دعاوں کا نتیجہ ہے
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
March 18, 2010 at 6:20 AM
محترم ریاض شاہد صاحب!
کچھ مصروفیات کی وجہ سے تفضیلات میں نہیں جاؤنگا ۔ نیز میں خود طفل مکتب ہوں ،بھلامیں نا چیز آپکی کیا رہنمائی کر سکتا ہوں؟۔
جہاں تک آپ کے موضوع کا تعلق ہے یہ ایک بہت لمبی بحث ہے جو بلا مبالغہ ہزاروں سالوں پہ پھیلی ہوئی ہے اور یہ بحث قبل از اسلام چلی آرہی ہے، تصوف خاص اسلامی عقیدہ نہیں۔ صوفی ازم مختلف مذاہب اور ادوار سے ہوتا ہوا اسلام میں در آیا ہے۔ تاریخ میں اسکا حوالہ قبل از مسیح قدیم یونان میں بھی میں ملتا ہے ۔ مادیت کے مقابلے میں نظریہ یہ تھا کہ عالم انسانیت عقلی بنیاد پہ شاید ہی کبھی تلاش “حق” میں کامیاب ہوسکے محض حکمت و دانش سے حق کو نہیں پایا جاسکتا نیز کہ فہم و دانش محض اس دنیا کے لئیے مفید ہوسکتی ہے ۔ پچھلی صدی کے آخر تک یوروپ میں پائے جانے والی جدید صوفی ازم کی ایک لہر کا کا ذکر قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ میں بھی کیا ہے جس میں اس صوفی ازم کے پیرؤکار اسلام ، نصرانیت، یہودیت اور ہندوازم وغیرہ کو مانتے اور جن نشان دو پروں والا دل ہوتا تھا ۔الغرض صوفی ازم یا تصوف بہت “الاسٹک شئے ہے جس سے اسلام کو فائدہ کی بجائے نقصان کا ذیادہ احتمال رہتا ہے۔ شریعت ہر صورت طریقت اور تصوف پہ افضیلیت اور اختیار رکھتی ہے کہ یہ اسلام کا تقاضہ ہے خواہ صاحب تصوف یعنی صوفی یا عارف اپنے جذبے میں کسقدر ہی سچا اور صادق کیوں نہ ہو کیونکہ اسلام محض معدودے چندعارفین یا صاحبان کشف کے لئیے ہی نہیں اس دنیا میں آیا بلکہ یہ کل عالم انسانیت کی فلاح اور خیر خواہی کے لئیے اس دنیا میں امن اور رحمت کے معانی میں نازل ہوا ہے۔ جس میں نیت اور عمل کو عمل دخل ہے نہ کہ صرف نیت اور باطن کو ۔ اسکی ایک مثال منصور حلاج کے انا الحق کے نعرے مستانے کے جواب میں شریعت کا جائز طور پہ گردن زنی کے لئیے حرکت میں آنا ہے۔ منصور اپنے عشق میں سچا تھا اور اپنے عشق و جنوں میں اناالحق کے نعرہ مستانہ بلند کرتا تھا مگر شرعی تقاضہ تھا کہ اسے شرعیت کے مطابق اسے روکا جائے اگر ایسا نہ کیا جاتا تو نہ جانے بعد میں اسکی تقلید میں کتنے جھوٹے منصور اناالحق کا دعواہ کرتے ؟ اسلئیے تصوف اور بعید از اسلام باتوں کاا سلام میں کوئی ذکر نہیں ۔ خیر یہ لمبی بحث ہے۔
عرض ہے ،یہ تصور کئیے لیتے ہیں کہ دنیا کے نظام میں اسکے متوازی ایک ایسا نظام چل رہا ہے جو مجھے اور آپ کو نظر نہیں آتا کہ ہم ٹہرے عمل کی دنیا کے لوگ اور اس دوسر ےنظر نہ آنے والے نظام کو دیکھنے کے لئیے باطن کو دیکھنے “وہ”والی آنکھیں چاہئیں جو انسان کے ایک “خاص معیار “تک پہنچنے کے بعد اس قابل ہوتی ہیں کہ ان آنکھوں سے “دوسرے نظام “کو نہ صرف دیکھ سکیں، جانچ سکیں ، محسوس کر سکیں بلکہ اسمیں حصہ لے سکیں اور شاید اس کے لئیے عارف ہونا بھی ضروری ہوتا ہوگا یعنی یہ ایک پیچیدہ ، مشکل اور انتہائی کھٹن راستہ ہوتا ہوگا جس کے لئیے اسلام نے کوئی پابندی اور شرط اس قسم کی نہیں لگائی کہ ضرور اس دنیا کے متوازی نظر نہ آنے والے نظام کے لئیے جان جوکھوں میں ڈالی جائے ۔ یہ بھی اس صورت میں اگر کسی ایسی متوازی دنیا کا کوئی وجود ہے تو ۔ دنیا یعنی وہ متوازی دنیا جس کا تعلق کچھ لوگ بڑے تواتر سے صوفیاء یا تصوف سے جوڑتے آئے ہیں ۔جبکہ قرآن و سنت ِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روشنی میں اسلام کی پابندی محض اتنی سی ہے کہ احکام ِ الہی کی پابندی کی جائے جس سے خود بخود وہ مقاصد حاصل ہوجاتے ہیں جو انسان سے یعنی ایک مسلمان سے منشاء الہٰی ہیں۔
