پپو اور پوپٹ
میرے بچپن کے زمانے میں سائیکل ایک قابل عزت سواری سمجھی جاتی تھی جس کو حاصل کرنے کی تمنا تقریبا ہر طالبعلم کے دل جاگزیں ہوتی تھی ۔ پرنسپل و پروفیسر ، چھوٹے سرکاری ملازمین مثلا سرکاری سکول کے اساتذہ ، ڈاکیے ، بنک افسران اور وکلا وغیرہ سب اسی پر اکتفا کرتے تھے ۔ جس طالبعلم کے والدین ازراہ تلطف اپنے ہونہار بروا کو سہراب ، ہرکولیس یا ریلے کی بائیسیکل لے کر دیتے تھے وہ سب سے پہلے پینٹر کے پاس جا کر اس کے عقبی مڈگارڈ پر ہیما مالنی یا نیتو سنگھ کی تصویر لگوانے کے علاوہ سرخ روشنائی سے یہ فقرہ ضرور لکھواتا تھا ‘ پپو یار تنگ نہ کر ‘ ۔ اب پتہ نہیں یہ پپو کون تھا جس کا واحد مشغلہ دوسروں کو تنگ کرنا ہوتا تھا البتہ اس بے ضرر دھمکی کے پیچھے فاعل کے دل پپو یار سے تنگ ہونے کی دھیمی آنچ میں سلگتی تمنا ضرور جھلکتی نظر آتی تھی ۔ سکول کے زمانے میں جس دوست پر بھی مجھے پپو ہونے کا شک گذرتا تھا اس کے قریب ہونے پر پتہ چلتا کہ یہ ہمارے مطلوبہ پپو نہیں کیونکہ اس پپو کو تو سب اتنا چھیڑتے تھے کہ اس کے پاس دوسروں کو تنگ کرنے کی فرصت ہی میسر نہیں ہوتی تھی ۔ بہرحال اصلی پپو سے ملنے کی خواہش میرے دل میں بھی اسی وقت سے جاگزیں ہے جس دن سے میں نے یہ فقرہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پڑھا تھا ۔ پپو کے ساتھ دوسرا لفظ جو اس کا ہمسر و ہم معنی معلوم پڑتا تھا اور سکول کے طالبعلموں میں زبان زد عام تھا وہ تھا لفظ پوپٹ ۔ اب یہ تو کچھ اندازہ تھا کہ پوپٹ پپو کی ذرا سپرلیٹو ڈگری ہے لیکن اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کہ کوئی پپو کب اور سلوک کے کون کون سے مراحل طے کرنے کے بعد پوپٹ کے اعلی مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا ہے یقیننا اس میں دو چار سخت مقام بھی آتے ہوں گے جن سے ہم لا علم ہیں اور جن پر کوئی اصلی تے وڈا پوپٹ ہی روشنی ڈال سکتا ہے۔ بہرحال پپو اور پوپٹ کے الفاظ سے میں نے جو خیالی تصور قائم کیا تھا وہ کچھ رنگین ، کچھ معصوم اور ذرا سا شوخ سا تھا ۔
لیکن چند روز قبل میرے اس رومانی تصور میں کھنڈت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو کے اس بیان نے ڈال دی ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پپو وزیر اعظم قرار دیا ہے ۔ نوجوت سنگھ ایک سکھ سردار ، سابقہ کھلاڑی اور موجودہ ٹی وی میزبان ہیں اور ہمارے خیال میں یقیننا پنجابی و مسلم تہذیب میں پپو کے اعلی و ارفع رومانی مقام سے ضرور آگاہ ہوں گے لیکن ان کے اس بیان نے ہمارے جیسے لاکھوں پپو پرستاروں ، اصلی پپووں اور پوپٹوں کی دل آزاری کی ہے جس کا مداوا ممکن نہیں ہے ۔ میری دانست میں اس طرح کے اخباری بیانات دینا ایک خطرناک رحجان ہے جس کا سختی سے سدباب کرنا ہمارے پپو کلچر کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے ۔ اگر یہ رحجان چل نکلا تو اس کی زد میں آنے سے سے ہمارے اپنے سیا ستدان بھی نہیں بچ سکیں گے ۔ ذرا تصور کیجئے کہ کل کلاں کوئی سیاستدان مثلا ذوالفقار مرزا اپنے کسی اخباری بیان میں رحمن ملک کو پپو وزیر داخلہ یا الطاف حسین کو پوپٹ ساستدان قرار دے دے تو ہماری نئی نسل کے اذہان میں پپو کا تصور کتنا الجھ جائے گا ۔ میری سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے یہ حکم جاری کرے کہ آئندہ کسی کو پپو ڈکلیئر کرنے کا اختیار سیاستدانوں کے بجائے صرف اردو بلاگستان کے جعفر اور ڈفر اعظم کو حاصل ہو گا ۔
افغان باقی
کچھ عرصہ قبل نیٹ گردی کرتے ہوئے ایک کتاب جس کا نام ”AMONG THE WILD TRIBES OF THE AFGHAN FRONTIER ” ہے ڈانلوڈ کی ہے ۔ اس کا مصنف ڈاکٹر تھیوڈر لیٹن پینل نامی ایک انگریز مشنری طبیب تھا جو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے سلسلے میں سن 1893 کے آس پاس بنوں شہر کے مشنری ہسپتال میں کئی سال مقیم رہا تھا ۔ اپنے تبلیغی کام کے سلسلے میں وہ قبائلی علاقہ جات کے طول و عرض میں بلا خوف و خطر بغیر کسی مسلح محافظ کے گھومتا تھا ۔ بعد میں اس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل مذکورہ بالا کتاب لکھی اور اس کتاب میں قبائلی جنہیں وہ افغان کہتا ہے ، ان کے عادات و خصائل کا تذکرہ تفصیل سے کرتا ہے ۔ چند اقتباسات پیش خدمت ہیں ۔
مشرق ایک تضاد کا نام ہے اور افغانوں کا کردار اس بیان کی صحیح عکاسی کرتا ہے ۔ ان کے کردار میں بیک وقت بہادری ، عیاری و دغابازی ، وفاداری ، مذہبی کٹڑ پن ، لالچ ، حرص ، مہمان نوازی اور چوری سے محبت آپس میں یوں گندھی ہوئی ہیں کہ ان اجزا کو الگ الگ کر کے کسی افغان کی شخصیت کا تجزیہ کرنا بہت مشکل کام ہے ۔
دو الفاظ ہر افغان کی زبان پر ہر وقت بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایک عزت اور دوسرا شرم ۔ لیکن لفظ عزت سے کیا مراد ہے اگر کسی افغان سے پوچھیں گے تو شاید وہ بھی اس کا مطلب واضح طور پر نہ بیان کر سکے ۔ چنانچہ بعض اوقات عزت کا مطلب اپنے کسی عزیز کے قتل کا انتقام فریق مخالف کے خاندان کے کئی افراد قتل کر کے لینا ہوتا ہے تو دوسری جگہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی سرکاری تقریب میں اس کی نشست اس کے کسی دشمن سردار کے مقابلے میں قدرے نیچی جگہ پر تھی ۔
انتقام کا کلچر وہ عفریت ہے جس نے افغانوں کی زندگی کی جڑیں تک کھود ڈالی ہیں اور یہ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک افغانوں کا نقطہ نظر انتقام کی اندھی روایت کے متعلق بدل نہیں جاتا ۔ افغانوں کے بعض اشراف خاندان اس انتقام کی آگ میں جل کر اب تقریبا عنقا ہونے کے قریب ہیں ۔
