RSS

Monthly Archives: March 2010

حسرت تعمیر

اس دنیا میں اگر لوگوں کو عمومی اقسام میں تقسیم کیا جائے تو تین قسم کے افراد ہو سکتے ہیں ۔ پہلی قسم وہ جو کچھ کرنے کے منصوبے بناتی رہتی ہیں مگر عمل نہیں کر سکتی ۔ دوسرے وہ قسم کے لوگ جو ایک منصوبہ بناتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں  جو دوسری قسم کے لوگوں کے زیر تعمیر منصوبے کے پاس سے گذرتے ہیں اور حیرت سے آپس میں گفتگو کرتے ہیں کہ یہ شخص پتہ نہیں کیا کر رہا ہے کوئی دیوانہ لگتا ہے ۔

اگر آج آپ اردو بلاگز کا تجزیہ کریں تو زیادہ تر بلاگز کارخانہ قدرت میں محدب عدسے کی مدد سے ہر روز ڈھونڈ ڈھونڈ کر نقائص نکالتے ہیں اور اور پھر  اس پر نالہ و شیون کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ کارخانہ قدرت ان کی مرضی کے مطابق کیوں نہیں چل رہا چناچہ اس قسم کی پوسٹ نطر آتی ہیں کہ ” میں پاکستان سے دور خوش ہوں “۔ تبصرہ نگار بھی خوب اپنے جی کی بھڑاس نکالتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ تمام نقائص کے ذمہ دار ان کے علاوہ دوسرے ہیں اور اس کے بعد جا کر لمبی تان کر سو جاتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا ۔ آئیے ایک مختلف نوجوان کی کہانی پڑھتے ہیں ۔

وہ پاکستانی نژاد امریکی والدین کا  بچہ تھا ۔ اس نے انجنیرنگ کے شعبے میں امریکہ کے مشہور ادارے میساچیوسٹس انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے گریجوئیشن کی ۔ اس کے بعد ہاورڈ یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور عام امریکی نوجوانوں کی طرح ایک خوشحال مستقبل کی تلاش میں معاشرے کی چوہا دوڑ کا حصہ بن گیا ۔ ایک مالیاتی ادارے میں اسے ایک اچھی نوکری مل گئی اور ہمارے عام معیار کے مطابق اب وہ ایک کامیاب مستقبل کی طرف گامزن تھا ۔ مگر کوئی شے اسے اندر ہی اندر بے چین رکھتی تھی اوراسے اس بے چینی کی وجہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ اس نے سوچا کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کسی دن وہ ایک ایسا سکول کھولے گا جس میں غریب بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت میسر ہو گی شاید اس طرح اس کی زندگی کا اصل روحانی مقصد پورا ہو جائے۔ مگر زندگی اُسے ایسے دوڑائے لئے جاتی تھی کہ سانس لینے کی فرصت بھی نہ دیتی تھی ۔

زندگی اسی طرح رواں دواں تھی کہ سن  2004 میں  ایک  دن  اسے  آئر لینڈ سے اپنی بھانجی کا فون آیا کہ وہ اپنے ہوم ورک کے متعلق پریشان ہے اور کوئی اس کی مدد نہیں کر رہا  کیونکہ سب گھر والے اپنے “اہم “  کاموں میں  مصروف ہیں ۔ اس نوجوان نے انٹر نیٹ کے ذریعے     ” یاہو انٹر ایکٹو نوٹ پیڈ  سوفٹویر ” کی مدد سے اپنی بھانجی کے ہوم ورک میں مدد کرنا شروع کر دی ۔ ہوتے ہوتے اس کے باقی بھانجے ، بھتیجے اور بھتیجیاں بھی دنیا کے دوسرے ملکوں سے اس کے اسباق میں شامل ہو گئے مگر امریکہ اور دوسرے ممالک کے اوقات کار مختلف ہونے اور اس کی اپنی مصروفیات  کی وجہ سے یہ سلسلہ کوئی باقاعدہ نہیں تھا ۔ چنانچہ اس نے اپنے اسباق کی ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر پوسٹ کرنا شروع کر دیں اور ان کا ربط وہ اپنے شاگردوں کو ای میل کر دیا کرتا تھا اور اس کے شاگرد اپنی سہولت کے مطابق ان ویڈیوز کو دیکھ لیا کرتے تھے ۔  آہستہ آہستہ یو ٹیوب پر اس کی ویڈیوز سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی حتی کہ ایک دن میں 35،000 دفعہ دیکھی جانے لگیں اور اس طرح ایک مجازی سکول وجود میں آ گیا ۔ آج اس کی یوٹیوب ویڈیوز کی تعداد 1000 سے تجاوز کر چکی ہے اور تقریبا تمام تعلیمی موضوعات پر محیط ہیں ۔ اس کا ادارہ خان اکیڈمی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ سن 2008 میں اس نے اپنی اتنی  نوکری چھوڑ کر سارا وقت اسی کام کو دینا شروع کر دیا ۔

اس پاکستانی نوجوان کا نام سلمان خان ہے اور عمر محض 34 سال ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ کہ “اپنی  معمولی سی کوشش سے اس نے ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچایا ہے اور مجھے اپنے وقت کا اس سے بہتر مصرف کچھ اور سمجھ میں نہیں آتا “

میری اس پوسٹ کا محرک محترمہ عنیقہ ناز کی بچوں کے لئے ایک تحفہ نامی پوسٹ بھی بنی جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کو اردو حروف تہجی نفسیاتی طریقے سے سکھانے کے لئے فوٹو شاپ سوفٹویر سیکھا اور ویڈیو تیار کرنے کے بعد اسے اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے اپنے بلاگ پر مفاد عامہ کے لئے پیش کر دیا ۔ کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے مگر ایک ماں ، ایک عورت ، پیشہ ور استاد اور بیوی ہونے کی ذمہ داریوں جیسے چکرا دینے والے ٹایم ٹیبل سے وقت نکال کر یہ کام کرنا قابل ستائش ہے ۔ ویل ڈن عنیقہ ! تم ہم سب پر بازی لے گئیں ۔

چچا غالب نے کہا تھا کہ

گھر میں کیا تھا کہ ترا غم اسے غارت کرتا

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے

اسلام کہتا ہے کہ “ایک پڑھے لکھے شخص پر واجب ہے کہ وہ دوسروں کو تعلیم دے ۔”

انسان کا نفس دوسروں پر حکم چلا کر اور مادی اشیا پر قبضہ جما کر خوش ہوتا ہے  مگر سچی روحانی خوشی  دوسروں کو کچھ دینے میں ہے ، لینے میں نہیں ۔

تو وہ جو حسرت تعمیر دل میں رکھتے ہیں  کب شکایت کرنا چھوڑ کر واقعی کچھ تعمیر کرنا شروع کریں گے ۔



