RSS

Monthly Archives: November 2009

تاریخ مسلم سپین پرمفید رابطے

تاریخ مسلم سپین میرا پسندیدہ مضوع ہے اسی موضوع  پر مندرجہ ذیل لنک سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اردو دان حضرات یقیناً اس سے آگاہ ہوں گے مگر دلچسپی رکھنے والوں کے لیے درج کر رہا ہوں

وائس آف امیریکا کی ویب سائٹ پر ایک سفر نامے کا سلسلہ

یو ٹیوب پر دستاویزی فلم

برقی کتابیں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے

سپین اور پرتگال کا نیشنل جوگرافک میگزین کا نقشہ

نقشہ کو ایکسٹریٹ کرنے کلیے ون آر اے آر پروگرام استعمال کرنا ہو گا

 
 

سینٹ جیمز یا سان تیاگو کا عقیدہ

سینٹ جیمز یا سان تیاگو


موسیٰ بن نضیر کی سپین فتح کے وقت 711۔ 714 تک وسی گاتھ سلطنت کا چراغ گل ہو گیا تھا سوائے ایک چھوٹی سی پٹی اشتوریش کے جو سپین کے شمال مغربی حصے میں دشوار گذار پہاڑی علاقے میں تھی تقریباً تمام سپین جو آج کے پرتگال اور سپین کے علاقے پر مشتمل تھآ فتح ہو گیا تھا ۔ اس فتح کے ساتھ ساتھ عیسائیت بھی اس علاقے میں سکڑتی چلی گئی اور اسلام کا بول ہو گیا ۔ اسلام اس خطے میں ایک تازہ جھونک کی طرح آیا اور چھا گیا ۔

وسی گاتھ آریا النسل تھے ۔ 578 عیسوی میں بادشاہ ریکارڈ نے عیسائیت قبول کر لی تھی اور کے ساتھ ہی اس کا دربار بھی عیسائی ہو گیا اور رومن کیتھولک عقیدے کو قبول کر لیا ۔ مگر مذہب ان لوگوں کا محض زبانی کلامی معاملہ تھآ اور ملک کے غالب حصے میں بت پرستی جاری رہی ۔ وسی گاتھ حکومت سے قبل رومنوں کے دور حکومت میں آبادی کا غالب طبقہ کسانوں اور غلاموں پر مشمل تھآ جن کی حالت جانوروں سے بدتر تھی ۔ رومنوں کے بعد جرمن النسل وینڈل آئے اور اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ایک انگریزی لفظ کو جنم دیا ” وینڈل ازم ” یعنی بے مقصد تباہی و بربادی ۔ وسی گاتھ حکومت بھی کچھ بہتر نہیں تھی رومنوں کی نقل میں انہوں نے ایک جابرانہ طرز حکومت اپنایا ۔ کسان اور غلام کی حالت مزید بدتر ہو گئی ۔ عیسائیت کے آنے سے ایک اور اہم عنصر کا اضافہ ہو اور وہ تھآ کلیسا کا اثرورسوخ جس کے پاس بذات خود غلاموں کی ایک فوج تھی اور وہ بھی غلاموں سے بے رحمی کا سلوک کرتے تھے – اگر کسی پادری کے سر میں درد ہوتا تو اسے کسی غلام کی نظر بد کا کرشمہ سمجھا جاتا تھا ۔

یہ وہ صورتحال تھی جس میں وسی گاتھ دور حکومت میں لوگ رہ رہے تھے ۔ اسلام کی سادگی اور برابری کے تصور نے لوگوں کے دل موہ لیے اور تقریباً تین چوتھائی صدی میں سپین کاغالب حصہ مسلمان ہو چکا تھا ۔ مگر اشتوریش کے عیسائی جو تعداد میں روز بروز کم ہو رہے تھے انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور عیسائیت سے وابستہ رہے مگر ان کا یقین عیسائیت پر کمزور ہو رہا تھا ۔ مزید برآں مسلمانوں کے ساتھ مقابلے کے دواران مسلمانوں کے اللہ اکبر کے نعرے کے جواب میں عیسائیوں کے پاس کوئی نعرہ نہیں تھا ۔ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات تو جنگ کے سلسلے میں ان کی مددگار نہیں تھیں ۔

تب عیسائیوں کو ایک نادر خیال سوجھا انہوں نے ایک ایسی مقدس ہستی تخلیق کرنے کا سوچا جو میدان جنگ میں عیسائیوں میں جوش و جذبہ بھر دے ۔ یہ شخصیت حضرت جمیز کی تھی جو اسپینی زبان میں سان تیاگو کہلائے ۔ حضرت جیمز حضرت عیسٰی کے حواریوں میں سے تھے ان کے والد گلیلی کے ایک مچھیرے تھے ۔ وہ حضرت عیسٰی کے فلسطین میں مصلوب ہونے کے وقت وہاں موجود تھے اور کبھی کسی غیر ملک کا انہوں نے سفر نہیں کیا ۔ ان کی شہادت بادشاہ ہیروڈ اگریپا کے حکم سے 44 عیسوی میں سر قلم کرنے سے ہوئی اور ان کا بے سر کا جسم یروشلم میں دفن کیا گیا ۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جو مستند تاریخ کا حصہ ہیں ۔