افغانوں کی نظر میں وہی افسر طاقتور ٹھہرتا ہے جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے سختی سے پیش آئے ، جس کی بہادری مسلمہ ہو اور جو ایک دفعہ فیصلہ کرنے کے بعد اپنا قدم واپس نہ اٹھائے ۔ ایسے افسر کے زیر قیادت یہ اس حد تک وفادار رہتے ہیں کہ آگ و خون کے دریا میں بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ اگر کوئی افسر نرم ہے تو یہ اس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوتے ہیں اور مضبوط افسر کے ہاتھ میں یہ ریشم کے تھان طرح نرم ہوتے ہیں ۔
دھوکہ دہی افغان کردار کا یک نمایاں پہلو ہے اور جو اجنبی لوگ ان کے اس پہلو سے آگاہ نہیں ہوتے وہ ان سے شکست کھا جاتے ہیں ۔ دھوکہ دہی سے طاقت کے حصول کے بعد یہ جابر حکمران ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اس طاقتور فریق کے ساتھ وفاداری بھی نبھاتے ہیں جو ان کا حاکم بن جاتا ہے ۔
ایک دفعہ ایک انگریز پولیٹیکل افسر افغانوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر بیٹھا بات چیت کر رہا تھا ۔ اس پہاڑی کے ایک طرف افغانستان اور دوسری طرف انڈیا نظر آ رہا تھا ۔ یہ افغان اس افسر کے اپنے علاقہ میں ایک طویل قیام کی وجہ سے اعتماد کرتے تھے اور اپنے قبیلے کے بعض اہم راز بھی اسے بتلا دیتے تھے ۔ اس افسر نے ان افغانوں سے پوچھا کہ یہ بتلاو کہ اگر انگریزوں اور روسیوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے ؟ ۔
ان افغانوں نے پوچھا کہ آپ کیا ہم سے سچ سننا چاہتے ہیں یا وہ جواب جو آپ کو پسند آئے ؟ ۔
وہ جو سچ ہے وہ بتاو ۔ اس افسر نے جواب دیا ۔
تو انہوں نے کہا ، کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ہم اپنے ان پہاڑوں پر بیٹھ کر آپ دونوں کے لڑنے کا تماشہ دیکھیں گے اور جو کوئی شکست کھائے گا ہم پہاڑوں سے اتر کر اس کا سب کچھ لوٹ لیں گے حتی کہ کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ اللہ اکبر ہمارے لئے وہ کیا خوشی کا وقت ہو گا۔
ان افغانوں نے سچ کہا تھا لیکن یہ بھی سچ اور افغانوں کا تاریخی کردار ہے کہ مال غنیمت ابھی پوری طرح جمع بھی نہیں ہوتا کہ یہ اس کی تقسیم کے معاملے پر ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑناشروع کر دیتے ہیں ۔ اس طرح کا حسد اور لڑائیاں افغان کردار کا بنیاد جزو ہیں اور یہ اس وقت ہی متحد ہوتے ہیں جب ان کا دشمن مشترکہ ہو اور پھر دشمن کا خطرہ دور ہوتے ہی لڑائی پھر سے شروع ہو جاتی ہے ۔ اپنی اس عادت کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں اصل میں ان کے اسلاف میں سے ایک بزرگ نے اپنے کسی عمل سے اللہ تعالی کو ناراض کیا تھا اور اللہ نے سزا کے طور پر یہ بدی ان پر مسلط کر دی تھی کہ وہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانوں میں امن اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک جنگ نہ ہو رہی ہو ۔
چینی چارٹ
پچھلی پوسٹ میں ذکر ہوا تھا کہ انسان اسرار سے ہمیشہ محبت کرتا رہا ہے ۔ میرے لئے اس کائنات میں انسان خود سے ایک دلچسپ چیز ہے ۔ میں اپنے بچپن سے جاننا چاہتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہوتے ہیں ، ایک جیسے ماحول میں پرورش پانے والے دو بھائی متضاد طبیعتوں کے مالک کیوں کر بن جاتے ہیں ۔ ایک ڈاکو کو ڈاکو معاشرہ بناتا ہے یا خرابی کی جڑیں اس کی اپنی شخصیت میں دور پاتال تک کہیں پھیلی ہوتی ہیں ۔ ہمارے گھر میں والد صاحب کو مخفی علوم سے کچھ دلچسپی تھی ۔ چنانچہ گھر میں ہر طرف علم نجوم ، نفسیات و ما بعد نفسیات اور الا بلا قسم کی کتابیں رلتی رہتی تھیں ۔ ان سب علوم میں سے مجھے علم دست شناسی پسند آیا کیونکہ اس میں آپ کو علم نفسیات کی طرح معمول کو طویل ٹیسٹوں سے گزارنا نہیں پڑتا ، علم نجوم کی طرح مخاطب کی بالکل درست تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش جاننے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ مخاطب اگر بے دھیانی میں میز پر ہاتھ پھیلائے لن ترانی کر رہا ہے تو دست شناسی کی مدد سے آپ ایک دو منٹ میں جان جاتے ہیں کہ موصوف کو کس خانے میں فٹ کیا جائے ۔
دست شناسی سیکھنے کی طلب مجھے لاہور میں معظم خان تک لے گئی ۔ معظم خان کو پامسٹری سے عشق تھا وہ نہ صرف پامسٹری کے ہندو سکول آف تھاٹ اور یورپین سکول آف تھاٹ پر عبور رکھتے تھے بلکہ سکن پیٹرنز کے علم کا مطالعہ انہوں نے ماسکو یونیورسٹی سے کیا تھا ۔ جو کہ پاکستان میں بہر حال ایک نئی چیز تھی ۔ دست شناسی کی مدد سے اولاد کی پیشین گوئی کے موضوع پر پر معظم صاحب نے کہا کہ ا اس سلسلے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کی جا سکتی اور ابھی یہ غور طلب مسئلہ ہے البتہ ایک چینی چارٹ کا ذکر کیا جو بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ” فلسفہ تقدیر اور دست شناسی ” میں شائع کیا ۔ اس چارٹ کو کی مدد سے یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کسی خاتون کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی مگر شرط یہ ہے کہ یہ ضروری معلوم ہو کہ خاتون جب حاملہ ہوئی تھی تب اس کی عمر کیا تھی اور اس نے کس مہینے میں کنسیو کیا تھا ۔
کل یہ بات یاد آئی تو میں نے نیٹ پر یہ چارٹ تلاش کیا ۔ نیٹ پر موجود چارٹ معظم کی کتاب کے چارٹ سے تو مختلف ہے اور ان چارٹس کی کوئی سائنسی توجیہ بھی نہیں ہے البتہ دلچسپی کی چیز ہے ۔