 
7 Comments

Posted by on March 31, 2010 in عمومی

 

پاکستان کا نصب العین ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر

پروفیسر احمد رفیق اختر سے میں قارئین کو پہلے ہی ایک پوسٹ کے ذریعے متعارف کرا چکاہوں ۔ آجکل میرے دل و دماغ میں اسلام ، پاکستان اور  اس کے مستقبل کے متعلق سوالات کچھ زیادہ  اٹھتے رہتے ہیں اور ایسے ہی سوالات کچھ دوسرے بلاگز پر بھی دیکھنے کو ملے ۔ اس سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم مصنفین کی جو بھی کتاب ، وڈیو یا آڈیو اس موضوع سے متعلق نظر آتی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ زیر نظر لیکچر وڈیو کی صورت میں پروفیسر کی ویب سائٹ سے ڈاونلوڈ کیا تھا ۔ میں نے سوچا کہ اسے آپ سے  بھی شیئر کیا جائے ۔  ڈائل اپ استعمال کرنے والے حضرات کی سہولت کے لئے اسے آڈیو کی صورت میں تبدیل کر کے نیٹ پر اپلوڈ کیا ہے تاکہ چند منٹ میں ہی بفرنگ کے لئے ڈانلوڈ ہو سکے ۔

آخر میں یہ عرض کر دوں کہ کافی غور و خوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پروفیسر کو محض پروفیسر ہی سمجھوں تاکہ معروضی انداز میں ان کے نظریات کا جائزہ لے سکوں ۔

آڈیو لیکچر ۔ پاکستان کا نصب العین ۔ وقت تقریبا دو گھنٹے ۔



 
4 Comments

Posted by on March 28, 2010 in مسلم امہ

 

کوئی جہالت سی جہالت ہے

آج جب اکیسویں صدی کی پہلی دہائی اختتام کے قریب ہے ، دنیا کی ترقی یافتہ اقوام محض چند سالوں میں چاند اور اس سے آگے دوسرے سیاروں پر بستیاں آباد کرنے اور معدنیات حاصل کرنے  کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں ہم قرون وسطی کے زمانے میں جانے کی تگ و دو کر رہے ہیں ۔ مغرب کی ہر چیز پر نفریں  بھیجتے ہیں اور اس کی نفی کرتے ہیں ، موجودہ دور کے جاہلوں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں ، ہر بنے بنائے نظام اور اداروں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں مگر اس کے بعد کیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس کی خبر نہیں ۔ عالم اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ایک  پڑھی لکھی اقلیت بھی قوت کے ذریعے دنیا کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ مگر قوت کیا ہوتی ہے اور اس کا فلسفہ و ماخذ کیا ہوتا ہے اس سوال سے نظریں چرانا مناسب سمجھتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ مسیحا بس اب آنے ہی والا ہے اور آ کر ہمیں اس قعر مذلت سے نکال دے گا اور اس کے بعد ہمارا سنہری دور شروع ہو جائے گا ۔

جاوید چوہدری کا زیر نظر کالم پہلی اگست 2006 کو شائع ہوا مگر آج چار سال بعد بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا عقل و فکر کا زاویہ  ان گذرے سالوں میں بھی نہیں بدلا اور مستقبل قریب میں بھی موجودہ سوچ اور فکر کے ساتھ ہماری حالت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔

جاوید چوہدری کا کالم بعنوان " ہم سمجھتے ہیں "



 
33 Comments

Posted by on March 22, 2010 in مسلم امہ

 

موسی بن نضیر ۔ حصہ سوم

طریف بن مالک کے حملے کو نو ماہ گذر چکے تھے اور مسلمان ابھی تک اپنی تیاری مکمل نہیں کر پائے تھے ۔ عام طور پر حملے کے لئے فوج کو تیار کرنے کے لئے اتنا وقت درکار نہیں ہوتا تھا ۔  مگر موسم سرما کے آغاز اور کسی مناسب جنگی موقعہ کا نہ ہونا اس کا باعث تھا ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس سوائے کاونٹ جولین کے ، فوجی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے کا کوئی اور قابل اعتماد ذریعہ بھی میسر نہیں تھا  اور دانشمندی کا تقاضہ یہی تھا کہ صرف کاونٹ جولین پر ہی اعتماد نہ کیا جائے ۔

موسی نے اس اثنا میں 7000 افراد پر مشتمل ایک چھوٹی فوج کھڑی کی جس کا کمانڈر طارق بن زیاد کو لگایا گیا ۔ اگرچہ اس میں زیادہ تر افراد بربر تھے مگر عرب مثلا مغیث الرومی اور سیاہ رنگت والے افریقی سوڈانی بھی اس میں شامل تھے ۔ اس فوج کے علاوہ  تقریبا 5000  بربر فوجی اور 18000 افراد پر مشتمل عرب فوج بھی افریقہ میں موجود تھی مگر موسی نے انہیں ریزرو کے طور پر رکھنا زیادہ مناسب خیال کیا ۔

جنگی منصوبہ یہ تھا کہ کاونٹ جولین کے چار جنگی جہازوں میں طارق کی 7000 ہزار کی فوج آبنائے عبور کر کے سپین کے ساحل پر اپنا مسقر (بیس) بنائے گی اور اور بعد میں آنے والی موسی کی فوج کے لئے محفوظ علاقہ فراہم کرے گی ۔ اس کے علاوہ طارق کی فوج کا مقصد رازرق کی فوج اور اس کے جنگی ارادوں کے متعلق فوجی معلومات اکٹھا کرنا شامل تھا تاکہ موسی اپنا مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کر سکے ۔ خطرے کی صورت میں طارق کی فوج کو واپس لوٹ آنا تھا ۔ مگر طارق کسی اور مٹی کا بنا ہوا انسان تھا اور ایک اچھے ماتحت کی طرح موسی کے سوچ کے انداز کو سمجھتا تھا ۔ وہ میدان جنگ کا آزمودہ ، خطروں سے کھیلنے والا اور شوق شہادت سے سرشار جرنیل تھا ۔ اس کی طبیعت کا یہ پہلو موسی کی محتاط شخصیت سے کچھ لگا نہیں کھاتا تھا ۔ طارق کے ماتحت فوجی بھی بربر تھے اور طارق کی طرح کی طبیعت اور جنوں کے مالک تھے ۔