لیکن سپین میں ساتویں صدی کے شروع میں ایک داستان مشہور ہوئی جس کا موجد ایک انگریز الڈہم تھا کہ شہادت سے قبل حضرت جیمز نے سپین کا سفر کیا تھا اور وہ وہاں انہوں نے تقریباً 9 لوگوں کو عیسائی کیا تھا اور اس کے بعد واپس فلسطین لوٹ گئے تھے ۔ اگرچہ یہ داستان متنازعہ تھی حتیٰ کہ کلیسا نے بھی اسے تسلیم کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا مگر یہ داستان لوگوں کے دلوں میں موجود رہی ۔ یہ داستان آٹھویں صدی میں ایک بار پھر لوگوں میں عام ہوئی اور اس کے زبان زد  عام کرنے میں ایک پادری جس کا نام بیاتو ڈی لائے بانا تھا کا بہت ہاتھ تھا ۔ جس نے اس داستان کی تصدیق کی ۔ جب ایک ماریگاٹو نام کا عیسائی جس ماں مسلمان جنگی قیدی  تھی ، 783 عیسوی میں اشتوریش کا بادشاہ بنا تو اس نے اس داستان کو مسلک کا درجہ دیا اور بیاتو ڈی لائے بانا کو اس مسلک کو عام کرنے کا فرض سونپا ۔ جس کی بنا پر زیادہ لوگ اس داستان پر یقین کرنا شروع ہو گئے ۔ الفانسو دوم 791 عیسوی میں اشتوریش کا بادشاہ بنا اور اس نے بھی بڑی سنجیدگی سے سان تیاگو کے مسلک کو عام کرنے کی کوششیں کیں ۔ آٹھویں صدی کی آخری دہائی میں ایک اور داستان عام ہوئی ۔اس داستان کے مطابق اسپین میں ایک راہب نے رات کو ایک کھیت کے اوپر آسمان پر ایک چمکدار ستارہ دیکھا اس داستان کے مطابق کچھ اور لوگوں نے بھی یہ ستارہ دیکھا اور اس کے ساتھ ایک الوہی موسیقی کی آواز بھی سنائی دی ۔ راہب نے اس ستارے کی جگہ سے یہ اندازہ لگایا کہ اس کھیت میں کوئی مقدس شے دبی ہوئِ ہے ۔  یہ اطلاع ایرا کے لاٹ پادری تدمیر کو پہنچائی گئی ۔ یہ ایرا نامی جگہ جسے آجکل آلپڈرون کہتے ہیں اور آج کے سپین میں سان تیاگو نامی شہر کے چند میل جنوب میں واقع ہے اور سپین کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے ۔ لاٹ پادری نے آکر اس کھیت میں کھدائی کی اور ایک قبر میں ایک سنگ مرمر کے بکس کا سراغ لگایا جس میں ایک لاش موجود تھی ۔ کسی مراقبے کے عمل کے ذریے اس پر الہام ہوا کہ یہ حضرت جیمز کی لاش ہے اور اس کا اتنے عرصے تک محفوظ رہنا ایک معجزہ تھا ۔ یہ لاش نکال کر نزدیک ہی ایک اور جگہ دفن کی گئی جہاں آجکل کا شہر سان تیاگو ڈی کمپوسٹیلا واقع ہے ۔ کمپو ڈی لا اسٹیریلا کا مطلب سپنی زبان میں ستارے والا کھیت جس سے اس شہر کا نام نکلا ۔