جیسا کہ آپ نے مکی صاحب کےتبصر ےکے جواب میں بھی لکھا ہے کہ “اصل میں موجودہ حالات میں پاکستان میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ کس طرح کا اسلام اصل اسلام ہے اور جو ہمارے معاشرے کو فلاح سے ہمکنار کر سکے” تو گزارش ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام کا عمومی مسئلہ وہ غربت وعسرت اور ہر قسم کی تنزلی ہے۔جس سے ملک کی ایک بڑی آبادی دو چار ہے اور ایسی ہی کچھ ملتی جلتی صورتحا ل ملت اسلامیہ کے ساتھ پوری دنیا میں درپیش ہے۔جبکہ ایسے حالات میں اسلام بہ حثیت دین ، بہ حیثیت عمل و شریعت کا تقاضہ کرتا ہے کہ اسطرح جہد مسلسل سے ان تمام مسائل پہ قابو پایا جاسکتا ہے جن سے ہم اس وقت دوچار ہیں۔جبکہ تصوف وغیرہ کے بکھیڑے اسلام کی جہد مسلسل کی ضد ہیں ۔ اسلام میں تصوف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر عارف و معرفت کی کوئی گنجائش ہے تو یہ صبرو سلوک کی وہ منزلیں طے کرنے کے بعد اور مطلوبہ معیار حاصل کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہیں جو مسلسل دین کے دائرے میں رہتے ہوئے نفس امارہ کے سرکش گھوڑے کو قابو رکھنے سے حاصل ہوتی ہیں ۔ مگر اسکے لئیے اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے ، اسلام کی تمام شرائط پہ عمل کرنا پڑتا ہے اور جس سے اسلام شعور ، لاشعور اور تحت الشعور میں رچ بس جائے تو اس متواتر عمل کے سخت مجاہدہ اور عملی ریاض سے اپنی ذات کی نفی کرنے سے معرفت کی وہ حقیقیں اجاگر ہوتی ہیں جو عام طور پہ عام لوگوں پہ وا نہیں ہوتیں مگر اسکا صوفی ازم سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
صوفی قدیم یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی جاننے والا یا حکمت والا وغیرہ ہے۔ جبکہ ہماری زبان میں صوفی اور تصوف کے معانی درج ذیل ہیں
دعا گو
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
اسم نکرہ ( مذکر – جمع )
واحد: صُوفی [صُو + فی]
1. غیر اللہ سے دل کو پاک رکھنے والے پرہیزگار و متقی لوگ۔
“یہی چارم آپ کو صوفیا کی شخصیتوں میں نظر آئے گا۔” ( 1981ء، سفر در سفر، 44 )
——————————————–
تَصَوُّف [تَصَوْ + وُف] (عربی)
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1672ء کو شاہی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم کیفیت ( مذکر – واحد )
1. وہ مسلک جس کے وسلے سے صفائی قلب حاصل ہو۔ تزکیہ نفس کا طریقہ، اشیائے عالم کو صفات حق کا مظہر جاننا، علم معرفت۔
“تصوف کی بنیاد تمام تر واردات باطن پر تھی۔” ( 1967ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 179:3 )
2. تصوف کی ذیلی اقسام میں سے ایک قسم جس میں تصوف اور اس کے متعلقات سے بحث ہوتی ہے یا وہ قسم جس میں درویش اپنے جذبات کا اظہار صرف لباس سے کرتے ہیں، صوف پوشی، پشمینہ پوشی۔
“انھوں نے اس تصوف کا بے حد اثر قبول کیا جن کی تبلیغ درویش کرتے تھے۔” ( 1968ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 647:3 )
تصوف کی وہ قسم جسے ہندو اپنے مذہبی عقاید سے متصف کرتے ہیں۔
“علم بیدانت کو کہ علم تصوف ہے خوب جانتا تھا۔” ( 1898ء، تاریخ ہندوستان، 129:6 )
انگریزی ترجمہ
the theology of the Sufis or mystics of the East; mysticism; devoting oneself to contemplation; contemplation
مترادفات
دَرْویشی طَرِیقَت عِرفان
محمد ریاض شاہد
March 18, 2010 at 9:56 PM
محترم جاوید صاحب
اسلام علیکم
تفصیلی تبصرے اور تجزیے کا شکریہ ۔ آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے اس کا ملخص یہ کہا جا سکتا ہے کہ دین کی اتباع کے سلسلے میں شریعت مقدم ہے یا طریقت ۔ یقیننا جیسا آپ نے فرمایا یہ بحث بہت پرانی ہے ۔ میرا جواب ہے شریعت اور ہر ذی شعور مسلمان کا یہی جواب ہو گا ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شریعت کو طریقت پر ہمیشہ بالادستی رہی ہے ۔
تصوف میں الاسٹیسٹی ضرور ہے جیسے ہندوستان میں اولیا نے عوام اور ہندووں کی موسیقی میں رغبت کو دیکھتے ہوئے قوالی کے نام پر موسیقی کو ترویج دی مگر اسلام میں موسیقی کا مقام بھی ایک علیحدہ بحث ہے جو کبھ ہم بعد کے لئے اٹھا رکھتے ہیں ۔ مثلا اگر یوسف اسلام اگر مسلمان ہونے کے بعد اسلام کو سازوں و آواز کے ذریعے مغرب کو پیش کر رہا ہے تو ہم اس پر فتوی لگانے سے پہلے یقیننا اس کے معروضی حالات کا جائزہ لیں گے ۔