اپریل 711 عیسوی میں جب رازرق ملک کے شمال مشرقی باسق علاقے میں بغاوت کو فرو کرنے کے لئے چلا گیا تو اس امر کی اطلاع کاونٹ جولین کے جاسوسی نظام کے ذریعے موسی تک پہنچی ۔ اس نے فورا طارق کو روانگی کا حکم صادر کر دیا ۔ اس وقت تک موسمی حالات بھی سازگار ہو چکے تھے ۔ طارق اپنی فوج کے ہمراہ جولین کے چار جہازوں میں جبل الطارق پر جا اترا ۔ اس سفر کو خفیہ رکھنے کی خاطر کاونٹ جولین کے جہاز جو تجارتی جہاز تھے کئی دن آتے جاتے رہے تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے ۔ جبل الطارق کے بلند پہاڑ پر رہتے ہوئے نیچے تمام علاقے پر نظر رکھی جا سکتی تھی اور اس پہاڑ پر حملہ کرنا دشمن کے لئے ایک مشکل کام تھا ۔ سمندری سفر کے دوران جہاز میں طارق بہت فکر مند تھا ۔ ساتھیوں کے پوچھنے پر کہنے لگا کہ ایک اہم کام میرے ذمے لگایا گیا ہے ، مجھے فکر ہے کہ کہیں اس مقصد میں ناکام نہ ہو جاوں اور مسلمانوں کا خون میری گردن پر ہو ۔ مسلمان تاریخ داں المقری لکھتا ہے کہ اسی اثنا میں اسے جہاز پر اونگھ آ گئی اور وہ خواب میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے سرفراز ہوا ، ہمراہ صحابہ کرام بھی جنگی لباس میں ملبوس پانی پر چل رہے تھے ۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے طارق سے فرمایا

” اپنے مقصد کی طرف بڑھے چلو ۔ اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کرنا اور اپنے عہد سے ہرگز نہ پھرنا ” ۔

بیدار ہونے پر طارق نے اپنے ساتھیوں کو یہ خواب سنایا تو ان کا ایمان بھی اپنی فتح کے متعلق پختہ ہو گیا ۔

جبل الطارق اپنے مستقر کے قیام کے بعد طارق نے ارد گرد کے علاقوں پر حملے شروع کر دیے ۔ اس وقت جنوبی سپین کا گورنر کاونٹ تدمیر تھا ۔ وہ اپنی تقریبا  1700  افراد پر مشتمل فوج لے کر مقابلے پر آیا ۔ طارق نے مغیث الرومی کو ایک مضبوط دستہ دے کر تدمیر کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا ۔ تین دن تک جھڑپوں کے بعد تدمیر کمزور پڑ گیا اور سامنے سے ہٹ گیا ۔ طارق نے اپنی فوج  کو جزیرۃ الخضرا کی طرف منتقل کر دیا ۔ (اس جزیرے سے افریقہ کی طرف پسپائی آسان تھی اور ساتھ سے یہ جگہ سپین سے بہت قریب تھی) ۔  تدمیر نے ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعے رازرق کو تمام حالات سے آگاہ کیا اور استدعا کی کہ وہ فورا سب کچھ چھوڑ کر یہاں پہنچے کیوں کہ وہ تو اپنی پوری کوشش کر چکا ہے ۔ صورتحال کی گھبیرتا کا احساس دلانے کی خاطر اس نے خط کے آخر میں لکھا کہ

” ہمیں نہیں پتہ چل سکا کہ یہ لوگ آسمان سے گرے ہیں یا زمین سے اگے ہیں “

رازرق کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں ۔ وہ ایک مشکل میں گھر گیا تھا ایک طرف وہ شمالی ملک کے اعداء سے نمٹ رہا تھا کہ ابھی یہ جنوب کی طرف کا ٹنٹا کھڑا ہو گیا تھا ۔ اس نے اپنی فوج کو کوچ کا حکم دیا اور اپنے کچھ بہترین رسالے (کیولری) کو تیز رفتاری سے لشکر کے پہنچنے سے پہلے جنوب میں طارق کی فوجوں کو روکنے کا حکم دیا ۔ یہ رسالہ اس کے بھانجے بانج کی قیادت میں برق رفتاری سے قرطبہ پہنچ کر تدمیر سے آن ملا اور مدینہ شددونہ کے نزدیک آکر اس کی طارق کی فوجوں سے جھڑپیں شروع ہو گئیں کئی دن کی لڑائی کے بعد اس کی فوجوں کو شکست ہوئی اور بانج مارا گیا ۔ طارق نے اب اپنا مستقر طریفہ منقل کر لیا تھا ۔ جس کا مقصد بھی اپنے ہدف کے قریب رہنا اور پسپائی کے راستوں کو کھلا رکھنا تھا ۔

رازرق نے مرحوم بادشاہ وٹیزا کے بیٹوں آلمندو اور اردباستو (عربی ۔ ارطباس) کو بھی لکھا کہ وہ اپنی ذاتی افواج کے ہمراہ ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں اس کا ساتھ دیں ۔ وٹیزا کے بیٹے اب بھی ملک اور بادشاہ کی فوج میں ایک اثر رسوخ کے مالک تھے اور تخت شاہی کے خفیہ طور پر دعوے دار بھی تھے ۔ ان کے حامی سرداروں نے اس موقع کو رازرق کو گرانے کا ایک سنہری موقع سمجھا اور مسلمان تو ان کے خیال میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھے ان سے بعد میں بھی نمٹا جا سکتا تھا ۔

طارق نے جب رازرق کی تقریبا ایک لاکھ فوج کی خبر سنی تو اس نے فورا موسی سے مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی ۔ موسی اسی اثنا میں مزید بحری جہاز تیار کرا چکا تھا ۔ اس نے طریف کی قیادت میں صرف 5000 مزید فوجی بطور کمک بھیج دیے ۔ موسی کے خیال میں ابھی ایک بڑی فوج کو بھیجنے کا وقت نہیں آیا تھا اور اگر طارق کو شسکست بھی ہو جاتی ہے تو رازرق کی فوج شجیع بربر سپاہیوں کے ہاتھوں نقصان اٹھا کر لمبے عرصے تک ایک اور جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہے گی اور اس کے بعد موسی بذات خود بڑا حملہ کر سکتا تھا  ۔ طریف کی فوج جب سپین پہنچی تو طارق نے تمام جہاز بشمول کاونٹ جولین کے چار جہازوں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا ۔ یہ فوج کے لئے اس بات کا اشارہ تھا کہ اب واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے ۔ غالبا جہاز جلانے کا واقعہ طریفہ کے مقام پر پیش آیا (طریفہ آجکل سپین کا ایک مشہور سیاحتی شہر ہے جہاں واٹر سپورٹس وغیرہ سے سیاح لطف اٹھاتے ہیں ) ۔

کچھ تاریخ داں طارق کے جہاز جلانے کے واقعے کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہیں کہ طارق جیسے بیدار مغز جرنیل سے ایسی حرکت کی توقع نہیں کی جا سکتی اور یہ مروجہ جنگی اصولوں کے بھی خلاف بات تھی ۔ کچھ کہتے ہیں کہ علامتی طور پر صرف چار جہازوں کو آگ لگائی گئی تھی ۔ مگر المقری اور ابن خلدون تمام جہاز جلانے کی تصدیق کرتے ہیں ۔