ایک دفعہ میں نے دوران گفتگو اپنی مسجد کے خطیب صاحب سے اس کا ذکر کیا تو فرمانے لگے کہ ہمارے استاد صاحب نے بھی ہمیں اس سلسلے میں ٹوٹکا بتایا تھا کہ حاملہ عورت کی آنکھوں میں دیکھو ۔ اگر اس کے پیٹ میں موجود بچہ لڑکا ہے تو وہ آپ سے دیر تک نظر ملائے گی اور اگر لڑکی ہے تو فورا نظریں جھکا لے گی ۔ واللہ اعلم

بچے کی جنس کا تعین کرنے کا چینی چارٹ
صدائے ساز
بچپن کی عمر اس لحاظ سے بہت یادگار ہوتی ہے کہ اس میں تحیر کی فراوانی ہوتی ہے ۔ ارد گرد کو جاننے کی خواہش ، ابر کیا ہے ، ہوا کیا ہے اور پردے کے پیچھے کیا ہے بچہ سب جاننا چاہتا ہے ۔ میرے بچپن میں مجھے جس شے نے سب سے پہلے اپنے عشق میں گرفتار کیا وہ ایک عدد ریڈیو تھا جو ہمارے گھر بھر کی واحد تفریح تھا ۔ ستر کی دہائی میں معلومات تک رسائی کا یہ عالم نہیں تھا جو آج ہے کہ جو چاہا گوگل کر لیا ۔ ٹی وی اتنا عام نہیں تھا اور اگر تھا تو بزرگوں کے مارشل لا کے نیچے رہتا تھا ۔ ایسے عالم میں مجھے ریڈیو کے ڈبے کو اندر سے کھولنے پر پرزوں کی عجیب غریب دنیا نظر آتی جس کے اندر سے جسم میں لہو کی مانند دوڑنے والے نادیدہ کرنٹ کی گردش سے سے ایسی صدائے ساز برآمد ہوتی جو کہیں پرستان سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی (خوش بخت شجاعت سے پریوں کی کہانیاں میں اور عبدالحمید عدم کی غزل اب دو عالم سے صدائے ساز میں نے اسی زمانے میں سنیں) ۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک ریڈیو مرمت کی دکان تھی جس پر ایک مکینک سارا دن ایک ہاتھ میں چمٹی پکڑے اندازے سے گاہکوں کے بیمار ریڈیو ٹھیک کرنے میں مصروف رہتا تھا جہاں میں اکثر منڈلاتا رہتا تھا ۔
دل میں خواہش تھی کہ ایسا ریڈیو خود بھی بنایا جائے ۔ اس غرض سے میں نے اپنی زنبیل میں ریڈیو کی دکان سے مختلف بے کار پرزوں کا خزانہ جمع کر لیا تھا لیکن ریڈیو کی تھیوری اور عملی کام سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے کام شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ جہانگیر بک ڈپو لاہور نے ایک کتاب “اپنا ریڈیو خود بنائیے ” کے نام سے شائع کی تھی ۔ جیب خرچ کا زر کثیر صرف کر کے جب منگوائی تو خاک سمجھ نہ آیا کیونکہ مصنف کوئی خرادیے تھے اور ان کی اصطلاحیں دیسی تھیں مثلا تار کی موٹائی کو سوتر سے ناپتے تھے ، 5 سوتر یا 7 سوتر کی موٹائی کی تار وغیرہ اور ہم سکول میں میٹرک سسٹم ہی جانتے تھے ۔ مصنف نے جدید پرزوں مثلا کرسٹل ڈائیوڈ کی جگہ ایک دیسی شے کا استعمال کیا گیا تھا جو ابھی یاد نہیں کیا تھی ۔ پیسے ضائع ہونے کا افسوس ہوا لیکن یہ فہم ہو گیا کہ ریڈیو کی ایک قسم کرسٹل ریڈیو کہلاتی جو دو تین پرزوں کی مدد سے آسانی تیار ہو جاتا ہے اگر ریڈیو سٹیشن قریب ہو تو آواز آسانی سے سنائی دیتی ہے ۔ یوں ریڈیو بنانے کا منصوبہ عارضی طور پر معطل ہو گیا ۔
1986 کی ایک گرم دوپہرایک بڑے شہر کی لائبریری میں میں مجھے وہ کتاب ہاتھ لگی جس کا نام تھا “Making A Transistor Radio” صاف ستھرے اور سادہ اور عام فہم انداز میں انگریز مصنف نے بچوں کے لئے ریڈیو بنانے کا طریقہ بتایا تھا ۔ دل سے آواز آئی کہ کاش ہمارے ہاں کا بھی کوئی مصنف اتنے آسان فہم انداز میں بچوں کے لئے تکنیکی کتابیں لکھتا تو مجھے اتنے سال خوار نہ ہونا پڑتا ۔ اس کے ساتھ ہی اپنے معاشرے اور مغربی معاشرے کی ترجیحات اور انداز کار کا بھی اندازہ ہوگیا مگر مجھے آئیندہ آنے والی زندگی میں الیکٹرانکس اور کمپیوٹر کی راہ پر ڈال گیا ۔
آج میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے اور میری خواہش ہے کہ میں جلد اسےکچھ دلچسپ تکنیکی مشاغل کے ذریعے ٹی وی کے سامنے سے اس کی تجربہ گاہ میں کھینچ لاوں ۔ زیر نظر کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاونلوڈ کرنے کے لئے تصویر پر کلک کریں ۔ اگر آپ خود اس کتاب کی مدد سے اپنے بچے کے لئے تجرباتی ریڈیو بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو باقی پرزے تو شاید آپ کو آسانی سے مل جائیں لیکن شاید ٹرانسسٹر OC71 اور OC 45 آپ کو نہ مل سکے اس کی جگہ آپ کوئی بھی پی این پی جنرل پرپز ٹرانسسٹر استعمال کر سکتے ہیں یاد رہے کہ کتاب میں بیان کئے گئے ڈائیوڈ اور ٹرازسٹر امریکن اور یورپین ہیں جو مہنگے ہوتے ہیں ان کی جگہ ان کے جوڑ کے جاپانی ٹرانزسٹر دکاندار سے مانگنے پر بہت سستے ملیں گے ۔ الیکٹرانکس کے پرزے کراچی میں ریگل چوک کواپریٹو مارکیٹ اور لاہور میں ہال روڈ کی ایسی مخصوص دکانوں سے مل سکتے ہیں جو پرزوں کا کاروبار کرتے ہیں ۔

سادہ کرسٹل ریڈیو
عدو کے ہو لیے جب تم
قبلہ استاذی سیدی پرویز مشرف نے اسرائیلی اخبارہرٹز کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” پاکستان کو اسرائیل کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیےکیونکہ پاکستان یہودیوں کے خلاف نہیں اور اسرائیل ایک نظریاتی ریاست اور ایک زندہ حقیقت ہے ۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران کہاکہ میرے دور حکومت میں سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میرے کہنے پر کی تھی جو کہ ہماری طرف سے پہلااعلی ٰ سطحی رابطہ تھا۔ “