اس لاش کی دریافت سے پادری تدمیر نے ایک اور داستان مشہور کی کہ حضرت جیمز کی لاش کو کو ان کو معتقدین نے یروشلم میں اس کی قبر سے نکال کر کشتی کے ذریعے چھ دن میں سمندر میں طوفانی لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے موجودہ مقام سپین پہنچایا تھا اور ان کا سر ایک معجزے کے ذریعے اپنے جسم سے خود بخود جڑ گیا تھا ۔  سادہ لوح لوگوں نے اس داستان پر فوراً یقین کر لیا اگر کوئی شبہ تھا تو وہ پاپائے روم لیو سوم جس نے فراسیسی بادشاہ کی تاجپوشی بھی کی تھی ، کی مہر تصدیق نے دور کر دیا کہ داستان ایک حقیقت ہے ۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل میں پاپائے اعظم نے ہی تدمیر کو قبر کی جگہ کے متعلق اطلاع بہم پہنچائی تھی ۔ بادشاہ الفانسو نے قبر کی موجودہ جگہ پر ایک سادہ سا مقبرہ تعمیر کرایا اور بعد میں 829 عیسوی میں ایک بڑی اور پرشکوہ عمارت تعمیر کی اور داستان حضرت جیمز کو سرکاری حکمت عملی کا حصہ بنایا ۔اس نے عیسائیوں کے گرتے ہوئے حوصلوں کو اس داستان سے تقویت دی اور وہ اور اس کے سپاھی اب میدان جنگ میں مسلمانوں کے خلاف  حضرت جیمز المدد کا ۔ ہسپانیہ آگے بڑھو کا نعرہ لگاتے ۔ اور جب کسی جنگ میں ان کی فتح ہوتی جو کہ بہت کم تھیں وہ یہ بتاتے کہ میدان جنگمیں حضرت جیمز کو انہوں نے بذات خود عیسائیوں کی مدد کے لیئے تلوار چلاتے دیکھا ۔ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت جیمز بذات خود مسلمانوں کے خلاف جنگ میں عیسائی فوجوں کی قیادت کرتے ہیں ۔ عیسائیوں کے لیے یہ داستان اتنی پرکشش تھی کہ ان کے چند سپاہیوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے سینٹ جیمز کو کلاویجو کے میدان جنگ مِں جو  امیرعبدالرحمٰن دوم کے عہد میں لڑی گئی ، مسلمانوں کو قتل کرتے دیکھا تھا ۔ اور یہ کہ حضرت جیمز ایک سفید گھوڑے پر سوار اور بہت بڑی آسمانی تلوار اور سفید علم کو ہاتھ میں لیئے فوج کے آگے آگے تھے ۔ داستان کے مطابق حضرت نے بادشاہ کو جنگ سے ایک رات پہلے آکر بتای تھا کہ کل تم مجھے اوپر بیان کردہ حلیے کے مطابق جنگ میں شرکت کرتا دیکھو گے ۔ آئیندہ آنے والی نسلوں میں حضرت جیمز کی زیارت گاہ تمام یورپ کے رومن کیتھولک عیسائیوں کی زیارت گاہ بن گئی جو آج بھی ہے ۔ وہ حضرت کو سان تیاگو ماتا مورو کہتے ہیں یعنی مسلمانوں کو ہلاک  کرنے والا  یا مور کش۔ شروع شروع میں اس کی شہرت ایک نرم خو سینٹ کی تھی جس سے لوگ فصل کی خرابی یا بیماری سے بچاوً کے لیے رجوع کرتے مگر دسویں صدی میں ہسپانوی ایک ایسے سینٹ کے متلاشی تھے جو انہیں اغیار سے نجات دے سکے ۔ نصرانوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے فرانسیسی کلیونی فرقے کے راہبوں نے سینٹ کا علم تھآم لیا ۔ ان کے زیر اثر زاًیرین کے فافلے جوق در جوق یورپ سے سپین آنے لگے ۔ یہ زیارت مسلمانوں نے خلاف مزاحمت کا نشان ٹہری ۔

حضرت جیمز کی زیارت گاہ الفانسو کے لیے مسلمانوں کے خلاف مدد اور قوت کا ذریعہ بن گئی ۔ اب اس کی فوجیں زیادہ جوش اور جذبے سے مسلمانوں کے خلاف لڑتیں  کیونکہ ان کے مطابق حضرت جیمز جنگ میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔ سینٹ جیمز کو عربی میں شنت یاقب بھی کہتے ہیں۔

دسویں صدی میں سپین کے مسلم سپہ سالار اور حقیقت میں خلیفہ کیونکہ اس نے کمسن خلیفہ کو عضو معطل بنا رکھا تھا اس نے ایک اہم فیصلہ کیا ۔ وہ عقیدے اور اسطورہ کی اہمیت سمجھتا تھآ ۔ وہ عیسایً حکمرانوں کو ذلت آمیز شکستیں دے چکا تھا اب وہ اس معجزے کا طلسم توڑنا چاہتا تھآ

ابی عامر 3 جولاًی 997 عیسوی کو ایک گھڑ سوار فوج کے ہمراہ قرطبہ سے روانہ ہوا ۔ پہاڑی درے عبور کر کے جنگل صاف کیا گیا رسالے اور توپ خانے کے لیًے سڑکیں بناًی گًیں ۔ باآخر جلیقہ کے  میدان میں اتر گیا اور پانچ ہفتوں میں ایک سیل کی مانند قلعے اور مواضعات روندتا ہوا پانچ ہفتے میں کمپوسٹیلا جا پہنچا ۔ شہر کے باسی شہر چھوڑ کر بھاگ گًیے ۔ شہر زمیں بوس کر دیا گیا البتہ مزار کی حفاظت کے لیے ایک حفاظتی دستہ متعین کر دیا گیا ۔ جنگی قیدیوں کو کلیسا کے دروازوں اور گھنٹوں کو اٹھآ کر قرطبہ لانا پڑا ۔نفیس کام سے مزین دروازے مسجد قرطبہ کی زینت ہوًے اور گھنٹے شمعدانوں میں ڈھالے گیًے ۔ اس فتح کے بعد ابی عامر نے المنصور کا لقب اختیار کیا ۔ اس فتح کا ارتعاش جزیرہ نما کی سرحدوں کے پار دور دور تک محسوس کیا گیا ۔ مگر شنت یاقب کا عقیدہ عیساًیوں میں موجود رہا ۔