اس کے بعد طارق نے مدینہ شدونہ کی طرف کوچ کیا اور ایک کھلے میدان میں دریائے بربطے کے نزدیک اپنے خیمے گاڑ دیے  ۔ اس کے دستے حفاظتی نقطہ نظر سے ارد گرد کے تمام راستوں پر پھیل گئے ۔ اب جون 711 کا اختتام ہو رہا تھا ۔ راڈرک نے تشویش کے عالم میں اپنی تمام ملکی فوج مجتمع ہونے کا انتظار نہ کیا اور صرف 40000 فوج کے کیولری دستوں کے ساتھ مسلمانوں کے کے کیمپ کے نزدیک پہنچ کر قیام کیا ۔ اس نے جاسوسی کی خاطر اپنا ایک افسر مسلمان فوج کی طرف بھیجا مگر وہ پکڑا گیا اور طارق نے اسے اپنا تمام کیمپ دکھا کر اور کھانا کھلانے کے بعد واپس بھیج دیا ۔ اس افسر نے رازرق سے جا کر کہا

” طلسم خانہ کی شبیہوں جیسے لوگوں آن پہنچے ہیں” ۔

راڈرک نے جنگ کے لئے اپنی فوج کو قلب ، میمنہ اور میسرہ میں تقسیم کیا ۔ میمنہ اور میسرہ کی قیادت وٹیزہ کے بیٹوں کے ہاتھوں میں تھی اور قلب کی قیادت رازرق خود کر رہا تھا ۔ اس نے کچھ سپاہی ریزرو کے طور پر بھی رکھے تھے ۔ بادشاہ کی حفاظت اس کا شاہی حفاظتی دستہ کر رہا تھا ۔ اس کی فوج کے مخلتف رنگوں کے لہراتے جھنڈے ، چمکتی دمکتی قیمتی وردیاں ، مختلف اقسام کے جنگی ہتھیار اور بھاری بھر کم جسامت کے گھوڑے ایک متاثر کن منظر پیش کر رہے تھے ۔ طارق اس سے قبل کاونٹ جولین کے مشورے پر اپنی فوج کی تربیت گاتھ طریقہ جنگ کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر کر چکا تھا ۔ طارق نے اپنی فوج کو تقریبا دو میل کی صفوں میں پھیلا دیا ۔ اس صف کا ایک سرا پہاڑ سے متصل تھا اور دورا نزدیکی جھیل جندہ سے جا ملا تھا ۔ پہلی صف میں سوڈانی فوج تھی اور اس کے بعد باقی صفیں تھیں ۔ اس ترتیب کے باعث گاتھ کیولری پیچھے سے چکر کاٹ کر مسلمانوں کے عقب میں نہیں آ سکتی تھی ۔ ۔ مسلمان سپاہیوں کے حوصلے بلند تھے اور انہیں اپنی فتح کا پکا یقین تھا ۔

سوموار 19 جولائی 711 عیسوی کی خنک صبح کو رازرق کی فوج نے پہل کی اور مسلمانوں پر حملے کا آغاز کیا اور سارا دن گاتھ کیولری  طوفانی موجوں کی طرح  بار بار طارق کی صفوں سے ٹکرا کر بے نیل مرام واپس لوٹ جاتی رہی ۔ مسلمان اپنی جگہ پر ڈٹے رہے ۔ دوسرے دن بھی یہی عالم رہا ۔ فضا جنگی گھوڑوں ، زخمی انسانی چیخوں اور فولاد ٹکرانے کی آوازوں سے گونجتی رہی ۔ جنگی طبل بجنے کی آوزوں کے ساتھ ہی کیولری کی ایک اور بپھری ہوئی لہر پھر آ ٹکراتی اور ایسے محسوس ہوتا جیسے پہاڑ آپس میں ٹکرا رہے ہوں ۔ دونوں فریقین شجاعت کا بے مثال مظاہرہ کر رہے تھے ۔ بربر اپنے قبیلے کی روایات کے مطابق ایک دیوانگی سے لڑ رہے تھے ۔ رات آئی تو مسلمان کیمپ قرآن کی تلاوت کی آوازوں سے گونجتا رہا ۔ گاتھ فوج کو ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی تھی ۔

تیسرے دن بھی گاتھ رسالہ جی جان سے مسلمان فوج کی صفوں کو چیرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ انہیں بربر سپاہیوں کے حوصلے اور تربیت پر حیرانی ہورہی تھی کیونکہ اب کی بار بربر ایک مختلف جنگی داو پیچ کا مظاہرہ کر رہے تھے جو روایتی بربر طریقہ جنگ کے بالکل برعکس تھا ۔ دن کے اختتام تک گاتھ فوج کو بہت معمولی کامیابی حاصل ہو سکی تھی ۔ شام تک دونوں فوجیں تھک ہار کر رات کو آرام کے لئے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئیں ۔

ادھر طارق فکر مند ہو رہا تھا ۔ وہ مسلسل اس جنگ کا سامنا نہیں کر سکتا تھا ۔ ہر روز اس کے سپاہی کم ہو رہے تھے ۔ ابھی تک بربر صرف دفاعی جنگ لڑ رہے تھے جو بربر مزاج کے خلاف تھا اور آنے والے دن پھر یہی عمل دہرانا کو ئی دانشمندی نہیں تھی ۔ مزید برآں سپاہیوں کے حوصلے بھی پست ہو رہے تھے ۔ طارق نے فوج سے خطاب کا فیصلہ کیا

” اے میرے سپاہیوں ! تم بھاگ کر کہاں جاو گے ۔ تمہارے پیچھے سمندر اور سامنے دشمن ہے ۔ خدا کی قسم!  صرف ایمان اور یقین کی دولت ہی تمہارے کام آ سکتی ہے اور یہ عظیم دولت ہے اور اس پر کوئی فتح نہیں پا سکتا ۔ یہ جان رکھو کہ اس سرزمین پر دشمن کی فوج کے خلاف تمہاری اتنی حیثیت بھی نہیں جتنی ایک بخیل کے دستر خوان پر ایک یتیم کی ہوتی ہے ۔ اور تمہارے پاس صرف تمہاری تلواریں ہیں جس سے تم اپنا نوالہ دشمن سے چھین سکتے ہو ۔ اپنے دلوں سے خوف نکال دو ۔ میں تمیں ایسا کوئی کام نہیں دوں گا جو میں خود نہ کروں ، اور موت کی راہ پر میں تم سب سے آگے ہوں گا ۔ جو میں کروں وہی تم بھی کرنا ، جب میں رکوں تم بھی رک جانا مگر ایک جسد واحد کی طرح ۔ جب کل جنگ شروع ہو گی تو ہم حملہ کریں گے اور ظالم بادشاہ کو موت کے گھاٹ اتاریں گے ۔ میرا ساتھ دینا ۔ اگر تم شہید ہو گئے تو خدا کی رضا حاصل کرو گے اور اگر فتح پائی تو تم اسپین کے شہزادوں کے داماد بنو گے ۔”