مندرجہ بالا خبر نے مجھے دو واقعات یاد دلا دیے ۔ چند سال قبل سہ پہر کی سیر کے دوران کمپنی گارڈن میں ایک صاحب سے ملاقات ہو گئی ۔ وہ بھی اکیلے چل رہے تھے ، میں نے سلام کیا تو دسراہٹ کی غرض سے انہوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی ۔ یہ صاحب کسی زمانے میں واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے میں تین سال تک بطور ملٹری اتاچی تعینات رہ چکے تھے ۔ اسرائیل کے ذکر پر کہنے لگے کہ سفارتی تقریبات میں پاکستانی اور اسرائیلی اتاچی عموما ایک دوسرے سے کسی بھی قسم کے رابطے اور گفتگو سے گریز کرتے ہیں ۔ لیکن ایک دفعہ ایسا ہوا کہ بہت سے ممالک کے اتاچیوں کو ایک امریکی فوجی مشق دیکھنے جانا تھا جس کے ایک کوسٹر کا بندوبست امریکیوں کی طرف سے تھا ۔ کوسٹر میں بیٹھنے لگا تو دیکھا کہ کوسٹر بھر چکی ہے اور کوسٹر کی عقبی نشست پر اسرائیلی اتاچی کے پہلو میں جگہ بچی تھی ۔ مجھے مجبورا وہاں بیٹھنا پڑا ۔ سلام کے تبادلے اور موسم پر رائے کے بعد مجھے موضوع گفتگو کچھ اور نہ سوجھا تو میں نے اس سے پوچھا
” آپ ہم سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہو ؟ پاکستان کے بہتری اور فوجی امداد سے متعلق ہم جو بھی پلان امریکیوں کے سامنے رکھتے ہیں آپ لوگ اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کیوں کرواتے ہیں ؟ “
آپ مذاق کر رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں ؟ اس نے پوچھا ۔
میں سنجیدہ ہوں ! میں نے کہا ۔
وہ کہنے لگا “ جناب ! اس مخالفت اور دشمنی کا آغاز ہم نے نہیں آپ نے کیا تھا ۔ ہمارے ملک کے قیام کی جدو جہد کے دوران آپ کے ملک نے ہماری مخالفت اور عربوں کی اسلحہ سے مدد کی ۔ 1967 اور 1973 کی جنگوں میں آپ کے ہوابازوں نے شامی اور اردنی جنگی جہاز اڑا کر عملی طور ہمارے ملک پر حملہ کیا اور ہمارے جہاز گرائے ۔ پی ایل او کی ہر قسم کی امداد آپ کے ملک نے کی ۔ 1982 کی بیروت کی لڑائی میں ہم نے آپ کے ملک کے افراد کو فلسطینیوں کے ہمراہ لڑتے ہوئے گرفتار کیا ۔ آپ اقوم متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پیش پونے والی ہر قرارداد میں عربوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے ۔ اس کے باوجود آپ محترم یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ سے نفرت کرتے ہیں ۔ آپ ان عربوں کی ہمدردی میں ہماری مخالفت کرتے ہیں جن کی خود پسندی کا یہ حال ہے کہ عرب قومیت کے علاوہ کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے جبکہ ہم نے تو آپ کے ملک کے قیام کی تحریک کے دوران آپ کو خیر سگالی کا پیغام بھیجا تھا”۔
دوسرا واقعہ ایک پاکستانی سٹوڈنٹ کا ہے جو مصر کی سرکاری یونیورسٹی میں سٹریٹجک سٹڈیز کی تعلیم حاصل کرنے گیا ۔ دوران تعلیم اس کا اس کا مقالہ دہشت گردی کے موضوع پر تھا ۔ مقالے کی تحقیق کا نچوڑ یہ تھا کہ دنیا میں مسلم دہشت گردی کی جڑیں مسئلہ فلسطین میں پیوست ہیں اور شروع سے لے کر اب تک عرب ممالک ، فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین جو جنگیں ، معاہدے اور عالمی یقین دہانیاں ہو چکی ہیں ان کے وجہ سے دنیا کے موجودہ عالمی قانون اور سیاسی نظام کے دائرے کے اندر رہ کر کوئی باعزت حل ممکن نہیں ۔
آخری سمسٹر میں مصر کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک لیکچر کا اہتمام بھی ہوا ۔ لیکچر کے لیئے مصر کے ایک سابقہ سفیر کو بلایا گیا تھا جو اسرائیل میں ایک لمبے عرصے تک سفیر رہے تھے ۔ لیکچر کے آغاز میں سفیر موصوف نے کہا ، کیا کوئی پاکستانی اس ہال میں موجود ہے ؟ تو پاکستانی سٹوڈنٹ کھڑا ہو گیا ۔ وہ مسکرایا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
سفیر صاحب فرمانے لگے کہ دینا میں دو ممالک ایسے ہیں جو موجودہ عالمی نظام میں مس فٹ ہیں ۔ ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل ۔ پھر دونوں ممالک کے مابین متوازی نکات بیان کرنے لگے ۔
1 ۔ دونوں ممالک نظریاتی ممالک ہیں ۔
2 ۔ دونوں جنگ عظیم دوم کے بعد آزاد ہوئے ۔
3 ۔ دونوں ممالک کے قیام کی خاطر تحریک چلی ۔
4 ۔ دونوں ممالک کی طرف اس کے کچھ لوگوں نے ہجرت کی جبکہ کچھ پہلے سے موجود تھے ۔
5 ۔ دونوں ممالک کی تحریکوں کو قیام سے اپنے مذہبی طبقے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو بعد میں اس کے ہمنوا بن گئے ۔
6 ۔ دونوں ممالک کے بانی غیر مذہبی تھے ۔
7 ۔ دونوں ممالک اپنی شناخت کے بحران سے دوچار ہیں ۔
8 ۔ دونوں ممالک کے عوام برطانیہ سے آزادی کے بعد ایک اکثریتی آبادی میں اقلیت بن کر رہنے کو تیار نہیں تھے ۔
9 ۔ دونوں ممالک کی جغرافیائی ہیئت عجیب تھی ۔
10۔ دونوں ممالک کی اقلیتیں مشکلات کا شکار ہیں ۔
11 ۔ دونوں ممالک کو ایک جیسے سیکیورٹی چیلنج درپیش ہیں اور فوج ایک مقتدر ادارہ ہے ۔
12 ۔ دونوں ممالک کا انحصار بیرونی امداد پر ہے ۔
13 ۔ دونوں ممالک کی پالیسیوں میں انتہا پسندی در آئی ہے ۔
14 ۔ دونوں ممالک کے تاریخی حقائق انہیں سیکولر بننے سے روکتے ہیں جو موجودہ نیشن سٹیٹس کی بنیاد ہے ۔
15 ۔ دونوں ممالک کی ایک غالب آبادی ملک سے باہر آباد ہے ۔
16 ۔ دونوں ممالک اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ موجود مسائل کا حل صرف فوجی حل سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مملکت اور سوسائٹی کو خطرات لاحق ہیں ۔
17 ۔ دونوں ممالک اپنے معاملات میں اپنی اقلیتوں کے نقطہ نظر کو پالیسی سازی میں مقام دینے کو تیار نہیں ہیں ۔
18 ۔ دونوں ممالک کے عوام عقل کی بجائے جذبات پر ووٹ دیتے ہیں ۔
18 ۔ دونوں ممالک ہتھیار سازی کی دوڑ میں مصروف ہیں ۔