شریعت کے ساتھ بھی تصوف والا مسئلہ ہے کہ ہر فرقے کا اپنا اسلام ہے اور شریعت کی اپنی کتابیں ہیں ۔ چنانچہ اس کے نفاذ میں علمی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں ۔ مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ اسلام کے نفاذ کے سلسلے میں پاکستان کی غالب اکثریت کا فقہ نافذ کر دیا جائے مگر کیا باقی فرقے اس کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں گے ۔ ایک اور صاحب نے فرمایا تھا کہ ہر فرقے کے لئے علیحدہ عدالتی بنچز بنائے جا سکتے ہیں ۔ اس تجویز کے پیچھے میں ایک انتظامی نائٹ میئر دیکھتا ہوں ۔ یعنی ہر فرقے کا علیحدہ بنچ اور کئی معاملات سے ڈیل کرنے کے لئے اس فرقے کے لئے کئی بنچز ۔ آپ ذرا حساب لگائیں کہ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔
پاکستان میں تو چلو غربت کی وجہ سے ایسا ہے تو سعودی عرب کے شہری کس خوشی میں انتہا پسندانہ نظریات کی تبلیغ کر کرہے ہیں ان کے پیٹ تو بھرے ہوئے ہیں ۔ میرے خیال میں صوفی اسلام اموی اور عباسی دور کی گھٹن کی پیداوار تھا اور عوام کو ایک ایسی کھڑکی فراہم کرتا رہا جس سے وہ ایک خیالی آزادی کا مزہ لے سکیں ۔ یہی صورتحال متحدہ پاک وہند میں رہی جب تک کہ بادشاہت رہی ۔ مگر انگریز کی آمد کے ساتھ ہی صوفی اسلام کو عوام میں شاید وہ پذیرائی نہیں رہی جو پہلے تھی ۔
آپ کی بات “اسلام کی جہد مسلسل” کو میں پوری طرح سمجھ نہیں پایا ۔ میری رائے میں آج کا مخمصہ ہی یہی ہے کہ ہر فرد اپنے تجویز کردہ اسلام کے لئے جدوجہد حتی کہ زور زبردستی تک آمادہ ہے مگر دوسروں کے اسلام کو برداشت کرنے کو تیار نہیں چنانچہ فتووں کا سہارا لیتے ہیں ۔
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ہم زیادہ تر مسائل کے علمی پہلو کو زیادہ زیر بحث رکھتے ہیں اور اس کے عملی پہلو کو زیادہ توجہ نہیں دیتے ۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں مین کچھ اہم پہلو ہمارے قارئین سامنے لائیں گے ۔
والسلام
دیگر قارئین سے التماس ہے کہ میری مندرجہ بالا تحریر کوعلمی بحث کے طور پر لیا جائے ۔
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
March 18, 2010 at 6:24 AM
محترم محمد سعید پالن پوری صاحب!
السلام علیکم
امید کرتا ہوں کہ مندرجہ بالا میری رائے سے آپ کو تصوف کے بارے میں میری رائے سے آگاہی ہو گئی ہوگی۔ آپ کی دلچسپی میرے لئیے باعث نعمت ہوتی اگر آپ بھی اس بارے اپنے زریں خیلات سے نوازتے۔
اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
March 19, 2010 at 2:03 AM
“جہدِ مسلسل ” سے مراد کامل نیک نیتی کے ساتھ اور مکمل دیانتداری سے زندگی کے ہر پہلو اور میدان میں کوشش کی جائے یعنی ان کوششوں کی عملی اور منطقی صورت ہو تانکہ عام آدمی کی خوشحالی و ترقی کا وہ نتیجہ سامنے آئے جس کا تقاضہ دین اسلام ہم سے کرتا ہے۔ اگر ہم بہ حیثیت مقتدر طبقے کے یوں کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو یقین مانیں ہم اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں ناکام ہوجاتے ہیں جسکا نتیجہ لازمی طور پہ اسلام بطور دین ، بطور ضابطہ ِ حیات کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک کی صورت میں سامنے آئے گا۔ جنھیں کچھ چالاک اور عیار لوگوں قسم قسم کے دلائل سے اپنے رحجانات کے لئیے استعمال کریں گے۔
میری رائے میں ہر ذی ہوش اور معمولی سے بھی عقل رکھنے والا مسلمان اسلام کو محض “اسلام” سمجھتا ہے یعنی”کئی قسم کے اسلام” کم ازکم کسی بھی مسلک کے مسلمانوں کے نزدیک اسلام کی غلط اور حرام تشریح ہے۔ اسلام کے پاکستان میں نفاذ کے بارے میں عرض ہے کہ ہر قسم کے مسالک سے اُوپر اٹھتے ہوئے اسلام کے نفاذ کی اسی “صورت “کو سامنے رکھا جائے جانا چاہئے جس “صورت “میں اسلام کا نفاذ شروع اسلام کے دور میں تھا۔ یعنی جس میں سنی، وہابی ،شعیہ ،جنبلی ،مالکی ،وغیرہ کا معاملہ نہیں تھا ۔ کیونکہ مندرجہ بالا مسالک اور اسکولز اسلام کی آمد ،تکمیل اور اولین دور کے اسلامی نفاذ کے بعد کے ہیں۔ اور اس پہ پاکستان کی اکثریتی آبادی متفق ہے۔کچھ لوگوں کو منظور نہیں ہوگا مگر انھیں اکثریت کی رائے کا احترام کرنا چاہئیے کہ یہی ساری دنیا میں دستور ہے۔ اسکی ایک مثال یوروپ و امریکہ میں بسنے والے پاکستانی یا مسلمان کی ایک مثال سامنے ہے ۔ کہ ہم لوگ یوروپی ریاستوں اور امریکہ کے تمام قوانین کا احترام کرتے ہیں ۔ خواہ ان قوانین سے ہمیں بہ حیثیت مسلمان اختلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ قوانین ہر کسی کی مرضی سے تشکیل نہیں دئیے جاتے اسلئیے کوئی ایک قانون جب نافذ ہوجاتا ہے تو ذاتی اختلاف سے قطع نظر اسکا احترام اور اس پہ عمل درآمد سب پہ فرض ہوتا ہے ۔ اور یہ جمہور کا چلن ہے۔