طارق کے الفاظ نے فوجیوں کے اندر حوصلے کی بجلی سی دوڑا دی ۔  انہوں نے کہا

” ہم آپ کے ساتھ ہیں بلکہ کل جنگ میں آپ سے آگے ہوں گے ۔ “

طارق کیمپ کے دورے سے واپس لوٹا تھا کہ خدا کی مدد آن پہنچی ۔ وٹیزا کے بیٹے اس جنگ سے تنگ آ چکے تھے ۔ انہوں نے اپنا ایک قاصد طارق کی طرف خفیہ طور پر بھیجا تھا جو یہ پیغام لے کر آیا

” رازرق ہمارے باپ کا ایک کُتا ہے جو ہمارے باپ کی موت کے بعد غاصبانہ طور پر تخت پر قابض ہو گیا ہے ۔ “

انہوں نے آنے والی صبح عین جنگ کے درمیان میدان جنگ چھوڑ جانے کی تجویز پیش کی بشرطیکہ ان کے باپ کی ذاتی جائیداد جو 3000 زرخیز فارمز پر مشتمل تھی انہیں لوٹا دی جائے ۔ طارق نے یہ تجویز قبول کر لی ۔

چوتھے دن سورج کی پہلی کرن نمودار ہونے پر مسلمان فوج نے اپنے حملے کا آغاز کیا ۔ رازرق خود پہلے حملہ کرنے کے چکر میں تھا اور اب مسلمانوں نے پہلے حملہ کر کے اس کے جنگی منصوبے کو الٹ دیا تھا  ۔ جیسے جیسے دن گذرتا گیا حملے میں شدت آتی گئی حتی کہ اس نے پچھلے تمام دنوں کی شدت کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ دونوں شہزادوں نے حسب وعدہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کی مگر بقیہ فوج نے جنگ جاری رکھی تلواریں کلہاڑوں اور نیزوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ دونوں کمانڈر آج اس جنگ کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے ۔ مسلمان سامنے سے حملہ اور گاتھ فوج کو گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔  طارق نے زیادہ توجہ رازرق کے شاہی دستے پر مرکوز رکھی تھی وہ انکا گھیرا توڑ کر رازرق تک پہنچنے کی فکر میں تھا ۔ شاہی دستے کے عقب میں بادشاہ تخت پر بیٹھا نظر آ رہا تھا ۔ آخر کار مسلمان شاہی دستے کا گھیرا توڑ کر بادشاہ کے قریب پہنچ گئے ۔ رازرق نے مسلمانوں کو دیکھتے ہی کہا

” وہی طلسم خانہ کے شبیہوں جیسے لوگ ہیں “

طارق نے پکار لگائی

” وہ رہا دشمن ، ظالموں کا ظالم “

رازرق  نے جلدی سے اپنا سفید شاہی گھوڑا منگایا اور راہ فرار اختیار کی ۔  بادشاہ کے راہ فرار اختیار کرنے سے باقی ماندہ فوج کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھی ٹولیوں کی صورت میں بھاگنے لگے حتی کہ فوج کی پسپائی ایک بھگدڑ کی شکل اختیار کر گئی ۔ مسلمان دستوں نے گاتھ فوجیوں سے چھینے ہوئے گھوڑوں پر بیٹھ کر ان کا تعاقب کیا اور آنے والے تین دن تک ان کی تلواریں ہر سمت میں بھگوڑوں کا خون پیتی رہیں ۔ اس جنگ میں 3000 مسلمان شہید ہوئے ۔ رازرق کا سفید گھوڑا نزدیکی جھیل کے کنارے کھڑا ملا ،  پاس ہی موتیوں سے آراستہ بادشاہ کے پاوں کی چپل کا ایک پاوں بھی ملا ۔ اغلب خیال یہی ہے کہ فرار کے دوران وہ دلدل میں پھنس گیا تھا اور اپنے بھاری آہنی جنگی لباس کی وجہ سے دلدل میں غرق ہو گیا  ۔  اس طرح 26 جولائی 711 عیسوی کو جنگ بربطے اختتام پذیر ہو گئی ۔ جنگی ماہرین طارق کی اس جنگ کو طارق کی ذہانت اور جنگی علم کے بہتر استعمال کی بنا پر ایک کلاسک کا درجہ دیتے ہیں جس میں ایک چھوٹی اور کمزور فوج نے دشمن کی ایک بہترین تربیت یافتہ اورقوت میں غالب کیولری کو میدان جنگ میں اپنے حربوں سے تھکا کر کاٹ ڈالا تھا ۔

طارق نے تفصیلا اس جنگ کا احوال فتح کی خوشخبری کے ساتھ موسی کو لکھ بھیجا ۔ مگر جواب کیا آیا ؟  موسی کی طرف سے ایک سرزنش اور یہ حکم کے طارق آگے بڑھنے کی بجائے وہیں رکا رہے اور موسی کی آمد کا انتطار کرے ۔

کیا طارق وہیں رکا رہا ؟

جاری ہے ———————-



 
 

موسی بن نضیر ۔ حصہ دوم

یہ خبر کاونٹ جولین کی طرف سے تھی جس میں اس نے موسی کو اسپین پر حملہ کرنے کی ترغیب دی تھی ۔ کاونٹ جولین مسلمانوں کے آنے سے قبل پورے صوبے کا حکمران تھا مگر مسلمانوں نے آکر اس سے علاقے چھین لئے تھے اور اب صرف سبتہ اس کے پاس رہ گیا تھا ۔

سبتہ رومیوں کے زیر اثر آنے سے قبل کارتھیج قوم کے زیر اقتدار تھا ۔ جب جرمنی کےوحشی  قبائل نے یہ علاقہ رومیوں سے چھینا تو وندال بادشاہ جنسرک نے423 عیسوی میں آبنائے عبور کر کے سبتہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔  مشرقی بازنطینی رومی سلطنت  نے اسے  535 عیسوی میں دوبارہ فتح کر لیا تھا ۔ جسطنین نے اس شہر کی بنیادوں کو ڈھونڈ کر اسے دوبارہ آباد کیا ۔ ایک صدی بعد 616 عیسوی میں یہ شہر  اسپین کے وسی گاتھ (ویسٹرن گاتھ ) بادشاہوں کے ہاتھ آ گیا اور انہوں نے اسے افریقہ میں گاتھوں کے صوبے کا دارالحکومت بنا دیا ۔