 
 

قرطبہ کے نواح شقندہ کی بغاوت ۔ حصہ دوم

الحکم نے کسی ایسی ہی صورتحال کی پیش بندی کے طور پر تیاری کر رکھی تھی اس کے ساتھ اس وقت اس کے مشہور اور قابل اعتماد جنرل عبدالکریم اور عبیداللہ تھے ۔ عبدالکریم فاتح قرطبہ مغیث الرومی کا بہادر بیٹا تھا ۔ محل میں ان کے علاوہ اور بھی پیشہ ور فوجی افسران جو دنیا کی کسی بھی فوج سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے تھے موجود تھے ۔ لیکن محل کی دیواریں کسی بھی لمبی لڑائی کے لیے موزوں نہیں تھیں اور سپاہ کو اچھی طرح علم تھا کہ اگر بپھرا ہو ہجوم اندر آگیا تو ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ محل الحکم کے دادا امیر عبدالرحمٰن اول نے تعمیر کرایا تھا اور آج کے قرطبہ میں اس مقام پر موجودہ الکزر کی عمارت ہے  ۔ خیر اب سپاہیوں پر مایوسی چھانے لگی اور ان کے حوصلے ٹوٹنے لگے ۔   ہجوم نے زور لگا کر حملہ کیا اور محل کی دیواروں سے ہوتا ہوا ، شاہی دستے سے لڑتا اور مارتا ہوا صحن تک پہنچ گیا اورشدید دست بدست لڑائی ہونے لگی ۔ امیر الحکم بذات خود جنگی لباس میں ملبوس شاہی دستے کی پہلی صفوں میں لڑ رہا تھا ۔ شاہی دستہ امیر کو اپنے درمیان پا کر بڑی شدت سے لڑ رہا تھا مگر ہجوم بھی اسی دیوانگی کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔ کچھ دیر کے بعد لڑائی میں کچھ کمی آئی اور عارضی وقفہ ہوا ۔ ہجوم بار بار حملہ آور ہوتا کیونکہ ملاوں کو اب فتح کا یقین ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ اور شاہی محافظوں کو بھی یقین ہونے لگا کہ اب قسمت حملہ آوروں کے ساتھ ھے ۔

لیکن امیر الحکم اپنی خوابگاہ میں ایک عجیب کام میں مصروف تھا ۔ وہ ایک باوقار سلطان تھا اور شکست سے ناآشنا تھا ۔ ایک سچے بنو امیہ کے فرد کی طرح جو جھکنے کی بجائے مر جانا پسند کرتا ہے ۔ وہ بلکل پرسکون تھا اس نے اپنے عیسائی غلام کو طلب کیا اور اپنا پسندیدہ بہت قیمتی عطر طلب کیا ۔ غلام متحیر ہوا کہ عطر لگا نے کا یہ کونسا وقت ہے اب تو دعائیں پڑھنے کا وقت ہے اس نے سمجھا کہ امیر شاید کچھ اور کہنا چاہتا ہے اور کھڑا رہا ۔ امیر نے ذرا غصے سے کہا ارے او نامختون کی اولاد  جو تمہیں حکم دیا ہے جلدی سے بجا لا ۔ غلام بھاگا گیا اور عطر لے آیا ۔ امیر نے اس کے ہاتھ سے عطر لے کر اپنی داڑھی اور بالوں پر لگانا شروع کر دیا وہ سارا عمل بڑے پرسکون انداز میں سرانجام دے رہا تھآ ۔ غلام امیر کا قدیم اور قابل اعتماد نمک خوار تھآ ۔ اس نے مودبانہ لہجے میں پوچھا معاف کیجے گا یا امیر ،عطر لگانے کا آپ نے بہت عجیب وقت چنا ہے جبکہ خطرہ سر پر ہے ۔ امیر نے کہا” چپ رہو” اور اپنا عمل جاری رکھا ۔ جب یہ کام ختم کر چکا تو بڑی مہربان آواز میں بولا  ”میرے قتل کے بعد بقیہ باغیوں میں میرے سر کی پہچان کیسے ہو گی ، صرف خوشبو دار سر ھی کسی امیر کا ہو سکتا ہے” ۔ اس کے بعد امیر دوبارہ لڑائی میں شامل ہو گیا ۔ لیکن مقابلہ برابر کا تھا اور جنگ کا کوئی فیصلہ ہونے کا امکان نہیں تھا ۔ محل چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا جہاں شاہی دستہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ، جو باغی اندر آنے میں کامیاب ہو گئے تھے ان کو صحن تک محدود کر دیا گیا تھا ۔ ہجوم امیر کے سر کا مطالبہ کا نعرہ لگا رہا تھآ اور موت سے بچاو کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ لیکن الحکم ان آدمیوں میں سے تھا جو صرف موہوم کامیابی کی امید پر بھی لڑائی جاری رکھتے ہیں ۔  چنانچہ ایک نئی سکیم وضع کی گئی ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ سکیم کس نے بنائی تھی ، امیر ، عبدالکریم یا امیر کے عمزاد عبیداللہ نے مگر یہ الحکم تھا جس نے اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا ۔