اسمیں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آپ کسی گاؤں میں اللہ کے نام پہ ایک مسجد بھی بنانا چاہئیں تو اس پہ بھی اختلاف رکھنے والے کئی لوگ سامنے آجائیں گے ۔ بلکہ آپ کے خلاف محاذ بنا لیں گے مگر اکثریت آپ ست تعاون کرے گی ۔ اگر ریاست ،حکومت اور اس کے ارکان اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد اخلاقی جراءت سے ایسے قوانین کو ثبوتاژ کرنے والوں کو نمٹ لے تو رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔
البتہ موجودہ حالات میں اگر پاکستان میں اسلام ، اسلامی قوانین ، اسلامی حدود، یا شریعت (کسی بھی نام سے پُکار لیں )کے نفاذ کی کوشش کی جاتی ہے تو اسلام کی بہت سی حدود یا قوانین کو اس وقت تک نافذ نہیں کیا جانا چاہئیے جب تک پاکستانی معاشرے کے ضرورتمندوں کی “بنیادی اور انتہائی اہم” ضروریات کو پورا نہیں کیا جاتا کہ یہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کا مسئلہ ہے ۔ نیز عام آدمی اور اکثریتی آبادی کو فلاحی قوم میں بدلنے کے ساتھ انمیں مکمل طور پہ اسلام کا شعور اجاگر نہیں کر دیا جاتا ۔ بہڑ حال یہ میری ذاتی رائے ہے۔
پاکستان میں ہم نے سب نظام آزما کر دیکھ لئیے ہیں ۔ شاید اسلامی نظام یا جیسا کہ پاکستان کا آئین بھی کہتا ہے کہ اسلام کے تحت بنائے گئے قوانین کے نفاذ سے ہی اللہ تعالٰی ہمارے حال پہ رحم کردے۔
خیر اندیش
محمد ریاض شاہد
March 19, 2010 at 5:31 PM
میرا خیال ہے کہ اسلامی نظام کی جن شقوں پر اتفاق رائے اسلامی نظریاتی کونسل میں ہو چکا ہے اگلے آئین میں جو کہ حکومت کے بیان کے مطابق عنقریب آنے والاہے اس میں شامل کر دی جائیں ۔
عبداللہ
March 19, 2010 at 2:36 AM
http://www1.voanews.com/urdu/news/us-islam-18mar10-88335387.html
محمد رضوان
March 19, 2010 at 4:27 AM
بہت شکریہ ۔ سوچ کا ایک نیا زاویہ آپ نے مہیا کردیا ۔
مجھے آپکا بلاگ بہت پسند آیا ۔
جریدہ یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں
محمد سعید پالن پوری
March 19, 2010 at 3:46 PM
ریاض شاہد اور جاوید گوندل صاحبان! وعلیکما السلام
معاف کیجیئے گا میں لیٹ ہوں اور یہاں تو بحث ایک بات پہ سے گذر کے دوسری بات پہ جاچکی ہے آپ حضرات تو سیر حاصل تبصرے کرچکے میں بھی اپنی رائے رکھتا ہوں اور گذارش وہ یہی کہ اس کو بھی علمی بحث کے طور سے پڑھا جائے
تصوف کے کچھ مترادفات جاوید بھائی نے لکھے ہیں میں ان میں “احسان” اور “زھد” کا اضافہ کرنا چاپوں گا،یہ دونوں اصطلاحات قرآن و حدیث میں ملتی ہیں باقی بعد کی بڑھائی ہوئی ہیں،اور ایک زمانہ تک “احسان” پر تصوف کا اطلاق ہوتا رہا ہے پھر جب تصوف میں فلسفہ تصوف داخل کیا گیا اور تصوف کو “راز سینہ بسینہ” قرار دیکر اس من گھڑت راز کی بنیاد پر دین کے کتنے ہی حرام کاموں کو حلال کیا گیا،اور تصوف کے نام پر بے دینی کا شکار ہوئے تو بعد کے لوگوں کو “احسان” کے مترادف تصوف کے استعمال میں تحفظات لاحق ہوئے تو انہوں نے اس لفظ سے گریز کرکے پہلے دو لفظ “احسان” اور “زھد” کا استعمال شروع کیا چنانچہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اہنی کتاب حجۃ اللہ البالغۃ نے میں تصوف پر کلام کیا ہے اور پورا ایک باب باندھا ہے مگر ہر جگہ تصوف کیلئے “احسان” اور صوفیاء کیلئے “محسنین” کا لفظ استعمال کیا ہے سوائے ایک جگہ کے جھاں وہ صوفیاء کا لفظ استعمال کرگئے یا بےساختہ ان سے ہوگیا ۔ یہ ساری تفصیل اور دماغ سوزی اس لئے کہ آگے میری تحریر میں تصوف احسان کے معنی میں ہوگا نہ کہ فلسفہ تصوف کے معنی میں