تاریخ مین کاونٹ جولین کئی ناموں سے جانا جاتا تھا ۔ جولین ، یولین ، بالیان ،آلیان ، البان ۔ بعض مغربی مورخین کے مطابق وہ گاتھ قوم سے تھا مگر یہ صحیح معلوم نہیں ہوتا ۔ وہ ایک عیسائی خودمختار حاکم تھا جو اپنی وفاداری اسپن کے بادشاہ کے ساتھ کے ساتھ نبھا رہا تھا ۔ اس کا خطاب کاونٹ اس کے گورنر ہونے کی وجہ سے تھا ۔ وہ بربر نژآد اور ایک بہت بڑے قبیلے غمارہ یا گھمارا کا سربراہ تھا  ۔ ہسپانوی سلطنت کے اس اہم صوبے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے اس کی عزت طلیطلہ کے دربار میں بے پناہ تھی ۔ تیس سال قبل جب وہ ابھی جوان تھا تومسلمان عقبہ بن نافع کی سرکردگی میں مغرب میں  نمودار ہوئے تھے ۔ اس نے عقبہ سے جنگ کرنے کی بجائے اس سے اپنی صوبہ داری بحال رکھنے کی شرط پر صلح کر لی تھی ۔ مگر عقبہ جیسے شجاع فاتح کے جاتے ہی وہ اپنی سابقہ روش پر لوٹ گیا ( اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر وہ بہت زیادہ سمجھ بوجھ کا مالک تھا ) ۔  موسی نے سبتہ کو فتح کرنے کی کوشش کی مگر قلعے کی مضبوطی اور جولین کی بہادری کی وجہ سے وہ اس کی خود مختار حیثیت بحال رکھنے پر مجبور ہو گیا ۔

اس زمانے میں یہ دستور تھا کہ کہ تقریبا  تمام قسم کے معزز خاندان اپنے بچوں کی اعلی تعلیم و تربیت کے لئے انہیں طلیطلہ کے دربار میں بھیجا کرتے تھے ۔ جولین کی بیوی سپین کے سابقہ بادشاہ وٹیزا کی بیٹی تھی ۔ جولین کی ایک فلورنڈا نامی خوبصورت بیٹی بھی طلیطلہ کے دربار میں اسی غرض سے بھیجی گئی تھی ۔ بادشاہ رازرق نے ایک دفعہ اسے دریائے تاجہ(Tagus R )میں نہاتے دیکھا تو اس کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے محل میں زبردستی اس شہزادی کی عزت لوٹ لی ۔ جب اس کی اطلاع فلورنڈا کے ایک خط کے ذریعے کاونٹ جولین کو ملی تو وہ غضبناک ہو گیا ۔ ایک بربر بادشاہ کے ساتھ رازرق کا یہ سلوک اس کے لئے انتہائی ہتک آمیز تھا ۔ ” اس وحشی کی یہ جرآت! خدائے یسوع مسیح کی قسم ! میں اس کے تخت کو گھن لگا دوں گا اور اس کی بادشاہت کو تباہ و برباد کر دوں گا ” اس نے کہا ۔

مگر وہ اتنا سمجھدار ضرور تھا کہ اپنے اصل ارادوں کا اظہار بادشاہ تک نہ پہنچنے دے ۔ وہ جب اپنی بیٹی کو طلیطلہ لینے کے لئے گیا تو بادشاہ اسے دیکھ کر فکر مند ہو گیا تھا  مگرجولین نے ظاہر کیا کہ وہ اصل واقعے سے لاعلم ہے اور اپنی بیوی کی بیماری کا بہانہ کر کے فلورنڈا کو ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی۔ بات چیت کے دوران بادشاہ نے کہا کہ “میں نے آپ سے ایک دفعہ اپنے علاقے میں پائے جانے والے شکاری عقابوں کو بھیجنے کی فرمائش کی تھی اس کا کیا بنا ؟۔”

جولین نے کہا

” میں نے آپ کے لئے ایسے عقاب تلاش کئے ہیں کہ آپ نے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے ” ۔

جولین نے سپین پر حملہ کرنے کی تجویز سب سے پہلے طارق کو دی ۔  اس نے طارق کے سامنے اسپین کی شادابی اور خوشحالی کا متاثر کن نقشہ کھینچا ۔ طارق کے پاس اتنی فوج تھی کہ حملے میں جولین کا ساتھ دیتا  مگر اس نے اسے موسی بن نضیر کی منظوری حاصل کرنے کا کہا ۔ جب یہ خبر موسی تک پہنچی تو اس نے کاونٹ جولین کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے اسپین پر چند چھوٹے چھوٹے حملے کرنے کے لئے کہا ۔ جولین نے ایسا ہی کیا  اور کتوبر 709 عیسوی میں سپین کے ساحلی علاقے میں حملہ کر کے لوٹ مار کی اور بہت سارے لوگوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے آیا ۔ جولین دوبارہ موسی کے پاس آیا اور اسے اپنی کامیابی کی خبر دی ۔ موسی نے جولین کو تو واپس بھیج دیا مگر یہ تجویز خلیفہ الولید کو لکھ بھیجی ۔ خلیفہ نے لکھا کہ کہ” پہلے چھوٹی چھوٹی گشتی ٹولیاں اسپین میں بھیجی جائیں تاکہ درست معلومت حاصل ہو سکیں ۔ میں مسلمانوں کی جانوں کو خواہ مخواہ سمندر میں ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔” موسی نے دوبارہ لکھا کہ افریقا اور اسپین کے درمیان سمندر نہیں بلکہ چھوٹی سی ایک آبنائے حائل ہے جسے پار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ مگر خلیفہ نے لکھا ” تب بھی حملے کی منصبہ بندی سے قبل گشت کرنے میں فائدہ ہی ہے “

موسی نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام اور جنگی مسلمان بربر سردار طریف بن مالک  کی سرکردگی میں 400 افراد کی ایک پارٹی طارق کی فوج سے تقریبا نو مہینے قبل جولائی 710 عیسوی میں  اسپین کی طرف بھیجی ۔ جولین نے اپنے چار چھوٹے بحری جہاز پارٹی کو لانے اور لے جانے کے لئے مہیا کیے ۔ اس مہم کا مقصد رازرق  کے اردوں کے متعلق معلومات اور اس کی  کی فوج کی جنگی استعداد کا پتہ چلانا تھا ۔ جس جگہ طریف لنگر انداز ہوا وہ آج طریفہ کہلاتی ہے ۔ طریف حملے کے بعد کچھ دن اس علاقے میں موجود رہا اور مال غنیمت سے لدا واپس لوٹا ۔ اب ایک بڑے حملے کے لئے مسلمان تیار تھے ۔ ( طریف اس کے بعد اگرچہ طارق کی فوجوں کے ہمراہ رہا مگر تاریخ دان اس کا ذکر نہیں کرتے شاید اس نے اس کے بعد کوئی قابل ذکر کاردگی نہیں دکھائی ۔ لیکن تیس سال بعد اس کا نام ایک خوفناک بغاوت کے سلسلے میں آتا ہے جس کا احوال پھر کسی اگلی پوسٹ میں آئے گا ) ۔