ایک گھڑ سوار دستہ عبیداللہ اور اس کے نائب اسحاق بن المنذر کی قیادت میں ہجوم کو اپنی تلواروں سے چیرتا ہوا محل سے باہر نکلا ۔ باہر ہجوم نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور گھڑ سوار محل کے ساتھ دریا کے کنارے تیزی سے غائب ہو گئے ۔ ہجوم نے اس کا مزید کوئی نوٹس نہ لیا اور اپنی جنگ میں مصروف رہا ۔ راستے میں اس دستے کو مزید باغی ملے مگر وہ ان کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھے۔ یہاں امیر کی وفادار فوج کے کچھ اور گھڑ سوار جو شاہی دستے کا حصہ نہیں تھے مگر شقندہ کے نوح میں خیمہ زن تھے امیر کے پاس وفاداری نبھانے آ رہے تھے آن ملے اور ایک کم گہری جگہ سے دریا کو عبور کر کے شقندہ کی بستی کی جانب بڑھے  ۔ وہ بستی کا چکر کاٹتے ہوئے اس کے عقب میں پہنچے جہاں ان کی مزاحمت کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔ دستہ پھیل گیا اور بستی کو آگ لگانا شروع کر دی ۔  باغیوں نے جب اپنے گھروں سے دھواں اور شعلے اٹھتے دیکھے تو وہ اپنے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے محل کو چھوڑکر بستی کی جانب دوڑ پڑے ۔  مگر یہاں رومی پل پر عبیداللہ کے چھوڑے ہوئے پیادہ سپاہی ان کا استقبال کرنے کو موجود تھے ۔ اب باغی سامنے اور عقب سے فوج کے درمیاں گھر گئے تھے ۔ مگر باغیوں نے شقندہ میں اپنی گھروں کی طرف لڑتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی اور فوج کا گھیرا توڑ کر شقندہ میں داخل ہو گئے ان کو احساس نہیں تھا کہ وہ ایک چھوٹی مصیبت سے نکل کر ایک بڑی مصیبت میں پھنسنے والے ہیں ۔

الحکم اب اپنے شاہی دستے کو مجتمع کر چکا تھا اس اور اس کی مدد سے اس نے شقندہ کا محاصرہ کر لیا اور اس کے اشارے پر ساری فوج چاروں طرف سے ایک ساتھ بستی میں اندر کی طرف بڑھنے لگی ۔ باغیوں کو فوج کے بڑھنے کا پتہ تک نہ چلا اور ان کو اس وقت احساس ہوا جب فوج نے ہلہ بول دیا ۔ شقندہ کی بستی کے باشندوں  نے اس سے پہلے بھی بہت مشکل وقت کا مقابلہ کیا تھآ اور فتح پائی تھی مگر اس دفعہ وہ قابو آ گئے تھے ۔  آنے والے تین دن تک اس بستی میں باغیوں کے ساتھ لڑائی اور ان کا قتل عام جاری رہا ۔ گونگے محافظ جو دو دن پہلے باغیوں کی تلواروں کا مزہ چکھ چکے تھے اب کوئِ رحم کرنے کو تیار نہیں تھے اور اگر کوئی رحم کی پکاریں تھیں بھی تو انہیں سمجھنے سے قاصر تھے کیونکہ وہ عربی نہیں سمجھتے تھے ۔

تین دن کے بعد امیر نے کاروائِ کو روکنے کا حکم دیا ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ جو باقی بچ گئے جن کی تعداد بہت زیادہ تھی ان کا کیا کیا جائے ۔ جنرل عبدالکریم نے لوگوں کی طرف سے رحم کی اپیل کی اور کہا کہ اللہ بھی مہربان ہے آپ باقیوں کو معاف کر دیں ۔ جنرل عبدالکریم نہ صرف ملک کی افواج کا سپہ سالار تھآ بلکہ امیر کا حاجب یعنی وزیر اعظم بھی تھآ ۔ اس کی رائے جنگ اور امن کے معاملات میں بڑی صائب ہوتی تھی اور امیر اس کی رائے کو رد نہیں کرتا تھا چناچہ بقیہ باغیوں کو معافی دینے کا فیصلہ کیا گیا مگر ان کے سو بڑے سرغنوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ۔ اس کے بعد ملاوں کی طرف سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا کونکہ ان کی کمر ٹوٹ چکی تھی ۔