امام غزالی نے تصوف کی تعریف ۔۔۔۔۔۔۔۔ احیاء العلوم۔ج۔1ص19 مط:مصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی تفصیل سے بیان کی ہے اور اس کا جامع مانع خلاصہ ابن عابدین شامی نے رد المحتار میں تصوف کی تعریف کرتے ہوئے یہ لکھا ہے: ھو علم یعرف بہ انواع الفضائل و کیفیۃ اکتسابھا،و انواع الرذائل و کیفیۃ اجتنابھا۔ رد المحتار۔ج1 ص127 مط:انڈیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصوف وہ علم ہے جس سے اخلاق حمیدہ کی قسمیں اور ان کے حاصل کرنے کا طریقہ،اور اخلاق رذیلہ کی قسمیں اور ان سے بچنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے ۔ اور رذائل یعنی تکبر،حسد، کینہ بے رحمی وغیرہ سے بچنا اور فضائل یعنی تقوی اخلاص توکل صبر وشکر وغیرہ اوصاف اپنے اندر پیدا کرنا میرے خیال سے ہر مسلمان پر فرض ہونا چاہئے۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کو آپ اصلاح نفس یا تزکیہ نفس اور علم الاخلاق یا سلوک و طریقت بھی کہ سکتے ہیں اور یہی تصوف کا حاصل و مقصود ہے ،ریاضتیں،مجاہدے اور کشف و کرامات نہ تصوف کا مقصود ہیں اور نہ ان پر دین کا کمال موقوف ہے ،اس قسم کی چیزیں تو مشق کرنے سے بعض اوقات غیر مسلموں کو بھی حاصل ہوجاتی ہیں چہ جائکہ بے عمل مسلمان ،پس اگر کوئی ایسی خرق عادت چیز نبی کی طرف سے آئے تو وہ معجزہ ہے ،اپنے ظاھری اور باطنی اعمال قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالے ہوئے شخص۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن،صوفی۔۔۔۔۔۔ کی جانب سے آجائے تو کرامت ہے اور ان دونوں کے علاوہ کسی بھی شخص کی طرف سے آئے تو وہ استدراج ہے ۔میں استدراج کے معنی جان بوجھ کے چھوڑ رہا ہوں
یہ میری ذاتی رائے ہے اور کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ہے
Nabeel
March 19, 2010 at 6:42 PM
مجھے اس بحث میں اسلامی تصوف کے آغاز کے بارے میں معلومات نظر نہیں آئی ہیں۔ میری معلومات کے مطابق تصوف کی تحریک کا آغاز حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے سے ہوا تھا۔ باقی اس کے بعد تصوف کی کیا شکل ہو گئی ہے اور صوفی ازم سے اسلام پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں پروفیسر حمید اختر کا لیکچر سننے کے لیے بھی ابھی تک وقت نہیں نکال پایا ہوں۔ یہ لیکچر سن کر ہی اس کے بارے میں کوئی تاثر قائم کیا جا سکےگا۔
محمد ریاض شاہد
March 19, 2010 at 10:41 PM
نبیل صاحب
اسلام علیکم
یہ دو لنک مجھے اس موضوع سے متعلق لگے
http://www.tajziat.com/issue/2009/04/detail.php?category=taj&id=10
http://www.tajziat.com/issue/2010/01/detail.php?category=taj&id=19
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
March 20, 2010 at 6:59 PM
محمد سعید پالن پوری ! صاحب کے اٹھائے گئےنکات کو آگے بڑھاتے ہوئے ۔ یہ مضمون یہاں چسپاں کر رہا ہوں۔ یہ مضمون” القلم” پہ نقل ہے ۔اسے بعین یہاں چسپاں کر رہا ہوں۔ تانکہ قرآن کریم کے بارے میں “احسان” اور ” زہدو تقویٰ” کر بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں ۔ میری ذاتی رائے میں اس مضمون میں درج معلومات سے قرآن و سنت سے جن محسنین و صالحین کا ذکر ہے اُن “محسنین و صالحین” کا عقل و دانش اور اسلام کے دوٹوک اور واضح پیغام و ھدایات سے قطعی طور پہ مختلف “تصوف” اور “فلسفہِ تصوف” سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
19 ستمبر 2009, 05:10 ص
یہ مفید معلومات پروفیسر طاہر القادری کی کتاب سے لی گئی ہیں۔
احسان و تصوف، اعتقاد و عمل میں رسوخ پیدا کرنے کا وہ طریق ہے جو دور صحابہ سے تا حال ایک زریں روایت کی صورت میں موجود رہا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں احسان کی فضیلت، ایمان، اسلام اور احسان کے باہمی تعلق، سیرت صحابہ میں طریق احسان، حسن نیت اور حسن عمل کیلئے احسان کی اہمیت، روحانی تربیت کی اہمیت اور اس کے حصول کا طریق کار، صوفیائے کرام کے کردار کے نمایاں خصائص، حقیقت نفس، اصلاح نفس اور سلاسل طریقت کی تفصیل سمیت احسان سے متعلق اہم امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دور حاضر میں طریق احسان کو اہم رکن اور اجتماعی زندگی میں کس طرح اور عمل کر سکتے ہیں۔ اس امر کو بھی تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ یہ معلومات سب قارائین کیلئے علمی اور عملی افادہ کا باعث ہوگی۔