مگر آگے جانے سے قبل اسپین کی تاریخ اورحالات پر نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ اسپین کے سیاسی ، معاشرتی اور فوجی پہلووں  کا تعلق مسلمانوں کے حملے   سے بہت گہرا ہے ۔ اسپین میں کھدائی سے برآمد ہونے والے حجریے اس کی 200،000 سال قبل کی تاریخ کا پتہ دیتے ہیں ۔ اس کے پہلے پہل کے باسی افریقہ کے رہنے والے سفید رنگت کے  تھے جو 3،000 قبل مسیح اس علاقے میں آن وارد ہوئے ۔ یہ ایک زراعتی معاشرہ تھا ۔ تقریبا 1000 قبل مسیح تارتیزان نامی قوم کا اس علاقے میں رہنے کا تذکرہ ملتا ہے ۔ پھر غیر ملکی فونیقی تاجروں کے آنے کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اس علاقے میں تجارت کو فروغ حاصل ہوا ۔ فونیقیوں نے قادس(Cadiz) اور مالقہ(Malaga) کے شہر آباد کئے ۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں یونانیوں کے آنے کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔

اسپین میں پہلے پہل شمال  کی طرف سے  آنے والے یورپی گال قوم سے تعلق رکھتے تھے ۔ اب تک اس کا نام  آئیبریا پڑ چکا تھا جو اسپین میں بہنے والے دریائے آئیبر کے نام سے تھا ۔  مگر اس سے پہلے اس سرزمین کا نام  ہسپانیہ کہا  جاتا ہے جس کا مطلب ہے “خرگوشوں کی سرزمین” ۔  مسلمانوں کے ہاں اس کا نام سرزمین اندلس ہے جو حضرت نوح کے طوفان کے بعد اس سرزمین پر آنے والے حضرت نوح کے پڑپوتے آندلس کے نام پر  رکھا گیا ۔  مگر جدید تحقیق کے مطابق اندلس نام ویندال قوم کے اس سرزمین پر آنے کی وجہ سے پڑا جو افریقہ جانے سے قبل اس سرزمین پر رکے ۔ بلکہ رکے کیا اس سرزمین کی ہر شے تباہ و برباد کر دی اور انگریزی زبان کو ایک نیا لفظ عطا کر گئے یعنی ” وینڈل ازم ” بے مقصد تباہی و بربادی ۔

گاتھ قبیلہ کے متعلق بیان کہا جاتا ہے کہ وہ سویڈن کے علاقے کے رہنے والے تھے ۔ وہ ہجرت کر کے دریائے ڈینیوب کے علاقے میں آئے اور وہاں سے یہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ۔ جو حصہ مغرب کی طرف آیا وہ وسی گاتھ (ویسٹ گاتھ) کہلایا اور دوسرا آسٹرو گاتھ ( ایسٹ گاتھ)کہلایا ۔   اسپین میں گاتھوں کا پہلا بادشاہ تھیوڈس تھا جو کہ ایسٹ گاتھ تھا مگر اس کے بعد آنے والے ویسٹ گاتھ تھے ۔ ان کا دارالحکومت طلیطلہ تھا ۔ رومیوں کے زوال کے بعد وسی گاتھوں کو بازنطینیوں سے مقابلہ کرنا پڑا جن کا دارالحکومت قسطنطنیہ تھا ۔ جسطنین کی فوجیں اٹلی فتح کرنے کے بعد سپین میں 552 عیسوی میں آئیں اور اسپین کا جنوبی حصہ ان کے قبضے میں چلا گیا ۔  وہ گاتھوں کے چھوٹے چھوٹے سرداروں کو آپس میں لڑا کر ان کو کمزور کرتے رہے مگر آخر کار وسی گاتھ 624 عیسوی میں ان پر غالب آ گئے اور اب پورا اسپین ان کےزیر اقتدار تھا ۔

اسپین میں انتقال اقتدار کا طریقہ انتخابی نوعیت کا تھا ۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد عمائدین اکٹھے ہوتے تھے جن میں لاٹ پادری بھی شامل ہوتا تھا اور انتخاب کے بعد پادری اس کی توثیق کرتا تھا ۔ مگر شاید ہی کوئی انتخاب پر امن رہا ہو ۔ چناچہ بادشاہ اپنی زندگی میں ہی اپنا ولی عہد نامزد کر دیتا تھا ۔ 700 عیسوی میں وٹیزا ولی عہد بنا اور بظاہر وہ ایک اچھا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے ۔ نو سال بعد وہ بادشاہ بن گیا ۔ اس کا ایک اوپاس نامی بھائی طلیطلہ اور اشبیلیہ کا لاٹ پادری تھا ۔ اس بادشاہ کے تین بیٹے تھے ایک کا نام اخیلا اور دوسرے کا اردباستو  اور تیسرے کا آلمنڈو تھا ۔ بادشاہ نے اخیلا کو ولی عہد نامزد کیا تھا مگر اس کی وفات کے پھر جھگڑا پڑ گیا اور عمائدین نے آخر کار شہزادوں کی بجائے 709 عیسوی میں شاہی رسالے کے کمانڈر رازرق کو بادشاہ منتخب کر لیا جو ایک جری جرنیل تھا۔ یقیننا اس نے اپنا اثر و رسوخ بھی اس انتخاب میں استعمال کیا ہو گا ۔ لوگ اس کے متعلق یہ تصور کرتے تھے کہ کیونکہ اس کے باپ کو بادشاہ وٹیزا کی شہ پر  قتل کیا گیا تھا اس لئے وہ اپنا انتقام لینا چاہتا ہے ۔

چھوٹے بیٹے آلمنڈو اور اردباستو تو بھاگ کر اپنی ماں اور چچالاٹ پادری اوپاس کے پاس چلے گئے مگر اخیلا نے رازرق کے تخت پر دعوی کر دیا ۔ جنگ میں اخیلا کو شکست ہوئی اور اس کے بعد چھوٹے بیٹوں نے بھی اطاعت قبول کر لی ۔ تاہم چچا اور بھتیجوں کی یہ اطاعت ایک سیاسی حربہ تھی ۔  رازرق کے تخت نشین ہوتے ہی ملک کے شمال مشرقی حصے میں بغاوت ہو گئی اور وہ بغاوت کو فرو کرنے کے لئے فوج لے کر چلا گیا ۔