شقندہ کے معاف کردہ باسیوں نے جن کی تعداد ہزاروں تھی اپنا سامان باندھا اور جس کے جدھر سینگ سمائے چلا گیا ۔ تین دن کے بعد وہاں کسی متنفس کا نشان باقی نہیں تھا ۔ تقریباً پندرہ ہزار کے قریب نفوس مصر میں اسکندریہ چلے گئے اور وہاں جا کر شہر پر قبضہ کر لیا ۔ پھر وہاں سے آٹھ سال کے بعد وہ زبردستی جلا وطن ہوئے اور اس دفعہ وہ سسلی پہنچے اور رومیوں سے جنگ کرکے سسلی کے جنوبی حصے پر قابض ہو گئے  جہاں ان کی حکومت 961 عیسوی تک رہی جس کے بعد بازنطینیوں نے انہیں شکست دے کر ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا

الحکم نے سپین میں اس بغاوت میں کسی بھی طرح سے شریک تمام افراد کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا ۔ شقندہ کے رہنے والے باقی افراد ملک کے کسی بھی حصے میں سوائے قرطبہ کے آباد ہو سکتے تھے ۔ زندہ رہ جانے والے تمام ملاں طلیطلہ بھاگ گئے جن میں یحیٰ بھی شامل تھا ۔ کچھ عرصے کے بعد وہ معافی کا طلب گار ہوا جو اسے مل گئی اور اس نے باقی عمر امیر کے سائے تلے عزت سے قرطبہ میں بسر کی ۔ شقندہ کی بستی مسجد سمیت مسمار کر دی گئی  اور اس میں ہل چلا کر اس میں فصل بو دی گئی ۔ امیر نے حکم دیا کہ اس کے بعد یہاں کوئی بستی نہ بسائی جائے ۔  یہ حکم دسویں صدی تک نافذ رہا جب یہاں دوبارہ آبادی کی اجازت ملی ۔ امیر کو اس کے بعد لوگ الربازی کے لقب سے یاد کرنے لگے جس کا مطلب ہے نواح والا ۔ یعنی الحکم نواح کی کاروائی والا ۔

 
 

قرطبہ کے نواح شقندہ کی بغاوت ۔ حصہ اول

یحیٰ بن یحیٰ کے واقعے تقریباً بارہ برس بعد تک بھی لوگوں کے دلوں سے امیر الحکم کے خلاف عداوت کا جذبہ سرد نہیں پڑا تھا اور اندر ہی اندر لاوا پک رہا تھا ۔ اور اس آگ کو زندہ رکھنے میں ملاّوں کا بہت بڑا ہاتھ تھآ جن کے مقدس سینوں میں ابھی تک اس بے عزتی کی یاد کی آگ سلگ رہی تھی  جو انہیں امیر کے ہاتھوں اٹھانی پڑی تھی ۔ امیر الحکم نے بھی صورتحال کی بہتری کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تھا وہ اسی طرح آہنی ہاتھ سے شورہ پشت لوگوں سے نمٹتا رہا ، اپنی زندگی کی پرانی ڈگر برقرارکھی اور عوام کے دل جیتنے کی کوئِ خاص کوشش نہیں کی ۔ اس طرح لا علمی میں وہ لوگوں کی نفرت کو بڑھاتا چلاگیا ۔

لوگوں کی نفرت بڑھنے کی ایک وجہ نئے شاہی محافظ دستے کی تشکیل بھی تھی جو غیر عرب عناصر پر مشتمل تھا۔ الحکم نے آئے روز کی عرب اور بربر سپاہ اور سرداروں کی سازشوں سے تنگ آکر اس دستے کو تشکیل دیا تھآ ۔ اس دستے میں سفید فام عیسائی غلام اور سیاہ رنگت والے افریقی اور عیسائی سپین کے لوگ شامل تھے جو محض تنخواہ کی خاطر اس دستے میں شامل تھے ۔ یہ سپاہی عربی نہیں سمجھتے تھے چناچہ لوگوں نے انہیں طنزیہ طور گونگے مشہور کر دیا ۔ اس دستے کا سردار ایک عیسائی شخص کاونٹ ربی نامی ایک شخص تھا جس کا باپ قرطبہ کے عیسائیوں کا سردار تھا اور تمام مسلم سپین کی غیر مسلم رعایا کے معاملات کا نگران بھی تھا ۔ تمام مسلمانوں بشمول عرب ، بربر اور مولادی کو یہ پسند نہیں تھا کہ شاہی محافظ دستے کا سردار ایک عیسائی ہو ۔ یہ دستے لوگوں کی نظروں میں ایک غیرملکی قابض فوج کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اگر مسلمانوں کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہیں تھا تو یہ سپاہی بھی لوگوں سے درشتی سے پیش آتے تھے اور ان کو ایک مفتوح کی حیثیت سے دیکھتے تھے ۔ لوگوں نے ان پر گلیوں میں پتھر پھینکنے شروع کر دیے اور یہ سپاھی بھی اکیلے قرطبہ کی گلیوں میں جانے سے گھبرانے لگے ۔