اس کے بعد کی تقریر میں پاکستان سے متعلق یہ تھا کہ مندرجہ بالا نکات کی موجودگی کی وجہ سے یہ ممالک ایک عام نیشن سٹیٹ کی طرح رویہ اپنانے کی صلاحیت نہ اب اور نہ مستقبل میں رکھتے ہیں ۔ اور بالآخر یہ دونوں ممالک کبھی نہ کبھی میدان جنگ میں ضرور مد مقابل آئیں گے اور مصر کو بھی اپنی بقا کی خاطر اب پاکستان کی راہ اپنانی پڑے گی اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور ارہ نہیں ہے ۔
آپ کا کیا خیال ہے اگر مشرف کے بقول دوسرے عرب ممالک اسرائیل سے تعلقات استوار کر کے چین سے رہ رہے ہیں تو ہمیں کس چیز نے روک رکھا ہے کہ اپنے دشمن بڑھائے چلے جا رہے ہیں اور کیا نیشن سٹیٹ کی فلاسفی اپنانے میں کوئی حرج ہے؟
الفت رسول
میرے دادا مرحوم گاوں کے زراعت پیشہ مکین اور چٹے ان پڑھ تھے ۔ غالبا بچپن میں مولوی صاحب سے تھوڑا بہت ناظرہ قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی چنانچہ قرآن پاک کی تلاوت اٹک اٹک کر کر لیتے تھے مگر اردو سے نا بلد ہونے کی وجہ سے دیگر کتب سے فیض یاب نہیں ہو سکے تھے ۔ حقہ کی عادت بچپن سے گھٹی میں پڑی ہوئی تھی ۔ کچھ اور چھوٹ جائے تو چھوٹ جائے مگر حقہ پینا قضا ہو جاتا تو خود سلفے کی لاٹ بن جاتے اور اپنی مرصع پنجابی میں بلاغت کے دریا بہانے لگتے جس پر گھر کے سب افراد میں بشمول میرے والد محترم اور چچا کے ایک بھگدڑ سی مچ جاتی اور حقے کے انگارے تیار ہونے اور چلم بھرنے تک وہ خود دہکتے رہتے اور دوسروں کو اس آتش سوزاں سے خاکستر کرتے رہتے ۔ تمباکو کون سا اور کس علاقے کا اچھا ہے ، چلم میں ڈالنے والا گڑ کالا ہو یا سفید نیا جو چلم میں کس قدر ملایا جائے تو سینے میں اترتا دھواں اذیت آمیز لطف پیدا کرتا ہے ، ظرف حقہ میں سطح آب ، قرینے کی مناسب لمبائی اور ان سب اجزا کو کتنا ہوا بند ہونا چاہئے ان معاملات میں ان کی پسند کا پیمانہ بہت سخت تھا ۔ حقے کا پہلا کش لیتے ہی ان کے چہرے پر وہ طمانیت آ جاتی تھی جو شیر خوار کو عضو مطلوب میسر آنے پر آنی ہے ۔ میں آج بھی ان کا تصور بغیر حقے اور ان کی ہر لمحہ کی مشغولیت کے نہیں کر سکتا ۔ میں نے کبھی انہیں بے کار بیٹھے نہیں دیکھا تھا ۔ زراعت سے فراغت کے بعد گھر میں حقہ پینے کے شغل کے ساتھ ساتھ بان کی رسی بٹے رہتے یا ڈھیلی چارپائیاں کستے رہتے ۔ جلانے کی لکڑیاں چیرتے رہتے یا گھریلو اشیا کی مرمت میں مصروف رہتے ۔
عمر گذری حقہ نوشی کے نقصانات سے آگاہ ہوئے تو حقہ ترک کرنے کی سعی میں رہنے لگے ۔ ایک دن حقہ نوشی سے توبہ کرتے ، دوسرے دن کسی اور کو اپنے سامنے حقہ پیتے دیکھتے تو ان کے منہ میں بھی پانی آ جاتا اور توبہ توڑ کر پھر سے رندوں میں شامل ہو جاتے کیونکہ ان کے منہ کو تو یہی کافر لذت دو آتشہ لگی ہوئی تھی ۔
ایک دن ان کے اور چچا کے درمیان دوران گفتگو نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا ذکر آ گیا ۔ چچا کہنے لگے ” حقہ پینا حرام تو نہیں مگر نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کو اس کی بو نا پسند ہے ۔ ایک صاحب کا ذکر کیا کہ خواب میں زیارت ہوئی تو تاجدار دو عالم صل اللہ علیہ وسلم نے منہ دوسری طرف پھیر رکھا تھا ان صاحب کے استفسار پر فرمایا کہ تمہارے منہ سے حقے کی بو آتی ہے ” ۔
دادا نے یہ سن کر سر جھکا لیا ، تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھایا اور پر نم آنکھوں سے کہنے لگے ” اگر ہمارے سوہنے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کو یہ فعل پسند نہیں تو پھر ہم نے اس دنیا سے کیا لینا ہے ” یہ کہ کر حقہ کو ایک طرف کھسکایا اور پھر بقیہ عمر اسے ہاتھ تک نہ لگایا ۔
میں سوچتا ہوں کہ ایک غریب ان پڑھ دیہاتی کی محبت اپنے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے اتنی مضبوط تھی کہ وہ ان سے منسوب ایک صحیح یا غلط ارشاد اپنے پاس پہنچنے پر اپنی سب سے پختہ اور دیرینہ عادت ترک کرنے کی ہمت رکھتا تھا اور میں آج ان کی سیرت کا یک پہلو تک اپنانے کی جرآت نہیں رکھتا ۔ یوم حشر جب نبی صل اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گی تو میں کیسے ان کا سامنا کروں گا ۔ مجھ سے تو ان پڑھ دیہاتی اچھا ہے ۔
پنجابی واراں
وار کے لفظی معنی رزمیہ نظم کے ہیں ۔ یہ ایک ایسی طویل نظم ہوتی ہے جس میں کسی بہادر شخص یا قبیلے کی بہادری کی تعریف کی گئی ہو اور اس کی جرآت اور شجاعت پر واری صدقے ہونے کا اظہار کیا گیا ہو ۔ ان کا یہ کام نیک ہونا چاہیے اور اس کا مجموعی تاثر جوش کا ہونا ہونا چاہیے نا کہ غم کا ورنہ مرثیہ کہلائے گا ۔ وار یا جنگ نامہ دنیا کے تمام قبائلی اور زرعی معاشروں کا حصہ رہا ہے مثلا فرانس کے بادشاہ شارلیمن کے بھانجے رولینڈو کے نام پر ” سانگ آف رولینڈو ” جو مسلمان اور باسک لشکر کے ہاتھوں سپین میں مارا گیا اور اس کی بہادری کے قصے صدیوں تک یورپ کے گویے گاتے رہے۔ عرب میں بھی لشکر کے عقب میں رجز پڑھنے والے خصوصا عورتیں اپنی افواج کا دل ایسے اشعار سے بڑھاتیں ۔ پنجاب میں بھی وار صدیوں تک بہت مقبول رہی ۔ پرانے زمانے میں پنجاب میں جہاں قصے اور رومانوی داستانیں چوپال میں بیٹھ کر سنی جاتی تھیں، وار میدانِ جنگ میں سنائی جاتی ۔ یہ روایت دنیا کی کئی زبانوں میں موجود ہے اور جب سورما میدانِ جنگ میں لڑرہے ہوتے تھے تو واریئے، میراثی، راگی یا ڈھاڈی پیچھے سے بلند آواز میں ان کے اجداد کے کارنامے انہیں سناتے تھے جنہیں وار کہتے تھے۔ پنجاب میں وار کی تاریخ بہت قدیم ہے اور یہ سلاطین کے عہد سے بھی پہلے سے چلی آرہی ہے۔ ان واروں میں قدیم پنجاب کی عام زندگی کی تمام تاریخ موجود ہے۔ مثلاً سماج کی کیا اخلاقی اقدار تھیں، بہادری کیا تھی اور دھوکہ دہی کیا تھی؟ سچ کیا تھا اور سچ کے لیے مرنا کیا؟ وغیرہ ۔