سوال نمبر 1 : احسان کا لغوی معنی و مفہوم کیا ہے؟
جواب : لفظِ احسان کا مادہ ’’حسن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔
امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور تیسرا یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے پر کشش ہو۔
راغب اصفهانی، مفردات القرآن : 119
اسی سے باب افعال کا مصدر ’’احسان‘‘ ہے۔ گویا احسان ایسا عمل ہے جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت عمدہ اور خوبصورت ترین حالت کا نام ’’احسان‘‘ ہے اور اس کا دوسرا قرآنی نام ’’تزکیہ‘‘ ہے اور اس کے حصول کا طریقہ اور علم تصوف و سلوک کہلاتا تھا۔
——————————————————————————–
کنعان19 ستمبر 2009, 05:18 ص
قرآن حکیم کی رو سے احسان کا مفہوم کیا ہے؟
جواب : قرآن مجید میں اکثر مقامات پر لفظ ’’احسان‘‘ کے ساتھ علم الاحسان کی اہمیت اور فضیلت کا بیان مذکور ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنَوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا، وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ O
’’پھر پرہیز کرتے رہے اور ایمان لائے پھر صاحبان تقویٰ ہوئے (بالآخر) صاحبان احسان (یعنی اللہ کے خاص محبوب و مقرب و نیکو کار بندے) بن گئے اور اللہ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘
المائده، 5 : 93
پھر فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّادِقِينَ O
التوبه، 9 : 119
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی سنگت اختیار کرو۔‘‘
ان آیات کریمہ میں پہلے تقویٰ کا بیان ہے تقویٰ کیا ہے؟
یہ دراصل شریعت کے تمام احکام، حلال و حرام پر سختی سے عمل کرنے کا نام ہے۔ اس سے پہلے ’امنوا‘ میں عقائد و ایمانیات کا ذکر بھی آ گیا یعنی ایمان و اسلام پر مبنی شریعت کے تمام احکام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ’’احسان‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جو طریقت و تصوف کی طرف اشارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان نہ صرف شریعت کے ظاہری احکام پر عمل کر کے اپنے باطنی احوال کو تقوی کے نور سے آراستہ کریں بلکہ اگر ان کو ایمان، اسلام اور احکام شریعت کی بجاآوری اور تقوی کے کمزور پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو انہیں چاہیے کہ سچے بندوں کی سنگت اختیار کر لیں جو صادقین اور محسنین ہیں اور یہی صاحبان احسان درحقیقت احسان و تصوف کی راہ پر چلنے والے صوفیائے کرام ہیں جو اللہ کے نہایت نیک اور مقرب بندے ہوتے ہیں۔ یہی وہ انعام یافتہ بندے ہیں جن کی راہ کو اللہ نے صراط مستقیم قرار دیا ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں سیدھے رستے کی نشاندہی کرتے ہوئے دعا کرنے کی تلقین فرمائی گئی۔ ارشاد ہوتا ہے۔
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ.
’’(اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا۔‘‘
الفاتحه، 1 : 5، 6
یہ انعام یافتہ بندے کون ہیں۔ اس کی وضاحت خود قرآن مجید نے یہ کہہ کر فرمائی ہے :
فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقًا O
النساء، 4 : 69
’’تو یہی لوگ (روز قیامت) ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔‘‘
——————————————————————————–
کنعان19 ستمبر 2009, 05:31 ص
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں احسان کا مفہوم کیا ہے؟
جواب : امام بخاری اور امام مسلم کی روایت کردہ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ ایک روز جبریل امین علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انسانی شکل میں حاضر ہوئے اور امت کی تعلیم کے لیے عرض کیا :
یا رسول اللہﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أن تؤمن باﷲ و ملائکته و کتبه و رسله واليوم الآخر و تؤمن بالقدر خيره و شره.