یہ نفرت اس وقت اور بھی بڑھی جب امیر الحکم نے  سوداگروں کے تمام برآمدی سامان پر جو سپین میں داخل ہوتا تھا ، ٹیکس لگا دیا ۔ یہ ٹیکس شاہی دستے کے اخراجات کو پورا کرنے کے کام آتا تھا ۔ یہ ٹیکس کویئ زیادہ نہیں تھا اور کسی شے کی قیمت کے صرف دسویں حصے کے برابر تھا مگر لوگوں کی نظر میں یہ ایک ظالمانہ قدم تھا ۔ لوگ گستاخ ہونا شروع ہو گئے اور کچھ لوگون نے اس ٹیکس کو ادا کرنے سے انکار کر دیا اور افسر محصولات کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ الحکم نے جو قانون کو سختی سے نافذ کرنے کا عادی تھا ، ٹیکس چوروں کا سختی سے محاسبہ کیا اور انہیں بدترین سزائیں دیں ۔

ملاوں نے ان دونوں معاملات کا پورا فایدہ اٹھایا لوگوں کو اس نفرت کے اظہار کی ترغیب دی اور امیر کی شراب نوشی اور نماز باقاعدگی سے نہ پڑھنے کو نشانہ بنایا ۔ شہر میں چند لوگ مقرر کیے گئے جو موذن کی آذان کے ساتھ پکارتے کہ اے نشہ میں مدہوشوں آو اور نماز پڑھو ۔ ان تمام عناصر نے مل کر بغاوت کے لیے ایک سازگار ماحول مہیا کر دیا ۔ اس وقت تک یحیٰ طلیطلہ سے واپس آگیا تھا اور امیر نے اس کو معافی دے دی تھی اور وہ پھر فقہا کا امام بن گیا تھا ۔ ان دونوں کے درمیاں صلح نا ممکن تھی ایک حاکم وقت تھا تو دوسرا لوگوں کا مذہبی اور روحانی رہنما ۔ دونوں ہی اپنی انا کے غلام تھے ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور دونوں کو اپنی رائے کی کامیابی کا یقین تھا اور صلح پر دونوں آمادہ نہیں تھے ۔ اصل میں صرف دونوں کی موجوگی ہی ایک جنگ کے لیئے کافی تھی ۔ یحیٰ کے حامی ملا تھے جن کی تکریم پورے سپین میں کی جاتی تھی۔ یحیٰ کا ایک قابل اعتماد ساتھی طالوت بن عبدالجبار المفیری تھا ۔ دونوں نے مل کر بغاوت کے شعلوں کو ہوا دینا شروع کر دی ویسے تو پورے قرطبہ میں ان کی سرگرمیوں کا اثر محسوس ہوتا تھا مگر سب سے زیادہ نواحی بستی شقندہ انکا نشانہ تھی جو قرطبہ اور دریاے الکبیر کے جنوب میں واقع تھی اور اس کے دوسرے کنارے پر قرطبہ کی طرف شاہی محل واقع تھا ۔ دونوں کے درمیاں ایک پل دریا کے دونوں کناروں کو آپس میں ملاتا تھا ۔ اس بستی میں دونوں نے اپنی ساری توجہ مرکوز کر دی تھی ۔ اس بستی میں اسلامی مدارس کا جال بچھا ہوا تھا جن میں تقریباً چار ہزار کے قریب اساتذہ اور طالب علم مقیم تھے ۔ جو طلب علم اور تبلیغ کا کام سرانجام دیتے تھے ۔ یہاں چھوٹے درجے کے سرکاری عمال ، صنعت و حرفت سے وابستہ لوگ اور کافی زیادہ دوسرے لوگ مثلاً مزدور ، آوارہ اور بیکار لوگ بھی رہتے تھے جو اپنے روزانہ کے کام کاج کے اور دوسرے سلسلوں کے لیے دریا پر بنے رومی برج کو پار کر کے شہر ایا کرتے تھے ۔اس برج کے آثار آج بھی موجود ہیں ۔ اس بستی کے ماحول میں ملاوں کا احترام دوچند تھا چنچہ انہوں نےدلجمعی سے کام کیا ۔

جذبات میں یہ گرمی کوئی ایک دن میں نہیں آئی تھی اسے بھڑکنے میں سالوں ،مہینوں ، ہفتوں اور دن لگے تھے ۔ امیر کو احساس تھا کہ ایک اور بغاوت بھڑکنے کو ہے ۔ اس نے محل کی دیواریں اور اونچی کرا دیں اور پہرے دار دگنے کر دیے ۔ شاہی دستے کو ہوشیار کر دیا گیا جو اطلاع ملنے پر بغیر وقت ضائع کیے لڑائی کے لیے تیار ہو سکتا تھا ۔ یہ سب تیاریاں شہریوں کے علم میں بھی تھیں جو پل پر سے گزرتے ہوئے یہ سب دیکھا کرتے تھے ۔ اب بس ایک چنگاری کی ضرورت تھی جو ایک شاہی دستے کے سپاہی نے مہیا کی ۔