روایت کے مطابق جانے سے قبل اس نے ایک ایسے طلسمی گھر کے بارے میں سنا جو طلیطلہ سے کچھ فاصلے پر واقع تھا ۔ کسی کو اس طلسم کو کھولنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ہر نیا بننےوالا بادشاہ رسم تاجپوشی کے موقع پر اس طلسم گھر پر اپنا تالہ لگا دیتا تھا اور اس وقت اس طلسمی گھر پر کئی قفل لٹک رہے تھے ۔ رازرق نے اسے کھولنے پر اصرار کیا اور طلسم خانہ کے محافظ کے روکنے کے باوجود اسے کھول دیا ۔ طلسمی کمرے میں ایک تابوت کے اندر اسے ایک کپڑا ملا جس پر ایسے لوگوں کی شبیہیں بنی ہوئی تھیں جو عربوں سے مشابہ تھے اور کپڑے پر لکھی پیشین گوئی کے مطابق اس طلسم خانہ کو کھولنے والے کی حکومت ان شبیہوں جسیے انسانوں کے ہاتھوں ختم ہو جائے گی ۔  بادشاہ کو اس کا افسوس ہوا اور اس نے دوبارہ قفل اس طلسم خانہ پر چڑھا دیا ۔ مگر اس کے بعد میں رنج و الم کی کیفیت میں زندہ رہا ( میرے خیال میں یہ ایک من گھڑت کہانی ہے جو اس بات کو تقویت دینے کے لئے گھڑی گئی تھی کہ مسلمانوں کی فتح میں ان کی بہادری اور کوشش کو کوئی دخل نہیں تھا بلکہ یہ تقدیر کا لکھا تھا ۔ بلاگر)

اسپین کے سیاسی اور سماجی حالات اس وقت ابتر تھے ۔ گاتھ اگرچہ اقلیت میں تھے مگر وہ ایک اکثریت پر ظلم ستم کے ذریعے حکومت کر رہے تھے ۔ عیسائی ہونے کے باوجود ان کے اعمال کافروں جیسے تھے ۔  گاتھ زیادہ تر فوجی پیشے سے وابستہ جنگجو لوگ تھے ۔ یہودیت کا ظہور اگرچہ عیسائیت کے آنے سے پہلے اسپین میں ہوا تھا اور یہودی ایک پرامن ، تجارت پیشہ اور خوشحال لوگ تھے مگر وسی گاتھ کے مظالم کے ہاتھوں پستے ہوئے اب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار تھے ۔ وسی گاتھ نہ صرف انہیں حضرت عیسی کا قاتل سمجھتے تھے بلکہ ان کی دولت کی وجہ سے ان سے حسد بھی کرتے تھے ۔

عیسائیت نے اسپین میں یہودیوں کے خلاف پہلا وار 306 عیسوی میں کیا جب چرچ کے علماء نے ایک حکم نامے کے ذریعے عیسائیوں کو یہودیوں سے شادی بیاہ اور اور دیگر تعلقات رکھنے سے منع کر دیا ۔ مگر ساتویں صدی کے آغاز میں ان پر ایک اور حکم نامہ نازل ہوا جس میں انہیں عیسائی غلام رکھنے سے منع کر دیا گیا ۔ چناچہ یہودیوں نے اپنے تمام عیسائی غلام سستے داموں عیسائیوں کو بیچ دے ۔  اس قانون کے تحت یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی یہودی نے کسی عیسائی کو یہودی مذہب کی طرف مائل کیا تو اس کی تمام جائداد ضبط کر لی جائے گی ۔ مگر ابھی یہ صرف شروعات تھیں ۔ ایک اور حکم نامے کے ذریعے یہودیوں پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ 616 عیسوی میں ایک شاہی حکم کے ذریعے تمام یہودیوں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ سال کے اختتام تک عیسائی مذہب اختیار کر لیں ۔ دوسری صورت میں انہیں سو کوڑے لگانے کے بعد تمام جائیداد کی ضبطی اور جلاوطنی کی سزا بھگتنی ہو گی ۔ نتیجتا 90،000 یہودیوں نے عیسائیت اختیار کر لی ۔ یہ یہودیوں کا ابھی ایک قلیل حصہ تھا۔ مگر عیسائی اب بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ وہ ابھی تک خفیہ طور پر یہودی رسم و رواج کی پابندی کرتے تھے ۔ 638 عیسوی میں پادریوں نے ایک حکم نامے کے ذریعے یہودیوں کو مجبور کیا کہ وہ ایک عہد نامے پر دستخط کر کے یہ اقرار کریں کہ وہ اپنی یہودی رسوم کو چھوڑ چکے ہیں اور اگر وہ کسی کو ایسا کرتے دیکھیں گےتو اسے پتھر مارمار کر ہلاک کر دیں گے ۔  654 میں ایک اور اسی طرح کے عہد نامے پر یہودیوں سے دستخط لئے گئے ۔  نئے بادشاہ نے یہودیوں کے پاس سے کسی بھی ایسی کتاب کے برآمد ہونے پر جو عیسائی مذہب پر تنقید کرتی ہو ، سخت سزا کا اعلان کیا ۔  اس سے فارغ ہونے کے بعد 687 عیسوی میں بادشاہ نے یہودیوں کے بندرگاہوں پر جانے پر بھی پابندی لگا دی(تاکہ ان کی تجارت کا گھلا گھونٹا جا سکے) ۔  694 عیسوی میں بادشاہ نے پھر عیسائی پادریوں کا اجلاس بلایا اور ان کو خبر دی کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں یہودیوں نے اپنے عیسائی بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی ہے اور اس میں ہمارے اپنے ملک کے یہودیوں نے بھی ملی بھگت کا اعتراف کیا ہے ، میرے پاس اس کے ثبوت ہیں اور ہمیں اس خطرے کا پہلے سے ہی کوئی سد باب سوچ رکھنا چاہیے ۔  چنانچہ انہوں نے یہودیوں پر اپنا سب سے سخت تازیانہ برسایا اور اعلان کیا کہ یہودیوں کی تمام دولت ضبط کر لی جائے گی ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکال کر ہمیشہ کے لئے قید کر دیا جائے گا ۔ مگر اس کی انتہا یہ تھی کہ ان کے بچے سات سال کی عمر پہنچے پر ان سے چھین لئے جائیں گے اور پختہ عقیدے کے عیسائی گھرانے کے لوگوں کو دے دیے جائیں گے ۔  اس کے باوجود یہودی آبادی کا کچھ حصہ اپنے پرانے عقیدے کو خفیہ طور مانتا رہا اور اس تمام تر ظلم اور جبر کو سہتا رہا ۔ اب وہ صرف اللہ سے مدد کی دعا ہی مانگ سکتے تھے کہ وہ کوئی مدد بھیجے جس کی امید مگر کم ہی تھی ۔ انہیں اب ایک اور موسی کا نتظار تھا ۔

جاری ہے —————-