RSS

فلسفہ کیا ہے

02 Mar

لغت میں فلسفہ کے معانی ہیں ۔ حُب دانش ، تجربہ ، مشاہدہ اور غورفکر سے اصول اخذ کرنا ، تلاش حقیقت ۔

پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن ، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ اقوام عالم کے عروج و زوال پر بحث کرنا تاریخ ہے اور وہ قوانین اخذ کرنا جو عروج و زوال کا باعث بنتے ہیں ۔ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کائناتی مسائل کی حقیقت تلاش کرتا اور اقدار و معانی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلسفہ تلاش حقیقت کا نام ہے ۔ رواقیہ کے ہاں علم ، نیکی ، فضیلت اور ایسی دانش حاصل کرنے کا نام فلسفہ ہے جو خدائی مشیت سے ہم آہنگ کر دے ( رواقیہ فلسفیوں کا ایک گروہ تھا جس کا امام زینو(336۔264 قبل مسیح ایک ورانڈے میں بیٹھ کر درس دیا کرتا تھا ۔ عربی میں ورانڈے کو رواق کہتے ہیں)

موضوع کے لحاظ سے یونانی فلاسفہ کے مختلف طبقات تھے ۔

دہرئے ۔ جو خدا کے وجود سے منکر تھے ۔

طبیعی ۔ جو کائنات کی تخلیق ، عناصر ، نور و ظلمت ، اور حرکت و تغیر وغیرہ پر پحث کرتے تھے ۔ مثلا ایک یونانی فلاسفر کا عقیدہ تھا کہ سب سے پہلے پانی زمین پر نمودار ہوا پھر نباتات اور آخر میں حیوان کا ظہور ہوا ۔ انہیں فلالسفہ میں ایک پلاطبی نامی فلاسفر نے کہا کہ زمین متحرک ہے ۔

الہی ۔ یہ فلسفی عموما خدا اور اس کی صفات سے بحث کرتے تھے ۔ مثلا زینو اور فیثا غورث جس کی تعلیمات مہاتما بدھ کی تعلیمات سے ملتی جلتی تھیں ۔ ان کے ہاں حقیقی دنیا اس دنیا سے الگ ہے اور حصول کمال کے لئے عبادت ، تجرد اور گوشت سے پرہیز ضروری ہے ۔ فیثا غورث پہلا فلسفی تھا جس نے اجرام فلکی کے درمیان کشش کا نظریہ پیش کیا ۔ انکسا غوریس کے ہاں خدا ایک قوت کا نام ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے ۔ یہ کہیں آواز ، کہیں حرکت ، کہیں روشنی اور کہیں رنگ و بو میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔

یونانی فلاسفہ کے مسائل

1 ۔ خدا و صفات خدا

2 ۔ ٹائم اور سپیس کی حقیقت

3۔ کائنات کی ابتدا

4۔ کائنات کی ماہیت

5۔  خیر و شر

6۔ غم اور خوشی

7۔ روح

8۔ عقل

9۔ حیات و ممات

10۔ مقصد حیات

فلسفہ مسلمانوں میں

یونانی فلاسفی کو الہام کی روشنی میسر نہیں تھی اور وہ صرف عقل سے کام لیتے تھے ۔ مگر اسلامی فلسفروں نے الہام کو بھی اسرار حیات حل کرنے میں استعمال کیا ۔  امام غزالی کے ہاں چھ علوم کا نام فلسفہ تھا ۔ ریاضی ، فزکس ، لوجک ، الہیات اور اخلاقیات ۔

مسلم فلاسفہ کے مختلف گروہ

1 ۔ جنہوں نے محض یونانی فلاسفہ کی شرح کی اور اپنی طرف سے کوئی نیا فلسفہ نہیں دیا ۔مثلا ابو بکر رازی ، آمدی ، غلام زحل بغدادی اور ملا صدرا شیرازی وغیرہ

2 ۔  جو یونانی فلسفی کی تشریح بھی کرتے اور تنقید بھی ۔ کندی ، فارابی اور سینا وغیرہ ۔

3۔ جنہوں نے یونانی فلسفہ کا ابطال کیا اور دنیا کو نیا فلسفہ دیا مثلا امام غزالی اور شعرانی ۔

