بابا بلھے شاہ (1680-1758 عیسوی) کا اصل نام سید عبداللہ شاہ تھا ۔ تحصیل قصور میں ولادت ہوئی ۔ لاہور میں شاہ عنایت قادری سے فیض حاصل کیا ۔ فلسفہ وحدت الوجود پر عامل تھے لہذا ہر شے کو اللہ تعالی کا مظہر تصور کرتے تھے ۔ ان کی شاعری میں عشق ایک موثر قوت کے طور پر سا منے آتا ہے ۔ محبت اور صلح جوئی کا پیغام ان کے یہاں عام ہے ۔ پنجابی زبان میں کافیاں لکھیں ۔ ایک جگہ فرماتے ہیں ” جس علم سے انسان میں غرور اور تکبر پیدا ہو جائے وہ علم خدا شناسی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے وہاں انسانوں کے لیے بھی نافع نہیں رہتا ” ۔
پنجابی شاعری سے اقتباس
پڑھ پڑھ شیخ مشائح ہویا
بھر بھر پیٹ نیندر بھر سویا
جاندی واری نین بھر رویا
ڈّبا وچ اورارنہ پار
علموں بس کریں او یار
پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں
کھانا شک شبھے دا کھاویں
دّسیں ہور تے ہور کماویں
اندر کھوٹ باہر سچیار
علموں بس کریں او یار
اردو ترجمہ
علم پڑھ کر شیخ کا مرتبہ حاصل کیا
اور پھر پیٹ بھر کر آرام سے سو گیا
دنیا سے جاتے وقت آنکھیں ڈبڈبا گئیں
گویا بیچ منجدھار کے زندگی گذار دی ۔ ایسے علم کا کیا فائدہ
علم پڑھ کر لوگوں کو تنگ کرتے ہو
شک شبہ سے پاک روزی نہیں کھاتے
کہتے کچھ ہو اور کرتے کچھ ہو ، دل میں کھوٹ رکھتے ہو
روز ظاہر میں خود کو سچا ثابت کرتے ہو ۔ ایسے علم کا کیا فائدہ
DuFFeR - ڈفر
July 18, 2010 at 12:21 PM
میرے پہ پوری طرح لاگو ہوتی ہین یہ باتیں تو
محمد ریاض شاہد
July 18, 2010 at 2:34 PM
یار میں تو گنگ ہو جاتا ہوں یہ پڑھ کر
Dr. Raza Malik
February 21, 2012 at 12:05 PM
Baba Bullay Shah was a lollapalooza. ( extr-ordinary person)