Monthly Archives: December 2009
علی صوتک ۔ عربی اشعار اور اور انگریزی ترجمہ
Raise your voice in song
Raise your voice in song, song is still possible
And if one day you feel you’ll break
Raise your voice in song
Your song among the chorus shakes my joyous heart
Raise your voice in song
الحمرا میں شہزادی سریتہ کی روح سے ملاقات
اے حمید ہمارے ملک کے مشہور لکھاری ہیں ان کی کہانیاں اور سفر نامے مشہور ہیں۔ امریکہ کا سفرنامہ امریکانو کے نام سے لکھا اور روحوں سے ملاقات کے دعویدار ہیں ۔ انہوں نے سپین کا سفر بھی کیا اور ایک کتاب قرطبہ کی اذانیں کے نام سے لکھی ۔ یہ کتاب غالب پبلشر نے شایع کی اور الفیصل ناشران اردو بازار سے بھی دستیاب ہے ۔ اشاعت کا سال 1996 ہے ۔ زیر نظر اقباس اسی کتاب سے ہے ۔ طوالت کے پیش نظر تلخیص شایع کی جا رہی ہے ۔
” میرے دوست سباطی نے کہا کہ قصر الحمرا کے ایوان بنی سراج ایک شہزادی کی روح آج بھی منڈلاتی ہے اور ایک جرمن سیاح نے اس کی روح کو برج الامیرات کے باغیچے میں فوارے کے قریب بیٹھے دیکھا تھآ اور وہ بربط ہاتھ میں لیے اداس لے میں دھن بجا رہی تھی ۔
اس پر میں نے اس روح سے ملاقات کا ارادہ کر لیا اور رات کو چوکیدار کو رشوت دے کر قصر میں داخل ہو گیا اور برج میں چھپ کر بیٹھ گیا ۔ آدھی رات کے وقت میرے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کوئی خشک پتوں پر چل رہا ہو ۔ میں ڈر گیا اور دل میں کلمہ شریف کا ورد کیا ۔ ابھی میں اس جگہ سے بھاگنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک خشک اور بھاری آواز نے میرے قدم پکڑ لیے میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ وہ اواز تھی ” تم پر اللہ کی رحمت ہو” یہ الفاظ عربی میں ادا کیے گئے تھے ۔ میں نے پلت کر دیکھا تو ایک ہیولا نطر آیا جس کے جسم سے دھیمی دھمی کافوری روشنی سی نکل رہی تھی ۔ وہ کوئی حبشی سپاھی تھا اور اس نے قدیم سرداروں کی طرح زرہ بکتر پہن رکھی تھی ۔ اس ایک ہاتھ میں اسلامی طرز کی خمدار تلوار ہے اور دوسرے میں نیزہ پکڑ رکھا تھا ۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مسلمان روح ہے تو میرے اندر حوصلہ پیدا ہو گیا ۔میں نے وعلیکم السلام کہا اور کہا کہ میں پاکستان سے قصر الحمرا دیکھنے آیا ہوں اور مسلمان ہوں ۔ اس نے اردو زبان میں دھمیے لہجے میں کہا کہ میں جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تم شہزادی سریتہ کی روح سے ملنا چاہتے ہو مگر میں تم کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا کونکہ میں ان کے محافظ دستے کا سردار تھا اور آج بھی میں اپنا فرج نبھا ہنے آتا ہوں ۔ اندلس کے تمام محلات اور حویلیوں میں کفار اور عیسائی جادو گروں نے طلسم پحونک رکھا ہے جو وہ کسی مسلمان کے مدفون شدہ خزانے کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں بھرحال تمہیں شہزادی کی روح سے ملاقات کی اجازت نہیں دے سکتا یہ ان کی بے ادبی ہے اب یہاں سے نکل جاو۔
میں اس برج سے نکل آیا اور دل کو سمجھایا کہ میں تو ایک نیک ارادے سے ایا ہوں اور فردوس گم گشتہ کی ایک نیک روح سے ملاقات کرنا چاہتا ہون ۔ میں وہاں سے نکل کر فوارے کی جانب آگیا اور اور ایک باڑ کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا ۔ اس وقت رات آدھی سے زیادہ گذر چکی تھی اور میری نظر فوارے کی جانب لگی ہوئی تھی ۔ اچانک بہت دور آسمان پر بجلی کی دھیمی لہر چمک کر غائب ہو گئی اور ایک سفید نورانی ہیولا آہستہ آہستہ فوراے کی جانب بڑھا جنت کے پھولوں کی خوشبو چاروں طرف پھیل گئی ۔شہزادی کا لباس سفید نورانی تھا جس میں جڑے ہوئے ہیرے ستاروں کی طرح چمک رہے تھے ۔
اسی لمحے برج الامیرات کی طرف سے حبشی سردار کی روح بگولے کی طرح نکلی اور میرے سر پر چکر لگنے لگی مجھے اس کی قہر بھری آواز سنائِ دی ۔ تم اندلس کی شہزادی کی بے ادبی کے مرتکب ہوئے ہو تمہاری سزا موت ہے ۔ اس نے نیزے والا ہاتھ اٹھایا جیسے مجھ پر حملہ کرنے والا ہو ۔