4 ۔ جنہوں نے مسائل حیات کو فلسفے اور الہام کی مدد سے حل کرنا چاہا ۔ ان کے دو گروہ تھے ۔ معتزلہ جو فلسفہ کو مذہبی روایت پر ترجیح دیتے تھے اور دوسرے متکلمین جو الہام کو ہی حرف آخر سمجھتے تھے اور عقل کی اہمیت سے انکار کرتے تھے ۔

5۔ صوفیا جو حقیقت کو پانے کے لئے عشق سے بھی کام لیتے تھے ۔

6 ۔ حکمائے اشراق ۔ جن کے ہاں علم و یقین کا سب سے بڑا ذریعہ مراقبہ و عبادت تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ مراقبہ سے دولت کشف نصیب ہوتی ہے ۔ تمام پردے نظروں کے سامنے سے اٹھ جاتے ہیں اور حقیقت سامنے آ جاتی ہے ۔

اسلام اور مسلمان فلسفیوں کے مخصوص مسائل

1 ۔ قرآن ازل سے ہے یا بوقت ضرورت اللہ پاک اسے بناتے اور نازل کرتے گئے ۔

2۔ انساںن کی تقدیر پہلے سے طے شدہ ہے یا اپنے ارادے میں با اختیار ہے ۔

3 ۔ اللہ کی صفات عین ذات ہیں یا غیر از ذات ۔

4۔ قیامت میں حساب کتاب انسانی جسم کا ہوگا یا صرف روح کا ۔

5 ۔ گناہ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہے یا کافر ۔

6 ۔ مادہ ازل سے اسی طرح موجود ہے یا اللہ پاک نے بعد میں اسے حسب ضرورت پیدا کیا ۔

7 ۔ معجزہ دلیل نبوت ہے یا نتیجہ نبوت ۔

8 ۔ اقوام عالم کا عروج و زوال کسی قانون کا پابند ہے یا سب کچھ محض اتفاق سے ہو جاتا ہے ۔



 
21 Comments

Posted by on March 2, 2010 in عمومی

 

21 Responses to فلسفہ کیا ہے

  1. افتخار اجمل بھوپال

    March 2, 2010 at 12:10 PM

    شکريہ
    آپ نے فلسفہ کی جامع مگر نہايت مختصر تحرير لکھی ہے گويا دريا کو کوزے ميں بند کر ديا ہے

     
  2. افتخار اجمل بھوپال

    March 2, 2010 at 12:17 PM

    عمر طلال ۔ محمد رياض شاہد ۔ جريدہ
    ميں ياد کر کر کے فلسفی ہو گيا ہوں :smile:

     
    • ریاض شاہد

      March 2, 2010 at 10:05 PM

      یعنی یہ ثابت ہوا کہ یہ مساوات متوازن ہے
      ہزلیات + لایعنی باتیں + فلسفہ = عمر طلال + رياض شاہد + جریدہ :)
      تشریف لانے کا شکریہ ۔

       
  3. Saad

    March 2, 2010 at 1:38 PM

    معلوماتی تحریر ہے۔ شکریہ
    براہِ مہربانی اپنا فانٹ بدلیں ورنہ میں احتجاجاً اپ کے بلاگ پر آنا چھوڑ دوں گا

     
    • ریاض شاہد

      March 2, 2010 at 10:01 PM

      سعد اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں ۔ جذباتی نہیں ہوتے میرے یار ۔ یہ دیکھ اپنا بلاگ میرے کمپیوٹر پر کیسا دکھتا ہے
      http://img682.imageshack.us/img682/6707/saadblog.jpg
      اور نستعلیق پر مبنی منظر نامہ کی ایک تصویر عبرت میرے کمپیوٹر پر
      http://img705.imageshack.us/img705/7051/manzarnama.jpg
      اب آپ کہ سکتے ہیں کہ مجھے نستعلیق فونٹ انسٹال کرنا چاہیے مگر ساری دنیا سے جو قارئین آتے ہیں اور جن کے کمپیوٹر پر نستعلیق انسٹال نہیں ہوگی یا وہ اس بات کا علم نہیں رکھتے ہوں گے ان کو کیسا لگے گا تو یا حضرت ! ضد چھوڑیں اور تشریف لاتے رہیں

       
      • محمد سعد

        March 4, 2010 at 1:17 PM

        السلام علیکم۔
        آپ کون سا ویب براؤزر استعمال کر رہے ہیں جو اردو متن کی اتنی بیستی خراب کر رہا ہے؟
        چلیں کم از کم نفیس ویب نسخ ہی رکھ دیں۔