’’(ایمان یہ ہے کہ) تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے (نازل کردہ) صحیفوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لائے اور ہر خیر و شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر مانے۔‘‘
انہوں نے پھر پوچھا اسلام کیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أن تشهد أن لا إله إلا اﷲ، و أن محمدا رسول اللہ ﷲ، و تقيم الصلاة، و تؤتی الزکاة، و تصوم رمضان، و تحج البيت إن استطعت إليه سبيلا.
’’(اسلام یہ ہے کہ) تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، (اور یہ کہ) تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، اور تو ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو اس کے گھر کا حج کرے۔‘‘
اس کے بعد جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال احسان کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
الإحسان اَنْ تَعْبدَ اللہ کَانَّکَ تَرَاهُ، فإنْ لَمْ تَکنْ تَرَاهُ فَإنَّه يَرَاکَ.
1. بخاری، الصحيح : 34، رقم : 50، کتاب الايمان، باب بيان الايمان والاسلام والاحسان و وجوب الايمان
2. مسلم، الصحيح : 65، رقم : 1، کتاب الايمان، باب سوال جبريل النبی عن الايمان والاسلام ولإحسان و علم اشاعة
’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کيفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق احسان عبادت کی اس حالت کا نام ہے جس میں بندے کو دیدار الٰہی کی کيفیت نصیب ہوجائے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس ہی جاگزین ہو جائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کيفیت کو ’’احسان‘‘ کہتے ہیں۔
نووی، شرح صحيح مسلم، 1 : 27،
کتاب الايمان،
باب سوال جبريل النبی صلی الله عليه وآله وسلم عن الايمان و السلام و الاحسان
——————————————————————————–
کنعان19 ستمبر 2009, 05:43 ص
ایمان، اسلام اور احسان کا دین میں کیا مقام ہے؟
جواب : مذکورہ بالا حدیث جبریل میں دین کی تین بنیادی ضروریات کا بیان ملتا ہے جن میں پہلی ضرورت ایمان ہے۔
ایمان کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو امور بیان فرمائے ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر عقائد و نظریات سے ہے اور عقائد سے تعلق رکھنے والے علم کو اصطلاحی طور پر علم العقائد کہتے ہیں۔
اسلام کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پانچ ارکان بتلائے ہیں ان سب کا تعلق ظاہری اعمال اور عبادات سے ہے۔ اس علم کو شریعت کی اصطلاح میں علم الاحکام یا علم الفقہ کہتے ہیں۔
حدیث مبارکہ کی رو سے دین کی تیسری ضرورت احسان ہے اور انسان کو یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں۔
گویا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زبان سے اقرار اور دل سے جو تصدیق کی،
اس کا عملی اظہار اور پھر اپنے اعمال اور ظاہری عبادات کو حسن نیت اور حسن اخلاص کے اس کمال سے آراستہ کیا کہ اس کے اعمال اور عبادات اس کی تصدیق بالقلب کا آئینہ دار بن گئے۔
اس مرحلہ پر انسان درجہ احسان پر فائز ہو جاتاہے اور اسے باطنی و روحانی کيفیات نصیب ہو جاتی ہیں۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ احسان کا موضوع باطنی اور روحانی کيفیات کے حصول سے متعلق ہے۔
——————————————————————————–
کنعان19 ستمبر 2009, 05:52 ص
ایمان، اسلام اور احسان کا باہمی تعلق کیا ہے؟
جواب : ایمان، اسلام اور احسان تینوں باہم مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔
ایمان وہ بنیاد ہے جس پر مسلمان کا عقیدہ استوار ہوتا ہے اور اسلام سے مسلمان کا ظاہر اور اس کا عمل درست ہوتا ہے جبکہ احسان سے مسلمان کا باطن اور حال سنورتا ہے۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے اسلام کا ذکر پہلے کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی کے ذریعے دین کے دائرے میں داخل ہونا اسلام ہے اور اسلام کو دل میں بسا لینے کا نام ایمان ہے۔
احسان کے ذریعے ایمان اور اسلام دونوں کے اثرات قلب و باطن پر وارد ہوتے ہیں۔ جب مسلمان کا ظاہر و باطن یکساں ہو جاتا ہے اور ظاہر و باطن میں کامل یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے تو اس سے دل نور پیدا ہوتا ہے اور نور سے اس کا باطن چمکنے لگتا ہے یعنی جب ایمان اور اسلام قلب کی حالت اور باطن کا نور بن جاتے ہیں تو دل کی دنیا روحانی کيفیات میں بدل جاتی ہے۔