بعد میں ان واروں میں جنگوں کے علاوہ عشق کی داستانیں بھی سنائی جانے لگیں کہ ان صوفی مزاج گانے والوں کے مطابق یہ بھی سماج کے جامد رویوں کے خلاف بغاوت کی ایک شکل تھیں . وار گانے والے کھڑے ہو کر گاتے ہیں اور اسے دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثری بیانیہ حصے جن میں کہانی کو واقعات کی اہم تبدیلیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور شعر بند یا بحر میں بندھے ہوئے حصے جنہیں گا کر سنایا جاتا ہے۔ واریں گانے والے روایتی چمک دمک والے لباس پہن کر میدان میں اترتے ہیں اور موضوع کی مناسبت سے اداکارانہ انداز میں روایتیں بیان کرتے ہیں۔ داستان کے المیہ، طربیہ، پرجوش اور جنگی حصوں کے ساتھ ساتھ بیان کرنے والے کی شخصیت اور انداز بدلتا رہتا ہے جو انہیں کرداروں اور ان کی اس لمحے کی حقیقت کے قریب تر لے جاتا ہے۔
واروں کو اقسام کے لحاظ سے تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
1 ۔ رزمیہ واراں
2 ۔ رومانی واراں
3 ۔ ٘مذہبی واراں
چند مشہور پنجابی واریں یہ ہیں ۔
کربلا دی وار ، مرزے دی وار ، دلا بھٹی دی وار ، ملتان شہر دی وار ، سید دی وار ، سکھاں دی وار ، نادر شاہ دی وار
ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی درسی کتب میں پڑھائی جانے والی تاریخ ان واروں کے بالکل برعکس ہے۔ ان واروں کے ہیرو اس مذہبی شناحت سے بالکل بالاتر ہیں جو پاکستانی ریاست کا خاصہ رہی ہے۔ جہاں یہ سکندرِ اعظم سے لڑنے والے ہندو راجہ پورس کے گن گاتی ہیں، وہاں یہ مغلوں کو ’چغتے‘ کے طور پر یاد کرتی ہیں اور ان کے خلاف لڑنے والے دلا بھٹی اور جیمل پھتہ کی بہادری کے قصے سنا کر نوجوانوں کو ان جیسے سورما بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ جیمل پھتہ ایک آزاد طبع ہندو سورما تھا جس نے اکبر کے بہت سے مطالبے پورے کیے مگر جب اکبر نے اس کی بیٹی کی خوبصورتی کی تعریف سن کا رشتہ مانگا تو وہ اکبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ آج کے پنجاب میں وار بھی اپنے اختتام پر ہے۔ زمانے بدلنے کے ساتھ ساتھ جہاں باقی اصناف میں لکھنے، گانے، اداکاری اور ہدایت کاری کی سپیشلائزیشن بڑھتی گئی ہے، دوسری رویتوں کے ساتھ یہ قدیم روایت بھی غائب ہو رہی ہے۔
مرزے جٹ دی وارا ۔ افضل بھٹی
مرزے جٹ دی وار ۔ مس پوجا
طارق علی
ہمارے ملک کا اردو دان طبقہ طارق علی کے نام سے زیادہ واقف نہیں ہے ۔ طارق علی پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیڑ مظہر علی خان کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی والدہ طاہرہ مظہر علی خان سر سکندر حیات خان کی بیٹی تھیں جو تقسیم سے پہلے پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔جناب مظہر علی خان جنہوں نے نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات پر ایوب خان کے شب خون کے بعد بطور ایڈیٹر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بعد میں ایک ہفت روزہ ”ویو پوائنٹ“ نکالا جو خان صاحب کی سوچ کے مطابق بائیں بازو کی پالیسیوں اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے کام کرتا تھا- وہ کئی بیسٹ سلیرز کتابوں کے مصنف ہیں اور مغربی ملکوں میں ان کو انتہائی احترام سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے قائد اعظم سے شروع لے کر آنے والے کسی کو نہیں بخشتے جس کا مظاہرہ انہوں نے اپنی کتاب ، ڈو ال پاکستان ” میں کیا ہے ۔ ان کی سوچ کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں ۔

طارق علی
۔ طارق علی ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور دنیا کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب فکر و نظر ہیں۔ جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔ طارق علی اپنی طالب علمی کے زمانے میں بائیں بازو کے طالب علموں کے غیر متنازع لیڈر تھے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بڑے سیاسی مفکر کے طور پر ابھرے اور مغرب میں لوگ انہیں پاکستان کا ایک انتہائی قابل فخر سپوت سمجھتے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور امریکہ اور یورپ مزید برآں جنوبی امریکہ کی ایک جانی پہچانی علمی شخصیت ہیں۔ وہ ایک بہت کامیاب براڈ کاسٹر بھی ہیں اور بی بی سی کے متعدد پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں ان کی باتیں غور سے سنی جاتی ہیں۔ طارق علی کی مشہور کتابوں میں Can Pakistan Survive? The Death of a State (1991), Pirates Of The Caribbean: Axis Of Hope (2006), Conversations with Edward Said (2005), Bush in Babylon (2003), and Clash of Fundamentalisms: Crusades, Jihads and Modernity (2002), A Banker for All Seasons (2007), The Duel (2008) and The Obama Syndrome (2010 Leopard and Fox شامل ہیں۔
ان کا زیر نظر مضمون پاکستان کے چونسٹھ برس پورے ہونے پر لکھا گیا تھا ، جس کا آسان ترجمہ اپنے پاکستانی قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ۔ مترجمہ جنابہ مریم حسین ہیں اور یہ ترجمہ ٹاپ سٹوری ڈاٹ کام سائٹ سے من و عن لیا گیا ہے ۔