         
      • محمد ریاض شاہد

        March 4, 2010 at 10:43 PM

        یا حضرت ایک فائر فاکس نامی براوزر استعمال کر رہا ہوں جو بقول دشمناں دنیا کا سب سے تیزی سے مقبول ہوتا ہوا براوزر ہے ۔

         
      • محمد سعد

        March 5, 2010 at 1:15 AM

        عجیب بات ہے۔ فائرفاکس تو میں بھی استعمال کرتا ہوں لیکن اردو کا ایسا ستیاناس کبھی نہ دیکھا۔ شاید فانٹ رینڈرنگ انجن کا مسئلہ ہو۔ چلیں نفیس ویب نسخ ہی لگا دیں۔ اس کی شکل تھوڑی تو بہتر ہوگی۔

         
      • محمد ریاض شاہد

        March 5, 2010 at 2:05 AM

        محترم ایسی شکایت صرف آپ سے موصول ہو رہی ہے۔ایک عدد تصویر مرحمت فرمائیں تاکہ میں بھی ستیا ناسی کا اندازہ کر سکوں

         
      • محمد سعد

        March 5, 2010 at 10:41 AM

        میں تو آپ کے اوپر والی تصاویر پر تبصرہ کر رہا تھا۔ میری طرف تو سب اچھا ہے۔ چاہے نسخ ہو یا نستعلیق۔
        (نوٹ: بعض اوقات لوگ مجھ میں اور دوسرے سعد نامی بھائی میں فرق نہیں کرتے۔ فرق کے لیے نام اور یو آر ایل پر غور کریں۔)

         
      • محمد سعد

        March 5, 2010 at 10:44 AM

        کیا آپ نے ڈیسکٹاپ تھیم کو بدلا ہوا ہے یا واقعی آپ کے پاس ونڈوز کا کوئی قدیمی قسم کا نسخہ چلتا ہے؟

         
      • Muhammad Riaz Shahid

        March 5, 2010 at 11:13 AM

        ونڈوز سرور 2003 سرور پیک 2

         
  4. عبداللہ

    March 3, 2010 at 1:57 AM

    کچھ خدا کا خوف کریں آپ اس معاشرے میں یہ سوالات پوچھ رہے ہیں
    http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/02-03-2010/col11.htm
    تو جوابات تو ایسے ہی ملیں گے

     
    • ریاض شاہد

      March 3, 2010 at 2:06 AM

      عبداللہ
      بہت شکریہ ۔ میں یہ کالم پہلے نہیں پڑھ پایا تھا ۔ واقعی سوال اپنی جگہ پر موجود ہے

       
  5. MUHAMMAD SAEED PALANPURI

    March 4, 2010 at 1:21 PM

    MAY TBSIRE KE KHNE MAY URDU NAHIN LIKH PARHA KIYA KRU?

     
    • محمد سعد

      March 4, 2010 at 1:23 PM

      آپ اس اوزار کے ذریعے رومن متن کو اردو میں تبدیل کر لیں۔
      http://www.google.com/transliterate/

       
    • Muhammad Riaz Shahid

      March 4, 2010 at 1:39 PM

      میرے بلاگ کے آغاز والے یعنی پہلے صفحے پر انتہائی اوپر اور بائیں جانب کی بورڈ لکھا ہے اسے کلک کریں تو اردو کی بورڈ کا صفحہ کحل جائے گا ۔ ٹائپ کریں اور رائٹ کلک کر کے کاپی کر کے پیسٹ کر دیں

       
  6. MUHAMMAD SAEED PALANPURI

    March 4, 2010 at 2:57 PM

    ریاض بھائی رہنمائی کیلئے شکریہ

    آپ کی تحریر پڑھی ماشاء اللہ کافی معلوماتی ہے

    متکلمین کے نظریہ کی آپ نے جو ترجمانی ہے میں اس سے اختلاف کی جسارت کروں گا،میرے ناقص علم کے مطابق متکلمین عقلیت کے قائل تھے بس جہاں عقل اور نقل۔۔۔۔۔۔۔ جس کو آپنے الہام سے تعبیر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اختلاف ہوا اور دونوں کے درمیان تطبیق کی کوئی شکل نہ بن سکی وہاں انہوں نے نقل نو عقل سے اوپر کیا، کیونکہ بقول ان کے عقل چاہے جتنی ہوجائے رہے گا محدود ہی، اور نقل کا سلسلہ ایک محدود ذات سے جا جڑتا ہے، اور غیر محدود: محدود کی سمائی میں کب آیا ہے? اس لئے انہوں نے نقل کو عقل سے اوپر کیا