اچانک شہزادی کا ہاتھ بلند ہوا اور حبشی سردار کی روح وہیں رک کر تحلیل ہو گئی ۔ شہزادی کی روح میری طرف دیکھ رہی تھی ۔ پھر مجھے شہزادی کی روح کی سرگوشیوں ایسی اداس آواز سنائی دی ۔
عرب شہسواروں کی تلواریں ٹوٹ گئیں ، مسلمان موروں کو آپس کے نفاق نے ہلاک کر دیا
تاریخ کا سنہرا قلم ٹوٹ گیا
مشرق سے طلوع ہونے والا سورج مشرق میں ہی غروب ہو گیا
عرب شہسواروں کی تلواریں ٹوٹ گئیں
پھر شہزادی نے مجھ سے کچھ کلام کیا اور شہزادی کی روح فوارے سے الگ ہوئی اور تیرتی ہوی برج الامیرات کے دروازے میں غائب ہو گئی ۔ بہشت کی وہ پاکیزہ خوشبو بھی غائب ہو گئی جو وہ اپنے ساتھ لائی تھی ۔ میں قصر سے گارڈز سے بچتا ہوا باہر نکل آیا
میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔ ۔ ۔
یہ کہانی ایک دوست نے بذریعہ ای میل بھیجی ۔ مصنف کا نام معلوم نہیں مگر ماں کی عظمت کے نام شایع کی جا رہی ہے
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔
٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوںکے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا
٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔
٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیںمجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔
٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا
۔
٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواںجھوٹ تھا
۔
٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔
جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریںاس سے پہلے کہ یہ نعمت تم سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا
طب نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مندرجہ ذیل فرامین کی میرے پاس کوی سند نہیں مگر عقل سلیم کہتی ہے کہ یہ فرامین درست ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے سوائے موت کے کسی بھی مرض کو بغیر علاج کے خلق نہیں کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہر بیماری کی جڑ سر کا درد ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جب تک بھوک نہ لگے کھانا مت کھائو اور اسی طرح جب کچھ بھوک ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے انسان کا معدہ تمام بیماریوں کا مرکز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہر علاج کا بنیادی اصول درد اور بیماری کی جگہ کو گرم رکھنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اس دستر خوان کو پسند فرماتا ہے جس کے اردگرد کھانے والے زیادہ سے زیادہ ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے گرم کھانے میں برکت کم ہوتی ہے اسکے برعکس ٹھنڈے کھانے میں برکت زیادہ ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کھانا کھاتے وقت اپنے جوتوں کو اتار دیا کرو کیونکہ یہ بہترین طریقہ ہے اس سے پیروں کو سکون ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو لوگ اپنے نوکروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں جنت ایسے لوگوں کی مشتاق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے بازار یا مجمع عام میں کھانا ایک قسم کی ذلت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے برکت کھانے کے درمیان رکھی گئی ہے اس لیے کھانے کے دوران کھانے سے ہاتھ مت کھینچو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کھانے کے بعد اپنے دانتوں میں خلال کرو کیونکہ خلال ایک قسم کی پاکیزگی ہے اور پاکیزگی ایمان کا جزو ہے اور ایمان مومن کے ساتھ جنت میں ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ایک ہی دستر خوان پر مختلف غذائیں کھانے سے اجتناب کرو کیونکہ اسطرح کی غذا بابرکت نہیں ہوتی۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص بھوکا ہوتے ہوئے اپنی عزت نفس کی خاطر اپنی بھوک کو دوسروں سے چھپائے تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے ایک سال کا حلال رزق مقرر فرما دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو کوئی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمانوں کی عزت کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو کم کھاتا ہے روز قیامت اسکا حساب بھی ہلکا ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے پینے والی چیزوں کو کھڑے ہو کر پینے سے اجتناب کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے سحر کو بیدار ہو جائو تا کہ آسمانوں کی برکت کو پالو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے تمہاری غذا میں بہترین غذا روٹی اور پھلوں میں بہترین پھل انگور ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے روٹی کو چھری سے مت کاٹو جس طرح اللہ نے اسے محترم قرار دیا ہے تم بھی اسی طرح اسکا احترام کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے پیاس کی حالت میں پانی کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیو ایک دم سے ہرگز نہ پیو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جن لوگوں کو زیادہ کھانے اور پینے کی عادت کی ہوتی ہے وہ سنگ دل ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس حد تک ہو سکے بھیڑ کا گوشت استعمال کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص صرف پھل کھائے تو وہ کوئی نقصان نہیں اٹھائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے شہد بہترین غذا ہے یہ دل کو تروتازگی عطا کرتی ہے اور حافظے کو قوی کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے حمل کے بعد عورت کو پہلی غذا کھجوریں دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کھجور کو ناشتے میں کھائو تاکہ تمہارے اندرونی جراثیم کا خاتمہ ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے انجیر قولج کے مرض کی دوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے نئے پھلوں میں بہت فوائد ہوتے ہیں نئے پھل کھانے سے جسم تندرست ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے خربوزہ جنت کا پھل ہے لہٰذا اسکے کھانے سے غفلت نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے پھل کو چھری سے ٹکڑے کرنے کی بجائے دانتوں سے کھانے میں زیادہ بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے خربوزہ مثانے کو صاف کرتا ہے ، معدے کو ہلکا کرتا ہے جسم کی جلد کو تروتازہ رکھتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے انار کا رس جسم کے اندرونی حصے کو صاف کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ترنج(بڑا لیموں) دل اور دماغ کو قوت دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے انجیر تقرس اور بواسیر کے مریضوں کیلئے بہت مفید ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کشمش صفرا کو ابھرنے سے روکتی ہے اور بلغم کو کم کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کدو کھائو کیونکہ یہ سبزی دماغ کو قوت دیتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جب نوح علیہ السلام غم کا شکار ہوئے تو اللہ کی وحی ہوئی کہ کھیر کھائو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے دن میں ایک بار نرگس کا پھول سونگھو اگر ممکن نہ ہو تو ہفتے میں، ایک ماہ میں ،ایک سال میں اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر زندگی میں ایک بار ضرور سونگھو اس سے جزام، برص اور جنون کے مرض سے محفوظ رہو گے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اپنے دسترخوان کو سبزی سے زینت دو اسلیے کہ سبزی دسترخوان سے شیاطین کو دور کر دیتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس نئے شہر میں بھی جائو تو وہاں کی سبزی کھائو بیماری سے بچ جائو گے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے شب معراج مجھے اور میری امت کو خون فصد کرانے کی تاکید کی گئی۔