آج کے پاکستان کی حالت اس بیمار کی سی ہو چکی ہے جو نہ تو پورا ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی حکومت وہاں آ سکتی ہے جو اس ملک کو کچھ آگے لے جا سکے اور اس احساس نے بہت سارے لوگوں کو ایک عشرے سے ڈپریشن کا شکار کیا ہو اہے۔ پاکستان کے اصل حکمران فوجی اور سویلین ، بڑے مزے سے فوجی، سیاسی، انتظامی، معاشی اور عدلیہ کی طاقت کے مزے اڑا رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے اکثر ممالک میں یہی کچھ ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان فرق اتنا زیادہ ہے کہ وہاں کمزور اکثریت کو طاقت ور اور امیر لوگوں سے جو کہ اقلیت میں ہیں، بچانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
برادریاں اور رشتہ داریوں کے نیٹ ورک، غنڈوں کی طرف سے زندگی کی ضمانت وغیرہ سے کچھ فرق تو پڑ سکتا ہے لیکن یہ سوچنا کہ یہ لوگوں کو پانی، بجلی، رعایتی آٹا، صحت کی سہولیتں، تعلیم وغیرہ دے سکتے ہیں کا مطلب احمقوں کی جنت میں رہنے کے برابر ہو گا۔ ایسی ترقی جس کا کوئی فائدہ ہو، اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کے لیے ہو نہ کہ چند لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ پاکستان میں اس طرح کی ترقی کبھی نہیں ہوئی جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے۔قصور نہ تو قسمت کا ہے اور نہ ہی پاکستانی لوگوں کا، جن کی برداشت اور صبر دیکھنے کے لائق ہے۔ پاکستانی عوام نے سیاسی جماعتوں اور فوجی حکمرانوں کو بھی آزمایا ، لیکن پھر بھی انہیں کچھ نہیں ملا۔ اس حقیقت کے باوجود ، پاکستان عوام ابھی بھی وہاں کی مذہبی جماعتوں میں شامل ہونے کے لیے اتنی جلدی میں نہیں ہیں جب کہ مسلح جہادیوں گروہ میں شامل ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب تک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے مذہبی اور جہادیوں گروپس میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے اگرچہ لوگوں کو جنت کے بہت سارے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے پاکستان کے بارے میں بنائے گئے امیج کے برعکس، عام پاکستانی مذہبی شدت پسندوں کے جال میں نہیں آ رہے۔پاکستان میں آبادی کی سائنس کو ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی اس وقت پچیس سال سے کم عمر ہے۔ وہ کوئی نہ کوئی کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ بیروزگاری بہت ہے۔ ان میں سے اکثریت تعلیم چاہتی ہے، انہیں نوکریاں چاہیں جب کہ سیاسی کرپشن کا تو جواب ہی نہیں۔اب سوال یہ ہے کیا ان کے یہ مطالبات کبھی پورے ہوں گے؟پاکستان کی سیاسی زندگی تین چیزوں سے عبارت ہے۔۔۔ امریکہ، آرمی اور کرپٹ حکمران جن کے نمانئدے اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری ہیں۔ زرداری صاحب کو دینا بھر میں مال بنانے اور بے حساب جائیداد بنانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہونے والے پول میں ان کی مقبولیت کا گراف صرف دو فیصد تھا۔ ظالم پنجابی طعنے اکثر ان’’ معززین‘‘ کو سننے کو ملتے ہیں جب وہ عوام سے ملنے کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے تھوڑی سی زیادتی ہے کیونکہ یہ پنجابی طعنے خیر سے مسلم لیگ کے لیڈروں پر بھی اپلائی کئے جاسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اب سیاست سے ایک طرح سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے نزدیک سیاستدان ایسے چالاک لوگ ہوتے ہیں جو پیسہ کمانے پر لگے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ان گروہوں کا بھی خیال رکھتے ہیں جو بعد میں ان کے ووٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔امریکہ اس وقت افغانستان میں ایک جنگ لڑ رہا ہے وہ پاکستان کے اندر تک پھیل گئی ہے اور ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے۔ رہی سہی کسر امریکی ڈرون حملوں نے پوری کر دی ہے جو کہ پاکستان کے حکمرانوں کی مرضی سے کیے جارہے ہیں اور جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا اصل مقصد ’’دہشت گردوں‘‘ کو مارنا ہے لیکن مارے معصوم اور عام لوگ جاتے ہیں۔ ان ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام لوگوں کی تعداد اس وقت دو ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے اور ان مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔پاکستانی فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز بھی اس وقت شمالی علاقوں میں اپنے لوگوں کے خلاف حملے کرکے ایک طرح سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے ساتھ واقع اورکزائی ضلع سے ڈھائی لاکھ لوگوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا اور انہیں مہاجرین کمپیوں میں لا کر ڈال دیا۔ ان میں سے بہت ساروں نے انتقام لینے کی قسم کھائی اور اب شدت پسندوں نے اور تو اور ائی ایس ائی اور دوسرے فوجی ٹھکانوں کو اب نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔معیشت کا حال بہت برا ہے اور آئی ایم ایف کی پاکستان کو قرضہ دینے کی شرائط روز بروز سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں بلاواسطہ ٹیکس پر اصرار کرنا جہاں امیر لوگ واقعتا ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے، ایک ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کرنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بہت سارے شہروں میں اس کے خلاف فسادات ہوئے ہیں اور واپڈا کے دفتروں کو جلا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کا عام پاکستانیوں کے لیے یہ پیغام بڑا واضع اور صاف ہے۔۔۔’’پیسے زیادہ دو، لیکن لو کم‘‘ ۔