درحقیقت ایمان، اسلام اور احسان یہ سب ایک ہی سرچشمے اور ایک ہی مرکز سے تعلق رکھتے ہیں یہ تینوں ایک دوسرے کی بقاء، ترقی اور نشوونما کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور اگر ان میں سے ایک بھی نظر انداز ہو جائے تو دوسرے کا وجود بگاڑ کا شکار ہو کر کمال سے محروم ہو جاتا ہے گویا ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بغیر ادھورا ہے۔ چنانچہ ایمان کے بغیر اسلام ناتمام ہے اور اسلام کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے جبکہ احسان کے بغیر ایمان اور اسلام دونوں ناقص رہ جاتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں کوئی شخص اسلام کی محض ظاہری تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ایک مسلمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ مومن بن کر ہی درجہ کمال کو پاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک طرف ایمان کے تقاضے پامال نہ ہونے پائیں، دوسری طرف اسلام کے بنیادی اصولوں پر بھی عمل میں سستی اور کوتاہی واقع نہ ہونے پائے۔ ضروری ہے کہ باطن اور حال کو سنوارنے کے لئے ایمان اور اسلام کی دونوں قوتوں کے ساتھ روحانی کمال کی منزلِ احسان کو حاصل کیا جائے۔
——————————————————————————–
کنعان19 ستمبر 2009, 06:07 ص
حالت کے اعتبار سے احسان کے کتنے درجے ہیں؟
جواب : حدیث جبریل میں ہمیں احسان کی کيفیت کے اعتبار سے دو حالتوں کا بیان ملتا ہے، پہلی حالت کو حالتِ مشاہدہ کہتے ہیں دوسری کو حالتِ مراقبہ کہتے ہیں۔
حالت مشاہدہ
أن تعبد اللہﷲ کأنک تَرَاه
’’ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
یہ کيفیت حالتِ مشاہدہ کہلاتی ہے۔ جب بندہ محبوب حقیقی کی یاد کو پورے دھیان کے ساتھ ہر وقت اپنے دل میں بسائے رکھے اور اسی کے تصور اور مشاہدہ کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی حضوری میں رکھے۔ جب دل کے تمام گوشے محبوب کی یاد اور تصور سے معمور ہو جائیں اور نس نس میں وہی سما جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ظاہری دنیا میں جو کچھ دیکھے گا سب بے خیالی اور بے دھیانی کی نذر ہو جائے گا جب استغراق کی یہ حالت نصیب ہو جائے تو قلب و ذہن پر پڑے ہوئے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے جس میں بندہ اﷲللہ کے حسن اور تجلیات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔
حالت مراقبہ
فإن لم تکن تراه فإنه يراک
’’پس اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘
کيفیت و حالت کے اعتبار سے یہ احسان کا دوسرا درجہ ہے۔
اس کی مثال یوں ہے کہ غلام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ مجھے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ مالک کی غیر موجودگی میں اس کے کام کا وہ حال نہیں ہوتا جو وہ مالک کے سامنے دھیان اور لگن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اگر وہ خود نہ بھی دیکھے مگر اس کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو جائے کہ اس کا آقا اسے دیکھ رہا ہے، تو یہ احساس اس کے کام میں حسن اور لگن پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بندگی میں یہ مقام حالتِ مراقبہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت بندے کے دل و دماغ پر یہ کيفیت طاری رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ میری ہر حرکت و سکون اس کے سامنے ہے یوں بندہ ہمہ وقت اپنے مولا کی نگرانی کے تصور سے بہت زیادہ ڈرتا رہے۔ اس حالت و کيفیت کو مراقبہ کہتے ہیں اور یہ احسان کا دوسرا مرتبہ ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں :
’’احسان کے پہلے مرتبہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے دل پر معرفت الٰہیہ کا اس قدر غلبہ ہو اور وہ مشاہدہ حق میں اس طرح کھو جائے گویا اللہﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے، یہ مقام فنا کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ معرفت الٰہیہ کے اس مقام پر تو اگرچہ نہ ہو لیکن اس کے ذہن میں ہر وقت یہ بات موجود رہے کہ اللہﷲ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه، فتح الباری، 1 : 120
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احسان کا پہلا مرتبہ عارف کے احوال اور اس کے قلب پر ہونے والی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی سالک پر ایسا حال طاری ہو جائے کہ وہ اللہﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ احسان کے دوسرے مرتبہ میں عابد کی اس کيفیت کی طرف اشارہ ہے یعنی جس وقت وہ عبادت کرے تو اس علم اور یقین کے ساتھ کرے کہ اﷲللہ تعالیٰ کی ذات اسے دیکھ رہی ہے۔
ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح، 601
——————————————————————————–
وي بلیٹن® v3.8.4, حقوق نقل و اشاعت: 2000-2010, القلم . اردو ترجمہ از: سيد شاکرالقادري
http://www.alqlm.org/forum/archive/index.php/t-6222.html
muhammad rizwan
February 23, 2012 at 5:58 AM
, please email me i will be very thankful to you, can you gave me prof. sab contact number
محمد ریاض شاہد
February 27, 2012 at 11:44 PM
محترم محمد رضوان صاحب
پروفیر رفیق سے آخری رابطہ کیے مجھے تقریبا آٹھ برس بیت چکے ہیں ۔ سنا ہے اب وہ مصروفیات کی بنا پر خود فون نہیں اٹینڈ کرتے ۔ اور اب ان کے فون نمبر میرے پاس بھی نہیں ہیں ۔ فیس بک پہ ان کا ایک گروپ ہے آپ اس کے ایڈمنسٹریٹر سے رابطہ کر کے یا پھر ان کی سائٹ علمت ڈآٹ کوم پر رابطہ کر کے کو شش کر سکتے ہیں ۔
http://www.alamaat.com/