    اور جو سوالات آپنے لکھے ہیں ان میں سے اکثر انہی معتزلہ اور فلاسفہ کے کھڑے کئے ہوئے ہیں جنہوں نے عقل کی طاقت کو غیر محدود سمجھ کر ان نازک اور ماوراء عقل ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کہ مخالف عقل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسائل کو پازیچہ اطفال بنا دیا اور امت کو ایک بیکار کی بحث میں الجھا دیا جس کا عقیدہ اور نجات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ورنہ اس طرح کے سوال صحابہ کے سامنے بھی آئے تو انھوں نے نہایت متوازی نقطہ نظر ہیش کیا۔
    اللہ کی صفات میں سے ایک صفت استوء علی العرش۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر بیٹھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی ہے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رض سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ قرآن میں جو استوء علی العرش آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے? آپ نے جواب دیا الاستوء معلوم:لغت میں جواستوء کے معنی ہیں وہ معلوم ہیں۔ یعنی جو بھی عربی جانتا ہے وہ اس کے معنی سمجھتا ہے۔ و الکیف مجھول:اللہ کے عرش پر بیٹھنے کی کیفیت کیا ہے? وہ ہمیں معلوم نہیں۔ والایمان بہ واجب:اللہ کے عرش پر بیٹھنے کی جو بھی کیفیت ہو اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اور ایمانات میں ہے ہی سب سے پہلے ایمان بالغیب۔،الذین یومنون بالغیب۔۔ و السوال عنہ بدعۃ:اور جو یہ تم پوچھ رہے ہو کہ اللہ کے عرش پر بیٹھنے کی کیفیت کیا ہے یہ سوال بدعت ہے،کیونکہ یہ آیتیں آج ہی نہیں اتریں ہیں، کسی صحابی نے حضور سے نہیں پوچھا پھر تم کیوں پوچھتے ہو۔ گویا نجات اور عقیدہ کا مدار اس پر نہیں ہے کہ اللہ کے عرش پر بیٹنے کی کیفیت کو پوری طرح جانا جائے ۔ یہی بات دیگر سوالوں کے بارے میں کہہ کر مثبت کامون میں اگا جاسکتا تھا مگر لوگ ان کو نجات کا مدار ہونے کے اعتبار سے لےکر بیٹھ گئے

    ریاض بھائی! لطف کی بات یہ دیکھئے کہ معتزلہ جو عقل پسند مانے گئے ہیں،معلوم نہیں کیوں انہوں نے مرتکب کبیرہ کے مسئلہ میں کفر کا نظریہ قائم کیا جبکہ عقل اور نقل دونوں اس کے انکاری ہیں لیکن یہاں ان عقل پرستوں کی عقل ماری گئ

     
  7. MUHAMMAD SAEED PALANPURI

    March 4, 2010 at 5:08 PM

    إصلاح:: نقل كا سلسله ايك غير محدود ذات………

     
    • محمد ریاض شاہد

      March 5, 2010 at 12:52 AM

      محمد سیعد صاحب
      اسلام علیکم
      دلچسپی اور اصلاح کا شکر گذار ہوں ۔ یہ پوسٹ نوجوانوں کے لئے تھی ۔ میرے خیال میں آج کا نوجوان قاری بہت مصروف ہوتا ہے ۔ آپ کے بلاگ پر جب آتا ہے تو اس کے پاس صرف بیس سے پچیس سیکنڈز آپ کی پوسٹ کے لئے ہوتے ہیں ۔ اسی میں آپ نے اپنی بات کہنی ہوتی ہے ۔ عمیق گفتگو سے اسے الجھن ہوتی ہے ۔ پھر اس کے ساتھ اردو زبان کا مسئلہ بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے اور بہت سے قدیم الفاظ سے وہ نامانوس ہوتا ہے ۔ اب اتنی مختصر پوسٹ میں صرف اشارہ ہی دیا جا سکتا ہے ۔آئیدہ آنے والی پوسٹوں میں بات زیادہ وضاحت سے آہستہ آہستہ بیان کی جائے گی ۔ امید ہے آپ آئندہ بھی رہنمائی فرماتے رہیں گے

       

تبصرہ فرمائیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s