دو ہزار دس کے سیلاب نے یہ بات ثابت کی کہ پاکستانی حکمران اور اعلی طبقات اپنے لوگوں کی کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ ابھی تک سیلاب کی کہانیاں لوگوں کو ڈرا دیتی ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام صحرا میں ایک پانی کے قطرے کی بوند کے مانند ہیں۔ پاکستان کے سالانہ قومی بجٹ پر فوج کا قبضہ ہے۔ سیاسی گینگ وار نے کراچی کا حشر کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایک اور فوجی بغاوت کا وقت آن پہنچا ہے لیکن پاکستان فوج اس وقت غیر مقبول ہے اور امریکہ بھی اس موڈ میں نہیں ہے کہ وہ ایک اور فوجی انقلاب کے لیے اپنی رضامندگی کا اظہار کرے۔تاہم یہ بھی ایک بہیودہ مذاق سے کم بات نہیں ہے کہ فوج نے پاکستان پر سیاستدانوں کی نسبت بہتر حکمرانی کی ہے۔ حقائق اس بات کی حمایت نہیں کرتے۔ سیاستدانوں اور جرنیلوں نے عام پاکستانیوں کی طرف ہمیشہ بے نیازی کا برتاؤ کیا ہے۔ دنیا کا سب سے گندا کاروبار یہ رہا ہے کہ ہر شے کو مارکیٹ اور نجی منافع خوری پر چھوڑ دو۔ اب اس سے بات نہیں بنتی خصوصا پاکستان جیسے ملکوں میں۔پاکستان کا اندورنی زوال اور اس میں توڑ پھوڑ بڑی تیزی سے ہورہی ہے۔ یہاں شدید مایوسی اور اس سے بڑھ کر یہ احساس کہ یہاں کسی چیز کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ، بڑے عرصے سے پیدا ہو چکا تھا، جب فیض احمد فیض نے اپنی ایک متاثر کن نظم میں اپنی دھرتی کو ایک ’’ مردہ پتوں کے جنگل‘‘ اور’’ درد کا اجتماع‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔ ان برسوں میں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکا ، جس سے یہ سب کچھ رک یا بدل جاتا۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے لوگوں میں بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے جس سے موجودہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوا ہے۔جلد یا بادیر، لوگ اٹھیں گے اور اس سارے گند کو صاف کریں گے۔ اب مجھ سے یہ مت پوچھیں کہ کب !!
نکی جئی ہٹی
اس دفعہ عید کی شاپنگ کرنے کے لئے فیملی کے اصرار پر بازارجانا ہوا ۔ اصرار پر اس لئے کیونکہ ایک عرصے سے ہم نے بازار کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہ نیک کام بیگم کے سپرد کر دیا ہے کیونکہ ہمیں اپنی صحت بہت عزیز ہے ۔ ہوتا یوں ہے کہ دکان پر جس شے کی قیمت ہمارے ذہن میں ہزار روپے ہوتی ہے جب دکاندار ہمارے استفسار پر اسے تین چار ہزار کا بتاتا ہے تو ہمارے ہوش اڑ اڑ جاتے اور واپس نہیں آتے ، ہمارا دل بھی بس ڈوب ڈوب جاتا ہے اور اس کے علاوہ دو چار چیزوں کی قیمتیں پوچھنے کے بعد بے عزتی کا احساس علیحدہ ہونا شروع ہے کہ کیونکہ دکاندار ان نظروں سے ہمیں گھورتا ہے جیسے کہ رہا ہو ” کہ پلے نئیں دھیلا تے کر دی اے میلا میلا ” اور آپ کو تو معلوم ہے کہ باس اور بیگم سے بے عزتی کروانے کے بعد کسی بھی شریف انسان کا بے عزتی میٹر ٹینک فل کا اشارہ کرنا شروع کر دیتا ہے اور مزید بے عزتی صحت کے لئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے ۔
خیر بیگم ہمیں ایک بہت بڑے کئی منزلہ شاپنگ سینٹر لے گئیں جہاں ہر دکان کا نام سٹائلش انگریزی اور کسی نہ کسی غیر ملکی کلچر کا مظہر تھا ۔ ایسے ناموں کے ہجوم میں ایک چھوٹی سی دکان پر نظر پڑی جس کا نام تھا “نکی جئی ہٹی ” ۔ صاحب دکان کی ہمت کی داد دینے کو چاہا جو اس غیر ملکی کلچر کے سیلاب کےعین درمیان اپنی دھرتی کی زبان میں نام کا کھوکھا کھولے بیٹھا تھا ۔ یادش بخیر ہمارے بچپن میں دکانوں کے نام عموما مقامی زبان میں ہی ہوا کرتے تھے جو عوام الناس کو آسانی سے سمجھ آ جایا کرتے تھے ۔ مثلا ہمارے قصبے میں سٹیشنری کی دکان ”رحمت دی ہٹی ” تھی ، سوڈا واٹر بنانے والوں کی دکان ” ننو کولا ” تھی ، منشیات فروخت کرنے کی دکان ” ٹھیکہ افیون و چرس ” تھی ، گھڑیاں ٹھیک کرنے کی دکان ” اشرف گھڑی ساز ” تھی اور لوہے کی اشیاء ” جانی لوہار دی ہٹی ” سے مل جاتی تھیں ۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے اب ایسے تمام نام نا پید ہو چکے ہیں ۔ میرے گھر کے قریب ریستوران کا نام” ڈراپ ان” ہے تو بیکری کا نام ‘ لا پونٹے ” ہے ، پرائیویٹ ہسپتال کا نام ” میڈی کیئر ” ہے تو بنگالی مٹھائیوں کی دکان ” سیون بیلز” ہے ۔
ایک اور خاصہ ان پرانی دکانوں کا یہ تھا کہ تقریبا ایک بازار میں ہی تمام قسم کی اشیا مل جاتی تھیں ۔ اب علیحدہ مارکیٹیں بن گئی ہیں ۔ کپڑے لینے ہیں تو ایک علاقے مارکیٹ میں جاو اور اگر سٹیل کے برتن لینے ہیں تو شہر کے ایک اور حصے میں جاو ۔ قیمہ کرنے کی مشین لینی ہے تو کہیں اور دھکے کھاو ۔
میں سوچتا ہوں کہ آخر ہم اپنی زبان ، طرز تعمیر ، لباس ثقافت اور کلچر سے اتنے شرمندہ کیوں ہیں کہ ہمیں بجلی کے سازوسامان کی دکان کا نام ” الیکٹرک کنسرن ” رکھنا پڑتا ہے اور خرادیے کی دکان کا نام ” لیتھ ورکس” ۔ آخر ہم کب اس احساس کمتری سے نجات پائیں گے ۔
چارہ گر
ٹی وی پر ایک مشہور پروگرام کے میزبان کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے شریک گفتگو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ سے کافی سخت لہجے میں سوال کر رہے تھے کہ فوج اس سارے معاملے میں خاموش کیوں ہے اور اگر خاموش ہے تو اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ اب تک اس کے ادارے کےکارکنان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنایا گیا ورنہ فوج اب تک کسی سخت رد عمل کا اظہار کر چکی ہوتی ۔