یہ رمضان کی تیرھویں تاریخ اور 25 مارچ سن 818 عیسوی کی صبح تھی جب  شاہی دستے کا یہ محافظ اپنی تلوار تیز کرانے شقندہ کی بستی میں ایک لوہار کی دکان پر گیا اور لوہار سے کام جلدی کرنے کا کہا ۔ لوہار کسی اور ضروری کام میں مصروف تھا اس نے سپاہی سے انتطار کرنے کو کہا مگر سپاہی مصر رہا کہ لوہار باقی کام چھوڑ کراس کا کام کرے ۔ اس معاملے پر دونوں میں تلخ کلامی ہو گئی اور سپاہی نے غصے کے عالم میں اسی تلوار سے اس لوہار کو قتل کر دیا ۔ بازار میں چیخ و پکار شروع ہو گئی اور سپاہی فرار ہو گیا ۔ لوگ احتجاج کرنے کیلئے جمع ہو گئے ۔ یہ احتجاج شاید جلدی ختم ہو جاتا مگر اسی اثنا میں امیر شکار سے واپس آ رہا تھا اور شقندہ کی بستی سے گذر رہا تھآ ۔ مشتعل مظاہرین نے اسے دشنام سے نوازا اور اس پر حملہ کر دیا ۔ محافظ دستے نے بڑی مشکل سے اسے بچایا ۔امیر کے حکم پر مظاہرین کے دس سرغنوں کو گرفتار کر کے انہیں پھانسی دے دی گئی اور ان کی لاشیں دریائے الکبیر کے پل پر لٹکا دیں ۔ جونہی لوگوں نے یہ لاشیں دیکھیں لوگوں کے اندر جمع شدہ لاوہ پھوٹ پڑا ۔ اور شقندہ کے باسیوں دکاندار ، اور کارکنوں وغیرہ نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور مشتعل شہد کی مکھیوں کی طرح جس کے ہاتھ میں جو ہتھیار آیا ہاتھ میں لے کر باہر نکل آیا ۔ شورہ پشت ، بیکار اور مہم جو لوگ بھی اس ہجوم میں شامل ہو گئے ۔ صرف عورتیں ، بچے اور بوڑھے گھر پر رہ گئے ۔ لوگوں کے ہجوم میں اور لوگ بھی شامل ہوتے گئے اور کچھ ھی دیر میں ایک بپھرے ہوئے سمندر کی طرح ہو گئے اور ان کا رخ محل کی طرف تھا ۔ پل کے دوسری طرف شہر کی طرف سے اور لوگ بھی اس میں آ کر شامل ہو گئے مگر شقندہ کے باسیوں کا گروہ ان میں سب سے بڑا تھا۔

ملاوں اور مذہبی طالبعلموں کی قیادت میں اس سیل رواں نے محل کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ۔شاہی دستے نے انہیں ہر قدم پر روکنے کی کوشش کی مگر محل کی طرف پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے ۔الحکم نے گھڑ سوار دستوں کو ہجوم پر ہلہ بولنے کا حکم دیا مگر مجمع نے اس حملے کو پسپا کر دیا ۔ دستے محل میں پسپائی پر مجبور ہو گئے ۔ اور ہجوم نے محل کے چاروں طرف سے اخراج کے تمام رستے بند کر دیے اور وہ امیر الحکم کے سر کے سوا کسی اور قیمت پر پیچھے ہٹنے پر راضی نہیں تھے ۔

 
 

نقش ریگ رواں

یوں تو مصوروں نے ہر طرح کی اشیا پر طبع آزمائی کر کے نقش و نگار بنائے ہیں مگر کچھ لوگ جدت کی تلاش میں ہمیشہ نئے آفاق کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ سینڈ اینیمیشن ایک ایسا ہی فن ہے جو ایک ایسے سفید پردے پر جس سے روشنی گذر سکے اس ریت بچھا کر صرف ہاتھ اور انگلیوں کی مدد سے ریت کو حرکت دے کر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں ۔ کچھ قارئین شاید اس صنف سے پہلے سے آگاہ ہوں مگر میرے جیسے مصوری کے شیدائی اور فن سے اناڑی حضرات  لئِے ایک ویڈیو حاضر خدمت ہے جس میں یوکرین کی ایک خاتون اپنی انگلیوں کا جادو جگا کر حاضرین کو پر نم ہونے پر مجبور کر دیتی ہیں ۔ منظر کو سکرین پر بڑا کر کے دکھانے کے لیئے پرجیکٹر کا استعمال کیا گیا ہے ۔

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

ایک ہم ہیں کہ لی اپنی ہی صورت بگاڑ   غالب